یوں تو ڈھونڈے سے کیا نہیں ملتا - روحی کنجاہی

رانا

محفلین
یوں تو ڈھونڈے سے کیا نہیں ملتا
ایک سا دوسرا نہیں ملتا

متلاشی ہے کتنی صدیوں سے
آدمی کو خدا نہیں ملتا

کچھ خبر تیری پائیں تو کیسے
اپنا بھی جب پتا نہیں ملتا

دھیان جاتا ہے کیوں تری جانب
جب کوئی آسرا نہیں ملتا

راستوں کی ہے کس قدر بہتات
کوئی منزل رسا نہیں ملتا

اس سے کیا کیا رہیں ملاقاتیں
جو کبھی برملا نہیں ملتا

اک سرے تک رسائی ہے سب کی
کیوں سرا دوسرا نہیں ملتا

ہو مکمل جو ہر طرح روحی
کوئی اتنا بڑا نہیں ملتا
 

فرخ منظور

لائبریرین
اس سے کیا کیا رہیں ملاقاتیں
جو کبھی برملا نہیں ملتا

واہ کیا خوبصورت غزل ہے۔ شکریہ رانا صاحب!
 

فاتح

لائبریرین
واہ خوبصورت غزل ہے۔ شکریہ!
امید ہے روحی کنجاہی کا مزید کلام بھی ارسال کرتے رہیں گے۔
 

رانا

محفلین
واہ خوبصورت غزل ہے۔ شکریہ!
امید ہے روحی کنجاہی کا مزید کلام بھی ارسال کرتے رہیں گے۔

انشاءاللہ اگر ملتا رہا تو۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی جب میں نے پوسٹ کرنے سے پہلے روحی کنجاہی کا نام ٹیگ میں تلاش کرنے کی کوشش کی کہ کہیں پہلے پوسٹ نہ ہو چکی ہو تو مجھے روح کنجاہی کا نام ہی نہیں ملا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
کس قدر خوبصورت غزل ہے، لاجواب۔ بہت شکریہ جناب شیئر کرنے کیلیے

متّلاشی ہے کتنی صدیوں سے
آدمی کو خدا نہیں ملتا

راستوں کی ہے کس قدر بہتات
کوئی منزل رسا نہیں ملتا

ہو مکمل جو ہر طرح روحی
کوئی اتنا بڑا نہیں ملتا

واہ واہ واہ۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top