یقین ۔

آپ نے پٹائی دھلائی ساتھ میں کردی ۔۔۔۔۔۔۔:p

مشکلیں اتنی پڑیں کہ آسان ہوگئیں۔۔۔۔۔۔

قران پاک کی جو لائن کوٹ کی اس کا مفہوم یہی تھا کہ ہمیں بچپن سے اس کی تفہیم نہیں کرائی جاتی ہے۔ جبکہ اس کو بہت پہلے پڑھانا چاہیے ۔ باقی میں ان اساتذہ کے لیکچرز سن چکی ہوں۔رات کوہینڈفری لگاتے تراجم ہی سنا کرتی تھی ۔میں قران پاک کا ترجمہ بھی سنتی پڑھتی رہی ۔ مجھے کچھ سورتوں کے تراجم یاد ہیں۔میں نے پڑھنے سے مراد اس کی آیتوں کو کائنات کی آیتوں سے ملانے کہاتھا۔ یہ کلام ۔۔۔۔۔۔۔اللہ کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کائنات بھی اللہ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر انسانی کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔تقدیر۔۔۔۔امنجانب اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کیوں کسی کی تشریح پر اعتبار کروں۔۔۔۔۔۔۔میں نے قران پاک لکھ لکھ کے سورہ البقر کے معانی تلاش کرنے کی 4 سال پہلے جستجو کی تھی ۔مجھے سمت نہیں ملی تھی کہ میں چاہ کیا رہی ہوں۔اب پتا چلا ہے کہ اپنی زندگی قران پاک سے ڈھونڈنی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔میں تساہل کا شکار ہوں ، میں کسی جبر کو مانتی نہیں۔میں ان مفکروں کو نہیں مانتی چاہے وہ ذاکر نائیک ہو،چاہے وہ کوئی اور۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی آپ نے سوچا ہے وہ جو بتارہے ہمیں تو اسلاف کی باتیں رٹوا رہے جبکہ آئمہ حضرات تو قیاس اور تفکر کرتے اجتہاد کیا کرتے تھے ۔آج کے دور میں ہر فرد اپنا مجتہد ہے ۔


اب یہاں سے پٹائی کردی تو کہاں جاؤں گی:barefoot:
استغفراللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔۔لا حولا ولا قوت۔۔۔۔ نعوذباللہ۔۔۔۔۔

پٹائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اے میری محترم ہستی!!!!!!
بات میں بھی ترجمے کی نہیں بلکہ قرآن پاک کی آیات کو کائنات کہ آیات سے ملانے کی ہی کر رہی تھی۔۔۔۔ میں کیا ہوں حضور والا! تُسی تے انّی وڈّی گل کر دتّی اے پٹائی دا کہہ کے۔۔۔۔۔۔
اب میں نے کچھ بھی نہیں کہنا بسسسسس!!!!

جو کچھ نایاب انکل نے کہا ہے۔۔۔۔ "میرے ولّوں وی اوہی۔۔۔۔"

انہوں نے جو کچھ کہا میں بھی وہی کہنا چاہتی تھی۔۔۔اور یہ بھی کہ انکی جستجو میں آپکو کوئی پوائنٹ ملے گا جہاں سے آپکی جستجو شروع ہوگی۔۔۔۔لنک حاضر ہے جستجو کا۔۔۔۔۔۔بہر حال اب میں نے یہ نہیں کہنا۔۔۔۔۔۔
بس اک آخری عرض۔۔۔۔۔ :

"اِک بار مسکرا دو۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹا نا ناااااا۔۔۔۔" :)
 

محمدظہیر

محفلین
ہمیں قرآن کھول کھول کر کہاں بتایا جاتا ہے۔۔۔۔۔
سوچا تھا آپکی اس بات کا جواب لکھوں۔۔۔۔ مگر کیا لکھوں۔۔۔۔
بہنا! یہاں وہ سب کچھ ہے جو ہمیں چاہئیے جو ہم نے کبھی سوچا ہے۔۔۔۔۔ مگر اپنی پسندیدہ شے کے حصول کیلئے سب سے پہلے کھوج کی ضرورت ہے اور پھر قربانی کی۔۔۔۔۔
بہت نہیں پتا مجھے۔۔۔۔ مگراتنا پتا ہے کہ اگر آپکی طلب سچی ہے تو آپکی کھوج کو کنارہ اور سوچ کو سمت شاید مل جائے۔۔۔۔ یہاں قرآن پاک مکمل کھول کھول کر بیان کیا جاتا ہے۔۔۔۔ ایک پیسہ بھی نہیں ۔۔۔۔ نہ کہیں جانا پڑے گا۔۔۔۔ بس آپکا وقت اور اہمیت چاہئیے۔۔۔۔قرآن پاک کو جتنی اہمیت دیں گی اتنا ہی سمجھ پائیں گی۔۔۔۔ پاکستان کے سب سے اچھے اور انٹرنیشنل ادارے کی مستند رہنمائی۔۔۔۔
'مصحف' کے بعد میں کئی سال اس کھوج میں رہی۔۔۔۔
پھر ایک راز مجھے یہ میسج ملا ۔۔۔۔۔ اور میں نے یہ ٹرین پکڑ لی۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم آپکے احساسات کیا ہوں اس حوالے سے۔۔۔لیکن پلہز فرقوں پر جا کر سوچنے سے پہلے آپ اسکے ایک دفعہ پہلے تین لیکچرز سن لیں پھر فیصلہ کیجئے گا۔۔۔۔۔۔ میں وہ میسج آپکا ایز اٹ از سینڈ کر رہی ہوں :
@نورسعدیہ شیخ یہ آپ کی دور کی بہن ہوں گی آپ کی طرح باتیں کرتی ہیں : )
 

