کیا مرد اور خواتین میں ذہنی اعتبار سے فرق پایا جاتا ھے؟

شمشاد

لائبریرین
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک فرمان ہم نے کثرت سے سنا ہے وہ ہے۔ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔

بھائی میں نے تو ایسا کوئی فرمان نہیں سُنا۔

البتہ ایسی باتیں سُنی ضرور ہی جو گردش میں رہتی ہیں کہ عورت ناقص العقل ہے، عورت ناقص الوراثت ہے، عورت ناقص العبادت ہے، وغیرہ وغیرہ۔

اگر ایسی باتیں ہیں تو ضرور ان کے بدلے میں ان کو مرد کے مقابلے میں کوئی نہ کوئی اور ترجیح بھی حاصل ہو گی۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
میری کسی بات سے آپ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔۔میرا موقف تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس صنف کو بھی پیدا کیا ہے احسن تقویم پر پیدا کیا ہے۔۔۔ ان میں ڈیزائن فالٹ کوئی نہیں ہے۔ مردوں کو انکے دائرہ کار کے مطابق مطلوبہ "ذہانت" دی گئی ہے اور عورتوں کو انکے دائرہ کار کے مطابق ۔۔۔ ۔اور دونوں کا دائرہ کلیۃََ ایک جیسا نہیں ہے۔۔۔ لہذا بہتر یا کمتر کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
بالکل نہیں بھائی۔ ہر کسی کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے۔اور اسی میں بحث کا حسن ہے۔
لیکن کیونکہ ریسرچ مجھے کم ذہین ثابت کر رہی ہے اور تاریخ 'ناقص العقل' تو اب کیا کہوں۔ :)
 

نبیل

تکنیکی معاون
یہاں بھی اس سے ملتے جلتے موضوع پر بات ہو چکی ہے۔
ایک گزارش کرتا چلوں کہ یہ زمرہ مذہبی بحث کے لیے موزوں نہیں ہے۔ امید ہے کہ احباب اس بات کا خیال رکھیں گے۔
 

ساجد

محفلین
شکر خدا کا کہ یہ بحث سیاست اور مذہب کے زمرات میں نہیں ہو رہی۔ شاید اسی لئے کہتے ہیں "بد سے بدنام برا":D ۔
 
ویسے پہلے والے پروفیسر صاحب نے ریس کی بنیاد پر بھی ذہانت میں کمی بیشی کی تھیوری پیش کی ہے۔ آپ کو پڑھنے کا اتفاق ہوا؟
اور پلیز ناراض نہ ہوں۔ آپ نے تحقیقات کی بات کی تو ظاہر ہے جو چیز آپ کے ریڈر کے لئے نئی ہو گی وہ اس کو تفصیل میں پڑھنا بھی چاہے گا۔میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا شعبہ ہی ریسرچ سے متعلق ہے اور ہمیں کوئی تھیوری پیش کرنے سے پہلے ان کے حوالہ جات تیار رکھنے پڑتے ہیں۔ کاش میں بھی مختلف جرنلز کا حوالہ بغیر نام کے دے سکوں اور مجھے سوال بھی نہ کیا جائے۔
بالکل ! ہر زمانے ميں خود كو بہتر قوم سمجھنے والے موجود رہے ہيں، يہود خود كو خدا كے بيٹے كہتے تھے ، آج بھی سامى النسل كے شور كے پيچھے وہی ذہنيت كار فرما ہے ۔ اوگسٹ كومٹ نے گن كر پانچ برتر قوموں کے علاوہ باقى سب كو بے كار قرار دے ديا ، رڈ یارڈكپلنگ كى وائٹ مينز برڈن كسى كو ياد ہے ؟ اب تحقيق كے عنوان سے ان سب دعووں كا كيا جائے ؟
 

شمشاد

لائبریرین
یہاں بھی اس سے ملتے جلتے موضوع پر بات ہو چکی ہے۔
ایک گزارش کرتا چلوں کہ یہ زمرہ مذہبی بحث کے لیے موزوں نہیں ہے۔ امید ہے کہ احباب اس بات کا خیال رکھیں گے۔

