ہتھیار - weapons

نایاب

لائبریرین
AirForces%2BMonthly%2BJF-17%2BThunder%2B%2BFC-1%2BXiaolong%2BSD-10%25252C%2BMICA%2BLS-6%2BC-802%2BAESA.jpg
محترم بھائی اس تصویر میں جوان اک مخصوص ترتیب سے بیٹھے ہیں ۔
کیا یہ ترتیب کوئی خاص علامت ہے ۔ ؟
 

عسکری

معطل
محترم بھائی اس تصویر میں جوان اک مخصوص ترتیب سے بیٹھے ہیں ۔
کیا یہ ترتیب کوئی خاص علامت ہے ۔ ؟
جی یہ لکھا ہے JF-17 غور سے دیکھیں

اس طرح کی فارمیشن بنا کر جہازوں کو اڑایا بھی جاتا ۔جس میں پائلٹس کی مہارت منہ بولتی ہے

یہ 1955 میں پاکستانی ایروبیٹک ٹیم کے ہارورڈ جہازوں نے پاکستان کا پرچم بنایا تھا ہوا میں
harvards_dis.jpg



جدید دور میں پاکستانی ایف-16 نے پی اے ایف لکھا ہے جہازوں سے
paffalcons-wallpapers28.jpg
 

mfdarvesh

محفلین
عمران بہت ہی زبردست دھاگہ بنایا ہے۔

جی تھری رائفل اب بہت کم رہ گئی ہے۔ اس کی جگہ اب چین کی بنی ہوئی 62۔7 رائفل نے لے لی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ چھوٹے ہتھیاروں میں جن میں رائفل، سب مشین گن اور مشین گن، تینوں میں 62۔7 ملم کے راؤنڈ فائر ہوتے ہیں۔ بلکہ اب تو میں نے پاکستانی پولیس کے پاس بھی یہ سیمی آٹومیٹک رائفل دیکھی ہے۔

یہاں اسلام آباد پولیس کے پا س تو اے کے 47 اور ایم پی فائیو ہی نظر آتی ہیں
جی تھری ملٹری گن ہے یہ پولیس کے پاس نہیں ہے، پولیس کے پاس تو ایس کے ایس روسی گن بھی ہے
 

محمد امین

لائبریرین
یہاں اسلام آباد پولیس کے پا س تو اے کے 47 اور ایم پی فائیو ہی نظر آتی ہیں
جی تھری ملٹری گن ہے یہ پولیس کے پاس نہیں ہے، پولیس کے پاس تو ایس کے ایس روسی گن بھی ہے

اسلام آباد کے علاوہ باقی ملک میں زیادہ تر اے کے 47 (چائنیز نورنکو ٹائپ 56) ہیں یا پھر جی تھری۔ بہت کم تعداد میں ایم پی فائیو بھی ہیں۔ ایس کے ایس جنگِ عظیم دؤم کی گن ہے اور بہت کم تعداد میں رہ گئی ہے۔۔۔
 

عسکری

معطل
یہاں اسلام آباد پولیس کے پا س تو اے کے 47 اور ایم پی فائیو ہی نظر آتی ہیں
جی تھری ملٹری گن ہے یہ پولیس کے پاس نہیں ہے، پولیس کے پاس تو ایس کے ایس روسی گن بھی ہے
چھوٹے شہروں میں پولیس کے پاس جی تھری بہت ہے اور اچھا کام کر رہی ہے ۔ پولیس مقابلے میں یہ فٹ کام کرتی ہے دور مار کے لیے ۔اسلام آباد تو کیپیٹل پولیس ہے بادشاہو:mrgreen:
PAKISTAN_-_agenti_polizia_ok.jpg


Pakistani-police-stand-gu-001.jpg



Pakistanipolice.jpg



ایلیٹ فورس بھی استمال کرتی ہے
pakistan-cricketers-attack-2009-3-3-14-36-52.jpg


int02.jpg
 

عسکری

معطل
ساب-2000 اواکس یا Saab 2000 Awacs

اواکس مخفف ہے ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول کا ۔ راڈار زمین پر تھے تو محدود کام موبلائزیشن اور رینج تھی پر جدید جنگی ٹیکنالوجی نے راڈار کو جہاز پر لگا کر ہوا میں اڑا دیا ہے ۔سب سے پہلے ہم ساب کو 2 حصوں میں تقسیم کر کے دیکھیں گے پہلا پلیٹ فارم اور دورا اری آئی مطلب اس کا راڈار ۔اسے ساب-2000 ارے آئی بھی کہا جاتا ہے ۔

پلیٹ فارم وہ جہاز ہے جس پر راڈار فٹ کیا جاتا ہے ۔ جیسے امریکی ای-2 سانٹری کو بوینغ 707 پر فٹ کیا گیا ہے ترکی نے ارے آئی کو بوینغ737 پر اور چین نے کے جے-2000 کو آئی ایل 76 جہازوں پر فٹ کیا ہے ۔
پلیٹ فارم کوئی بھی ہو سکتا ہے جو موزوں ہو راڈار فٹ کر نے کے لیئے ۔ پاکستان نے ساب-2000 جہاز کو چنا جو کہ رینجنل ائیر لائنر ہے اور یہ ٹربو پراپ انجن سے چلتا ہے ۔ اس کو زیادہ دیر فضا میں رکھا جا سکتا ہے اور اس کو آپریشنل کوسٹ بھی کم ہے ۔یہ آسان ہے اور اس پر پابندیوں کا خطرہ نہیں ۔ سویڈن کی کمپنی ساب سے یہ جہاز خریدنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ارے آئی بھی سویڈن کا تھا اس طرح پاکستان ان مشکلوں سے بچ گیا جس میں بھارت یا دوسرے پھنسے ۔ روسی جہاز آئی ایل-76 پر اسرائیلی فالکون راڈار نصب کرنے میں کئی دقتیں ہوئی اور ڈیل بہت لیٹ ہوئی تھی ۔پاکستان نے ایک ہی ملک کا سسٹم چنا ۔

