ہتھیار - weapons

عسکری

معطل
جے ایف-17 تھنڈر - JF-17 Thunder یا FC-1Xiaolong Fierce Dragon

ایک ایسا پروجیکٹ ہے جس سے پاکستانی عوام کا مستقبل اور جذبات وابسطہ ہیں ۔:rolleyes: اس کو میں ایسے جانتا ہوں جیسے اپنے گھر کے کسی فرد کو ۔حالنکہ میری اس سے ملاقات 2010 میں ہوئی تھی ۔:biggrin: پر میں اسے 2003 سے جانتا ہوں ۔



اس کی ایک بہت ہی لمبی داستان ہے جو اصل میں اف-7 ایم سے شروع ہوئی تھی ۔ پاکستان نے اف-7 پی کے بعد جب ایف7 ایم کو پہلی بار دیکھا تو اس میں بہت انٹرسٹ تھا پاکستان کے لیے اپنے جیف6 جہازوں کو تبدیل کرنے کے بارے میں ۔ پاکستان چاہتا تھا کہ ایف-7 ایم کو دوبارہ یورپیین یا امیرکن سسٹمز کے ساتھ بنایا جائے ۔ گروومین امریکی جہاز ساز کمپنی کو شامل کر کے سابر-2 کے نام سے جہاز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔2 سال تک سوپر-7 یا سابر =2 کے اوپر امریکی کمپنی کام کرتی رہی کہ چاہنا میں ہونے والے مظاہروں جنہیں تینان مین سٹریٹ کے مظاہروں سے یاد کیا جاتا ہے ہو گئے ۔ چائنا نے طاقت کا استمال کیا تو امریکہ نے چائنا پر پابندیاں لگا دی ۔ گرومین پروگیکٹ چھوڑ کر چلی گئی اور چائنا اکیلا اس پر کام کرتا رہا ۔لیکن جو پروگرام امریکی انجن ایویونکس اور اور ٹیکنیکی مدد سے شروع ہو تھا امریکی کمپنی کے بغیر اس کا مکمل ہونا نا ممکن ہو چکا تھا ۔بالاخر پاکستان نے بھی سوپر-7 یا سابر-2 سے ہاتھ کھینچ لیا اور یہ پروجیکٹ ختم ہو گیا ۔ لیکن اس کا بیسیک ڈیزائین کہیں گم گشتہ اوراق میں پڑا رہا ۔ پاکستان نے ایف-7 پی جی بنوا لیئے جن پر پہت ساری پاکستانی ٹیکنالوجی بھی استمال ہوئی اور معاملات جوں کے تو رہے ۔ اس دوران 9 سال میں پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا تھا ۔چائنا اب وہ چائنا نہیں تھا اور پاکستان بھی وہ پاکستان نہیں تھا 1995 میں پاکستان نے کوشش کی تھی کہ یورپی کمپنی سابر-2 کے لیئے ایوینکس مہیا کرے ۔ اٹلی کی کمپنی جس سیلیکس گلیلو جس کے پاکستان سے بہت گہرے تعلقات ہیں نے آفر بھی کہ پر معاملہ جوں کا تو رہا ۔ 1999 میں جب پابندیاں انتہا کو پینچی اور پاکستان کو آگے کوئی راہ سجھائی نا دی تو پاکستان سوچ میں پڑا دوبارا سوپر -7 کی ۔ امریکہ نے 66 ایف سولہ روک رکھے تھے 11 سال سے روس کچھ بیچنے کو تیار نہیں تھا یورپ امریکہ کے پیچھے چلتا ہے ۔ اسطرح پاکستان اگر حرکت نا کرتا تو دوسرا عراق یا شام کی ائیر فورس بن جاتا ۔ 1999 میں دوبارہ پر جوش طریقے سے ایگریمنٹ ہوئے سینکڑوں چینی پاکستان ائیرو ناٹیکل انجینیرز نے مل کر سوپر-7 سابر-3 کا نیا ڈیزائین بنایا اور اس کے لئے چائنا نے روس کو کلموف آر ڈی 93 انجن بیچنے پر آمادہ کیا ۔ بھارت نے اس دوران روس پر جتنا ڈال سکتا تھا دباؤ ڈالا کہ انجن ڈیل کینسل ہو جائے پر ڈیل پوٹن نے سائن کر دی اور پوری بھی کی ۔ اس دوران چائنا اپنا انجن ڈبلیو ایس 10 اور ڈبلیو ایس 15 پر بھی کام کرتا رہا جو کہ مستقبل میں ان جہازوں کے علاوہ جے-10 ایف-20 جے 11 بی پر بھی استمال ہونے تھے ۔ یاد رہے جہازوں میں سب سے مشکل ٹیکنالوجی جیٹ انجن بنانا ہے ۔ بھارت نے 1986 میں کاویری کے نام سے جیٹ انجن بنانا شروع کیا جو19 جون 2012 میں ناکام ہو کر ختم کر دیا گیا 64 ملین ڈالر تخمینہ جو انڈیا نے لگایا تھا کاویری کا وہ 2 ارب ڈالر ضائع کر کے بھی نا بن سکا ۔ اور اسطرح انڈیا کا بنا تیجاس جیٹ 15 سال لیٹ ہو گیا ہے ،