نبیل بھائی آپ نے کہاں بھیج دیا تھا، مجھے پرانی یادیں تازہ کرنے کے لیے وہ سارے صفحے پڑھنے پڑے۔ ربط دینے کا شکریہ۔
 

خرم زکی

محفلین
موضوع پر دونوں اعتبار سے گفتگو ہو سکتی ہے، دینی لحاظ سے اور عقلی اعتبار سے۔ جب ہم ان لوگوں سے گفتگو کرتے ہیں جو اس حوالے سے دینی ماخذ کو قبول نہیں کرتے تو پھر قران و حدیث کا حوالہ دینا بے سود ہوتا ہے۔ صنفی اعتبار سے کون ذہین ہے، یہ کوئی عقلی مسائل میں سے نہیں کہ جس کہ حوالے سے عقل محض کوئی حکم جاری کر سکے، اس لئے تجرباتی علوم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی مغربی معاشرے کی طرح فمنزم اثر و رسوخ پا رہا ہے اور کئی مرد و خواتین مغرب کے مرد و عورت کے مساواتی نظریہ سے متاثر نظر آتے ہیں. اگر اس کو محض ایک ثقافت کے طور پر پیش کیا جاتا تو یہ مسلہ کی ایک جہت تھی لیکن بد قسمتی سے کچھ خود ساختہ دانشوروں نے اس ثقافتی تحریک کو کوئی عقلی نظریہ سمجھ لیا اور یہ دعویٰ ہونے لگا کہ اس نظریہ کے اصول و فروع عقل سے ثابت ہیں جو کہ بنیادی طور سے دروغ گوئی سے بڑھ کر کچھ نہیں. ریشنلٹی یا عقل محض اس حوالے سے کوئی واضح حکم نہیں رکھتی اور اس میں سے بیشتر چیزیں اندکٹو استدلال پر مبنی ہوتی ہیں جو اپنے نتائج کے اعتبار سے حتمی نہیں ہوتا اور پھر جیسا کہ اوپر بیان کی گئی اسٹڈیز سے واضح ہوا، مرد و عورت کی مساوات کا یہ نعرہ تجرباتی بنیادوں پر بھی غلط ہے لیکن بد قسمتی سے چوں کہ ہمارے مدارس میں منطق و فلسفہ کی تعلیم عملی طور پر ختم ہو چکی اور سماجیات، عمرانیات و نفسیات تو خیر کبھی پڑھے ہی نہیں جاتے تھے اس لئے علماء ان جدید ثقافتی حملوں کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ اور جہاں تک جاوید غامدی جیسے حضرات کا تعلق ہے ان کا رویہ پشیمانی و ندامت ہے اور وہ یہ بھی فرق نہیں کر پاتے کہ مغرب سے آنے ولی ہر چیز علم و برہان پر مبنی نہیں بلکہ اس میں ثقافتی رنگ غالب ہے جیسا کہ پہلے یہی دھوکا سر سید احمد خان کھا چکے ہیں۔ ان حضرات کو یہی علم نہیں کہ جس ریشنلزم (عقلیت پسندی ) کا یہ پرچار کرتے ہیں اور معتزلی فکر سے متاثر نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں ان معتزلہ کے اکابرین بشمول شیخ الرئیس بو علی سینا، ابو النصر فارابی اور ابن رشد اسلامی تعلیمات کو لے کر کسی ندامت کا شکار نہیں تھے اور وہ عقل محض پر مبنی استدلال اور استقرائی طرز استدلال کا فرق جانتے تھے۔
 

