غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
ناصح تو کسی شوخ سے دل جا کے لگا دیکھ
میرا بھی کہا مان محبت کا مزا دیکھ
کچھ اور سوال اس کے سوا تجھ سے نہیں ہے
اے بادشہِ حُسن تو سوے فقرا دیکھ
ہر چند میں لائق تو نہیں تیرے کرم کے
لیکن نظرِ لطف سے ٹک آنکھ اُٹھا دیکھ
پچھتائے گا آخر کو مجھے مار کے اے یار
کہنے کو تو ہر...
غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
سچ کہیو قاصد آتا ہے وہ ماہ
الحمدللہ ، الحمدللہ
ہے دل کو لگتی پر کیوں کے مانوں
کھا جا قسم تو میاں تجھ کو واللہ
بعضوں کا مجھ پر یہ بھی گماں ہے
یعنی بتاں سے چلتا ہے بد راہ
جھوٹے کے منہ پر آگے کہوں کیا
استغفراللہ، استغفراللہ
کل اس طرف سے گزرا ستم گر
میں نے کہا کیوں...
غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
دل میں دیتا ہوں، تو شتاب نہ کر
جانِ من رحم کر، عتاب نہ کر
چاند سے مکھڑے کو مرے گل رو
غصّہ کھا کھا کے آفتاب نہ کر
ورنہ جل جائے گا جہان تمام
حق کی بستی ہے، بس خراب نہ کر
میں تو حاضر ہوں جو تو فرما دے
غیر کو لطف سے خطاب نہ کر
سوز کا دل میں چھین دیتا ہوں
مفت بر رہ تو...
غزل
(سید محمد میر سوز دہلوی)
جو ہم سے تو ملا کرے گا
بندہ تجھ کو دعا کرے گا
بوسہ تو دے کبھو مری جان
مولا تیرا بھلا کرے گا
ہم تم بیٹھیں گے پاس مل کر
وہ دن بھی کبھو خدا کرے گا
دل تیرے کام کا نہیں تو
بندہ پھر لے کے کیا کرے گا
پچھتائے گا مل کے سوز سے ہاں
ہم کہتے ہیں برا کرے گا
ہے شوخ مزاج سوز...
دیکھتے ہی اسے کل میرے یہ اوسان گئے
اپنے بیگانے وہاں جتنے تھے سب جان گئے
اپنے کے ہوتے بھلا غیر کو صدقہ تو نہ کر
ہم بھی جی رکھتے ہیں پیارے ترے قربان گئے
(سید محمد میر سوز دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
مجھ کو کہتا ہے صنم تجھ کو بھی اب بھاگ لگے
آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے تجھے آگ لگے
بوسہ کے واسطے چمٹا تو لگا کہنے مجھے
بس کہیں دور بھی ہو، منہ کو ترے آگ لگے
(سید محمد میر سوز دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)