غزل
(جوش ملیح آبادی)
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا
یہی تو ہیں دو ستُونِ محکم ان ہی پہ قائم ہے نظم عالم
یہ ہی تو ہے رازِ خُلد و آدم ،نگاہ میری، شباب تیرا
صبا تصدّق ترےنفس پر ،چمن تیرے پیرہن پہ قرباں
شمیم دوشیزگی میں کیسا بسا...
محبت میں شکایت ہورہی ہے
یہ کیوں توہینِ اُلفت ہورہی ہے
بس اب شکوہ کی اصلیّت نہ پوچھو
مجھے خود بھی ندامت ہورہی ہے
زمانے میں بہت کافر ہیں ساغر
مجھ ہی کو کیوں نصیحت ہورہی ہے
(ساغر نظامی)
غزل
(ساغر نظامی)
راتوں کو تصوّر ہے اُن کا اور چُپکے چُپکے رونا ہے
اے صبح کے تارے توہی بتا، انجام مرا کیا ہونا ہے
ان نورس آنکھوں والوں کا کیا ہنسنا ہے، کیا رونا ہے
برسے ہوئے سچّے موتی ہیں، بہتا ہوا خالص سونا ہے
دل کو کھویا، خود بھی کھوئے، دنیا کھوئی، دین بھی کھویا
یہ گم شدگی ہے تو اک دن اے دوست...