1999 میں نئے معاہدے کے تحت پاکستان چائنا نے 50-50 پارٹنر شپ کی جے ایف-17 میں اور پاکستان نے 500 ملین ڈالر ادا کر دئے ۔ کام زار شور سے شروع ہوا کہ اب ناکامی نا ہو ۔پاکستانی انجینیرز نے یہ ہرف سامنے رکھا کہ اس جہاز کو پاکستان کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالہ جائے جو ہماری ملتی رول لو کاسٹ جیٹ کی ضرورتوں کو پورا کے ۔ پاکستان نے اس سے اپنے 182 ایف-7 80 میراج5 نوے میراج3 اور 50 اے-5 جہازوں کو تبدیل کرنا تھا ۔ اتنی پری تعداد میں تیسری جنریشن کے جہازوں کو چوتھی جنریشن کے جہازوں کو خرید کر پورا کرنا پاکستان جیسے ملک کے لیے نا ممکن کام ہے ۔ جہاز جو 20 سال پہلے 15 ملین ڈالر کا تھا اب 65 ملین کا ہو چکا ہے ۔اس کا واحدحل جہاز بنانا تھا ۔ ائیر فورس کی کمانڈ گاہے بہ گاہے چائنا جاتی رہی اور پروجیکٹ دیکھتی رہی ۔2001 میں کام کے دوران ہی پاکستنا ائیر فورس نے ائیر فریم میں تبدیلی کر ڈالی جو کہ پروجیکٹ کو تھوڑا اور لیٹ کر گئی ۔ 2002 میں ائیر فریم ایویونکس تیار ہو چکے تھے انیجن روس سے پہلی گھیپ جیسے ہی پہنچی کام شروع ہو گیا ۔ انجن فٹ کرنا بھی ایک مشکل کام ہے جس میں مہینوں لگے 2003 میں پہلی بار جہاز نے دن کی روشنی دیکھی اور اسے ہینگر سے باہر نکالا گیا تھوڑا ٹہلا کر واپس اندر ۔کچھ دن بعد ٹیکسی ٹرائل اور رن وے ٹرائیل ہوئے اور ہوتے رہے ۔ پی ٹی ون یعینی پروٹو ٹائپ نمبر-1 یہ جہاز 31 مئی 2003 کو ایک بہت ہی پر وقار تقریب میں پہلی بار ٹیک آف کر گیا 16 منٹ تک ہونے والی اس پہلی پرواز کو چائنا کا ٹیسٹ پائلٹ نے اڑایا ۔
اس کے بعد تجربوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا اور ادھر مزید پروٹو ٹائپ بنائے گئے ۔ 4 پروٹو ٹائپ بنانے کے بعد ایک اور زبردست کام کیا گیا وہ تھا ڈیزائن میں مزید تبدیلی کر کے جہاز کے ائیر انٹیکس کو ڈی ایس آئی ٹینالوجہ سے مزین کر دیا گیا جو کہ اسوقت تک صرف جے ایف-17 اور امریکہ کے آخری جہاز ایف-35 میں ہے ۔یہ ایسی ٹینالوجی ہے جس سے انجن کو ہوا جانے والے ان ٹیکس پر ابھار بنا کر انجن کے بلیڈز کو چھپا دیا جاتا ہے اسطرح جہاز کی راڈار کراس سیکشن کم ہو جاتی ہے اور وہ مزید چھوٹا نظر آتا ہے راڈار کو ۔ یہ پہلا میجر سرپرائز تھا دنیا کو جے ایف 17 کا ۔ 2004 سے 2007 تک 6 پروٹو ٹائپ اور 2 سمال بیچ پروڈکشن سے جہاز بنائے گئے ۔ پروٹو ٹائپ 4 اور 6 کو مستقل بنا کر جہاز کی پروڈکشن شروع ہو گئی ۔ اسی دوران کامرہ میں ایک طرھ سے جے ایف -17 کا شہر بسایا گیا جس میں پروڈکشن ہینگرز راڈار اور ایونکس بنانے کی فیکٹریاں پائب فیٹکری کلر فیکٹری اور کئی دوسی فیسیلیٹیز بنائی گئی ۔ 2007 کے 2مارچ میں پاکستان پہلے دو جہاز پہنچے ایک 07-101 اور دوسرا 07-102 اور یہ پہلی بار 23 مارچ کی تقریب میں اڑے ۔
2 مزید جہاز سمال بیچ پرودکشن سے پاکستان کو 2009 میں ملے اور پاکستان میں جہاز بنانے کا کام شروع ہو گیا 23 نومبر 2009 کو پہلا پاکستان کا بنا جہاز رول آؤٹ ہوا اور ایک بہت بڑی تقریب منعقد کی گئی ۔ اور سیریل پرودکشن شروع گئی ۔
18 فروری 2010 تک پاکستان کو پاس ٹوٹل 16 جے ایف-17 بن چکے تھے جنہیں پہلی بار سروس مین انڈکٹ کر دیا گیا ۔ 25 اے-5 جہازوں والے سکوڈرن نمبر26 بلیک سپائڈرز کو جے ایف-17 دیے گئے جو کہ پشاور میں بیسڈ ہے ۔ اور اے-5 کو سروس سے ریٹائرڈ کر دیا گیا ۔

