یہ شعر کس کا ہےِ؟

الف عین نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 24, 2009

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,667
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    زخم ہوتے ایک دو، تو رفو کا سوچتے
    اس دلِ صد چاک کا سینا پرونا چھوڑیے

    اگر احباب میں سے کسی کو اس شعر کے خالق کا نام معلوم ہو تو ضرور بتائیے گا۔ حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. عین عین

    عین عین لائبریرین

    مراسلے:
    795
    موڈ:
    Depressed
    زخم ہوتے ایک دو، تو رفو کا سوچتے

    جناب شاعر تو مجھے معلوم نہیں البتہ مصرعے میں کمی کا احساس ستا رہاہے۔ ممکن ہے میں غلطی پر ہوں۔۔۔۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے،
    زخم ہوتے ایک دو، تو ہم رفو کا سوچتے
    ہم آئے گا یہاں ویسے جاننے والے بہتر جانتے ہیں۔ میری غلطی درست کر دیجیے
     
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,667
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    آپ نے بالکل درست فرمایا۔ ایک لفظ کم ہے لیکن مجھ تک سینہ بہ سینہ یوں ہی پہنچا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ لفظ "کچھ" ہو یا جیسے آپ نے لکھا "ہم" ہو۔

    زخم ہوتے ایک دو ، تو کچھ رفو کا سوچتے
    اس دلِ صد چاک کا سینا پرونا چھوڑیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ عین عین
     
  5. خوشی

    خوشی محفلین

    مراسلے:
    11,027

    شکریہ سخنور جی ، آپ کی ممنون ہوں جو آپ نے تائید فرمائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,667
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    امید ہے اس قسم کی ادبی معلومات بغیر پوچھے بھی آپ شئیر کرتی رہیں گی۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. احمد بلال

    احمد بلال محفلین

    مراسلے:
    417
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    جی واقعی ۔ یہ علامہ اقبال کا نہیں ہے۔ ہمارے اردو کے پروفیسرصاحب نے بتایا تھا کہ یہ کس کا ہے لیکن ابھی وہ نام یاد نہیں ہے۔ اور میں نے کسی رسالے میں بھی اس بارے میں پڑھا تھا۔
     
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,667
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بشکریہ حماد

    تو سمجھتا ہے حوادث ہیں سنانے کیلئے
    یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کیلئے

    تندیِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے

    کامیابی تو ہوا کرتی ہے ناکامیِ دلیل
    رنج آتے ہیں تجھے راحت دلانے کیلئے

    نیم جاں ہے کس لیے حال خلافت دیکھ کر
    ڈھونڈ لے کوئی دوا اسکو بچانے کیلئے

    استقامت سے اٹھا وہ نالہ آہ و فغاں
    جو کہ کافی ہو در لندن ہلانے کیلئے

    آتشِ نمرود گر بھڑکی ہے کچھ پروا نہیں
    وقت ہے شانِ براہیمی دکھانے کیلئے

    (صادق حسین ایڈووکیٹ)
    (کتاب "تنقیدی افق" از ذوالفقاراحسن سے نقل کیا گیا )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
  9. شوکت پرویز

    شوکت پرویز محفلین

    مراسلے:
    788
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Breezy
    ُ
    استاد جی!
    ممکن ہے اس شعر میں "نہ" ایک حرفی ہی باندھا گیا ہو۔
    ممکن ہے اس کا وزن "فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن" نہ ہو کر (ظفر کی درج ذیل غزل کی طرح) "فُعِلُن فُعِلُن فُعِلُن فُعِلُن" ہو۔

    ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا ہو وہ کیسا ہی صاحبِ فہم و ذکا

    جناب فرخ منظور صاحب کے پیغام (مراسلہ نمبر 33) میں دیے گئے پورے شعر کو دیکھ کر بھی اسی وزن کی تائید ہوتی ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  10. میاں وقاص

    میاں وقاص محفلین

    مراسلے:
    102
    موڈ:
    Relaxed
    قدمو ں میں تھی زمیں سفر فاصلوں میں تھا
    میں دور تھا ضرور مگر راستوں میں تھا"
     
  11. ظهیر عباس

    ظهیر عباس محفلین

    مراسلے:
    2
    یه شعر مرزا صادق شرر کا هے اور یوں هے
    گئے دونوں جهاں کے کام سے هم'نه ادھر کے رهے نه ادهر کے رهے
    نه خدا هی ملا نه وصال صنم'نه ادھر کے رهے نه ادھر کے رهے
     
