نور سعدیہ شیخ

  1. نور وجدان

    وہ تو حقیقت کو حقیقت سے ملا دیتا ہے

    عدم کی مٹی کسے نصیب ہوتی ہے ۔ انسان جب اپنی بساط سے بڑھ کے محبوب کا ہوجاتا ہے ۔ جب اس کے اندر جذب ِ حقیقی پیدا ہوجاتا ہے اور اس کی قدموں کی زنجیروں سے پیدا ہونے والی آواز میں موسیقیت گونج اٹھتی ہے ۔ جب خواب میں اس کو رُخِ یار نصیب ہوتا ہے اور اس مست نینوں کے پیچھے پنچھی روح اپنا آپ قربان...
  2. نور وجدان

    ترا ،حال وہی ہے ، جو میرا ہے

    دو سکھیاں کھڑی تھیں ، دونوں کے پاس اپنے اپنے رنگ تھے ، دونوں کے پاس شاہی لباس تھے ، آج دونوں ملیں تھیں کافی عرصے بعد تو گویا سرشاری چھائی تھی ،گویا دیوانگی چھائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آؤ ، مل کے رقص کریں ۔۔۔، اسطرز رقص کہ تُو تُو نہ رَہے ،میں ، میں نَہ رَہوں ۔۔۔رَہے تو کائنات رَہے ۔۔ زمین نہ رہے مگر...
  3. نور وجدان

    مرغِ بسمل ... خیالات ......... تماشائے ذات

    سنیے! کبھی عشق کو چکھیے! آپ سر اُٹھا کے جی نہ سکیں گے! آپ کا جھکا سر، عبدیت کا درجہ ہے. سنا ہے عشق ہستی کو مٹا دیتا ہے! سُنا ہے مٹی کو مٹی بنا دیتا ہے. سنا ہے عشق ہر دم مستی ہے مگر نیستی کے عالم میں جائے کون؟ اک مجذوب گیا گاؤں، لوگوں سے کہا کہ کھانا دو! لوگوں نے کھانا نہ دِیا، پتھر مار دئیے...
  4. نور وجدان

    تعارف غزل نایاب کا تعارف

    السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، اس محفل میں غزل نایاب ، یعنی کہ بنتِ نایاب کو لانے کی جستجو ہوئی ، سو اِسی جستجو کو ختم کرتے میں محترم سید نایاب حسین کی بیٹی کو یہاں لائی ہوں ۔ تعارف کے حوالے سے اتنا بتاتی چلوں کہ وہ کہا کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری سچی غزل ۔۔۔ کیوں نہ اس سچی غزل سے متعارف ہوا جائے۔۔۔۔...
  5. نور وجدان

    قوافی کے متبادل ہم قافیہ الفاظ بتائیں

    فنائے ہستی بعد دید کی طلب میں رہ گئی کہ زندگی مری ملن کے ہی کرب میں رہ گئی ازل کے نوری آئنے کی جستجو میں زندگی جنونِ عشق کے تڑپ میں اور تعب میں رہ گئی خودی میں ہے چھُپی اُحد کی وہ نشانی، نور کے وجود میں ڈھلی تو زندگی سبب میں رہ گئی عجب زمانے کا چلن ، اسیر سب مکان کے مری ہی روح لامکان کے...
  6. نور وجدان

    تُمھارے کوچے سے چلے بھی جائیں، تو کریں گے کیا؟

    تمھارے کوچے سے چلے بھی جائیں، تو کریں گے کیا؟ گَلی گَلی نہ دیں تمھیں صَدائیں، تو کریں گے کیا؟ جلن تُمھاری ہے نصیب، لطفِ آشنائی میں گزر کے خود سے تم تلک نہ آئیں، تو کریں گے کیا؟ فنائے ہست بعد دید کی طلب؟ یوں زندگی میں مرتے مرتے مَر ہی گر نہ پائیں؟ تو کریں گے کیا؟ جِگر کے زخموں کا علاج...
  7. نور وجدان