اکمل زیدی

محفلین
عارفانہ خود شناسی ذات حق سے اپنے رابطے کے سلسلے میں خود شناسی ہے‘ عرفا کے نقطہ نظر سے یہ رابطہ ایسا نہیں ہے جو دو انسانوں کا آپس میں یا معاشرے کے کسی دوسرے افراد سے ہوتا ہے‘ بلکہ یہ رابطہ ”شاخ کا جڑ“ سے ”مجاز کا حقیقت“ سے اور عرفا کی اصطلاح میں مقید کا مطلق سے رابطہ ہے۔
ایک روشن فکر کے درد کے برعکس عارف کا درد انسان کی ”خود شناسی“ میں کسی بیرونی درد کا انعکاس نہیں ہے‘ بلکہ یہ ایک ایسا باطنی درد ہے‘ جو فطری اور اجتماعی درد ہوتا ہے‘ لہٰذا وہ پہلے اس سے آگاہ ہوتا ہے پھر یہ آگاہی اس کو درد مندبناتی ہے۔
لیکن ایک عارف کا درد چونکہ ایک باطنی درد ہوتا ہے‘ خود درد ہی اس کے لئے آگاہی ہے بالکل بیماریوں کے درد ہی کی طرح‘ جو طبیعت کی طرف سے کسی حاجت اور ضرورت کا اعلان ہے۔
حسرت و زاری کہ درد بیماری است
وقت بیماری ھمہ بیداری است
ہر کہ او بیدار تر پر درد تر
ہر کہ او آگاہ تر رخ زرد تر
پس بدان این اصل را ای اصلجو
ہر کہ را درد است او بردہ است بو
”بیماری میں جو حسرت اور گریہ زاری ہے‘ بیماری کے وقت سب کی بیداری کی علامت ہے۔
جو جتنا زیادہ بیدار ہے وہ اتنا ہی زیادہ دردمند ہے اور جو جتنا زیادہ خود شناس ہے اس کا چہرہ اتنا ہی زیادہ زرد ہے‘ پس اے حقیقت کے متلاشی! اس حقیقت کو جان لے کہ جو شخص درد میں مبتلا ہے اسی نے حقیقت کا پتہ لگا لیا ہے۔“
عارف کا درد فلسفی کے درد جیسا بھی نہیں‘ دونوں ہی حقیقت کے درد مند ہیں لیکن فلسفی کا درد حقیقت کے جاننے اور شناخت کرنے کا درد ہے اور عارف کا درد پہنچنے‘ ایک ہو جانے اور محو ہو جانے کا درد۔ فلسفی کا درد اسے فطرت کے دیگر فرزندوں یعنی تمام جمادات‘ نباتات اور حیوانات سے ممتاز کر دیتا ہے۔ عالم طبیعت کے کسی وجود میں ماننے اور شناخت کرنے کا درد موجود نہیں‘ لیکن عارف کا درد عشق اور جذبے کا درد ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو نہ صرف حیوان میں نہیں بلکہ فرشتوں میں بھی موجود نہیں‘ جن کی ذات کا جوہر ہی خود شناسی اور جاننا ہے۔
فرشتہ عشق نداانست چیست قصہ مخوان
بخواہ جام و گلابی بہ خاک آدم ریز
”فرشتے نے عشق کو نہ جانا کہ وہ کیا چیز ہے قصہ نہ سنا‘ جام طلب کر اور گلاب کا پانی آدم کی خاک پر ڈال دے۔“
جلوہ ای کرد رخش دید ملک‘ عشق نداشت
خیمہ در مزرعہ آب و گل آدم زد
”جب اس کے رخ کا ایک جلوہ نظر آیا تو فرشتے نے دیکھا کہ اس میں عشق نہیں تو اس نے آدم کی خاک پر اپنے خیمے گاڑ دیئے۔“
فلسفی کا درد فطرت کی حاجتوں کے جاننے کا اعلان ہے جسے فطری طور پر انسان جاننا چاہتا ہے اور عارف کا درد فطرت عشق کی حاجتوں کا اعلان ہے جو پرواز کرنا چاہتا ہے اور جب تک پوری طرح سے حقیقت کا ادراک نہیں کرتا‘ سکون نہیں پاتا۔ عارف کامل خود شناسی کو ”خداشناسی“ میں منحصر سمجھتا ہے۔ عارف کی نظر میں جسے فلسفی انسان کا حقیقی ”من“ سمجھتا ہے‘ حقیقی ”من“ نہیں ہے بلکہ روح ہے۔ ”جان“ ہے‘ ایک تعین ہے‘ حقیقی ”من“ خدا ہے اور اس تعین کے ٹوٹنے کے بعد انسان اپنے حقیقی ”من“ کو پا لیتا ہے۔
محی الدین ابن عربی فصول الحکم‘ فص شعیبی میں فرماتے ہیں‘ حکماء اور متکلمین نے خود شناسی کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے۔ لیکن ان راہوں سے ”معرفت النفس“ حاصل نہیں ہو سکتی‘ جس کا خیال یہ ہو کہ ”خود شناسی“ کے بارے میں حکماء نے جو کچھ سمجھا ہے‘ وہ حقیقت ہے‘ تو اس نے پھولی ہوئی چیز کو موٹا سمجھ رکھا ہے۔
شیخ محمود شبستری سے عرفانی مسائل کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالات ”جن کے جواب میں کم نظیر عرفانی کلام‘ ”گلشن راز“ وجود میں آیا ہے۔“ میں سے ایک ”خود“ ذات اور ”من“ کے بارے میں سوال تھا کہ یہ کیا ہے؟
دگر کردی سوال ازمن کہ ”من“ چیست
مرا از من خبر کن تاکہ ”من“ کیست
