اچھی نظم ہے راجہ بھیا، ایک مصرعے میں ’’ کاش غم کو کوئی تدارک ہو ‘ ‘ کو ’’ کاش غم کا کوئی تدارک ہو‘‘ کر لیجے ۔۔
بہت خوش رہیں ماشا اللہ۔۔۔ ویسے بر سبیلِ تذکرہ ۔۔ غم کا کوئی تدارک ہوتا تو یار میں بھی شاید لفظ لکھنے سے نہ جڑا ہوتا۔۔
لفظ لکھنے سے جڑنا اسی لیے ہے کہ غم کا کوئی تدارک ہو۔۔۔ بہت داد...