ساب کمپنی کے یہ جہاز 665 کلومیٹر کی سپیڈ سے چلتا ہے اور یہ اسے دو پائلٹ اڑاتے ہیں ۔ویسے یہ 59 سورایوں والا جہاز ہے پر اواکس فٹ کر کے اس میں سے سیٹیں نکال دی جاتی ہیں اور اسے کنٹرول روم بنا دیا جاتا ہے ۔ یہ 90 فٹ لمبا جہاز ہے اور اس کا وزن خالی 14 ٹن کے قریب ہوتا ہے ۔
یہ 31 ہزار فٹ کی بلندی تک جا سکتا ہے اور اب تک 60 سے زیادہ یہ جہاز بنائے جا چکے ہیں ۔

اب آتے ہیں ارے آئی پر یہ ایک راڈار سسٹم ہے جو 300 ڈگری کور دیتا ہے اور ساب کا پروجیکٹ ہے جو 10 سا زیادہ ملک استمال کرتے ہین پر ہر ملک کا پلیٹ فارم مختلف ہے ۔پاکستان اس کا لیٹیسٹ کسٹمر ہے ۔اس کا راڈار AESA اے ای ایس اے صلاحیت کا حامل ہے یعینی کہ active phased array radar ہے ۔ جس میں سٹیلتھ ٹراسمیشن کیپیبلٹی اور جدید ترین جامننگ اینٹی جامنگ صلاحیت ہوتی ہے جو زمین سطح سمندر پر مختلف موڈز مین کام کر سکتا ہے اور اس میں ڈیٹا لنک 16 کی کیپبیلٹی ہے جو یورپین اور امریکن جہازوں اور شپس کو اس سے کنکٹ کر سکتی ہے ۔ جیسے پاکستان کے ایف سولہ اس سے منسلک ہیں ڈیٹا لنک 16 سے ۔اسی طرح یہ لنک 16 کے حامل میزائیلوں کو بھی ڈیٹا ٹرانسفر کر سکتا ہے ۔ اس پر دوسرے درجنوں ایوینکس سسٹم نصب ہیں جو کہ ایک ہی پوسٹ مین بتائے نہیں جا سکتے ۔ یہ موٹی باتیں ہیں جو بتائی جا سکتی ہیں ۔ اس کے راڈار کی رینج 350 سے 450 کلو میٹر ہے ۔ اور یہ 65 ہزار فٹ کی بلندی تک کے ٹارگٹ دیکھ سکتا ہے ۔ یہ نا صرف آنے والے میزائیل جہاز ہیلی کاپٹر اور سب میریینز کے بارے مین بتاتا ہے بلکہ ان کی ڈیتیل جیسے ٹائپ سپیڈ اور دوسری معلومات بھی دیات ہے ۔ اس کے آپریٹر ایک ہی جہاز سے 800 کلومیٹر کےسرکل میں ہونے والی ہر ایکٹیوٹی پر نظر رکھ سکتے ہیں اور گھنٹوں تک یہ فٖضا میں رہ سکتا ہے ۔ نا صرف اپنے جہازوں کو دور تک کا ڈیٹا مہیا کرتا ہے بلکہ دشمن کے آنے والے جہازوں میزائیلوں ہیلی کاپٹروں کو تفاصیل مہیا کرتا ہے ائیر ہید کورٹر کو ۔راڈار گیپس کو ختم کرتا ہے اور دشمن کے علاقے میں دور سندر نظر رکھتا ہے


پاکستان نے مجبورا اس صلاحیت کے حامل مہنگے جہازوں کا سودا کیا ۔ انڈیا نے جب فالکون ڈیل کی تو پاکستان کے پاس سوائے اس کے ۔ جون 2003 مین امریکہ اور اسرائیل کے بنے فالکون اواکس کا سودا اسرائیل اور انڈیا کے درمیان طئے ہو جو کہ روسی جہازوں پر فٹ ہوتا تھا ۔ ادھر امریکہ نے گرین سگنل دیا اور ادھر پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجی ۔ پاکستان نے سوچ سمجھ کو کوسٹ ایفیکٹیو سسٹم چنا جو فالکون سے زیادہ رینج کا ہو اور پاکستانی فرنٹ لائن جہازوں سے کنکٹ ہو ۔ فضا پر نظر رکھے اسطرح سی اے پی مشن کا خرچہ کم سے کم ہو جائے گا اور یہ لو کوسٹ سسٹم ہی تمام 20-30 سی اے پی جنگی جہازوں کی بجائے فٖضا پر نظر رکھ سکتا ہے ۔2005 میں پاکستان اور سویڈن کے مزاکرات شروع ہوئے اور پاکستان نے امریکہ کے ساتھ کی گئی ای-2 سانٹری اواکس جہازوں کی ڈیل کینسل کر کے جون 2006 میں سویڈن کو گرین سگنل دے دیا ۔ اصل میں چھے اواکس اور ایک ٹریننگ کے لیئے ساب-2000 ڈیل تھی جو کہ بعد میں کم کر کے 4 اواکس اور ایک ساب کر دی گئی ۔ ڈیل ایک ارب 350 ملین ڈالر کی تھی جسے 3 سال میں پورا کرنا تھا او میں پاکستان کے اندر بیس بنانا ٹریننگ پارٹس ٹیکنیکل ٹریننگ اور سپورٹ شامل تھی ۔ ڈیل کم کرنے کی وجہ ائیر فورس نے چائنا کے بنے دوسرے اواکس ZDK-03 خرید لیئے جو کہ آنے والے نئے جہازوں جے ایف -17 جے10 اور جے 20 کے ساتھ کام کرتا اور اس کی رینج ساب سے زیادہ ہے ۔
پاکستان کو پہلا ٹریننگ موڈ میں سیٹ کیا ہوا ساب -2000 دسمبر 2008 میں مل گیا تھا جس پر کریو نے دن رات ٹریننگ شروع کر دی ۔ جسے جے019 نمبر دیا گیا ہے۔ ساب-2000 کے لیئے نیا سکوڈرن بنایا گیا ہے جسے نمبر-13 سکوڈرن کہتے ہیں
جے-019 ساب-2000 کوئٹہ سے ٹریننگ ہرواز کرتے ہوئے
Pakistan_Air_Force_Saab_2000_Asuspine.jpg