خرم زکی

محفلین
ہر دعویٰ محتاج دلیل و برہان ہے اور ہر تحقیق و نظریہ کو شواہد کی بنیاد پر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن علمی دنیا میں جہالت کو دلیل کے طور پر پیش کرنے کئی کوئی ریت قابل قبول نہیں اور یہ کہنا کہ یہ نظریہ اس لئے غلط ہے کیوں کہ پیچھے پیش کیا جانے والے کئی نظریات غلط تھے کوئی علمی وزن نہیں رکھتا۔
 

خرم زکی

محفلین
مرد و عورت کی مساوات کا میل شاونزم سے کیا تعلق خاتون ؟؟؟ یہ تو فمنزم سے متعلق ہے ۔ میں تو موضوع سے متعلق گفتگو کر رہا ہوں ورنہ تو دنیا میں کئی ازم موجود ہیں!
 

زونی

محفلین
ویسے تو مرد بہ مقابلہ عورت کی ڈیبیٹ ہی لاحاصل ہے۔ اس قسم کی بحث کا کوئی متفقہ نتیجہ نہ پہلے کبھی برآمد ہوا ہے، نہ آئندہ ایسا ہونے کا امکان ہے :D پھر بھی بحث سے بہت سے ذہنی در وا ضرور ہوتے ہیں
دو مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مردوں کی "مینٹل اپروچ" کم یا زیادہ ہوتی تو ہے۔ اپنے شعبہ میں اس کی مینٹل اپروچ زیادہ بہتر اور دوسرے کے شعبہ میں اس کی مینٹل اپروچ کم بہتر ہوگی۔

کیا ایک مرد ماہر ریاضیات اور عورت ماہر ریاضیات کے مینٹل لیول میں فرق ہوگا؟
ہوگا کیا بلکہ ہوتا ہے :D (ہم استثنیٰ کی بات نہیں کر رہے بلکہ عمومی بات کر رہے ہیں) عمومی طور پر مرد ماہر ریاضیات نسبتا" زیادہ بہتر انداز میں ریاضی کی تعلیم دیتا ہے اور دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ریاضی پڑھانے والے مرد اساتذہ زیادہ ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ خالصتا" زنانہ تعلیمی اداروں میں بھی ریاضی پڑھانے والے زیادہ تر مرد ہی ہوتے ہیں۔ بلکہ ذرا اور باریکی میں جائیں تو اگر کسی زنانہ کالج اور زنانہ جامعہ میں ریاضی پڑھانے والے مرد اور خواتین دونوں ہوں تو ذہین طالبات کی اکثریت مرد اساتذہ سے ہی ریاضی پڑھنا پسند کرتی ہیں۔ بات وہی "مینٹل اپروچ" کی ہے کہ ریاضی ایک "مردانہ شعبہ" ہے، جسے ضرورت کے مطابق خواتین بھی پڑھا سکتی ہیں مگر بحیثت مجموعی مردوں کی مہارت سے آگے نہیں جاسکتیں۔
بالکل اسی طرح جیسے گائنا کالوجی بنیادی طور پر خواتین کا شعبہ ہے۔ دنیا بھر میں بہترین ماہرین گائنا کالوجسٹ خواتین ہی ہیں خواہ وہ کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کی صورت میں ہوں یا اَن پڑھ دائی کی صورت میں۔ گو کہ اب مرد ماہرین گائنا کالوجسٹ بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔ مگر یہ کبھی بھی (بحیثیت مجموعی) خواتین ماہرین گائنا کالوجسٹ سے مہارت میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔ بلکہ اکثر مرد ماہرین گائناکالوجسٹ بھی خواتین ماہرین گائناکالوجسٹ سے کنسلٹ کرتے رہتے ہیں۔ یہاں بھی بات وہی "مینٹل اپروچ" ہی کی ہے۔ خواتین کی اس شعبہ میں "مینٹل اپروچ" زیادہ بہتر ہوتی ہے اور مرد کی کم بہتر۔