11 اپریل 2011 کو مزید ایک سکوڈرن جہازوں کا بن چکا تھا جسے نمبر 16 بلیک سپائڈرز کے حوالے کای گیا اور ان سے بھی اے-5 واپس لے لیے گئے اسطرح اے -5 کو مکمل سروس سے نکال دیا گیا اور تیسے سکوڈرن کے جہاز بنانے کا کام شروع ہوا تیسرا سکوڈرن حال ہی مین مکمل ہوا ہے جس کی ابھی تک کوئی نیوز نہیں ائی ہے ۔


جے ایف-17 پاکستانی چینی اور امریکی ہتھیارون کو لے جانے کی صلاحیت والا یاک ایڈوانس جہاز ہے ۔ یہ ہر موسم میں دن رات اپنا کام کر سکتا ہے اس میں ڈیٹا لنک سسٹم ہیں جس سے یہ آپس میں یا اواکس کے ساتھ جو کہ زیڈ ڈی تھری ہے ڈیٹا ٹرانسفر کرتا ہے ۔ اس پر بی وی آر میزائیل ایس ڈی-10 لگائے جاتے ہیں جو کہ دشمن کے جہازوں کو 100 کلو میٹر تک نشانہ بناتا ہے ۔ پی ایل-5 میزائیل نصب ہوتے ہیں جو شارٹ رینج ہیں سی-802 اینٹی شپ میزائیل جو 250 کلو میٹر سے دشمن کے بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں اور سی 803 جو کہ 350 کلو میٹر رینج کے ہیں۔ پاکستان کے بنے رعد کروز میزائیل سے لیس کیا جا سکتا ہے جو کہ 390 کلو میٹر تک نشانہ لگاتے ہیں نیوکلئیر وار ہیڈ بھی استمال کر سکتا ہے ۔ اسی طرھ پاکستان کا بنا بلیک ایرو میزائیل بھی نصب کیا جا سکتا ہے جو 67 کلو میٹر تک جہازوں کو نشانہ بناتا ہے ۔برازیل سے ایم ون پھرانا میزائیل لایا گیا ہے جو کہ 10 کلو میتر تک جہازون کو نشانہ بناتا ہے ۔ مار-1 اینتی ریدی ایشن میزائیل سے جے ایف-17 100 کلو میٹر تک دشمن کے راڈاروں کو نشانہ بناتا ہے ۔یہ چائنا کے بنے جی بی یو طرز کے ایل ٹی میزائیل بھی کیری کرتا ہے جو کہ لیزر گائڈڈ ہیں یہ کلسٹر بم جیسئ حجارہ اور روکی بھی دیلورو کرتا ہے ۔اینٹی رن وے میں یہ دیورینڈل اور آر پی بی استمال کرتا ہے اور ایم کے سریز کے سارے فری فال بم 500 کے جی 1000 جی والے بھی اس پر استمال ہو سکتے ہیں ۔اس کی اپنی ڈبل بیریل گن بھی ہے جو جہاز میں فٹ ہے ۔اس میں ٹارگٹ پوڈز اور ریکونینس پوڈز بھی نصب ہوتی ہیں الغرق یہ پاکستان کا بنا ایف سولہ کہا جا سکتا ہے جو پاکستان میں موجود 90 فیصد ہوائی ہتھیار کیری کرتا ہے ۔ فضا میں ایندھن بھرنے کاسستم بلوک-2 میں نصب کیا جا رہا ہے

ابھی تک اس کا سنگل سیٹ ویرزن ہے
وزن 6586 کلو ہے اور یہ 3 ٹن ہتھیار لے جا سکتا ہے
اس کی سپیڈ 1909 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے
اور یہ 3500 کلو میٹر تک اڑتا ہے اپنے فیول سے
اس کت 7 ہارڈ پوئنٹ ہیں جن پر ملتی ریک بھی استمال ہو سکتے ہیں اگر ہتھیار زیادہ ہو تو ۔
اور یہ 55 ہزار فٹ کی بلندی تک جا سکتا ہے