8 دسمبر 2009 کو پاکستان کو پہلا اواکس مل گیا
saab2000-55-large.jpg



دوسرا اپریل 2010 میں پاکستان کو ملا
6388962445_7744bf2992_z.jpg


تیسرا آخر 2010 میں اور چوتھا شروع 2011 مین پاکستنا کو مل گئے جنہیں کامرہ ائیر بیس پر بیسڈ کر کے نیا سکوڈرن بنایا گیا
saab-2000-a-ewc.jpg


pakistan-saab-2000.jpg



پاکسانی ساب-2000 سیلف پروٹیکشن سسٹم چیک کے دوران فلیر چھوڑتے ہوئے

onebigphoto.PNG


کاک پٹ
EMB145_01.jpg


جہاز کے اندر کے مناظر ٹیسٹنگ کے دوران
erieye20001ni.jpg

بیک وقت اڑتے تین پاکستانی ساب-2000 اوکس کی کور پاکستانی نقشے کی مدد سے

Untitled-3.jpg


ساب-2000 پر تعینات عملے کا بیج
SAAB2000.jpg


یہ ویڈیو ہے جو سسٹم کا مکمل تعارف کراتی ہے میں نے شاید پہلے بھی پوسٹ کی تھی
 

عسکری

معطل
عنزہ میزائیل - Anza missile


کے آر ایل پاکستان کی کنوینشنل ویپنز فیکٹری کے بنے یہ میزائیل مین پیڈ سام یا کنھے سے فائر کیا جانے والا اینٹی ائیر کرافٹ میزائیل کہا جاتا ہے ۔ پاکستان کے پاس حالانکہ بہت قسم کے مین پیڈ تھے پر اسی کی دھائی کے وسط میں عنزہ پروجیکٹ یہ سوچ کر کیا گیا کہ ایک ماسس میزائیل ہو جو ہے یونٹ ہر جگہ ہر بارڈر پوسٹ ہو جو پاکستان کا بنا ہو اور ہزاروں کی تعداد میں بنا کر افواج کو لیس دیا جائے ۔ 1990 میں پہلی بار عنزہ مارک 1 پاکستانی افواج میں متاعارف کرایا گیا یہ میزائیل انفرایڈ ھومنگ میزائیل ہے مارک-1 کے 1000 میزائیل افواج میں شامل کرنے کے بعد اس سے جدید مارک2 پر کام شروع ہوا اور 1994 میں پاکستانی افواج کا مارک2 ملنا شروع ہو گئے جو کہ 1500 سے زائد دیے گئے اور ایک بار پھر میزائیل تھریٹ اور جدید گائڈنس سسٹم کی ضرورت کی وجہ سے مارک-3 بنانا پڑا جو کہ 2006 سے بنایا جا رہا اور اب تک نامعلوم نمبرز میں بنایا جا چکا ہے ۔ اسی دوران پاکستان نے ملائیشیا کی فوج کو 100 عنزہ مارک-1 اور 500 عنزہ مارک-2 فروخت کیے جو کہ اب ملائشیا کی افواج کے ہر یونٹ کا حصہ ہے اور پروجیکٹ کی لاگت بھی اس سودے سے وصول ہو گئی ہے ۔

عنزہ 300 میٹر سے لے کر 5 کلو میٹر تک آنے والی ہر چیز کو ہٹ کر سکتا ہے ۔ ااس کا وزن 16 کلو ہوتا ہے اور یہ 600 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتا ہے ۔اسے اے پی سی پر بھی فٹ کیا گیا ہے اور یہ 10 میٹر اونچائی کے ہرف کو لو لیول پر نشانہ بنا سکتا ہے ۔ جہاز ہیلی کاپٹر کی آواز سننے کے بعد میزائیل پوزیشن پر لایا جاتا اور جہاز کو لاک کرنا ہوتا ہے عنزہ کی بیٹری صرف 90 سیکنڈ کے لیے کام کرتی ہے اور گنر کو ان 90 سیکنڈ میں ہدف کو لاک کر کے میزائیل چھوڑنا ہوتا ہے میزائیل راکٹ بوسٹر کی مدد سے لانچر سے نکلتا ہے اور ایک سیکنڈ میں ہی راکٹ بوسٹر میزائیل سے جدا ہو جاتا ہے اور میزائیل کا اپنا انجن کام کرنا شرو کر دیتا ہے ۔ جہاز کی گرمی کو ٹریک کرتا ہوا اس کے انجن کو نشانہ بناتا ہے ۔
کارگل میں انڈین ائیر فورس کے تباہ ہونے والے تینوں آبجیکٹ عنزہ کا ہی کام تھا۔
27 مئی 1999 کو کارگل جنگ کے دوران انڈین ائیر فورس کے سکوڈرن 17 کا ایک مگ-21 جب پاکستانی علاقے میں داخل ہونے کے بعد بمباری کرنے لگا تھا تو پوسٹ پر موجود جوانوں نے عنزہ میزائیل فائر کے اسے گرا دیا تھا اس کا پائلٹ سکوڈرن لیڈر اجے اھوجا تھا جو موقع پر ہی ہلاک ہو گیا ۔اسی جہاز کو کور دینے والا دوسرا مگ-27 سکوڈرن 9 سے تھاجس نے عنزہ فائر ہونے والی پوزیشن پر فائرنگ کرنے کی کوشش کی اسے بھی دوسرے عنزہ سے مار گرایا گیا اور اس کے پائلٹ فلائٹ لیفٹینٹ ناچی کیتا کو زمین پر اترتے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور جنگی قیدی بنا لیا تھا ۔ اس کی انٹروگیشن اور زمہ داری مشہور پاکستانی آفیسر قیصر طفیل نے کی جو اس وقت ڈائریکٹر آف آپریشنز تھے ۔ پائلٹ کو بھارت نے لینے سے انکار کیا تو پاکستان نے 3 جون کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا تھا دوسرے دن انڈین آرمی کو نا جانے کیا دل میں سمائی انہیوں نے انڈین فلم کی طرح ایک بار پھر سار مشن پر ایک ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر بھیج دیا جسے پاکستان کراس کرتے ہی ایک اور عنزہ نے مار گرایا اس میں سوار چاروں آفیسرز - پائلٹ اور جوان میزائیل لگتے ہی ہلاک ہو گئے تھے سرجیت راج کشور فلائٹ انجینر 152 ہیل کاپٹر یونٹ -سارجنٹ پی وی این آر پرساد فلائٹ گنر 152 ہیلی کاپٹر یونٹ -فلائٹ لیفتینینٹ سوبرامین ملاحان فرسٹ پائلٹ - سواڈرن لیڈر راجیو پندر پائلٹ 152 ہیلی کاپٹر یونٹ -اس ایم آئی 17 میں سوار تھے جن کی لاشوں کو بعد میں انڈیا کے حوالے کر دیا گیا ۔ ایم ائی کو بھیجنا ایک طرح سے فیلڈ کمانڈر کی مکمل نا اہلی کو ثابت کرتی ہے ۔سنا ہے اس کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کی گئی تھی ۔یہ سب عنزہ مار-2 کا نشانہ بنے تھے اس طرح پھر جنگ میں کسی بھارتی طیارے یا ہیلی کاپٹر نے نو فلائی زون کے قریب آنے کی کوشش نہیں کی ۔


