انٹرویو یہاں درس گا ہ قائم ہے

مدرس

محفلین
اردے اپنی جگہ پر درست سوچ درست اقدامات کے ساتھ قائم ہیں
ویسےسوال کی وضاحت کردیں‌
 
مسلم حکمرانوں‌نے یونانی فلسفہ اپنی تعلیم میں‌دا خل کردیا تھا جس کی وجہ لو گو ں کا دینی اور مسلکی مزاج خراب ہو ا
اس کے سد باب کے لئےعالم کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ منطق اور فلسفہ جانے لیکن اب وہ خرافات نہیں رہیں اس لئے اب عالم کے لئے منطق کا جاننا بھی ضروری نہیں رہا

السلام علیکم مدرس صاحب ،

آپ تو استاد آدمی لگتے ہیں آتے ہی استادی شاگردی شروع کر دی۔ ویسے میں دوسرے مکتب میں ہوں اور میرے اساتذہ کی ہٹی پر آپ نے اپنی دوکان سجا کر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے خبردار رہیے گا آپ پر تند و تیز حملے ہوں گے میری طرف سے تاکہ میرے پروفیسر اور اساتذہ حضرات کی علمی دوکانیں بھی چلتی رہیں ۔

آپ نے کہا کہ منطق مسلمان حکمرانوں کے دور میں یونانی فلسفیوں کے ہاں سے عربوں میں آئی۔ اس کی کیا وجہ تھی یہ ذرا تفصیلا بتائیں۔

دوسرا اگر اس زمانے میں مقابلے کے لیے کسی عالم کو یہ سیکھنا ضروری تھا تو اب غیر ضروری کیوں ہو گیا جب کہ اب تو منطق کا زور پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے۔

عجیب ہے آپ کی منطق ویسے باتوں سے تو منطقی لگتےہیں مگر منطق کے ہی منکر ہو رہے ہیں ۔
 

شمشاد

لائبریرین
ارے نہیں بھائی، وہ تو میں نے مدرس کو کہا تھا، اسی دوران آپ کا پیغام آ گیا۔
 

میر انیس

لائبریرین
السلام علیکم مدرس صاحب ،

آپ تو استاد آدمی لگتے ہیں آتے ہی استادی شاگردی شروع کر دی۔ ویسے میں دوسرے مکتب میں ہوں اور میرے اساتذہ کی ہٹی پر آپ نے اپنی دوکان سجا کر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے خبردار رہیے گا آپ پر تند و تیز حملے ہوں گے میری طرف سے تاکہ میرے پروفیسر اور اساتذہ حضرات کی علمی دوکانیں بھی چلتی رہیں ۔

آپ نے کہا کہ منطق مسلمان حکمرانوں کے دور میں یونانی فلسفیوں کے ہاں سے عربوں میں آئی۔ اس کی کیا وجہ تھی یہ ذرا تفصیلا بتائیں۔

دوسرا اگر اس زمانے میں مقابلے کے لیے کسی عالم کو یہ سیکھنا ضروری تھا تو اب غیر ضروری کیوں ہو گیا جب کہ اب تو منطق کا زور پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے۔

عجیب ہے آپ کی منطق ویسے باتوں سے تو منطقی لگتےہیں مگر منطق کے ہی منکر ہو رہے ہیں ۔

بھائی میں تو آپ دونوں کو ہی استاد ماننے کو تیار ہوں اگر دونوں مجھکو تھوڑی سی منطق سمجھادیں۔ ویسے محب آپکی اس بات کا مطلب میں نہیں سمجھا کہ میں دوسرے مکتب میں ہوں اور میرےاساتذہ ۔ ۔ ۔
کی آپ بھی کسی مدرسے میں استاد ہیں یا ابھی پڑھ رہے ہیں
 

ساجد

محفلین
محترم مدرس ، اردو محفل پہ خوش آمدید۔
بہت خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسی ہستی سے ملاقات کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔
میرے سوالات کی نوعیت بھی محب کے سوالات جیسی ہے کہا اگر منطق کی ضرورت ماضی میں تھی تو اب کیوں نہیں؟
آپ نے فرمایا کہ منطق مسلمانوں کے دور حکومت میں یونانیوں کے ذریعہ سے عربوں میں آئی۔ اس کی کچھ وضاحت فرما دیں ۔
یہ بھی فرما دیں کہ فصاحت و بلاغت اور اظہار خیال کی صلاحیت کس حد تک منطق کی محتاج ہوتی ہے یا یہ صلاحیت بجائے خود علمِ نطق کہلائی جا سکتی ہے؟
 