آج کل ہر شعبہ میں مرد و خواتین موجود ہیں۔ عورتیں جہاز بھی مہارت سے اڑا رہی ہیں اورشپ بھی عمدگی سے چلا رہی ہیں۔ اسی طرح مرد گئنا کالوجسٹ بھی بن رہے ہیں اور بیوٹیشین بھی۔ لیکن اس استثنائی صورتحال کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دونوں اصناف ہر فیلڈ میں یکساں مہارت یا مینٹل اپروچ کے حامل ہیں۔ ہر ایک کا اپنا الگ فطری شعبہ ہے، جس مین یہ نسبتا" زیادہ عمدہ کارکردگی کا مطاہرہ کرتے ہیں۔

لیکن اس بات کو مقابل صنف کے شعبہ میں داخل ہونے والے یا داخل ہونے کے خواہشمند کبھی بھی ’’قبول‘‘ نہیں کرتے۔ یہ ان کی ’’انا‘‘ کے خلاف جاتا ہے کہ کیا میں ’’وہ‘‘ کام ’’ان‘‘ جیسا نہیں کرسکتا یا کر سکتی :D



یوسف بھیا میں یہ واضح کر دوں کہ یہاں مرد بمقابلہ عورت پہ قطعی بحث مقصود نہیں ۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت اور مرد میں طبعی طور پہ فرق ھے اور ان کی ذمہ داریاں بھی مختلف ہیں لیکن کیا ذہنی صلاحیتوں میں بھی کوئی طبعی فرق موجود ھے ؟؟؟ یا کوئی مصدقہ ریسرچ ایسا ثابت کرتی ھے کہ مرد کا آئی کیو عورت سے زیادہ ھے ؟؟؟ میرا خیال ھے مذہب نے بھی اس چیز کو موضوع نہیں بنایا تو ہم نے اسے اپنے رویوں میں کیونکر شامل کر لیا؟؟؟؟

مجھے لگتا ھے میں اپنی بات صحیح طور پہ سمجھا نہیں پائی ہوں یا مجھے سمجھنے میں کچھ کنفیوژن ھے کہ آپ بار بار وہی بات دہرا رہے ہیں جو مجھے پہلے سے کلیئر ھے :grin: ،،،میننٹل اپروچ سے میری مراد مرد اور عورت کی ذہنی سطح تھی نہ کہ مہارت کے شعبہ جات،،،،اور اس بات کی کیا دلیل ھے کہ دو ایک ہی تعلیمی ریکارڈ کے مرد اور عورت میں مرد کی ذہنی سطح بہتر ہو گی؟؟اور جیسا آپ نے کہا کہ ریاضی ایک مردانہ شعبہ ھے ؟؟؟:idontknow:
اس کے علاوہ آپ نے کہا کہ خواتین مرد حضرات سے ریاضی پڑھنا پسند کرتی ہیں بہ نسبت خواتین کے تو عموماّ یہاں دیکھا گیا ھے خواتین مرد میک اپ آرٹسٹ سے میک اپ کروانا اور ہیئر اسٹائل بنوانے کو بھی ترجیح دیتی ہیں اگرچہ یہ ان کی مہارت کا شعبہ نہیں ھے ؟؟؟؟؟؟؟:battingeyelashes:
 

زونی

محفلین
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک فرمان ہم نے کثرت سے سنا ہے وہ ہے۔ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں۔ اب اس فرمان کی جانچ پڑتال کرنا اہل علم کا کام ہے۔ اگر ثابت ہو جائے کہ یہ حدیث مبارکہ صحیح ہے تو خاموشی سے مان لیا جائے ۔ کیونکہ دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی دانا نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہی ہوگا۔ جب ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے پر اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ ہم میں سے کسی نے اللہ کو دیکھا نہیں۔ فرشتوں، قیامت، جنت اور دوزخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر مان رہے ہیں تو اس چھوٹے سے نقطے کو کیوں نہ مانیں؟ حدیث مبارکہ کے صحیح ثابت ہو جانے کے بعد نہ ماننا عقل اور سمجھ سے ماورا ہے۔ لیکن سب سے پہلے اہل علم اس حدیث مبارکہ کا تعین کریں۔
بالفرض ہم صرف اور صرف اپنی عقل کے بل بوتے پر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ذہانت میں عورت اور مرد برابر ہیں یا تفاوت ہے۔ تو اس کے لئے کسی بھی کو ایجوکیشن کالج سے ایک ہی شعبے کے پندرہ لڑکے اور پندرہ لڑکیاں لیکر لیبارٹری میں ان کا آئی کیو لیول چیک کروا لیں۔ نتیجہ سامنے آ جائے گا۔ اس میں جھگڑنے اور میدان جنگ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟؟؟ یہاں اس فورم پر ہم سب بہن بھائیوں کی طرح ہیں۔ ہر ایک اپنے مقام پر محترم ہے۔