ANZA_MK_2.JPG



ANZA%202.JPG


Anza_Mk-II.JPG


راکٹ بوسٹر میزائیل سے علیحدہ ہو چکا ہے اس تصویر میں
1351c6c20dc9a359d297dbfcc05146f5.jpg


میزائیل اپنے انجن پر جاتے ہوئے
8ec7a08535e2481b4d5d63d9ccea7aec1.jpg


anza-fpok.jpg

ملائشیا آرمی کو جوان عنزہ کے ساتھ
10brigedparado8.jpg


481312_422534554435892_100000380522785_1376247_322624765_n.jpg


پاکستانی جوان بھارتی مگ-21 کی ٹیل کو اٹھا کر لے جاتے ہوئے
mig21_feb5.jpg


mig21m-1539-2.jpg

ناچی کیتا گرفتار ہو کر سکردو ائیر بیس پر
images



عنزہ سے ہلاک ہونے والے افراد

مگ-21 کا پائلٹ اجئ اھوھا
99-Ahuja.jpg


ایم آئی 17 کا عملہ
راجیو
99-Pundir.jpg

سوبرمیان
99-Muhilan2.jpg


پہ وی این پرساد
99-SgtPrasad.jpg

راج کشور
99-Sahu.jpg
 

عسکری

معطل
اے پی سی طلحہ - APC Talha

طلحہ پاکستان کی بنی ہوئی آرمرڈ پرسنل کیریر ہے ۔ اس پر کام آخر 90 کی دھائی میں شروع ہوا تھا اور 2002 کو پہلی طلحہ بنی تھی ۔ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسیلہ کی بنی طلحہ ایم113 سے سیکھے گئے تجربے کا نچوڑ تھی یہ ایم113 سے بڑی ہے اور اس سے زیادہ فوجی لے جا سکتی ہے ۔ امریکہ نے پاکستان کو ایم-113 بنانے کی جو ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی تھی اس کو بنیاد بنا کر پاکستان نے مستقبل کے لیے ٹریکڈ اے پی سیز کا مسئلہ خرید ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا بلکہ ان کو بنا کر بیچنا شروع کر دیا۔ پاکستانی انجینیریوں سائنس دانوں اور کی ڈیزائین کی گئی طلحہ پاکستان آرمی میں اس وقت سب سے زیادہ تعداد میں استمال ہونے والی اے پی سی ہے ۔ 2010 تک 2000 طلحہ بنائی جا چکی تھی ۔

امریکی پابندیوں کے بعد پاکستان کے لیے نا ممکن ہو چکا تھا کہ ایم-113 کی پروڈکشن جاری رکھ سکیں اسی وقت پاکستان نے فیصلہ کیا اپنی اے پی سیز کی سریز بنانے کا جو ہر طرح کی ہو طلحہ ان میں پہلی تھی ۔بعد میں حمزہ -معاذ- سکب -الحدید -الٖقصوی- سعد بھی بنائی گئی جو کہ مختلف قسم کی ہیں اور ان کا زکر بعد میں کیا جائے گا۔ سعد ایک کامیاب پروگرام تھا اور ہے ۔

اس کا وزن 12 ٹن ہے اور یہ 13 فوجی لے جا سکتی ہے اس کے ری ایکٹیو آرمرز ہیں ایلومینوم کے بنے ہوئے اور یہ 600 کلو میٹر تک جا سکتی ہے بغیر ریفیلولنگ کے ۔ اس کی سپیڈ 40 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے ۔ اس پر سیلف پروٹیکشن کے لیے 12 اشاریہ 7 ملی کی ہیوی مشین گن بھی نصب ہے ۔یہ پانی پر تیر بھی سکتی ہے ۔ اور ہر قسم کی رکاوٹوں کو عبور کرتی جاتی ہے ۔پاکستان نے اسے 2004 سے 2006 کے دوران 50 طلحہ عراق کو فروخت کر کے زر مبادلہ بھی کمایا ہے ۔
APC_Talha1.jpg


talha01.jpg


altalha.jpg


کراچی آئیڈیاز کی کے دوران لی گئی تصویر
img_7_12892_9


عراقی فوج کی طلحہ
Al-Talha_-_Iraq.jpg


Talha.jpg
 

عسکری

معطل
پیوما - سپر پیوما ہیلی کاپٹر -- SA 330 Puma

فرانس کی کمپنی سڈ ایوی ایشن کا بنا ہوا ہیلی ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر ہے ۔ یہ 1970 کے شروع میں متعارف ہوا اور جلد ہی کامیابی حاصل کر لی ۔ اس کو مظبوطی اور اس کے آرمرز کی وجہ سے بھی شہرت ملی ۔ پیوما ملٹی رول ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر ہے اور اس کو 30 سے زیادہ ممالک نے خریدا ۔ اس کو تین آفیسرز آپریٹ کرتے ہین اور 16 مزید اس پر سوار ہو سکتے ہیں ۔یہ 3 ٹن تک وزن اٹھا سکتا ہے اور اس کی لمبائی 18 میٹر ہے اس کو ہر موسم میں استمال کیا جاتا ہے پاکستان نے پیوما سے ہی سیاچن کا چمک آپریشن دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر سلنگ سے فوجی اتار کر مکمل کیا تھا ۔یہ 270 کلو میٹر کی سپید سے چلتا ہے اور 600 کلومیٹر تک اڑ سکتا ہے ۔اس کے اوپر گنز بھی نصب کی جاتی ہیں ۔