چو ہست مطلق آمد در اسارت
بہ لفظ ”من“ کنند از وی عبارت
حقیقت کز تعین شد معین
تو او را در عبارت گفتہ ای من
من و تو عارض ذات وجودیم
مشبکہای مشکوة وجودیم
ھمہ یک نور دان اشباح و ارواح
گہ از آئینہ پیدا گہ ز مصباح
”تو نے پھر مجھ سے پوچھا کہ یہ ”من“ کیا ہے‘ ”من“ کے بارے میں پوچھنے سے پہلے مجھے میرے بارے میں خبر تو دو!
مطلق ہستی کو جب اسیر اور مقید کر دیا جاتا ہے تو اسے ”من“ سے تعبیر کیا جاتا ہے‘ جب تعین اور حدود و قیود کی وجہ سے حقیقت کو متعین کیا جاتا ہے اسے سادہ عبارت میں ”من“ کہا جاتا ہے‘ میں اور تم دونوں ذات وجود کے عارض ہیں اور ہم وجود (روح) کے فانوس کے گرد لگی ہوئی جالیاں ہیں (جن سے روشنی چھن چھن کر باہر آتی ہے) ہیولا اور روح کو ایک نور ہی سمجھ لو‘ کیوں کہ نور کبھی تو آئینہ سے منعکس ہو کر تم تک پہنچ جاتا ہے اور کبھی فانوس سے سیدھا تم تک پہنچ جاتا ہے۔“
پھر ”روح“ اور ”من“ کے بارے میں فلاسفہ کی خود شناسی پر اس طرح سے اعتراض کرتے ہیں۔
تو گوی لفظ ”من“ در ہر عبارت
بسوی روح می باشد اشارت
چو کردی پیشوائے خود خرد را
نمی دانی ز جزء خویش خودرا
برو ای خواجہ خود را نیک بشناس
کہ نبود فربہی مانند آماس(۱)
من و تو بر تر از جان و تن آمد
کہ این ہر دو ز اجزای من آمد
بہ لفظ من نہ انسان است مخصوص
کہ تا گوی بدان جان است مخصوص
یکی راہ برتر از کون و مکان شو
جہاں بگذار و خود در خود جہان شو
”تم چاہے کسی بھی عبارت میں لفظ ”من استعمال کرو اشارہ تمہاری روح ہی کی طرف ہے‘ جب تم عقل کو اپنا رہبر اور رہنما بناؤ گے‘ تو اپنے آپ کو اپنے اعضاء سے نہیں سمجھو گے۔ اے خواجہ جا اور اپنے آپ کو اچھی طرح پہچان لے کیوں کہ پھول جانا موٹاپا نہیں ہوتا‘ ”من“ اور ”تو“ جگہ اور بدن سے برتر ہیں کیوں کہ یہ دونوں مرے اجزاء اور حصے ہیں لفظ ”من“ کسی خاص انسان سے مخصوص نہیں جو تم اس سے کسی خصوصی روح کو مراد لو‘ ایک راستے پر چلو اور کون و مکان سے برتر ہو جاؤ‘ دنیا کو چھوڑ دو اور اپنے اندر ایک دنیا بن جاؤ۔“
مولانا کہتے ہیں:
ای کہ در پیکار ”خود“ را باختہ
دیگران را تو ز خود نشاختہ
تو بہ ہر صورت کہ آئی بیستی
کہ منم این واللہ آن تو نیستی
یک زمان تنہا بمانی تو زخلق
در غم و اندیشہ مانی تا بحلق
این تو کی باشی؟ کہ تو آن اوحدی
کہ خوش و زیبا و سرمست خودی
مرغ خویشی‘ صید خویشی‘ دام خویش
صدر خویشی‘ فرش خویشی‘ بام خویش
گر تو آدم زادہ ای چون اونشین
جملہ ذرات را در خود ببین
”اے وہ شخص جو جنگ میں اپنے آپ کو ہار چکا ہے اور اپنے اور دوسروں کے فرق کو نہ جان سکا‘ تم چاہے کسی بھی صورت میں آ جاؤ تم نہیں ہو‘ بلکہ اللہ کی قسم وہ میں ہوں‘ ایک وقت ایسا آئے گا جب تم مخلوقات سے الگ تھلگ اکیلے رہ جاؤ گے اور گردن تک غم و اندوہ میں مبتلا رہو گے۔ یہ تم کب ہو؟‘ تم تو وہ فرد ہو جو اپنا مرکز‘ اپنا فرش اور اپنا چھت ہے اور جو اپنے آپ میں سرمست‘ خوش اور مگن ہے‘ تم خود ہی پرندہ ہو‘ خود شکار ہو اور خود ہی جال بھی‘ بلندی بھی تم خود ہو‘ پستی بھی خود ہی اور چھت بھی تم ہی ہو‘ اگر تم آدم کی اولاد ہو تو اس کی طرح رہو اور تمام ذرات کا اپنے اندر مشاہدہ کرو۔“
چنانچہ عارف کے نقطہ نظر سے یہ روح اور جان حقیقی نہیں ہے اور یہ روح اور جان کی شناخت بھی ”خود شناسی“ نہیں ہے‘ بلکہ روح خود اپنے آپ کا اور ”من“ کا مظہر ہے۔
”من حقیقی“ خدا ہے جب انسان فنا ہو جائے اور اس کا اپنا وجود ٹوٹ جائے اور اس کی جان اور روح کا کوئی نشان باقی نہ رہے تب دریا سے یہ جدا شدہ قطرہ دریا (یعنی گل) میں واپس چلا جاتا ہے اور اس میں گم ہو جاتا ہے۔ تبھی انسان اپنی ”حقیقی خود شناسی“ کو پا لیتا ہے‘ اسی وقت انسان اپنے آپ کو تمام اشیاء میں اور تمام اشیاء کو خود اپنے اندر دیکھتا ہے اور تبھی وہ اپنی حقیقی ذات سے باخبر ہو جاتا ہے۔
 

