کیا دین اور سیاست دو الگ الگ چیزیں ہے؟؟؟

سویدا

محفلین
آپ ملاء (مذہبی سیاسی بازی گر) اور مولوی (عالم و علماء، لیکچرارز، پروفیسرز، ٹیچرز) کو کنفیوژ کررہے ہیں۔ ملاء کبھی عالم نہیں ہوتا بلکہ ایک چالاک اور عیار مذہب فروخت کرنے والا ہوتا ہے۔ اس کو پڑھانے لکھانے سے کوئی کام نہیں ہوتا۔ بلکہ عوام پر حکومت اور کنٹرول کرنے کی ہوس کا شکار ہوتا ہے۔ ملائیت، اسلام سے پہلے ، پاپائیت، عیسائیت سے پہلے ربائیت ، یہودیت سے پہلے زرتشت خدائیت کہلاتی رہی ہے۔ یہ ایک طریقہ کار ہے کہ فرد واحد کی "شاہانہ حکومت" ہو اور اسکی نکیل ملائیت، پاپائیت، ربائیت کے ہاتھ میں ہو۔ اس لئے کہ ملائیت، پائیت، ربائیت ۔۔۔ ۔ جمہوری اداروں کو برداشت نہیں کرسکتی جہاں فیصلہ کرنے کی طاقت باہمی مشورے سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے --- ملائیت، ربائیت، پاپائیت --- کو ہی ختم کرنے کے لئے اپنے نبی اکرام بھیجے۔ یہ --- ملائیت، ربائیت، پاپائیت --- ہی تھے جو اللہ کی ایات کو چھپاتے رہے اور اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی میں مذہبی سیاسی بازی گری دکھاتے رہے۔

قرآن حکیم کا کیا پیغام ہے؟ یہ --- ملائیت، ربائیت، پاپائیت --- کے خلاف ہے۔

ملا اور مولوی کا یہ فرق موجودہ دور میں تو تسلیم کیا جاسکتا ہے وہ بھی طالبان کی وجہ سے کہ انہوں نے اس ملا نام کو بد نام کردیا
لیکن ایک زمانے میں ملا عالم علما لیکچرار پروفیسرز ہی کے معنی میں مستعمل ہوتا تھا
اس لیے ملا اور مولوی یعنی طبقات کے بجائے شخصیات کے رویوں پر بات کی جائے تو بلا اختلاف ثمرہ نکل آئے گا ورنہ ہم اسی جھگڑے میں ہی پڑے رہیں گے
 

ساجد

محفلین
سب نے کی ہے عیسائیت نے ایکوزی ائیشن کے تک بڑا نچوڑا ۔ کمیونزم میں تو ہے ہی ایک پارٹی ۔ حتی کہ آزاد عیسائی جمہوریتیں بھی کہیں نا کہیں مجبورا ڈکٹیٹر کے ہاتھ ہیں ہاں وہ نظر نہیں اتے ۔ بدھ مت میں بھی یہی کچھ ہے ہندوازم میں مجھے لگتا ہے کوئی یونائتیڈ پاور نہیں تھی تو ڈیکٹیٹر شپ پنپ نا سکی ۔
بالکل ٹھیک پہنچے ہو عسکری۔ اسی ترتیب کو ذرا آگے تک لے کر چلو تو دیکھو کہاں تک پہنچتے ہو۔ کم از کم نیو ورلڈ آرڈر تک تو پتہ پوچھے بغیر ہی پہنچ جاؤ گے ......ہے نا ؟ اس سے آگے راستے کی سمجھ نہ لگے تو مجھ سے پوچھ لینا:)
 

عسکری

معطل
بالکل ٹھیک پہنچے ہو عسکری۔ اسی ترتیب کو ذرا آگے تک لے کر چلو تو دیکھو کہاں تک پہنچتے ہو۔ کم از کم نیو ورلڈ آرڈر تک تو پتہ پوچھے بغیر ہی پہنچ جاؤ گے ......ہے نا ؟ :)
نا آگے نیو ورلڈ آرڈر سے ہمارے اپنے مفادات کو زک پہنچ رہی ہے کیونکہ فال آف جاپانیز کنگڈوم نازی جرمن اور رائز آف سوویت کے ساتھ ہی ہمارے اپنے بھی اس بہتی گنگا میں کود پڑے تھے ۔ تب ایک اور طرح کی ڈیکٹیٹر شپ نے گھیرا دنیا کو ۔ ایک طرف کھلم کھلا سوویت اتحادی ڈکٹیٹر- ایک طرف بائے چانس بننے والے ڈیکٹیٹر ۔دوسری طرف مسلمان ڈکٹیٹر فوجی یا بادشاہی شکل میں اور تیسری طرف چہرے بدلتی ملٹی نیشل ڈیکٹیٹر ۔ کمی کہیں نہیں تھی بس انداز جدا تھا اور ہے ۔ کہیں مذہب کہیں فرقہ کہیں وطن کہیں اقدار و آزادی کو سیڑھی بنایا گیا پر کام وہی تھا ۔ مطلب بوتل دوسری اندر شراب وہی تھی ۔ اس پورے 50 سالہ بکھیڑے میں فائدہ ان کو ہوا جن کے آج ایمپائر ہیں ڈالرز کے اور اس سے بھی آگے ایک مہا دیکٹیٹر تھے اور ہیں جو ان سب کے باپ ہیں جو پیسہ تیل تو کیا سونا بھی کنٹرول کر رہے ہیں ۔حکومتیں اصل میں کچھ نہیں سوائے ان پلا سٹک کی بنی مورتیوں کے جن پر کپڑے چڑھا کر شو پیس بنایا جاتا ہے ۔ پر ان کو ایک گراؤنڈ ملا ہوا ہے کھیلنے کا جس میں گیم ہوتی ہے ۔ اور اگر کوئی نکلے تو دنیا سے نکال دیا جاتا ہے ۔ مہرے آتے جاتے رہتے ہیں نا پا جی ۔ عوام بھی اسی دائرے کے کھیل کو خؤب انجوائے کرتی ہے ۔ اور عسکریوں کو ایسی باتیں نہین سوچنی چاہیے:grin:
 