سوپر پیوما -Eurocopter AS332 Super Pum
یہ پیوما کا نیا ویرزن ہے دونوں میں بہت فرق ہے پر طاہری فرق صرف جاننے والے آدمی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ یورو کاپٹر کمپنی کا بنایا گیا ہیلی کاپٹر ہے جس میں پیوما سے جدید سسٹمز نصب ہیں۔ اس کا انجن پیوما سے پاور فل ہے اور اس میں 19 آدمی سفر کر سکتے ہیں یہ پیوما سے بڑا ہے ۔اس کے پانے بھی دو ماڈل ہیں ایل1 اور ایل-2 جن مین خود بھی فرق ہے ایل 2 مزید بڑا ہےاور اس میں 24 آدمی سفر کر سکتے ہیں اور وہ مزید 1 ٹن زیادہ وزن اٹھا سکتا ہے ۔

ستر کی دھائی کے شروع میں پاکستان کو ایک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر کی تلاش تھی جو ملٹی رول ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر ہو ۔ پاکستان نے جلد ہی پیوما کو چ لیا اور 32 پیوما آرڈر کر دیے گئے ۔ ستر کے اینڈ تک پاکستان کو سارے پیوما مل چکے تھے جو کہ پاکستان ایوی ایشن کے فرنٹ لائن ہیلی کاپٹر رہے کئی سال تک ۔ پاکستان نے اسے ملٹی مشنز میں استمال کیا ۔ 2005 تک پیوما چیف آف سروس کا ہیلی کاپٹر بھی رہا جو کہ سپیشل سیٹ اپ تھا اور اسے ائیر کنڈیشنر بنایا گیا تھا ۔
پاکستان نے 2000 کے بعد اپنے پیوماز کو اپگریڈ کرایا اور امارات کی جانب نے سوپر پیوماز کو بھی اپ گریڈ کر کے سروس میں انڈکٹ کر لیا گیا اسوقت کم و بیش 60 پیوما پاکستان آرمی کے بیرے میں شامل ہیں ۔جو کہ یو این او مشنز میں بھی حصہ لیتے ہیں ۔ حال ہی میں پیوما کو سوڈان بھیجا ہے ۔


چیف آف سٹاف کا پیوما جنرل مشرف اترتے ہوئے
PA_puma_4.jpg


پیوما
01062007507.jpg


Pakistani%252BARmy%252BAviation%252BPuma.jpg


سلنگ سے لٹکے جوان پاکستان ڈے پریڈ میں
262100414_25869ab586_z.jpg

pakistan_army_puma.jpg


U7V9266.jpg

ملتان ایوی ایشن بیس پر کھٹے پیوماز
pakistani-armys-puma-transport-helicopters.jpg

فلڈ ریلیف آپریشن میں

puma1i.jpg

puma1i.jpg
puma2y.jpg


پاکستانی سوپر پیوما
Pakistan%2BArmy%252527s%2BSA%2B330%2BPuma%2BHelicopter%2B%2525283%252529.jpg


Pakistan%2BArmy%252527s%2BSA%2B330%2BPuma%2BHelicopter%2B%2525284%252529.jpg


Pakistan%2BArmy%252527s%2BSA%2B330%2BPuma%2BHelicopter%2B%2525282%252529.jpg

یو این مشن پر پاکستانی پیوما
Pak%2BAviation-1%2BContingent%2Bcomprising%2Bthree%2BPuma%2Bhelicopters%2Barrived%2Bat%2BKAVUMU%2BAir%2BTerminal%25252C%2BBukavu%25252C%2BCongo.%2BThe%2Bhelicopters%2Bhad%2Binitially%2Barrived%2Bin%2BEntebbe%25252C%2BUganda.jpg



ArmyHelicopter.jpg
 

عسکری

معطل
طارق کلاس فریگیٹس - Type 21 frigate یا ایمیزون کلاس


طارق کلاس ٹائپ-21 فریگیٹس برطانیہ کی بنی ہوئی فریگیٹس ہیں اور یہ پاکستانی نیوی کے سرفس یونٹس میں سب سے زیادہ تعداد میں استمال ہونے والی فریگیٹس ہیں یہ 6 عدد پاکستنای نیوی کے سرفس فلیٹ کا بہت بڑا حصہ ہیں ۔ ان کے نام بابر-شاجہاں-طارق -خیبر-بدر -ٹیپو سلطان ہیں ۔ سب کی کونفگریشن دوسری سے مختلف ہے اور سب کا رول بھی دوسری سے مختلف ہے درمیانی مدت کی لائف میں یہ فرگیٹس پاکستانی نیوی میں 1993 -1994 مین پاکستنا نیوی میں شامل ہوئے ۔ ان کو بھی مجبورا خریدنا پڑا تھا جب امریکہ نے پابندیوں کے بعد گائڈڈ میزائیل فریگیٹس گلارشیا کلاس کی لیز کو یک طرفہ ختم کر کے واپس لے لیا تھا۔پاکستان نیوی کے سرفس فلیٹ مین اس کا اضافہ گلارشیا کلاس کا دیا ہوا گیپ پورا کر گئی یہ قریب قریب destroyers ہیں پاکستان نیوی کے ۔ان کا وزن 3300 ٹن ہے اور یہ 384 فٹ لمبی ہیں ۔ان مین 50 ہزار ہارس پاور کے رولس رائس کمپنی کے بنے انجن نصب ہیں۔ان کی رینج 8 ہزار کلو میٹر ہے اور یہ 180 آفیسرز اور سیلرز کا عملہ رکھتی ہیں ۔ کچھ ان میں سے 200 سیلرز اور 13 آفیسرز بھی رکھتی ہین جن پر دوسری کنفگریشن کے ہتھیار نصب ہیں۔ان کی مین گن 114 ملم ہے جو 21 کلو میٹر تک مار کرتی ہے ۔پاور فل سیوس CIWS نصب ہے جو آنے والے میزائیلوں اور بموں کو 3000 راؤنڈ فی منٹ سے فائر کے روکتی ہے ۔ان پر ہارپون میزائیل نصب ہیں جن کو آپ پہلے پڑھ چکے ہیں یہ میزائیل 125 کلو میٹر دور تک جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔چائنا کے بنے اینٹی ائیر کرافٹ میزائیل بھی پاکستان نے نصب کیے جو 60 کلو میٹر کے اندر آنے والے ہوئی جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ اس پر تورپیڈو ٹیوبز بھی نصب ہیں جو کہ آنے والی سب میریینز اور جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔اس کے اپنے لینکس ہیلی کاپٹر تھے پر پاکستان نے ساتھ میں 6 سی کنگ ہیلی کاپٹر بھی خریدے تھے جو ان پر رہتے ہین اور اینٹی شپ ایکزوسیٹ میزائیلوں سے لیس یہ ہیلی کاپٹر ان جہازوں سے اڑ کر دشمن کے جہازوں اور سب میریینز کو نشانہ بناتے ہیں ۔