اب تک پاکستان 42 جہاز بنا چکا ہے بلوک-1 میں 50 جہاز بنائیں جائیں گے بلوک 2 اور بلوک3 میں 100 ہر بلوک میں اسطرح پاکستان 250 جہاز بنائے گا اور پھر اس کو فروخت بھی کیا جائے گا بہت سارے ممالک نے اسے خریدنے میں دلچسبی لی ہے پر پاکستان کی ضرورت جب تک پوری نہیں ہوتی اس کی فروخت ممکن نہیں ۔ اس نے 4 ائیر شوز میں حصہ لیا ہے جس سے دنیا کو یہ جاننے کا موقع ملا کہ پاکستان کیا کچھ بنا رہا ہے اور بنا سکتا ہے ۔ بریطانیہ دوبئی اور چائنا ترکی کے ائیر شوز میں جے ایف-17 پاکستانی جھنڈا لہرا چکا ہے

یہ بڑی بری باتیں ہیں جو بتائی جا سکتی ہیں جے-ایف-17 تھنڈر کے بارے میں اگر کوئی سوال ہو تو ویلکم ورنہ تو اس پر ایک بھر پور دھاگہ بنایا جا سکتا ہے :D


پی ٹی 01 کی پہلی پرواز
JF-17Thunder014.jpg


9 اپریل2004 کو پہلی بار پاکستانی ٹیسٹ پائلٹوں نے جہاز کو اڑایا ۔ چائنا کے اسی ائیر بیس سے جہاں یہ جہاز بنتے ہیں سکواڈرن لیڈر احسان الحق اور سکواڈرن لیڈر راشد حبیب نے اسے 30 منٹ کے لیے اڑایا ۔
پہلا پاکستانی پائلٹ
jf_2.jpg







پہلا پاکستانی جہاز 101

753768d1188216960-jf-17-fan-club-jf-17_1_qsv_pakwheels-com-.jpg


مارک-82 امریکی بمون سے لیس
JF17_1190.jpg




3 ڈارپ ٹینک اور 4 فری فال بموں 2 پی ایل-5 میزائیلوں سے لیس
jf-17.jpg


چائنا ائیر شو میں
jf-17_109.jpg



برٹش ائیر شو میں
JF-17-640x480.jpg


پاکستان کا بنا پہلا جے ایف-17 جسے 111 کہتے ہیں
1237.jpg

سکوڈرن-26 کے جوان پشاور پہنچنے پر
AirForces%2BMonthly%2BJF-17%2BThunder%2B%2BFC-1%2BXiaolong%2BSD-10%25252C%2BMICA%2BLS-6%2BC-802%2BAESA.jpg

ترکی میں
JF-17-Pakistan-airforce-turkey-airshow-2011-04.jpg


چائنا ائیر شو میں
militairefc1267.jpg


ڈی ایس آئی انٹیک قریب سے
5251937879_01285f8fba_b.jpg


پاکستان میں بناتے وقت
2C8v0.jpg


PGOPP.jpg


MuE2N.jpg



سی-802 میزائیلوں سے لیس
JF-17+Thunder+C-802A+Anti-Ship+cruise+missile+with+range+of+180+kilometers+255+c803+yj83+PLAAF+Navy+attack+operational+maritime+fighter+jet+pakistan+air+force+china+%25282%2529.jpg


سکوڈرن کی لائن اپ
143473_262923787_JF-17%20THUNDER-PAKISTAN%20AF-08.jpg


الیکٹرونیک پوڈ سے لیس
3xeSQ.jpg
 
آپ کے کہنے کے مطابق یہ بہت ایڈوانسڈ جہاز ہیں۔اور ان میں استعمال ہونیوالی ٹیکنالوجی صرف امریکی جہازوں میں
جہاز کے ائیر انٹیکس کو ڈی ایس آئی ٹینالوجہ سے مزین کر دیا گیا جو کہ اسوقت تک صرف جے ایف-17 اور امریکہ کے آخری جہاز ایف-35 میں ہے ۔یہ ایسی ٹینالوجی ہے جس سے انجن کو ہوا جانے والے ان ٹیکس پر ابھار بنا کر انجن کے بلیڈز کو چھپا دیا جاتا ہے اسطرح جہاز کی راڈار کراس سیکشن کم ہو جاتی ہے اور وہ مزید چھوٹا نظر آتا ہے راڈار کو
کچھ مزید ایسی خصوصیات بتائیے جس سے میرا سینہ پھول کر پہاڑ ہوجائے
 
ایک کام اور کیا کیجئے اگر کسی ٹیکنالوجی وغیرہ کا ذکر کرنا ہو تو ساتھ میں وکیپیڈیا یا کسی اور مستند سائٹ کا لنک بھی مہیا کر دیا کیجئے تاکہ ہم بھی مستفید ہوسکیں:)
 

عسکری

معطل
آپ کے کہنے کے مطابق یہ بہت ایڈوانسڈ جہاز ہیں۔اور ان میں استعمال ہونیوالی ٹیکنالوجی صرف امریکی جہازوں میں