محمدظہیر

محفلین
دور کی بہن انکے لیے جن کی قریب کی نظر کمزور ہو۔۔۔۔
اصل میں میں قریب کی بہن ہی ہوں حضور۔۔۔ :)
جی آپ نے درست کہا، واقعی نظر کمزور ہوئی ہے۔ اس بات کا ذکر آج اپنی اس پوسٹ میں بھی کیا ہے۔ آپ سے پہلے تعارف ہوتا تو وہاں آپ کا ذکر شامل ہوتا ۔
 

متلاشی

محفلین
آپ کی تحاریر شروع سے پڑھتی رہی ہوں ۔ ان میں یہی تاثر پاتی رہوں ہوں جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا گویا وہ لڑکھڑا گئے اور یقین والے منزلیں پا گئے ۔ حسن ظن کہیے اس کو ۔۔۔۔
یہی میرا پسندیدہ شعر یہی ہے
جویقیں کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہوں وسوسوں نے ڈرادیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے
 

نایاب

لائبریرین
”من حقیقی“ خدا ہے جب انسان فنا ہو جائے اور اس کا اپنا وجود ٹوٹ جائے اور اس کی جان اور روح کا کوئی نشان باقی نہ رہے تب دریا سے یہ جدا شدہ قطرہ دریا (یعنی گل) میں واپس چلا جاتا ہے اور اس میں گم ہو جاتا ہے۔ تبھی انسان اپنی ”حقیقی خود شناسی“ کو پا لیتا ہے‘ اسی وقت انسان اپنے آپ کو تمام اشیاء میں اور تمام اشیاء کو خود اپنے اندر دیکھتا ہے اور تبھی وہ اپنی حقیقی ذات سے باخبر ہو جاتا ہے۔
حق بحق دار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ
۷۔ عارفانہ خود شناسی
بہت دعائیں
 

نور وجدان

لائبریرین
Ap ko agr sun'ny me koi problem hai tu usko ap ne khud solve krna hai. :) best of luck.
Agr apko in scholar se koi problem ha tu hum us k zimmedar nae hain, simple stop listening.

چلیں اب کچھ سنجیدہ ہوکے بات کیے لیتے ہیں ۔ مجھے ان کو سننے میں بہت مسئلہ ہے اور میں ان کو سن نہیں سکتی ۔ اس وجہ سے آپ کو کہا
تھا کہ میں نے نا صرف ان کے آڈیو لیکچرز سنے ہیں جبکہ ملتان آرٹس کونسل اور بہت سی ہوٹیلز میں ان کا آنا جانا بھی ہوتا تھا۔ایک دفعہ کھینچ تان کے مجھے بھی لے جایا گیا۔مجھے سوائے ان کے لیکچرز میں نقل کے کچھ نہیں ملا۔ ان کی تو اپنی سوچ بھی نہیں ہے یہ وہ بتاتی ہیں جو لکھا پاتی ہیں ۔مجھے ماننے میں عار نہیں ہے کہ یہ تحقیق کرتی ہیں ۔ الفاظ کے معانی بتاتی ہیں اس کے رموز و اوقاف بتاتی ہیں ۔ میرا بھی ایک وطیرہ رہا ہے میں اپنی مرضی کے بندے سے پڑھنا پسند کرتی تھی ورنہ اتنے سوال کرتی تھی کہ وہ خود انکار کردیتے تھے پڑھانے سے ۔۔۔۔۔۔۔۔میں اور یہ ایک مختلف شخصیات ہیں۔میں چاہوں بھی ان کو پڑھ یا سن نہیں سکتی ہوں ۔

۔لیکن پلہز فرقوں پر جا کر سوچنے سے پہلے آپ اسکے ایک دفعہ پہلے تین لیکچرز سن لیں پھر

فرقے۔۔۔۔۔۔میں بچپن سے اسی بات پر یقین رکھتی ہے میری نسبت براہ راست جناب سرور کونین رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہے تو جب انہوں نے تفریق نہیں کی میں کیوں کروں۔

یہود کے ساتھ ہمیشہ بہت برا سلوک ہوتا رہا۔۔
یہود اس سلوک کے قابل تھے ۔ جو اپنے مفاد کے پیچھے ''کنورٹ '' ہو جائیں یعنی کہ منافقت کا لبادہ اوڑھے اپنی مذہبی شناخت داؤ پر لگادیں تو پھر دوبارہ تجارت کریں ۔۔۔۔۔۔۔یہ زیادتی ہے ۔یہودی شروع سے ایسا کرتے رہے