پی این ایس بدر
type21_hs.jpg


پی این ایس شاہ جہاں
type21_above.jpg


پی این ایس طارق
type21_2006z.jpg


ایل وائی 60 میزائیل فائر کرتے ہوئے
n_ly60_firing.jpg


فلیر لانچر
ny_type21_subroc.jpg


پی این ایس ٹیپو سلطان

ny_type21.jpg


ny_type21_10.jpg


سیوس سسٹم
ny_type21_8.jpg



تورپیڈو سے لیس لینکس Lynx ہیلی کاپٹر پرواز کرتے ہوئے
n_lynx_flying.jpg

lynx_01.jpg
 

عسکری

معطل
Fawad -
دیکھو یہ Pakistani بغیر آپ کی اجازت کے ہی امریکی پابندیوں کا بلاوجہ ذکر کیے جا رہا ہے۔ :D :D :D
بلا وجہ ہے یہ ؟ 70 ٹائپ کے ہمارے ہتھیار روک دیے تھے سپورٹ سپیئیر پارٹس اور پگریڈیشن روک دی تھی اب جہاں جہاں ان ہتھیاروں کا زکر آئے گا لعنت لعنت تو ہو گی نا اور یہ واجب ہے کہ ہم پر کہ نا جاننے والے جانیں کیا ہوا تھا نوے کی دھائی میں عوام الناس کو صرف ایف سولہ کا پتہ ہے وہ بھی ہلکا سا اصل میں تو ہمارا سب کچھ پابندیوں سے متاثر ہوا تھا نا۔پاکستان ائیر فورس اسے دی لاسٹ ڈیکیٹ یعینی ضائع ہو جانے والے 10 سال کہ کر یاد کرتی ہے
 

دوست

محفلین
تصاویر کا ٹیگ ہی نظر آتا ہے بعض اوقات۔ طارق کلاس فریگیٹ میں ایک بھی تصویر نہیں دکھائی دے رہی۔ اس طرح سواد خراب ہو جاتا ہے ساری پوسٹ کا۔
 

عسکری

معطل
تصاویر کا ٹیگ ہی نظر آتا ہے بعض اوقات۔ طارق کلاس فریگیٹ میں ایک بھی تصویر نہیں دکھائی دے رہی۔ اس طرح سواد خراب ہو جاتا ہے ساری پوسٹ کا۔
ایسا کیوں بھئی مجھے تو ساری نظر آ رہی ہیں یہ مسئلہ تو پھر محفل کے منتظمین کچھ کریں بھئی :eek::nailbiting:کیا سب کو نظر نہیں آتی تصاویر :oops:
 

عسکری

معطل
کوبرا ہیلی کاپٹر - یا Bell AH-1 Cobra

امیریکی کمپنی بیل کا بنا یہ گن شپ ہیلی کاپٹر دو بلیڈ اور سنگل انجن کا لائٹ ہیلی کاپٹر ہے ۔ اس کے پہلے ماڈل اے ایچ ون جی کو ستر کی دھائی کے شروع میں انٹرنیشنل مارکیٹ میں لایا گیا ۔ اور اسے کے بعد اس کے کئی ماڈل بنائے گئے اور بنا جا رہے ہیں جیسے اے ایچ ون ایف - اے ایچ ون ایس -ون ڈبلیو ون زیڈ وغیرہ ۔ اسے دو ہوا باز اڑاتے ہین ایک پائلٹ ایک گنر اسسٹنٹ پائلٹ- اس کو کوبرا اس کی حرکت اور اس کی جسامت کی وجہ سے کہا جاتا ہے ۔ 52 فٹ لمبے کوبرا کا وزنخالی ڈھائی ٹن ہے اور یہ مزید 2 ٹن وزن اٹھا سکتا ہے ۔اس کی سپیڈ 350 کلومیٹر تک ہے اور یہ 650 کلو میٹر تک اڑ سکتا ہے یہ 11 ہزار فٹ کی بلندی تک جا سکتا ہے ۔اس کے آگے 20 ملم دھانے کی تین بیریل والی گن نصب ہے جو 730 راؤنڈ ایک منٹ میں فائر سکتی ہے ۔ھیڈرا نام کی راکٹ پوڈ اس پر لگائی جاتی ہے جس میں 7 بڑے ہائڈرا-70 ملم کے راکٹ یا ایسی دوسری پوڈ جس میں 19 چھوٹے راکٹ نصب کیے جاتے ہیں ۔ اس پر ٹوو-2 میزائیل بھی نصب کیے جاتے ہیں جن کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔ بیک وقت 4 ٹوو میزائیل یا پاکستان اپنے کوبرا ہیلی کاپٹر پر پاکستان نے بنے بکتر شکن میزائیل بھی نصب کرتا ہے جو کہ آرمرڈ دستوں کے خلاف موثر ہتھیار ہوتا ہے ۔ کوبرا بیسیکلی اینٹی ٹینک ہتھیار ہے جو اب ہر قسم کی جنگ ہو یا انسرجنسی کام کر رہا ہے ۔