کچھ مزید ایسی خصوصیات بتائیے جس سے میرا سینہ پھول کر پہاڑ ہوجائے
ڈ ایس آئی انٹیکس بہت ہی اڈوانس ٹیکنالوجی ہے جو اسوقت سروس میں صرف پاکستان اور امریکہ کے جہازوں پر ہے ۔ چائنا نے اس کے بعد جے-10 اوے جے -20 سٹیلتھ جہاز میں بھی اسے استمال کیا ہے پر وہ ابھی تک سروس میں نہیں ہے ۔ پرانے جے-10 جہازوں میں ریگولر انٹیک ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے ٹیکنالوجی ایف-35 پراگرام سے چرا کر چائنا کو دی ہے ۔ جس کی وجہ سے سزا کے طور پر امریکہ نے ایف-35 پراگرام سے اسرائیل کو نکال باہر کیا ہے ۔ یہ بھی مفروضہ ہے کہ چائنا کہ ہیکرز نے امریکی ایف-35 فائلز چرائی تھیں پر جو بھی ہے ڈی ایس آئی اب ہمارے جہاز پر ہے

وکی کوئی مستند تو نہیں پر ڈی ایس آئی پر اس کا پیج یہ ہے
http://en.wikipedia.org/wiki/Diverterless_supersonic_inlet
یہ دیکھیں پہلے پراٹوٹآئپ کے انٹیک ۔
JF-17Thunder011.jpg


ڈی ایس آئی استمال ہونے کے بعد
jf-17-25-large.jpg



یہ جے -10 کے ائیر فریم میں ہونے والی تبدیلیوں میں ڈی ایس آئی ٹیکنانوجی کا استمال
attachment.php
 

عسکری

معطل
آپ کے کہنے کے مطابق یہ بہت ایڈوانسڈ جہاز ہیں۔اور ان میں استعمال ہونیوالی ٹیکنالوجی صرف امریکی جہازوں میں

کچھ مزید ایسی خصوصیات بتائیے جس سے میرا سینہ پھول کر پہاڑ ہوجائے
اسوقت تک ہے جناب جلد ہی 10 سال میں ہر نئے جہاز پر یہ ملے گی ٹیکنالوجی کسی کی میراث نہیں ہے نئے نئے سسٹم اور ہتھیار آتے جاتے رہتے ہیں ۔ سینہ پھلانے کے لیے یہی بہت ہے کہ پاکسنا اب بلیک میلینگ سے آزاد ہے یہ کوئی آخری جہاز نہیں جو پاکستان میں بنا ہے جیسا کہ ائیر چیف نے کہا ہے ۔ آپکو بتاتا چلوں سندھ میں ایک نیا ائیرو ناٹیکل سٹی بن رہا ہے جیسے کامرہ میں ہے ۔ اس کے لیئے سینکڑوں ایکٹر اراضی پی اے ایف کو مل چکی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک اور پروجیکٹ :rolleyes:۔ اب ہمیں 90 کی طرح خوار نہیں کیا جا سکتا نا شرائط رکھی جا سکتی ہیں ۔ ایک مثال دوں؟
پاکستان کے پاس 64 ایف سولہ ہیں 500 امرام میزائیل جو 100 کلو میٹر تک جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں - یہ میزائیل تب تک امریکہ نے نہیں بیچے جب تک جے ایف -17 نہیں بنا تھا اور ایس ڈی-10 میزائیل نہیں تھے ۔ ایس ڈی -10 امرام جتنی رینج کے میزائیل ہیں اور ایک سے ہیں

مصر کے پاس 220 ایف سولہ ہیں اور ایک بھی بی وی آر یعینی 20کلو میٹر رینج سے زیادہ کا میزائیل نہیں بار بار ریکوسٹ پر بھی امریکہ نے امرام نہیں بیچے ۔ تاکہ اسرائیل ان کے 220 ایف سولہ 20 گھنٹوں میں کھا جائے ۔اور مصر کوئی پھرتی نا دکھائے اسرائیل کے سامنے اور وہی ہو رہا ہے ۔اسرائیل کے صوفا اور راما ایف-15 اور ایف-16 کے آگے مصری ایف سولہ ایسے ہے جیسے پہلوان کے آگے 5 سال کا بچہ کیونکہ ہتھیاروں کے بغیر پلیٹ فارم کو دشمن کے سامنے بھیجنا خود کشی ہے ۔اور ہتھیار بنانے والے دیتے ہیں خریدنے والے کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے ۔

جو ٹیکنالوجی آپ کے پاس ہوتی ہے پھر آپ آگے کی سوچتے ہو جناب جے ایف -17 سے ہمیں آزادی ملی ہی ایوی ایشن کی اب آئیڈیاز ہوں گے جنہیں اس پر لگایا جائے گا نئے بلوک بنیں گے اور اسے بیچ کر پہلا اسلامی ملک جنگی جہاز بنانے اور بیچنے والا بنے گا پاکستان اور ملینز آف ڈالر کے سودے ہوں گے
 