  12. ظهیر عباس

    ظهیر عباس محفلین

    مراسلے:
    2
    یه شعر محمد صادق ایڈووکیٹ کا هے
     
  13. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,537
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    ایڈووکیٹ ان کا تخلص ہے؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,862
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جی نہیں، پیشہ، صادق صاحب تخلص نہیں رکھتے تھے شاید
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  15. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,667
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    مکمل غزل پڑھیے۔ اگر آپ تحمل سے مزید مراسلے بھی پڑھتے تو آپ کو مکمل غزل بھی مل جاتی جو میں نے ہی ارسال کی تھی۔

    تو سمجھتا ہے حوادث ہیں سنانے کیلئے
    یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کیلئے​

    تندیِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے​

    کامیابی تو ہوا کرتی ہے ناکامیِ دلیل
    رنج آتے ہیں تجھے راحت دلانے کیلئے​

    نیم جاں ہے کس لیے حال خلافت دیکھ کر
    ڈھونڈ لے کوئی دوا اسکو بچانے کیلئے​

    استقامت سے اٹھا وہ نالہ آہ و فغاں
    جو کہ کافی ہو در لندن ہلانے کیلئے​

    آتشِ نمرود گر بھڑکی ہے کچھ پروا نہیں
    وقت ہے شانِ براہیمی دکھانے کیلئے​

    (صادق حسین ایڈووکیٹ)​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    مکمل غزل شئیر کرنے کا شکریہ۔
    اس شعر کو میں فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن کے وزن پر پڑھتا تھا۔
    آج معلوم ہوا غزل کی بحر ہی مختلف ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  17. حسیب احمد حسیب

    حسیب احمد حسیب محفلین

    مراسلے:
    522
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    سید صادق حسین شاہ کاظمی شاعر کا پورا نام ہے موصوف ایڈووکیٹ تھے (ولادت:یکم اکتوبر 1898 ۔ وفات: 4 مئی 1989) از شکر گڑھ ضلع سیالکوٹ کے مجموعۂ کلام '' برگِ سبز" مطبوعہ 1976 فیروز سنز سے انتخاب یہ انکی معروف نظم ہے اس کے دو مزید اشعار کچھ یوں ہیں .

    مانگنا کیسا؟ کہ تو خود مالک و مختار ہے
    ہاتھہ پھیلاتا ہے کیوں اپنے خزانے کے لیے

    دست و پا رکھتے ہیں تو بیکار کیوں بیٹھے رہیں
    ہم اٹھیں گے اپنی قسمت خود بنانے کے لیے

    (صادق حسین ایڈووکیٹ)

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  18. آصف جسکانی

    آصف جسکانی محفلین

    مراسلے:
    41
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    اختر شمار
     
  19. آصف جسکانی

    آصف جسکانی محفلین

    مراسلے:
    41
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep


    ‏ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﻔﺮ ﻓﺎﺻﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔۔
    ‏ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﺿﺮﻭﺭ ﻣﮕﺮ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔۔
     
  20. آصف جسکانی

    آصف جسکانی محفلین

    مراسلے:
    41
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    سید صادق حسین شاہ کاظمی
    اس غزل کا ایک شعر زبان زد عام ہے لیکن اقبال کے نام سے غلط طور پر منسوب ہے۔ مکمل غزل پیش ہے:

    تو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے
    یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کے لیے

    "تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے"


    کامیابی کی ہُوا کرتی ہے ناکامی دلیل
    رنج آتے ہیں تجھے راحت دلانے کے لیے

    نیم جاں ہے کس لیے حالِ خلافت دیکھ کر
    ڈھونڈ لے کوئی دوا اس کے بچانے کے لیے

    چین سے رہنے نہ دے ان کو نہ خود آرام کر
    مستعد ہیں جو خلافت کو مٹانے کے لیے

    استقامت سے اٹھا وہ نالۂ آہ و فغاں
    جو کہ کافی ہو درِ لندن ہلانے کے لیے

    آتشِ نمرود گر بھٹکی ہے کچھ پروا نہیں
    وقت ہے شانِ براہیمی دکھانے کے لیے

    مانگنا کیسا؟ کہ تو خود مالک و مختار ہے
    ہاتھہ پھیلاتا ہے کیوں اپنے خزانے کے لیے

    دست و پا رکھتے ہیں تو بیکار کیوں بیٹھے رہیں
    ہم اٹھیں گے اپنی قسمت خود بنانے کے لیے

    سید صادق حسین شاہ کاظمی ایڈووکیٹ (ولادت:یکم اکتوبر 1898 ۔ وفات: 4 مئی 1989) از شکر گڑھ ضلع سیالکوٹ کے مجموعۂ کلام '' برگِ سبز" مطبوعہ 1976 فیروز سنز سے انتخاب

     

اس صفحے کی تشہیر