پاکستان نے پہلے پہل 20 کوبرا اے ایچ ون ایس کا آرڈر دیا تھا جو کہ پاکستان کو 1983 میں ملے اور کئی سال تک پاکستان کی سروس میں رہنے کے بعد پاکستان نے مزید 8 ماڑنائیزڈ کوبرا اے ایچ ون ایف کا آرڈر دیا اس کے بعد 2008 میں پاکستان نے مزید 14 ون ایف خریدے اور پرانے ہیلی کاپٹروں کو 75 ملین ڈالر خڑچ کر کے امریکہ نے ایک امدادی پروگرام سے اپگیڈ کر دیے جو اب رات کو اور تھرمل امیجر سسٹم کے ساتھ کام کر سکتے ہیں ۔ کوبرا فلیٹ کا بیس ملتان ہے اور انہیں فرنٹ لائن سے ہٹانے کے لیے پاکستان مختلف ہیلی کاپٹرز دیکھ رہا ہے ۔

pakistan+army+aviation++cobra.jpg



pakistan%2Barmy%2Baviation%2Bcorps%2Bah-1f%2Bs%2Bcobra%2Bgunship%2Battack%2Bmissiles%2Bwot%2Bwar%2Bterror%2Bfata%2BBaktar-Shikan%2BATGM%2Btow%2Banti%2Btank%2Bmissile%2B%2B%25252813%252529.jpg


BEST.gif


pakistan%2Barmy%2Baviation%2Bcorps%2Bah-1f%2Bs%2Bcobra%2Bgunship%2Battack%2Bmissiles%2Bwot%2Bwar%2Bterror%2Bfata%2BBaktar-Shikan%2BATGM%2Btow%2Banti%2Btank%2Bmissile%2B%2B%2525282%252529.jpg


pakistan%2Barmy%2Baviation%2Bcorps%2Bah-1f%2Bs%2Bcobra%2Bgunship%2Battack%2Bmissiles%2Bwot%2Bwar%2Bon%2Bterror%2Bfata%2B%2525286%252529.jpg



ایک بیمار کوبرے کو اس کا انکل ایم آئی ہسپتال ملتان لے جا رہا ہے :D
pakistan+army+aviation+corps+ah-1f+s+cobra+gunship+attack+missiles+wot+war+terror+fata+Baktar-Shikan+ATGM+tow+anti+tank+missile++%252821%2529.jpg


pakistan+army+aviation+corps+ah-1f+s+cobra+gunship+attack+missiles+wot+war+terror+fata+Baktar-Shikan+ATGM+tow+anti+tank+missile++%252819%2529.jpg


ہیڈ اپ ڈسپلے پاکستانی کوبرے کا
pakistan+army+aviation+corps+ah-1f+s+cobra+gunship+attack+missiles+wot+war+terror+fata+Baktar-Shikan+ATGM+tow+anti+tank+missile++%252817%2529.jpg



pakistan+army+aviation+corps+ah-1f+s+cobra+gunship+attack+missiles+wot+war+terror+fata+Baktar-Shikan+ATGM+tow+anti+tank+missile++%252818%2529.jpg


pakistan+army+aviation+corps+ah-1f+s+cobra+gunship+attack+missiles+wot+war+terror+fata+Baktar-Shikan+ATGM+tow+anti+tank+missile++%252820%2529.jpg


میزائیلوں سے لیس پاکستانی کوبرا
p9260006-2.jpg



وزیرستان آپریشن مین
pakistan%2Barmy%2Baviation%2Bcorps%2Bah-1f%2Bs%2Bcobra%2Bgunship%2Battack%2Bmissiles%2Bwot%2Bwar%2Bterror%2Bfata%2BBaktar-Shikan%2BATGM%2Btow%2Banti%2Btank%2Bmissile%2B%2B%2525283%252529.jpg


ڈیزرٹ کیمو میں نیا پاکستانی کوبرا
I2.jpg

کاک پٹ
20090714073825_1.jpg

ہائیڈرا-70 راکٹ
800px-AGM-114_and_Hydra_70.jpeg

ایم 261 پوڈ
800px-Hydra_70_M261.jpeg



اسلام آباد پر اڑتے پاکستانی کوبرا
 

عسکری

معطل
مناف کلاس مائنز ہنٹر - یا Tripartite class minehunter
مائنز ہنٹرز -مائنز سویپرز یا mine countermeasures vessel MCM کے بغیر نیوی ادھوری ہے بلکہ ایسی ہے کانٹوں بھرے راستوں میں جیسے کوئی ننگے پاؤں۔ یہ نیوی کا وہ قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو دشمن کے بچھائے جال میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور جنگ ہو یا امن یہ اپنا کام کرتے رہتے ہیں ۔ان کو سمجھنے کے لیئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ نیول مائنز ہوتی کیا ہیں ۔ نیول مائنز یا پانی کی بارودی سرنگیں ۔ یہ 7 قسم کی ہوتی ہیں اور ہر ایک کی اپنی گہرائی اور کام ہوتا ہے
پہلی اپر واٹر ہوتی ہے جو پانی پر تیرتی رہتی ہے اور جیسے ہی کوئی جہاز اس کے قریب جائے یہ بلاسٹ ہو کر اسے تباہ کر دیتی ہے ۔
دوسری جسے بوٹم کہتے ہیں پانی میں کم گہرائی پر ہوتی ہے جو کہ نظر بھی نہیں یہ سب سے زیادہ استمال اور تباہ کن ہے
تیسری جسے ایس ایس کہتے ہیں یہ پانی کے نیچے گہرائی میں لگائی جاتی ہے اور یہ سب میرینز کو ہٹ کرتی ہے
چوتھی کو ڈرفٹنگ مائن کہتے ہیں اور یہ پانی کے نیچے گہرائی میں پر سمندر کی سرفس سے اوپر ہوتی ہے جس سے گہری سب میرینز کو ہنت کیا جاتا ہے
پانچویں بوٹم مائن کی دوسری قسم ہی جسے سمندر میں سرفس پر بٹھا دیا جاتا ہے اور وہ ہیوی مکناطیسی ہوتی ہے جیسے ہی کوئی جہاز سب نزدیک ہو یہ اسے پکڑتی ہے اور اسے ہٹانا بہت مشکل ہے۔
چھٹی تورپیڈو مائن ہوتی ہے جسے کیپٹر مائن بھی کہا جاتا ہے یہ ایک وائر سے بندھی درمیان گہرئی میں ایک طرح سے معلق ہوتی ہے
ساتویں رائزنگ مائن ایسی ہی ہوتی ہے پر اس کی وائر اسے چھوڑ دیتی ہے جیسے ٹارگٹ نزدیک آئے

