جوش "کیوں چُپ ہیں سب، مریضِ محبت کو کیا ہوا؟" - جوش ملیح آبادی

کاشفی

محفلین
غزل​
جوش ملیح آبادی​
​
"کیوں چُپ ہیں سب، مریضِ محبت کو کیا ہوا؟"​
اُن کا یہ پوچھنا تھا کہ محشر بپا ہوا​
​
زحمت نہ ہو تو در پہ ذرا چل کے دیکھ لو​
آیا ہے کوئی اپنا پتا پوچھتا ہوا​
​
یہ میرا ذوقِ بادہ کشی، اور یہ تشنگی!​
معبود! تیری شانِ کریمی کو کیا ہوا؟​
​
اک تم کہ اہلِ دل کی نظر پر چڑھے ہوئے​
اک میں‌کہ ہوں خود اپنی نظر سے گرا ہوا​
​
شاعر کا دل، مناظرِ قدرت سے بے نیاز!​
پیغمبر، اور کلامِ خدا سے پھِرا ہوا!​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top