غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
چٹکیاں لے لے کر ستاتے ہو
اپنی باری کو بھاگ جاتے ہو
دمبدم منہ چڑاتے ہو اچھا
واہ کیا خوب منہ بناتے ہو
ہے بغل میں تمہاری میرا دل
ہاتھ کیا خالی اب دکھاتے ہو
دل میں آوے سو منہ پہ کہہ دیجے
کیا غلاموں سے بربراتے ہو
تھوڑے شہدے مرے ہیں دنیا میں
کیوں غریبوں کی جان کھاتے ہو...
غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
مری جان جاتی ہے یارو سنبھالو
کلیجے میں کانٹا لگا ہے نکالو
نہ بھائی مجھے زندگانی نہ بھائی
مجھے مار ڈالو، مجھے مار ڈالو
خدا کے لیئے اے مرے ہم نشینو
یہ بانکا جو جاتا ہے اس کو بلالو
نہ آوے اگر وہ تمہارے کہے سے
تو منت کرو گھیرے گھیرے بلالو
اگر کچھ خفا ہو کے گالیاں دے...
14 اگست قریب ہے۔
پیارے وطن سے محبت ظاہر کرنے کے لیئے
گرین کلر کا ہاتھ والا پنکھا خرید لیں اور اس پر تھوڑا سا سفید کلر اور چاند تارا خود بنا لیں۔۔
جھنڈے کا جھنڈا اور ہوا کی ہوا
لہراتے جائیں اور گاتے جائیں
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
میں بھی پریشان ہوں، تو بھی پریشان ہے
بجلی کا بحران ہے، یہ ہم سب کا پاکستان...
مِرا نشیمن بکھر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے
جو خواب زندہ ہے مر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے
نہ جانے کیوں اِضطرار سا ہے، ہر اک پل بے قرار سا ہے
یہ خوف دل میں اُتر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے
عجب سی ساعت ہے آج سر پر، کہ آنچ آئی ہوئی ہے گھر پر
دُعا کہیں بے اثر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل...
غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
آنکھ پھڑکی ہے یار آتا ہے
جان کو بھی قرار آتا ہے
دل بھی پھر آج کچھ دھڑکنے لگا
کوئی تو دل فگار آتا ہے
مجھ سے کہتا ہے سنیو او بدنام
تو یہاں بار بار آتا ہے
تیرے جو دل میں ہے سو کہہ دے صاف
مجھ سے کیا کچھ اُدھار آتا ہے
اب کے آیا تو سب سے کہہ دوں گا
لیجو میرا شکار آتا...
غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
دل بتوں سے کوئی لگا دیکھے
اس خدائی کا تب مزا دیکھے
کس طرح مارتے ہیں عاشق کو
ایک دن کوئی مار کھا دیکھے
راہ میں کل جو اس نے گھیر لیا
یعنی آنکھیں ذرا ملا دیکھے
مجھ سے شرما کے بولتا ہے کیا
اور جو کوئی آشنا دیکھے
اپنی اس کو خبر نہیں واللہ
سوز کو کوئی جا کے کیا دیکھے
غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
دل مرا مجھ سے جو ملا دیوے
اس کی سب آرزو خدا دیوے
میں تو قربان اس کے ہو جاؤں
صورت اس کی کوئی دکھا دیوے
پھر جو دل دوں تو مجھ سے لیجے قسم
پر کوئی دل کو اس سے لا دیوے
عشق نے جیسا غم لگایا ہے
عشق کو کوئی غم لگا دیوے
درد نے جیسا دکھ دیا ہے مجھے
اس کی فریاد مرتضیٰ دیوے...
غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
ہزاروں مار ڈالے اور ہزاروں کو جلایا ہے
تری ان انکھڑیوں کو کس نے یہ جادو سکھایا ہے
مروں میں کس طرح مرنا کوئی مجھ کو سکھا دیوے
اجل شرما کے ٹل جاتی ہے جب سے وہ سمایا ہے
کوئی اب غم نہ کھاؤ خلق میں بےغم رہو یارو
کہ میں نے آپ اس سارے جہاں کے غم کو کھایا ہے
مجھے کیا عشق...
غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
خدا کو کفر اور اسلام میں دیکھ
عجب جلوہ ہے خاص و عام میں دیکھ
جو کیفیت ہے نرگس کی چمن میں
وہ چشمِ ساقی گلفام میں دیکھ
نظر کر زلف کے حلقے میں اے دل
گل خورشید پھولا شام میں دیکھ
خبر مجھ کو نہیں کچھ مرغ دل کی
تو اے صیاد اپنے دام میں دیکھ
پیالا ہاتھ سے ساقی کے لے سوز...