یعنی آپ نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بغیر جانچ پڑتال کے یہاں بطور دلیل پیش کر دیا ھے اور یہ ذمہ داری ہم پہ ڈال دی ھے کہ جانچ پڑتال کریں ؟؟؟؟؟:battingeyelashes:
ویسے بھی اس موضوع کا مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ھے اسی لیے اسے اسلامی تعلیمات کی بجائے متفرقات میں پوسٹ کیا ھے ۔
 
اس موضوع کا عنوان تو مرد و زن میں ذہنی اعتبار سے فرق پر رائے طلب کرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ ہمیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ احباب "فرق" کا پیمانہ "ایک کمتر تو دوسرا برتر" کو بنا رہے ہیں؟ کیا کمتری و برتری کے علاوہ کسی قسم کا فرق ممکن نہیں؟ :)

ویسے ہم اپنی اہلیہ کو ذہنی اعتبار سے خود کے مقابلے کہیں زیادہ پختہ کار پاتے ہیں۔ :) :) :)
 

خرم زکی

محفلین
ذہانت میں مردوں کی عمومی برتری پر تو سٹڈیز کا حوالہ اپر دے دیا گیا، تصدیق کس سے کروانی تھی البتہ یہ معلوم نہیں تھا۔ یہاں سائنس، ریاضی اور دیگر شعبہ جات میں مردوں کی برتری کی بات ہو رہی ہے تو عرض کرتا چلوں کہ زندگی کے ان دھاروں میں مردوں کا آگے ہونا تو ان معاشروں میں بھی مسلم ہے جہاں صنفی مساوات کا سب سے زیادہ چرچا ہے یعنی مغرب۔ تمام تر کوششوں کے باوجود بھی خواتین کا سائنسی تحقیقات میں تناسب ٣٠ ٪ سے زیادہ نہ ہو سکا جبکہ انجینیرنگ کے شعبہ میں یہ محض ٩ فیصد ہے۔ انہی شعبہ جات میں خواتین اساتذہ کی تعداد ١٠ فیصد سے زیادہ نہیں. اس کی ممکنہ وجوہات میں معاشرتی رویوں سے لیکر خواتین کا ان شعبوں میں جانے سے گریزاں ہونا جہاں ان کی تعداد کم ہے شامل ہیں۔
 