نایاب

لائبریرین
جو ٹینالوجی آپ کے پاس ہوتی ہے پھر آپ آگے کی سوچتے ہو جناب جے ایف -17 سے ہمیں آزادی ملی ہی ایو ایشن کی اب آئیڈیاز ہوں گے جنہیں اس پر لگایا جائے گا نئے بلوک بنیں گے اور اسے بیچ کر پہلا اسلامی ملک جنگی جہاز بنانے اور بیچنے والا بنے گا پاکستان اور ملینز آف ڈالر کے سودے ہوں گے
ان شاءاللہ
 

خورشیدآزاد

محفلین
عمران صاحب یہ آپ کا بہترین معلوماتی دھاگہ ہے اورآپ کی محنت اور کاوش قابل تعریف ہے۔:thumbsup2:

جہاں تک جے ایف 17 کی بات ہے چونکہ آپ حب الوطنی کے جذبات کے ساتھ یہ معلومات فراہم کررہے ہیں اس لئے یہ کس حد تک مستند ہیں اس بارے میں اس وقت تک کچھ کہا نہیں جاسکتا جب تک پاکستان اپنی ضروریات پوری کرلے اور مصر، شام، ایران، ونزویلا، کولمبیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات وغیرہ وغیرہ آرڈر کے لیئے لائن میں کھڑے نہ ہوجائیں۔

خدا نہ کرے جنگ ہوں لیکن کسی بھی جنگی ہتھیار کی اصلی آزمائش جنگ میں ہوتی ہے۔ امریکی ایف-16 نے روسی مگ سیریز پر اپنی واضح برتری پاک بھارت جنگ میں ثابت کی ہے۔
 

عسکری

معطل
عمران صاحب یہ آپ کا بہترین معلوماتی دھاگہ ہے اورآپ کی محنت اور کاوش قابل تعریف ہے۔:thumbsup2:

جہاں تک جے ایف 17 کی بات ہے چونکہ آپ حب الوطنی کے جذبات کے ساتھ یہ معلومات فراہم کررہے ہیں اس لئے یہ کس حد تک مستند ہیں اس بارے میں اس وقت تک کچھ کہا نہیں جاسکتا جب تک پاکستان اپنی ضروریات پوری کرلے اور مصر، شام، ایران، ونزویلا، کولمبیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات وغیرہ وغیرہ آرڈر کے لیئے لائن میں کھڑے نہ ہوجائیں۔

خدا نہ کرے جنگ ہوں لیکن کسی بھی جنگی ہتھیار کی اصلی آزمائش جنگ میں ہوتی ہے۔ امریکی ایف-16 نے روسی مگ سیریز پر اپنی واضح برتری پاک بھارت جنگ میں ثابت کی ہے۔
بھائی جان مصر کی بات تو ہے پر سعودی امارات اس کے پوٹینشل کسٹمر نہیں ہیں وہ تایفون اور رافال ایف-15 کی بات کر رہے ہیں اور استمال بھی کر رہے ہیں ۔ ایران پر پابندیاں ہیں اس کو ہتھیار نہیں بیچے جا سکتے ۔ جے ایف-17 کے کسٹمرز لبنان سوڈان زمبابوے آزربائیجان سری لنکا بنگلہ دیش اور تیسری دنیا کہ ملک ہیں جو ایف-7 استمال کرتے ہیں آپکو بتا تا چلوں چائنا کے بنے 2400 ایف-7 سکائی بولٹ اور 1300 اے -5 فانٹان دنیا استمال کر رہی ہے وہ اسے تبدیل کریں گے لائٹ ویٹ فائٹر سے ۔ یہ سب تیسری دنیا اور افریکی ممالک ہیں ۔اسی طرح 10 ہزار سے زائد مگ21 بھی بھی دنیا میں ہیں جنہیں جلد تبدیل ہی کرنا ہے دنیا نے ۔
اور بیٹل پروف جہاز کی بات بالکل ٹھیک ہے آپکی پر یاد رہے ایف-16 بلوک-15 اور بلوک-52 کے خلاف ہر ہفتے جے ایف-17 سیمولیٹر جنگ کر رہا ہے تا کہ اس کی صلاحیتون کی چانچ ہو ۔ اسی طرح اسے ایس یو -30 اور ایس یو 27 کے خلاف بھی لڑایا جا رہا ہے چائنا میں ۔ یاد رہے انڈیا کا فرنٹ لائن جہاز ایس یو -30 ہے ۔ اس کی صلاحیتوں اور جنگی ٹیکنیکس کو جانچا اور بہتر سے بہتر بنایا جا رہا ہے ان تجارب سے ۔


یہ دیکھیں یہ سیمولیٹر جنگ ہوتی ہے ۔ ریڈ فلیگ مشقوں کے دوران ایف-16 اور ایف-15 کے درمیاں جس میں ایف سولہ نے ایف 15 کو شوٹ ڈاؤن کر دیا

