روحی کنجاہی

  1. محمد تابش صدیقی

    غزل: اس شعلہ خو کی طرح بگڑتا نہیں کوئی ٭ روحی کنجاہی

    اس شعلہ خو کی طرح بگڑتا نہیں کوئی تیزی سے اتنی آگ پکڑتا نہیں کوئی وہ چہرہ تو چمن ہے مگر سانحہ یہ ہے اس شاخِ لب سے پھول ہی جھڑتا نہیں کوئی خود کو بڑھا چڑھا کے بتاتے ہیں یار لوگ حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی لوگوں کا کیا ہے آج ملے کل بچھڑ گئے غم دو گھڑی بھی مجھ سے بچھڑتا نہیں کوئی...
  2. محمد تابش صدیقی

    غزل: اپنی مرضی ہی کرو گے تم بھی ٭ روحی کنجاہی

    اپنی مرضی ہی کرو گے تم بھی کچھ کسی کی نہ سنو گے تم بھی وقت سے بچ نہ سکو گے تم بھی جو کرو گے وہ بھرو گے تم بھی ایک آواز سنی ہے ہم نے ایک آواز سنو گے تم بھی آج آندھی ہو تو مٹی کی طرح ایک دن بیٹھ رہو گے تم بھی آج سرکار بنے بیٹھے ہو کل کو فریاد کرو گے تم بھی یہی ہوتا ہے یہی ہونا ہے...
  3. راحیل فاروق

    حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی...

    ضیا محی الدین صاحب پی ٹی وی پر ایک پروگرام کیا کرتے تھے جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے مہمان مدعو ہوتے تھے۔ ایک روز امجد اسلام امجدؔ صاحب آئے ہوئے تھے۔ انھوں نے ایک مصرع پڑھا۔ فرماتے تھے کہ یہ جادوئی مصرع ہے۔ ہر مصرعے کے ساتھ بطورِ مصرعِ ثانی چپک جاتا ہے اور نقش ہائے رنگ رنگ پیدا کرتا ہے۔ مصرع...
  4. رانا

    یوں تو ڈھونڈے سے کیا نہیں ملتا - روحی کنجاہی

    یوں تو ڈھونڈے سے کیا نہیں ملتا ایک سا دوسرا نہیں ملتا متلاشی ہے کتنی صدیوں سے آدمی کو خدا نہیں ملتا کچھ خبر تیری پائیں تو کیسے اپنا بھی جب پتا نہیں ملتا دھیان جاتا ہے کیوں تری جانب جب کوئی آسرا نہیں ملتا راستوں کی ہے کس قدر بہتات کوئی منزل رسا نہیں ملتا اس سے کیا کیا رہیں...
Top