بہر حال انکو انکا وطن مل گیا۔۔
میں وطن پر یقین نہیں رکھتی ۔۔۔۔۔وطن زمین نہیں ہے اور نہ ٹکرا جس کے باعث دنیا کے نقشے تخریب سے ہوتے بدلتے رہے

مجھے نہیں لگتا کہ دینی تعلیم ہم بغیر استاد کے اس درجہ کی سیکھ سکتے ہیں جس درجہ کی چاہئیے۔۔۔۔
اپنی پسند کے اُستاد سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے جو چاہیے تھا وہ مجھے مل گیا اس لیے سفر علم العین رکنا نہیں یہ تو بہت ترقی سے بڑھے گا ۔ ان شاء اللہ

بہت معذرت ۔۔۔۔میرا مقصد دل آزاری ہرگز نہیں۔۔۔۔ ہم سب ایک ہی صف میں ہیں جناب! :)

ایک بات تو ہمیشہ کے لیے نکال دیں دل سے کہ آپ سمجھیں میرا دل دکھتا ہے ۔۔۔۔مجھے اکثر کہا جاتاتھا میرا مائنڈ ہی نہیں یعنی مجھے کچھ بُرا لگتا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔جن سے ناراض ہوتی ہوں وہ بے چارے برداشت نہیں کرسکتے ۔۔۔۔

عین ممکن ہے کسی کی تشریح پر اعتبار کی بجائے تشریح میں موجود " حرف لفظ بیان " آپ کی تلاش میں مددگار ٹھہر سکتے
آپ کی سوچ کو درست راہ کی جانب مہمیز دے سکنے میں معاون ہو جائے ۔۔۔۔

اس سے کب انکار کیا ہے مگر فرحت ہاشمی صاحبہ ، طارق جمیل یا کسی اور کو سن نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔سماعت معتقد کرتی ہے اور بصارت بصیرت پیدا کرتی ۔
 

نایاب

لائبریرین
سماعت معتقد کرتی ہے اور بصارت بصیرت پیدا کرتی ۔
یہ کیوں نہ کہیں کہ سماعت " تقلید " کی جانب بلاتی ہے ۔
بصارت جلتی آگ میں ہاتھ جلا کر جلانے کا اعتبار کرتی ہے ۔ اور " ابلاغ " بن سماعتوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے ۔
بلا شک و شبہ قران پاک بصیرت سے بھرپور بصارتوں کو راہ دکھانے والی کتاب ہے ۔۔۔۔
بہت دعائیں
 
چلیں مجھے بھی بتائیے۔۔۔۔وہ کیا ہے جو چاہئے تھا اور مل گیا۔۔۔۔ تاکہ ہم بھی مستفید ہو سکیں۔۔۔۔ مرا علم محدود اور عمل محدود تر ہے۔۔۔۔ امید ہے میرے ذہن کے وہ گوشے بھی سیراب ہو پائیں جن کو آج تک ہوا نہیں لگ پائی۔۔۔۔ سو آپ نے انکو سننے کے بعد انکو پسند نہیں کیا اور آپ کے ساتھ اس سے بہتر کچھ ہے تو بتائیے۔۔۔۔پلیز شئیر کرتی رہا کیجئیے۔۔۔میں اس جستجو میں ہوں۔۔۔۔

اور کہانی۔۔۔۔۔۔ گو کہ میں بذاتِ خود طالبِ علم ہوں ۔۔۔۔اور آفیشلی ٹیچنگ کا شرف حاصل نہیں ہو پایا۔۔۔۔۔ لیکن میں نے جب بھی کسی کو پڑھایا ہے اس انداز میں کہ ایک کہانی ہے۔۔۔۔تمام روزمرہ باتیں اندر شامل کر کے، توجہ کھین کے اور کانسیپٹ دے کے۔۔۔۔۔ پورے ہاسٹل سے لڑکیاں مجھ سے سمجھنے آتی ہیں۔۔۔ اور حتی کہ باہر سے بھی۔۔۔۔ اور میں وہ سبجیکٹ بھی پڑھا دیتی ہوں جو میں نے کبھی پڑھا ہی نہ ہو۔۔۔۔۔ اور وہ بڑے لیول کی کتب بھی جنکو میں نے کبھی دیکھا تک نہیں ۔۔اسے ایک بار پڑھ کے اسی سبجیکٹ کے بندے کو سمجھا دینا۔۔
یہ میرا حاصل ہے۔۔۔
 

نور وجدان

لائبریرین
استغفراللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔۔لا حولا ولا قوت۔۔۔۔ نعوذباللہ۔۔۔۔۔

پٹائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اے میری محترم ہستی!!!!!!
بات میں بھی ترجمے کی نہیں بلکہ قرآن پاک کی آیات کو کائنات کہ آیات سے ملانے کی ہی کر رہی تھی۔۔۔۔ میں کیا ہوں حضور والا! تُسی تے انّی وڈّی گل کر دتّی اے پٹائی دا کہہ کے۔۔۔۔۔۔
اب میں نے کچھ بھی نہیں کہنا بسسسسس!!!!