سویدا

محفلین
در اصل منطق کا ایک زمانے میں‌بہت فیشن تھا علم منطق پہ دسترس اور عبور رکھنا ہر عالم کے لیے ضروری ہوتا تھا بلکہ اس دور کی ہر کتاب کے اسلوب میں‌منطق کی جھلکیاں‌ضرور نظر آتی ہیں

اس لیے ایک زمانے میں منطق پڑھنا سمجھنا بہت ضروری تھا

آج کے دور میں‌یہ کہنا کہ منطق کی بالکل ضرورت نہیں رہی تو شاید انصاف نہ ہوگا کیونکہ متقدمین علما کی بہت ساری کتابیں‌منطق ہی کے اسلوب میں‌لکھی گئی ہیں‌

مثال کے طور پر امام غزالی امام رازی جیسے علمائے امت کی کتابوں‌سے استفادہ علم منطق کے جانے بغیر ممکن نہیں‌

لیکن یہ کہنا بھی صحیح‌نہیں‌کہ منطق ہر ایک کے لیے جاننا ضروری ہے بلکہ امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الرد علی المنطقیین میں‌بہت اچھا جملہ لکھا ہے جس سے منطق کی ضرورت

اور تعریف دونوں‌نکھر کر سامنے آجاتی ہیں‌انہوں‌نے لکھا کہ جو بے وقوف ہے اس کو منطق کی حاجت نہیں‌اور جو عقل مند ہے اس کو منطق کی ضرورت نہیں‌

لیکن یہ بات ضرور ہے کہ متقدمین علما کی کتابوں‌سے کما حقہ استفادے کے لیے منطق کی اصطلاحات کا ادراک ہونا نہایت ضروری ہے
 

Fari

محفلین
اس "منطق" کو پڑھ کر ایک کہانی یاد آگئی-
ایک شخص کا بیل کولہو سے بندھا تھا- اس کے گلے میں ما لک نے گھنٹی باندھی ہوئی تھی- ایک منطقی وہاں سے گزرا تو اس نے بیل کے ما لک سےاس کا سبب پوچھا- ما لک نے کہا کہ جب بیل چلتا ہے تو اس کے گھنٹی کی آواز آتی ہے اور جب یہ تھک کے رک جاتا ہے تو گھنٹی کی آواز بند ہو جاتی ہے- میں جب اندر کمرے میں ہوتا ہوں تو اس طرح مجھے پتا چل جاتا ہے کہ بیل رکا ہوا ہے یا چل رہا ہے----اس شخص نے کہا کہ اگر ایسا ہو کہ بیل کھڑا ہو جائے اور سر ہلانا شروع کر دے تو؟ ما لک نے جواب دیا کہ "میرا بیل منطق نہیں پڑھا ہوا"---






اب کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ اتنی سنجیدہ گفتگو میں یہ کہانی ڈالنے کی کیا منطق تھی:shameonyou:------:idontknow: :happy:
 

ساجد

محفلین
در اصل منطق کا ایک زمانے میں‌بہت فیشن تھا علم منطق پہ دسترس اور عبور رکھنا ہر عالم کے لیے ضروری ہوتا تھا بلکہ اس دور کی ہر کتاب کے اسلوب میں‌منطق کی جھلکیاں‌ضرور نظر آتی ہیں۔
آپ کا اشارہ کس زمانے کی طرف ہے؟۔
 

