عنوان
سمندر پار جب تھامیں
(سمندر پار تھا جب میں ۔۔۔)
----------------------
مجھے اب پھر اجازت دو ۔۔۔
کہ میں نے پیٹ کی خاطرسمندر پار جانا ہے
سمندر پار جب تھا میں تو سارے دوست تھے میرے
(مصرع یوں رواں ہوسکتا ہے ’’ سمندر پارتھا جب میں ، تو سارے دوست میرے تھے )
وہ رشتے خون کے تھے جو
(وہ رشتے خون کے...