زونی

محفلین
موضوع پر دونوں اعتبار سے گفتگو ہو سکتی ہے، دینی لحاظ سے اور عقلی اعتبار سے۔ جب ہم ان لوگوں سے گفتگو کرتے ہیں جو اس حوالے سے دینی ماخذ کو قبول نہیں کرتے تو پھر قران و حدیث کا حوالہ دینا بے سود ہوتا ہے۔ صنفی اعتبار سے کون ذہین ہے، یہ کوئی عقلی مسائل میں سے نہیں کہ جس کہ حوالے سے عقل محض کوئی حکم جاری کر سکے، اس لئے تجرباتی علوم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی مغربی معاشرے کی طرح فمنزم اثر و رسوخ پا رہا ہے اور کئی مرد و خواتین مغرب کے مرد و عورت کے مساواتی نظریہ سے متاثر نظر آتے ہیں. اگر اس کو محض ایک ثقافت کے طور پر پیش کیا جاتا تو یہ مسلہ کی ایک جہت تھی لیکن بد قسمتی سے کچھ خود ساختہ دانشوروں نے اس ثقافتی تحریک کو کوئی عقلی نظریہ سمجھ لیا اور یہ دعویٰ ہونے لگا کہ اس نظریہ کے اصول و فروع عقل سے ثابت ہیں جو کہ بنیادی طور سے دروغ گوئی سے بڑھ کر کچھ نہیں. ریشنلٹی یا عقل محض اس حوالے سے کوئی واضح حکم نہیں رکھتی اور اس میں سے بیشتر چیزیں اندکٹو استدلال پر مبنی ہوتی ہیں جو اپنے نتائج کے اعتبار سے حتمی نہیں ہوتا اور پھر جیسا کہ اوپر بیان کی گئی اسٹڈیز سے واضح ہوا، مرد و عورت کی مساوات کا یہ نعرہ تجرباتی بنیادوں پر بھی غلط ہے لیکن بد قسمتی سے چوں کہ ہمارے مدارس میں منطق و فلسفہ کی تعلیم عملی طور پر ختم ہو چکی اور سماجیات، عمرانیات و نفسیات تو خیر کبھی پڑھے ہی نہیں جاتے تھے اس لئے علماء ان جدید ثقافتی حملوں کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ اور جہاں تک جاوید غامدی جیسے حضرات کا تعلق ہے ان کا رویہ پشیمانی و ندامت ہے اور وہ یہ بھی فرق نہیں کر پاتے کہ مغرب سے آنے ولی ہر چیز علم و برہان پر مبنی نہیں بلکہ اس میں ثقافتی رنگ غالب ہے جیسا کہ پہلے یہی دھوکا سر سید احمد خان کھا چکے ہیں۔ ان حضرات کو یہی علم نہیں کہ جس ریشنلزم (عقلیت پسندی ) کا یہ پرچار کرتے ہیں اور معتزلی فکر سے متاثر نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں ان معتزلہ کے اکابرین بشمول شیخ الرئیس بو علی سینا، ابو النصر فارابی اور ابن رشد اسلامی تعلیمات کو لے کر کسی ندامت کا شکار نہیں تھے اور وہ عقل محض پر مبنی استدلال اور استقرائی طرز استدلال کا فرق جانتے تھے۔



اس بحث کو مذہب سے کیوں جوڑ رہے ہیں آپ ؟؟؟ میرا خیال ھے یہ ایک معاشرتی مسئلہ زیادہ ھے۔۔۔۔۔میں خود بھی فیمنزم پہ یقین نہیں رکھتی نہ ہی مرد و عورت کے مساوی حٖقوق کا سوال ھے ۔۔۔۔۔۔سوال تو یہ ھے کہ مرد و عورت کی ذہنی سطح میں کتنا فرق ھے ؟؟؟ کیا ایک ان پڑھ مرد اور ان پڑھ عورت میں مرد کی ذہنی سطح عورت سے بڑھ کر ہو گی؟؟؟
 

خرم زکی

محفلین
کیا ایک ان پڑھ مرد اور ان پڑھ عورت میں مرد کی ذہنی سطح عورت سے بڑھ کر ہو گی
اگر آپ غور کرتیں تو میں اپر اس موضوع پر بات کر چکا تھا اور میرا حوالہ اسی پوری گفتگو میں غیر مذہبی رہا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق ایک مرد اوسطا خواتین سے آئ کیو میں ٥ درجہ اپر ہوتا ہے۔
 

زونی

محفلین
خرم صاحب میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں یہ ایک مذہبی موضوع نہیں ھے اسلیئے آپ مذہبی حوالے سے دلائل مت دیں کیونکہ یہ ایک باقاعدہ بحث ھے اور اس پہ بہت سارے دلائل بھی دیے جا سکتے ہیں لیکن اس مقصد کیلئے مذہبی زمرہ موجود ھے ۔
 
Top