رہی بات ایف-16 کی تو ایف سولہ نے انڈیا کے خلاف کسی جنگ میں ابھی تک حصہ نہیں لیا جناب سوائے جون7 سن 2002 کوایک بغیر پائلٹ کے انڈین سرچر نامی اسرائیل کے بنے جاسوس جہاز کو پاکستانی پائلٹ سکوڈرن لیڈر زاولفقار کے ایف-16 نے اے آئی ایم -9 میزائیل سے پاکستان کے اندر ہی لاہور کے نزدیک مار گرایا تھا ۔ پاکستانی ایف سولہ نے سوویت یونین اور افغان ائیر فورس کے ایس یو اور میگ جہازوں کے خلاف کومبٹ میں حصہ لیا تھا 80 کی دہائی میں ۔
 

محمد امین

لائبریرین
بہت خوب عمران بھائی۔۔۔۔۔ زبردست۔۔۔ مگر مجھے ذاتی طور پر جے ایف 17 کا ڈیزائن پسند نہیں۔۔۔ ایف 16 کی حقیقی نقل تو جے 10 ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کو جے 10 بنانا چاہیے اب۔۔۔
 

عسکری

معطل
بہت خوب عمران بھائی۔۔۔ ۔۔ زبردست۔۔۔ مگر مجھے ذاتی طور پر جے ایف 17 کا ڈیزائن پسند نہیں۔۔۔ ایف 16 کی حقیقی نقل تو جے 10 ہے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ پاکستان کو جے 10 بنانا چاہیے اب۔۔۔
ایک بات ہمیشہ یاد رہے جنگ میں ہتھیاروں کی لک یا خوبصورتی نہیں کیپیبلٹی کام آتی ہے ۔ ہم نے کوئی پبلک کی سواری نہیں بنائی :ROFLMAO:

کبھی ٹیپولیو کے جہاز دیکھے ہیں ٹیپولیف-95 دیکھنے میں کراہت ہوتی ہو گی پر وہ اسٹریٹیجک جہاز ہے جس کے پورا یورپ اور امریکہ بھاگتا تھا
یہ دیکھیں اسٹریٹیجک بمبار اور میزائیل کیریر ٹی یو-95
Tupolev_Tu-95_Marina.jpg
جے-10 کوئی مشترکہ پرجیکٹ تھا ہی نہیں اگر ہم بنا بھی لیتے تو ہمارے پاس اس کی آر اینڈ ڈی ریسرچ اینڈ ڈیولیپمنٹ کا تجربہ نا ہوتا پھر ہمارے کس کام کا؟ جے-10 بہترین جہاز ہے پر خود سے شراکت کے ساتھ تو بنا نا ہوتا نا یار ۔ فرق ہے اسطرح تو ہم کوئی بھی بنا لیں جو کسی اور نے پہلے سے بنا رکھا ہو ۔ جے -ایف-17 پیارا تو ہے یار :D
 

محمد امین

لائبریرین
ایک بات ہمیشہ یاد رہے جنگ میں ہتھیاروں کی لک یا خوبصورتی نہیں کیپیبلٹی کام آتی ہے ۔ ہم نے کوئی پبلک کی سواری نہیں بنائی :ROFLMAO:

کبھی ٹیپولیو کے جہاز دیکھے ہیں ٹیپولیف-95 دیکھنے میں کراہت ہوتی ہو گی پر وہ اسٹریٹیجک جہاز ہے جس کے پورا یورپ اور امریکہ بھاگتا تھا
یہ دیکھیں اسٹریٹیجک بمبار اور میزائیل کیریر ٹی یو-95
جے-10 کوئی مشترکہ پرجیکٹ تھا ہی نہیں اگر ہم بنا بھی لیتے تو ہمارے پاس اس کی آر اینڈ ڈی ریسرچ اینڈ ڈیولیپمنٹ کا تجربہ نا ہوتا پھر ہمارے کس کام کا؟ جے-10 بہترین جہاز ہے پر خود سے شراکت کے ساتھ تو بنا نا ہوتا نا یار ۔ فرق ہے اسطرح تو ہم کوئی بھی بنا لیں جو کسی اور نے پہلے سے بنا رکھا ہو ۔ جے -ایف-17 پیارا تو ہے یار :D

بالکل صحیح کہہ رہے ہیں مگر ایف 16 بہت ہی خوبصورت جہاز ہے۔۔۔ اتنا کہ اکثر اسکی تصاویر دیکھ کر میرا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے :ROFLMAO::giggle:
 

عسکری

معطل
بالکل صحیح کہہ رہے ہیں مگر ایف 16 بہت ہی خوبصورت جہاز ہے۔۔۔ اتنا کہ اکثر اسکی تصاویر دیکھ کر میرا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے :ROFLMAO::giggle:
یہ کیا بات ہے بھئی ایف سولہ نا ہوا کوئی حسینہ ہو گئی مشینوں سے اتنا پیار کہیں ٹرانسفارمرز فلم تو نہیں دیکھ بیٹھا میرا بھائی :D
 