جو کچھ نایاب انکل نے کہا ہے۔۔۔۔ "میرے ولّوں وی اوہی۔۔۔۔"

انہوں نے جو کچھ کہا میں بھی وہی کہنا چاہتی تھی۔۔۔اور یہ بھی کہ انکی جستجو میں آپکو کوئی پوائنٹ ملے گا جہاں سے آپکی جستجو شروع ہوگی۔۔۔۔لنک حاضر ہے جستجو کا۔۔۔۔۔۔بہر حال اب میں نے یہ نہیں کہنا۔۔۔۔۔۔
بس اک آخری عرض۔۔۔۔۔ :

"اِک بار مسکرا دو۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹا نا ناااااا۔۔۔۔" :)
میں نے ازرہِ تفنن سب کہا ، آپ دل پر نہیں لینا۔۔۔۔یہ سب تو علم حاصل کرنے کا بہانہ ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔ایک بات بتائیں ۔آپ آئی ابھی اور کیمیاگری ابھی سے انکل کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔حسد ، جلن اور جانے کیا کیا مجھے محسوس ہورہا ہے ۔سمجھیں جل جل کے راکھ نہیں ہوئی :) جستجو ؟ کیا یہ کوئی لنک ہے ؟ کلک نہیں ہورہا ہے میں سمجھی کوئی لنک ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ تو بتایے جستجو کے بارے میں۔

اللہ رے۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کا انداز۔۔۔۔۔۔۔جس نے مسکرانا نہیں بھی ہونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی مسکرائے۔۔۔۔۔۔آپ ہزار باتیں کرو میں ہمہ تن گوش۔۔۔۔۔:)

@نورسعدیہ شیخ یہ آپ کی دور کی بہن ہوں گی آپ کی طرح باتیں کرتی ہیں : )

مزمل شیخ بسمل کے شعر میں ذرا سی رد و بدل کے ساتھ
یقین کر کے یہ پڑھنے کا بعد بھی میں زندہ ہوں
یقین کر کے مجھے اب بھی نیند آتی ہے

الہلال۔۔۔۔۔جب سے آپ کے محفلین کے بارے میں رائے پڑھی میں سمجھ رہی ہوں آپ بہت بڑے ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔کیا واقعی !!

واہ۔۔۔۔۔۔کیا سرکہ ہے۔۔یقین کے دھاگے میں سبھی یقین پر چل پڑے :) ویسے اب زندہ نہ ہونے کا جواز کیا ہو؟

دور کی بہن انکے لیے جن کی قریب کی نظر کمزور ہو۔۔۔۔
اصل میں میں قریب کی بہن ہی ہوں حضور۔۔۔ :)
اعلی۔۔۔واہ کیا کہا ۔۔

امید ہے اب کچھ تشفی ہوگی ...
مطب خانہ تو کھولنے کی بشارت ملی تھی مریض کون ہے ؟
یہی میرا پسندیدہ شعر یہی ہے
جویقیں کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہوں وسوسوں نے ڈرادیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے
میرا بھی یہی شعر ہے اور آپ نے اس کو دہرایا بھی کافی مواقع پر ہے

یہ کیوں نہ کہیں کہ سماعت " تقلید " کی جانب بلاتی ہے ۔
بصارت جلتی آگ میں ہاتھ جلا کر جلانے کا اعتبار کرتی ہے ۔ اور " ابلاغ " بن سماعتوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے ۔
بلا شک و شبہ قران پاک بصیرت سے بھرپور بصارتوں کو راہ دکھانے والی کتاب ہے ۔۔۔۔
بہت دعائیں

بالکل درست ! جب ہم کسی کے بصیرت کے بنا سنیں گے یعنی آڈیو تو سو فیصد چانس ہے تقلید کا۔اور جب ہم گانا سنتا ہیں تو سر دھنتے کجا کہ وجہ معلوم ہونا ہو۔۔۔دل تال اور لے کا دیوانہ۔۔۔۔۔۔بس یہی حال ہے ۔۔۔روبرو بھی ملاقات ہو۔۔۔۔تب غور و فکر اور تقلید ساتھ ہوتی ہے کہ تب آنکھ دیکھ رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ باقی بہت خوب کہ دیا ہے ۔۔۔۔۔۔اعلی!!!!
 

نایاب

لائبریرین
سفر علم العین رکنا نہیں

فیس بک پر لٹریچر نامی گروپ سے چوری شدہ اک نظم ہے کہ غزل ہے ۔۔۔
جانے دل سے روح سے مخاطب ہے کہ روح دل کو تسلی دے رہی ہے ۔۔

ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﻮ
ﺳﺤﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ
ﺳﻮﯾﺮﺍ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ،
ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﺗﻼﻃﻢ ﺁﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺳﻔﯿﻨﮯ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ
ﺳﻔﺮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﺘﺎ
ﻣﺴﺎﻓﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﮕﺮ ﻣﺎﻧﺠﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮑﺘﺎ
ﺳﻔﺮ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ،
ﺧﺪﺍ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﺑﮭﯽ
ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ
ﻭﮨﯽ ﺳﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ
ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻢ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ
ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﮈﮬﻠﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﺱ ﮐﯽ ﮔﺎﮔﺮ
ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ
ﮨﻮﺍ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﻮ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﮍﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ،
ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯽ ﭼکی
ﺫﺭﺍ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﮕر چکی ﮐﮯ ﭘﺎﭨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﭘﺴﺘﺎ ﮨﮯ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ
ﻭﮨﺎﮞ ﺳﺘﺮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ
ﻧﯿﺖ ﺗﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﻠﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﻋﻤﻞ ﻧﺎﭘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ
ﻭﮨﺎﮞ ﺟﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ
ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺩﮮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ،
ﺩﺭﯾﺪﮦ ﺩﺍﻣﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﮦ
ﺭﻓﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ
ﺍﮔﺮ کشکول ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮ
ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﻮﺏ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ
ﺯﻣﯿﮟ ﭼﺸﻤﮧ ﺍﺑﻠﺘﯽ ﮨﮯ
ﮐﮩﯿﮟ ﯾﻮﻧﺲ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ
ﺍﮔﺮ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺠﺮ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﺮ
ﮐﺪﻭ ﮐﯽ ﺑﯿﻞ ﺍﮔﺘﯽ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺳﺎﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ
ﻋﻼﺝ ﻧﺎﺗﻮﺍﻧﯽ ﺑﮭﯽ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ،
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﭨﯿﺴﻮﮞ ﮐﻮ
ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺩﮐﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ
ﺗﻤﻨﺎ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﻋﺎﺻﻢ ﮐﺒﮭﯽ
ﺑﺠﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺁﺱ ﮐﺎ ﺩﺭﯾﺎ
ﮐﮩﯿﮟ ﺭﮐﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ،ﺟﺐ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺣﻢ ﮐﺎ ﺳﺎﮔﺮ
ﭼﮭﻠﮏ ﮐﮯ ﺟﻮﺵ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻗﮩﺮ ﮈﮬﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺳﻮﺭﺝ
ﯾﮑﺎ ﯾﮏ ﮐﺎﻧﭗ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﮨﻮﺍ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﮩﺮﺍ ﮐﺮ
ﮔﮭﭩﺎ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺗﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ
ﻭﮨﯿﮟ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ
ﺗﺮﺳﺘﮯ ﺭﯾﮓ ﺯﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ
ﺍﺑﺮ ﺑﮩﮧ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﻧﻈﺮ ﻭﮦ ﺍﭨﮫ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ
ﮐﺮﻡ ﮨﻮ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﻤﮑﺘﺎ ﺩﻥ
ﺍﻣﺮ ﮨﻮ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ...!!!
بہت دعائیں
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
چلیں مجھے بھی بتائیے۔۔۔۔وہ کیا ہے جو چاہئے تھا اور مل گیا۔۔۔۔ تاکہ ہم بھی مستفید ہو سکیں۔۔۔۔ مرا علم محدود اور عمل محدود تر ہے۔۔۔۔ امید ہے میرے ذہن کے وہ گوشے بھی سیراب ہو پائیں جن کو آج تک ہوا نہیں لگ پائی۔۔۔۔ سو آپ نے انکو سننے کے بعد انکو پسند نہیں کیا اور آپ کے ساتھ اس سے بہتر کچھ ہے تو بتائیے۔۔۔۔پلیز شئیر کرتی رہا کیجئیے۔۔۔میں اس جستجو میں ہوں۔۔۔۔

اور کہانی۔۔۔۔۔۔ گو کہ میں بذاتِ خود طالبِ علم ہوں ۔۔۔۔اور آفیشلی ٹیچنگ کا شرف حاصل نہیں ہو پایا۔۔۔۔۔ لیکن میں نے جب بھی کسی کو پڑھایا ہے اس انداز میں کہ ایک کہانی ہے۔۔۔۔تمام روزمرہ باتیں اندر شامل کر کے، توجہ کھین کے اور کانسیپٹ دے کے۔۔۔۔۔ پورے ہاسٹل سے لڑکیاں مجھ سے سمجھنے آتی ہیں۔۔۔ اور حتی کہ باہر سے بھی۔۔۔۔ اور میں وہ سبجیکٹ بھی پڑھا دیتی ہوں جو میں نے کبھی پڑھا ہی نہ ہو۔۔۔۔۔ اور وہ بڑے لیول کی کتب بھی جنکو میں نے کبھی دیکھا تک نہیں ۔۔اسے ایک بار پڑھ کے اسی سبجیکٹ کے بندے کو سمجھا دینا۔۔
یہ میرا حاصل ہے۔۔۔

جو چاہیے ہوتا وہ چاہت سے پہلے بتانا نادانی اور چاہت پانے کے بعد افشاء کرنا دوست نہ ہونے کی نشانی ہے۔۔۔۔۔آپ کے پاس علم ہے میرے پاس کچھ نہیں رہا۔یقین کریں یہ بہت سچے دل سے کہے رہی ہوں کہ میرے پاس ایسا کچھ نہیں ہے جس آپ کے گوُشے جو سیراب یافتہ ہیں ان کو مزید ہونا چاہیے۔ مجھے ان کو سننا نہیں تھا شاید وجہ بتادی ۔ہم میں کشش ثقل موجود ہوتی ہے اس کے مخالف سینٹری فگل بھی۔۔۔۔بس محترمہ ہاشمی کا مدار مجھ سے مختلف ہے۔

بس یہاں پر آپ مجھ سے ملتی ہیں۔۔۔انسان کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں اضافہ کرے ۔ میرا خیال ہے اچھا استاد وہ ہے جو نفیسات سمجھے اور اس کے مطابق ٹریٹ کرے وہی جب سب سے خود سر ہوتا ہے اپنا آپ سرنگوں کرتا ہے ۔۔۔۔۔ آپ اپنے وقت کی لڑکیوں سے مختلف ہیں اور جلد ہی راہ تعین کر لی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس جناب!! اگر تین چار سال ضائع نہی کرتی اور خرچ کرتی خود کو تاکہ سمجھتی تو اتنا خسارہ محسوس نہیں ہوتا جتنا مجھے ہوتا ہے۔قران پاک کو کبھی اپنی فیورٹ کتاب نہیں کہا ہے بلکہ کہا یہ کتاب اہم ہے جب اس کو پڑھ لوں گی تب کہ پاؤں یہ محبوب ترین کتاب ہے کہ بن پڑھے کہنا نادانی ہے ۔۔۔۔۔میں اس سے زیادہ کوئی مثال مانگ رہی تھی کہ کوئی ایسی بات جو آپ کو پڑھاتے ہوئے دل کو سرور بخشے ؟
 