    میں حُسنِ مجسم ہوں

    میں حُسنِ مجسم ہوں کبھی کبھی تعریف کرنے کو دل چاہتا ہے میں خود کی تعریف کروں کہ میں حُسنِ مجسم ہوں ۔ ویسے تو ہر کوئی حُسن پرست ہے مگر میں کچھ زیادہ ہی حُسن پرست ہوں۔ گھنٹوں آئنہ دیکھوں مگر دل نہ بھرے ۔ میں نے آئنہ دیکھنا تو بچپن سے ہی شروع کیا کہ ہر کوئی پچپن سے کرتا مگر اپنے حسین ہونے کا...
  8. نور وجدان

    نعت کہنے کو حرف دل ہونا چاہیے

    روشنی ہوتی ہے .... چراغ الوہی ہو تو .... الوہی چراغ کیسے ہوتا ہے، جب دل کا ہر حرف ثنائے محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں بسر ہو .... داستان دل رقم کیے دوں یا کم مائیگی پہ افسوس کروں ... افسوس بھی کیوں کروں کہ میں ہوں کیا؟ کافی عرصہ ہوا قلم اپنی رفتار پہ رک گیا اور جذبات کے تلاطم میں شور نہ...
  9. نور وجدان

    درون

    ربیع الاول کا ماہ مبارک شروع ہوا ہے .... سب رنگ غم کے ماند پڑجاتے ہیں، دل میں خوشی بہار کی مانند پھیل جاتی ہے ... درون میں جب سیرت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی روشنی پھیل جاتی ہے تو حیرت سے دل متعجب پوچھتا ہے کہ درون کیا ہے؟ درون باطن کو کہتے ہیں. ایسی دنیا جس کی بدولت خیالات متحرک...
  10. نور وجدان

    بیخودی

    بیخودی ذات کا اصل شعور نہیں ہے بلکہ بیخودی میں حاصل شدہ علم شعوری سطح سے مربوط ہونے لگتا ہے تو انسان اسی حال میں انائے اکبر تک پہنچنے لگتا ہے. بیخود پاگل ہوتا ہے، بیخود مجذوب ہوتا ہے. کچھ لوگوں کے لیے یہ وقتی کیفیت بھی ہوتی ہے. بیخودی تاہم ذات کا ایسا جوہر ہے جو شعور تک نہیں لے جاسکتا ہے...
  11. نور وجدان

    گہرائی

    میں ابھی کلام سُن رہی تھی ... یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہسوار ہے یہ بالیقین حسین ہے نبی کا نور عین ہے لباس پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا تمام جسم نازنیں چھدا ہوا کٹا ہوا اسکو سنتے ہوئے "گہرائی " کا اندازہ ہوا .. ہم جب گہرائی میں جاتے کوئی کام نہیں کرتے وہ کبھی ٹھیک نہیں ہوتا. زندگی میں...
  12. نور وجدان

    زمین

    جب زمین کو افلاک کی گردش میں رکھا گیا تھا، زمین کے دس ٹکرے ہوگئے. کچھ آنسو تھے تو کچھ خون تھا، مل کے بحر کی شکل اختیار کرلی ... ہر ٹکرا مکمل کائنات تھا مگر ایک ٹکرا ارض حجاز کا نکلا ...مقدس، پاک، الوہی چمک سے بھرپور .... شمس نے جب اس پر اپنی آب و تاب دکھائی تو صفا کے سارے جبل مثل طور ہوگئے...
  13. نور وجدان

    کیا لکھوں

    کیا لکھوں؟ کسے لکھوں؟ کہوں کیا؟ یہی ان گنت فسانے ہیں. بے شمار باتیں جن کی کھو گئیں ہیں قلم نوکِ دل پر پھر بھی زور لگائے ہے کہ لکھ فسانہ ء دل ..... حیات کی کشمکش میں کسے کہیں اپنا ؟ یہاں سبھی اپنے ہیں ،پھر بھی پرائے ہیں رقص قلم دیکھ کے جنبشِ مژگان نے دو موتی کیا ٹپکا دئیے! قیامت آگئی! خشک...
  14. نور وجدان