علی خان

محفلین
عمران صاحب اپکی معلومات کی داد دینی پڑتی ہے۔ بہت ہی خوبصورتی اور بہترین الفاظ میں اپ ہر ایک پوسٹ میں ان جنگی جہازوں اور ہتھیاروں کی وضاحت کر رہیں۔ میری پاس شکریہ کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ پھر بھی ان تمام معلومات کے لئے بہت بہت شکریہ قبول کیجئے۔ :bighug:
 

وجی

لائبریرین
عمران صاحب بہت خوب جارہے ہیں کیا بات ہے ۔
امید کرتا ہوں آپ 7 سے 11 نومبر کو کراچی میں ہونے والی آئیڈیاز 2012 کی خبر تو ہوگی۔
آپ آئیڈیاز 2012 کو دیکھنے آئینگے کراچی
 

عسکری

معطل
میسٹرال -Mistral missile

یہ ایک مین پیڈ انفریڈ میزائیل ہے جو فرانس کی کمپنی ایم بی ڈی اے نے تیار کیا ہے اس پر کام تو 1974 میں شروع ہوا پر یہ 1988 میں پہلی بار مارکیٹ میں آیا اس وقت اسے میسٹرال ایس-1 کہا جاتا تھا اس کا نیا ماڈل میسٹرال ایم-2 نوے کی دھائی کے اینڈ میں بنا ۔یہ 1 شاریہ 85 میٹر لمبا ہوتا ہے اور اے کے راکٹ کی اینج ساڈھے 5 کلو میٹر تک ہے ۔ اسے VLLAD بھی کہا جاتا ہے یعینی ویری لو لیول ائیر ڈیفینسمیزائیل ۔ یہ پہت ہی ہائی سپیڈ میزائیل ہے جو میگ-2 اشاریہ 6 کی سپیڈ سے اپنی راکٹ موٹر کی مدد سے پرواز کرتا ہے ۔ یہ ایک سیکنڈ میں 880 میٹر طے کرتا ہے ۔ اسی کی ایک خاصیت اسے بحری جہازوں ہیلی کاپٹروں پر بھی نصب کیا جا سکتا ہے ۔ ہیلی کاپٹر کے خلاف تو میسٹرال پن پوائنٹ
مانا جاتا ہے ۔اسے ایک آدمی آپریٹ کر سکتا ہے پر لوڈنگ اور ٹارگٹ پر نظر رکھنے کے لیے 2 اور بھی ساتھ ہوتے ہیں ۔اب تک کیے گئے تجربوں میں اس کی کامیابی کی شرح 94 سے 96 فیصد رہی ہے جو کہ تسلی بخش ہے ۔ اب تک 12000 سے زائد یہ میزائیل بنائے جا چکے ہیں۔

پاکستان نیوی نے میسترال کو نوے کے اینڈ میں ایم-2 بلوک اپنے نیول میرینز یونٹ کے لیے خریدا تھا اس میزائیل کو آپریٹ کرنے کی ٹریننگ Surface Weapons School پاکستان میںکراچی 4 ہفتوں میں دی جاتی ہے پاس ہونے والوں کو مزید ٹریننگ میزائیل یونٹ دیتا ہے ۔پاکستان نیوی کی میرین کور کے پہلی میرین بٹالین اسے سر کریک میں استمال کرتی ہے ۔ پاکتان نیوی نے کبھی یہ ضرورت محسوس نہیں کہ کہ اس میزائیل کے نمبرز اوپن کیے جائیں اس لیے یہ ابھی تک نا معلوم تعداد ہی گنا جاتا ہے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان ائیر فورس کے ائیر ڈیفنس سکوڈرن بھی اسے استمال کرتے ہیں پر ابھی تک اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔ 27 دسمبر 2010 کو اس کے تجربات کئے گئے تھے


پاکستانی میرین میزائیل یونٹ
FT0016824.jpg



نیول چیف میزائیل تجربے سے پہلے میرینز کے ساتھ
215c567f39b36dbe1c13136e3f9911e4.jpg


تجربے کے دوران
5e8e016deb9d3f923f335c7b0c84f84d.jpg


رٹی رٹائی خبریں پی ٹی وی کی میسٹرال تجربے کر دوران سائنس دان بھی موجود تھے :laugh: کونسے سائنس دان میزائیل تو سالون پہلے فرانس میں بنا تھا اور میزائلوں کی شمولیت 10 سال پہلے ہوئی تھی:laughing:
یہ تھوڑی اچھی ہے
سسٹم
m12007092500001.jpg
 

مہ جبین

محفلین
ماشاءاللہ
بہت زبردست معلومات ہیں Pakistani

اس ملک کو ایسے ہی محبِ وطن اور مخلص فوجیوں کی ضرورت ہے

اللہ تمہارے علم ، عمل اور عمر میں بہت برکتیں عطا فرمائے آمین
 
Top