مدرس

محفلین
یونانی فلسفہ عر ب میں کسطرح آیا
یہ مضمون میں نے اردو محفل کے لئے سرچ کیا ہے پورا نہیں پڑھا
جسکو پورا پڑھنا ہو وہ کلک کرے
منصورہ کے عہد میں سب سے پہلے، ہیئت کی ایک کتاب سدہانت کا ترجمہ سنسکرت سے عربی میں کیا گیا۔ ان علوم کا ذکر اوپر ہو چکا ہے جو فارسی زبان میں موجود تھے اور جن کا ترجمہ عبداللہ بن مقفع وغیرہ نے عربی میں کیا تھا۔ طب کی کتابیں اس کے علاوہ تھیں۔ منصورہ کے عہدے میں ارسطو کی منطق کی کتابوں کے عربی ترجمے کا ذکر بھی ملتا ہے جنہیں عبداللہ ہی نے کہا تھا۔ عبداللہ بن مقفع کا شاندار کارنامہ علم الا خلاق کی معروف کتاب کلیلہ و دمنہ کا فارسی سے عربی میں ترجمہ ہے۔ کلیہ و دمنہ کو نوشیرواں کے دور میں ہندوستان سے لا کر سنسکرت سے فارسی میں منتقل کیا گیا۔
منصور کے بیٹے مہدی کے دور میں تراجم کا کام نہیں ہوا۔ دراصل مہدی نے محسوس کیا کہ کتب کی اشاعت نے مسلمان میں الحاج کی ایک لہر کو جنم دیا ہے لہٰذا اس نے ملحدوں اور زندیقوں کے استیصال کیلئے ایک محکمہ بنایا جو ملحدوں کو سزائیں دیتا تھا۔ مگر وہ بھی ایک علمی کام کر گیا اور وہ یوں کہ اس نے اس فتنہ کا مذہبی اور علمی طور پر خاتمہ کرنے کی خواہش میں علماءکو حکم دیا کہ وہ ملحدوںکی تردید میں کتابیں لکھیں۔ چنانچہ مہدی کے دور میں علم الکلام کی بنیاد پڑی۔
ہارون الرشید کے دور میں کتابوں کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا تھا کہ سنبھلنے میں نہ آتا تھا۔ یوحنابن ماسویہ کی نگرانی میں کاتبوں کی ایک جماعت نے دل جمعی کے ساتھ بیٹھ کر تراجم کرنے شروع کیے۔ ایک اور مشہور جم فضل بن نو بخت کا ذکر بھی ملتا ہے جو فارسی زبان سے فلسفہ و حکمت کی کتابوں کا ترجمہ کرتا تھا۔ دوسری طرف برامکہ کی بدولت بہت سے ہندوستانی حکماءہارون الرشید کے دربار میں آئے اور سنسکرت کی کتابوں کا عربی میںترجمہ کیا۔ کہنا چاہیے کہ اسی دور میں فلسفے نے علم الکلام پر سایہ کیا۔
مامون کے دور میں تراجم کا کام اپنے عروج پر پہنچ گیا مگر اب ایک نمایاں فرق تھا۔ مامون نے پہلی بار یونانی علوم و فونون پر اپنے پیشروﺅں سے کہیں زیادہ توجہ دی۔ کتب کا ذخیرہ تو ہارون کے زمانے ہی میں جمع ہو گیا تھا۔ اسے منظم کر کے باقاعدہ کتب خانے کی شکل دی گئی اور اسے بیت الحکمت کا نام دیا گیا۔ اس کے علاوہ مامون نے خود قیصر روم کو خط لکھ کر یونانی علوم و فنون کی قدیم کتب منگوائیں اور ان کا عربی میں ترجمہ کروایا۔ مامون کے تذکرہ نگار اس کے ایک خواب کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ جس میں اس نے ایک وجیہہ بڈھے کو جواپنا نام ارسطو بتاتا تھا، منبر پر بیٹھ کر خطبہ دیتے دیکھا۔ مامون کے اسی خواب کو اس کی یونانی فلسفے کی طرف توجہ کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ ممکن ہے یہ بات ایک افسانہ ہو مگر یہ بات دوسری طرح بھی درست ہو سکتی ہے کہ مامون یونانی حکماءاور علوم میں اس قدر دلچسپی لینے لگا تھا کہ خواب میں بھی اس کو ارسطو نظر آیا۔
 

مدرس

محفلین
السلام علیکم مدرس صاحب ،

آپ تو استاد آدمی لگتے ہیں آتے ہی استادی شاگردی شروع کر دی۔ ویسے میں دوسرے مکتب میں ہوں اور میرے اساتذہ کی ہٹی پر آپ نے اپنی دوکان سجا کر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے خبردار رہیے گا آپ پر تند و تیز حملے ہوں گے میری طرف سے تاکہ میرے پروفیسر اور اساتذہ حضرات کی علمی دوکانیں بھی چلتی رہیں ۔