اللہ تعالی پہ یقین کامل ہونا اور کبھی کبھار ایسے لمحات آجاتے ہیں کہ انسان ڈگمگا جاتا ہے۔ایسی ہی صورت حال کو انتہائ خببصورت پیرائےمیں بیان کیا۔۔۔داد قبول کیجئے بہت اچھی تحریر پڑھنے کو ملی۔
 

سلمان حمید

محفلین
اتنی گہری تحریر، اتنے سارے یکجا خیالات اور تمہاری زندگی کے بارے میں ڈھیر ساری باتیں ایک ساتھ پڑھ کر میں تبصرہ کرنے کی حالت میں تو نہیں ہوں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ تم بہت گہری باتیں لکھتی ہو اور پھر ان تحاریر پر تبصرے اتنے جاندار اور تفصیلی ہونے لگتے ہیں کہ مجھ جیسا عام سا قاری تو کہیں بیچ میں ہی اٹک کر رہ جاتا ہے۔ تماری تحریر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ تم جو بھی لکھتی ہو، پختہ یقین اور پورے دل کے ساتھ لکھتی ہو جس کے بعد اس پر ہونے والی تنقید یا تبصرے کے لیے بالکل تیار ہوتی ہو جو کم سے کم میرے بس کا کام نہیں۔ یہ بحیثیت لکھاری تمہاری پختگی کو ثابت کرتا ہے اور میرے لیے یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔
میں شاید تحریر کا گہرائی میں جا کر تجزیہ نہیں کر سکا لیکن پوری تحریر پڑھنے میں مجھے ایک بات محسوس ہوئی کہ تم جیسے سرپٹ بھاگتے ہوئے لکھتی ہواور قاری کو ساتھ بھگاتی جاتی ہو۔ مجھے نہ جانے کیوں ایسا لگا کہ تم کو شاید الفاظ کے چناؤ یا واقعات کے چناؤ میں تھوڑا وقفہ بھی کرنا چاہئے تاکہ مجھ جیسا قاری جس سے تیز چلنا محال ہوتا ہے وہ بھی ساتھ چل سکے۔ شاید تم اپنی زندگی کے بہت سارے واقعات بہت جلدی میں لکھنا چاہ رہی تھیں اور مجھے لگا کہ تم بھاگ رہی ہو۔ یہ سراسر میری غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے :)
 
میں نے ازرہِ تفنن سب کہا ، آپ دل پر نہیں لینا۔۔۔۔یہ سب تو علم حاصل کرنے کا بہانہ ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔ایک بات بتائیں ۔آپ آئی ابھی اور کیمیاگری ابھی سے انکل کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔حسد ، جلن اور جانے کیا کیا مجھے محسوس ہورہا ہے ۔سمجھیں جل جل کے راکھ نہیں ہوئی :) جستجو ؟ کیا یہ کوئی لنک ہے ؟ کلک نہیں ہورہا ہے میں سمجھی کوئی لنک ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ تو بتایے جستجو کے بارے میں۔

اللہ رے۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کا انداز۔۔۔۔۔۔۔جس نے مسکرانا نہیں بھی ہونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی مسکرائے۔۔۔۔۔۔آپ ہزار باتیں کرو میں ہمہ تن گوش۔۔۔۔۔:)



الہلال۔۔۔۔۔جب سے آپ کے محفلین کے بارے میں رائے پڑھی میں سمجھ رہی ہوں آپ بہت بڑے ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔کیا واقعی !!

واہ۔۔۔۔۔۔کیا سرکہ ہے۔۔یقین کے دھاگے میں سبھی یقین پر چل پڑے :) ویسے اب زندہ نہ ہونے کا جواز کیا ہو؟


اعلی۔۔۔واہ کیا کہا ۔۔


مطب خانہ تو کھولنے کی بشارت ملی تھی مریض کون ہے ؟

میرا بھی یہی شعر ہے اور آپ نے اس کو دہرایا بھی کافی مواقع پر ہے



بالکل درست ! جب ہم کسی کے بصیرت کے بنا سنیں گے یعنی آڈیو تو سو فیصد چانس ہے تقلید کا۔اور جب ہم گانا سنتا ہیں تو سر دھنتے کجا کہ وجہ معلوم ہونا ہو۔۔۔دل تال اور لے کا دیوانہ۔۔۔۔۔۔بس یہی حال ہے ۔۔۔روبرو بھی ملاقات ہو۔۔۔۔تب غور و فکر اور تقلید ساتھ ہوتی ہے کہ تب آنکھ دیکھ رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ باقی بہت خوب کہ دیا ہے ۔۔۔۔۔۔اعلی!!!!
جی جی۔۔۔۔وہ لنک تھا بہنا۔۔۔۔۔ کیا لنک اوپن نہیں ہوا؟ اور جستجو کی بات صرف یہ تھی کہ کسی اور کی جستجو سن کے اپنی جستجو کیلیے پوائنٹ ملنا عین ممکن ہے۔۔۔۔۔ جیسا کہ نایاب انک نے کہا۔۔۔۔۔۔ اور کیمیا گری کی بھی خوب کہی۔۔۔۔ :)
نایاب انکل کے کیا کہنے۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ میں کیا اور میری اوقات کیا۔۔۔۔
 
Top