یہ مائنز ہر قسم کے جہازوں کے لیئے خطرہ ہوتی ہیں ان کو لگانے کے لیے کچھ نہیں کرنا ہوتا بس سمندر میں پھنکنا ہوتا ہے ۔یہ مائنز کم خرچ میں دشمن کو بھاری نٖقصان دے سکتی ہیں ۔ 1 ہزار یا 5 ہزار ڈالر کی بنی مائن کئی سو ملین کا نقصان کر سکتی ہیں ۔ان کو مقناطیسی بنایا جاتا ہے اور بحری جہاز کا ہل لوہے کا ہوتا ہے بلکہ سارا ہزاروں ٹن لوہا ہوتا ہے جسے یہ پکڑتی ہیں اور تباہ کرتی ہیں ۔ اس طرح سینسر والی مائنز انٹیلی جنٹ ہوتی ہیں جو ٹارگٹ کو دیکھ بھال کر تباہ کرتی ہیں ایک اور قسم جو لہروں کے حساب سے بلاسٹ ہوتی ہے جب جہاز قرب آئے تو ۔الغرض یہ سمندر میں چھپی موت ہوتی ہے جو اندھی ہوتی ہے سول اور ملٹری کا فرق نہیں جانتی ۔ یہ ہوئی جہازوں سے بھی پلانٹ کی جاتی ہے


مائنز کو بحری راستوں پر بھی بچھایا جاتا ہے اور اندازے سے بھی راڈار کے پرانے ڈیٹا کی مدد سے بھی کہ کب کتنی بار اور کس وقت یہاں سے دشمن گزرا اور اندھا دھند بھی ۔ دشمن کو مومنٹ کو بلاک کرنے کے لیے خؤد بھی بچھائی جاتی ہے اور حملے سے بچنے کے لیے بھی ۔ ان ساحلوں پر بھی جہاں کوئی اہم تنصیب ہو جیسے کراچی کا ہمارا نیوکلئیر کناپ پلانٹ کا ساحل ۔

اے ایم ایس مائنز سوییپرز کی عمر پاوری ہونے پر پاکستان نے اس وقت 3 دنیا کے سب سے بہترین مائنز سوییپر خرید لیئے ہیں ۔ یہ فرانس بیلجیم اور نیدر لینڈ کے مشترکہ بنے ہوئے ہیں اور ان میں جدید ترین سنسرز اور کمپیوٹرز نصب ہیں یہ ہر طرح کی مائنز کو تبا کرنے ڈیفیوز کرنے اور ہٹانے کا کام کر سکتے ہیں ان کو بنانے میں کم سے کم لوہا اور فولاد استمال کیا گیا اور ہل بالکل چھوٹا بنایا گیا جو مائنز کو لگ کر بھی بلاسٹ نہیں ہونے دیتا ۔ان کوبنانے ہوتے انجن اور جہاز کی آواز اور ارتاش کا بھی خآص خیال رکھا گیا تا کہ یہ مائنز کے قرب جا کر بھی انہیں بلاسٹ نا ہونے دیں ۔ان میں جامرز بھی لگے ہیں۔ یہ چھوٹی سب میرین اور بوٹ بھی ساتھ رکھتے ہین جس سے سطح سمندر اور زیر سمندر مائنز سویپنگ کرتے ہین یہ پاکستان کے بحری راستوں پر ہر وقت گشت کرتے ہیں تا کہ کسی فاؤل پلے یا سبوثار جو سے اپنی نیوی اور میری ٹائم سول جہازوں کو بچایا جا سکے۔ یہ 170 فٹ لمبے ہیں اور ان پر 38 افراد سوار ہوتے ہین اور یہ 28 کلو میٹر کی سپیڈ سے چلتے ہیں۔ان پر مائنز کے سامنے تباہ کرنے کے لیے اور سیلف پروٹیکشن کے لیے گنز بھی نصب ہیں ۔



پاکستان کے مائنز سوییپر
پی این ایس منصف فرانس کا بنا ہے
پی این ایس محافظ آدھا فرانس اور آدھا پاکستان میں بنا تھا
پی این ایس مجاہد پاکستان میں بنا اور 1998 میں سمند میں اتارا گیا تھا ۔



پی این ایس مجاہد
5283319548_731bd696a0.jpg


پی این ایس منصف
5282718423_fc8f36d717.jpg


منصف کراچی میں لانچ کے وقت
5282718657_27ee6bfac9_z.jpg


مائن تباہ کرتے ہوئے
mohafiz_l.gif



m02008080900058.jpg


نیول مائنز
RMG__GERMAN_NAVAL_MINE_a.JPG


stock-photo-naval-mine-from-the-second-world-war-isolated-on-white-with-clipping-path-61194397.jpg


19390002-460.jpg


Mina_morska_typu_M_1908-39.jpg




کاپٹر مائن بی-52 پر لوڈ کی جا رہی ہے
Mark_60_CAPTOR-DF-ST-90-11649.JPEG




ایم کے 62 مائن پی تھری اورین سے پلانٹ کی جا رہی ہے
800px-US_Navy_040705-N-1050K-004_A_MK_62_Quick_Strike_mine_is_deployed_from_the_starboard_wing_of_a_P-3C_Orion_aircraft_form_the_Grey_Knights_of_Patrol_Squadron_Four_Six_%28VP-46%29.jpg
 
Top