آپ نے کہا کہ منطق مسلمان حکمرانوں کے دور میں یونانی فلسفیوں کے ہاں سے عربوں میں آئی۔ اس کی کیا وجہ تھی یہ ذرا تفصیلا بتائیں۔

دوسرا اگر اس زمانے میں مقابلے کے لیے کسی عالم کو یہ سیکھنا ضروری تھا تو اب غیر ضروری کیوں ہو گیا جب کہ اب تو منطق کا زور پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے۔

عجیب ہے آپ کی منطق ویسے باتوں سے تو منطقی لگتےہیں مگر منطق کے ہی منکر ہو رہے ہیں ۔

وعلیکم السلام جناب ’’مد مقابل صا حب‘‘
ملاحظات ۔دوکان نہیں درسگا ہ قائم کی ہے ۔حملہ کر تے ہو ئے خیال رکھیئے گا شاگردوں‌کو پتہ نہ چلے ہمارے تعلیمی نظام میں استاذپر حملہ نامناسب بات ہو تی ہے

منطق مسلمان حکمرانوں کے دور میں یونانی فلسفیوں کے ہاں سے عربوں میں آئی۔ اس کی کیا وجہ تھی یہ ذرا تفصیلا بتائیں۔
یہ میں‌نے بتا دی ہے

دوسرا
میں مطلقا عالم دین کے لئے انکار کیا ہے اگر عالم دین منطق نا جانے تو یہ کہنا صحیح نہیں کہ وہ عالم نہیں‌
ورنہ جید عالم دین کے لئے اور خاصطور پر جو با طل فر قو ں‌سے مناظرہ کرے اس کے لئے از حد ضروری ہے
اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر علم منطق کو بالکل ہی نکال دیا جائے تو بہت بڑا علمی ذخیرہ بے کار ہو جائےگا
اس لئے نہ صرف کتابوں کا ذخیرہ بلکہ ماضی قریب کے میں بھی ایسے علماء گزرے جنکی تقاریرسمجھنا بھی بغیر منطق کے مشکل ہے ۔(جیسے اشرف علی تھانوی)
امید ہے کہ تشفی ہو گئی ہو گی
ویسے مجھے اردو محفل کے اراکین سے اس قدر دلچسپی کی امید نہیں‌تھی
 

مدرس

محفلین
محترم مدرس ، اردو محفل پہ خوش آمدید۔
بہت خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسی ہستی سے ملاقات کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔
میرے سوالات کی نوعیت بھی محب کے سوالات جیسی ہے کہا اگر منطق کی ضرورت ماضی میں تھی تو اب کیوں نہیں؟
آپ نے فرمایا کہ منطق مسلمانوں کے دور حکومت میں یونانیوں کے ذریعہ سے عربوں میں آئی۔ اس کی کچھ وضاحت فرما دیں ۔
یہ بھی فرما دیں کہ فصاحت و بلاغت اور اظہار خیال کی صلاحیت کس حد تک منطق کی محتاج ہوتی ہے یا یہ صلاحیت بجائے خود علمِ نطق کہلائی جا سکتی ہے؟
شروع کے دونوں سوال کے جواب میں نے دے دیئے
فصاحت و بلاغت اور اظہار خیال یہ با قاعدہ ’’علم بلاغت ‘‘کے نام سے الگ علم ہے
منطق کو مختصرا یوں‌سمجیئے کہ طرز استدلال کا ایک باب منطق ہے
مثلا میں کہوں‌
جو اردومحفل کا رکن ہے وہ کمپیوٹر کا ما ہر ہے
دوسرا جملہ
مدرس اردومحفل کا رکن ہے
جواب خود بخود آئیگا
مدرس کمپیوٹر کا ماہر ہے
والسلام
 

مدرس

محفلین
منطق کی ایک اصطلاح ہے جسمیں جستجو کر کے نتیجہ نکالا جا تا ہے
ویسے یہ منطق کا گھنٹہ نہیں یہ تعارف کا گھنٹہ ہے
اب تو مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ محترم نبیل صا حب آکر مجھے دھمکی نا دے دیں کہ صا حب
تعارف کے حصہ میں
منطق اور فلسفہ کاکیا کام
 

جیہ

لائبریرین
اصطلاح یا قسم؟ ذرا وضاحت کیجئے نا۔

نبیل بھائی کی فکر نہ کریں میں انہیں منا لوں گی
 
Top