    حیرت کے اسرار

    ہر سوال کے پیچھے اسباب ہوتے ہیں. عشق کے پیچھے کیا سبب ہوگا؟ کیا ہے یہ عشق؟ خود سے سوال کروں تو لگے کہ حیرت کی کہانی ہے.سب سے پہلے دل متحیر، پھر نگاہ میں تحیر ایسا کہ تحیر مرمٹے اپنے سبب پر. حیرت کا سفر کمال کو پہنچتا ہے تو پتھر جی اٹھتے ہیں. حجر میں جب جان پڑی تھی لوگوں نے سبحان اللہ کہا تھا...
  15. نور وجدان

    نعت

    منور، مطہر محمدﷺ کی سیرت تصور سے بڑھ کےحسیں انکی صورت وہ نبیوں کے سردار ، ولیوں کے رہبر نہیں کوئی انسان ان کا ہے ہمسر مقامِ حرا ، معرفت سے ضُو پائی نبوت سے ظلمت جہاں کی مٹائی خشیت سے جسمِ مطہر تھا کانپا خدیجہ نے کملی سے انہیں تھا ڈھانپا منور ،منقی تجلی سے سینہ پیامِ خدا سے ملا پھر سفینہ...
  16. نور وجدان

    کشش

    کبھی کبھی رات بہت بابرکت لگتی ہے. ستاروں کی، چاند کی روشنی اس رات بہت تیز ہوتی ہے..کش. ... .. کشش آج رات چاند رُوشن کِیے ہوئے ہے..سورہ النور کی آیت دیوار پر لگی دیکھی.. اللہ نور السموت ولارض کی منقش آیت نے آنکھ نم کردی ہے. آنکھ باوضو رہے تو ہجرت یاد رہتی ہے . .. ہجرت کی رات کاخالق سے بچھڑ...
  17. نور وجدان

    لمحہ لمحہ… … غزل

    فاعلاتن مفاعیلن مفاعیلن لمحہ لمحہ ملا ہے درد صدیوں کا ایک پل میں سہا ہے درد صدیوں کا ساز کی لے پہ سر دھننے لگی دنیا تار نے جو سہا ہے درد صدیوں کا چھیڑ اے مطربِ ہستی وُہی نغمہ جس کی دھن نے دیا ہے درد صدیوں کا گیت میرے سنے گی دنیا صدیوں تک شاعری نے جیا ہے درد صدیوں کا ہوش کر ساز کا...
  18. نور وجدان

    پھول سارے گرا دیئے

    اساتذہ کرام کی اصلاح کے بعد پھول سارے گرا دیئے، اب ہے واپسی کا سوال لا یعنی تیرا احوال ، کیا کہیں بُلبُل گل کی ہے داستان با معنی زندگی نے بسر کیا ہے مجھے اور کتنی کرے گی من مانی زہر دے کے مجھے نہ مارو تم تیری باتوں سے جان ہے جانی زندگی کے سفر میں زندہ ہوں شام چھائی ہے رات کب آنی؟ ہم ہیں...
  19. نور وجدان

    خواب میں کوئی اشارہ تو ملے

    محترم اساتذہ کرام کی اصلاح کے بعد خواب میں کوئی اشارہ تو ملے بحر کو کوئی کنارا تو ملے دیپ الفت کےتو جلنے ہیں سدا رات کو کوئی ستارہ تو ملے پھول کھلتے ہیں، صبا چلتی ہے اس جنوں میں بھی خسارہ تو ملے زخمِ دِل اُن کو دکھائیں بھی تو کیوں! حشر برپا ہے ، کنارا تو ملے جب دوا نورؔ نہ کام آئی کوئی زہر...
Top