شمشاد

لائبریرین
صرف براہمن اور شودر ہی نہیں، بلکہ ان میں تو اتنے طبقے ہیں اتنے تو مسلمانوں میں نہیں۔
 

عسکری

معطل
براہمن اور شودر کی طبقاتی تقسیم شائد آپ بھول گئے۔۔۔
میں نے کہا ہندوؤن میں کوئی یونائیٹڈ پاور نا تھی مطلب؟ کہ وہ طبقاتی اور ہزاروں بھگوانوں کی بکھری ہوئی قوم تھی اس لیے عہد جدید میں ڈکٹیٹر پیدا نا کر سکی کوئی قابل ذکر ۔
 
آپ لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہسٹری ہے ۔ اوکے مجھے دکھائیں کوئی عمر جیسا کریکٹر آج یا 1000 سال پہلے تک کوئی ویسا دوسرا بنا؟

آپ کو کسی نے عمر (رضی اللہ عنہ) جیسا بننے سے روکا ہے ؟ بنیں اور دنیا کو دکھائیں ۔ ٹاپ پر جگہ ہمیشہ سے خالی ہے ۔
 
اسلام بطور دین ، مسلمانوں کو یہ طاقت عطا کرتا ہے کہ وہ جمہوری اصولوں پر باہمی مشورے سے فیصلہ کرکے حکومت بنائیں۔ جبکہ ملائیت کا نظریہ دینی سیاست کے بارے میں یہ ہے کہ صرف ملاء ہی کو یہ حق ہے کہ وہ بطور ایک دینی مذہبی سیاسی بازی گر کے ، مفتی بنے ، قاضی بنے اور گورنر بنے۔ یعنی ملاء کا پیغام ہے کہ اگر کوئی قانون سازی کرے گا تو "عالم ملا" مفتی بن کر فتوے دے گا یعنی قانون سازی کرے گا۔ ملا کا پیغام ہے کہ دینی سیاست یہ ہے کہ ملا ہی قاضی بن کر اکیلا عدل و انصاف کرے گا، کسی اور کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ ملا کا یہ پیغام ہے کہ اگر مولوی نہیں تو پھر نا وہ شہر کا گورنر ہے نا صوبے کا گورنر ہے اور نا ہی وہ صدر ہے اور نا ہی وہ خلیفہ ہے۔ اس "مذہبی سیاسی بازی گری" کے "اسلامی نظام" میں بس مولوی کے گرد کائنات گھومتی ہے۔ اس کو دینی سیاست یا "اسلامی نظام" کا نام دیا جاتا ہے۔

جبکہ اسلام کا پیغام سیاست کے بارے میں یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کو "بیعت " یعنی ووٹ دے کر اپنی حکومت قائم کرنے کا حق ہے۔

قرآن کے مطابق -- ریفرنس شدہ آیات کے ساتھ فراہم کردیا گیا ہے:
1۔ باہمی مشورے سے فیصلہ۔ یعنی قانون سازی بذریعہ مجلس شوری، (سورۃ الشوری، آیت 38 ) جس میں مرد و عورت کی مساوی نمائندگی (سورۃ توبہ، آیت 71)
2۔ 20 فی صد اوسط ٹٰیکس ۔ (سورۃ انفال، آیت 41، سورۃ التوبہ ایت نمبر 103)
3۔ عدل کے نفاذ کے لئے جماعت یعنی ایک سے زیائید ججوں پر مبنی عدالت عالیہ کا قیام (سورۃ آل عمران، آیت 104)
4۔ بیعت یعنی ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب، یعنی الیکشن کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب (سورۃ النساء، آیت 58 )
5۔ فلاح و بہبود کا نظام اور نظریاتی ریاست کا زبردست دفاع (سورۃ التوبہ، آیت 60 )
6۔ ہر شخص کو مذہب کی آزادی۔ (سورۃ الکافرون، آیت 6 )

اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں کو ان اصولوں کے تحت حکومت، سیاست کرنے کا اختیار دیا ہے۔ بنیادی طور پر دین صرف وہ اصول متعین کرتا ہے جن کی بنیاد پر ایک سیاسی حکومت کا قیام ہو۔

42:38
اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں
اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے
اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں
9:71اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں
اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے
9:103 آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ یا ٹیکس) وصول کیجئے کہ آپ اس (صدقہ یا ٹیکس) کے باعث انہیں پاک فرما دیں اور انہیں برکت بخش دیں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، بیشک آپ کی دعا ان کے لئے (باعثِ) تسکین ہے، اور اﷲ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے
8:41 اور جان لو کہ جو کچھ تم بطور غنیمت (نفع) پاؤ خواہ کسی شے سے ہو تو اس میں سے پانچواں حصہ الله اور اس کے رسول کا ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اگر تمہیں الله پر یقین ہے اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن اتاری جس دن دونوں جماعتیں ملیں اور الله ہر چیز پر قادر ہے

3:104
اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں
4:58 بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں (اپنی بیعت) ان لوگوں کے سپرد کرو جو ان (امانتوں) کے اہل ہیں،
اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے
9:60 بیشک صدقات (زکوٰۃ یا ٹیکس) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والوں پر) اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے
109:6 (سو) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے
تاریخ گواہ ہے کہ صرف ان اصولوں پر بننے والی سیاسی حکومتیں ہی پائیدار ثابت ہوئیں۔
جن حکومتی عہدے داروں کو زکاۃ کا نصاب ہی معلوم نہ ہو وہ زکاۃ کیسے لیں گے ؟
جن کو اسلامی حدود کا علم نہ ہو وہ عدالت کیسے چلائیں گے ؟ ان سب کے لیے ملا کی ضرورت تو پڑے گی ؟
 

arifkarim

معطل
جو کام 1 ارب 70 کروڑ مسلمان نا کر سکے وہ ایک ملحد کیسے کر سکتا ہے
بالکل درست۔ آنحضورصللہعلیہسلم کی صحبت سے تربیت پانے والے مسلمان اور بعد میں آنے والے تمام مسلمانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج کے دور میں حضرت عمر ضیللہعنہ جیسا عظیم انسان بننا کوئی آسان کام نہیں۔ حضرت عمر ضیللہعنہ وہ مسلمان تھے جو بیت المقدس فتح کرنے کے بعد یہود اور نصاریٰ کی خواہش پر عرب سے یروشلم خود چل کر جاتے ہیں اور انسے سرنڈر وصول کرتے ہوئے اس قدیم مذہبی شہر کو تمام ابراہیمی مذاہب کیلئے کھول دیتے ہیں۔ بعد میں آنے والے اسلامی حکمرانوں نے کبھی بھی یہ رویہ غیر مسلمین کیساتھ نہیں دکھایا سوائے صلاح الدین ایوبی کے۔ لیکن وہ جرنیل بھی جسکی تعریف کرتے عیسائی نہیں تھکتے، حضرت عمر فاروق ضیللہعنہ جیسی عظیم شخصیت کے سامنے زیادہ بڑا نہیں تھا!
http://en.wikipedia.org/wiki/Saladin
 
جو کام 1 ارب 70 کروڑ مسلمان نا کر سکے وہ ایک ملحد کیسے کر سکتا ہے
عبداللہ بھیا یہ تو بہت آسان کام ہے کہ مقابلے کی دوڑ سے ہی باہر نکل لیا جائے ۔۔۔ عموما جن کا رزلٹ خراب آتا ہے وہ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ چھوڑو جی ہمیں تو اے پلس لینے کا کوئی خبط نہیں ۔ اسی کو defeatism کہتے ہیں نا ؟ سولجر اور لڑے بنا ہار مان لے ؟
آپ خود کو جتنا مرضی ملحد کہیں آپ کے اندر کا مسلمان نہیں نکلے گا ۔
 
بالکل درست۔ آنحضورصللہعلیہسلم کی صحبت سے تربیت پانے والے مسلمان اور بعد میں آنے والے تمام مسلمانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج کے دور میں حضرت عمر ضیللہعنہ جیسا عظیم انسان بننا کوئی آسان کام نہیں۔ حضرت عمر ضیللہعنہ وہ مسلمان تھے جو بیت المقدس فتح کرنے کے بعد یہود اور نصاریٰ کی خواہش پر عرب سے یروشلم خود چل کر جاتے ہیں اور انسے سرنڈر وصول کرتے ہوئے اس قدیم مذہبی شہر کو تمام ابراہیمی مذاہب کیلئے کھول دیتے ہیں۔ بعد میں آنے والے اسلامی حکمرانوں نے کبھی بھی یہ رویہ غیر مسلمین کیساتھ نہیں دکھایا سوائے صلاح الدین ایوبی کے۔ لیکن وہ جرنیل بھی جسکی تعریف کرتے عیسائی نہیں تھکتے، حضرت عمر فاروق ضیللہعنہ جیسی عظیم شخصیت کے سامنے زیادہ بڑا نہیں تھا!
http://en.wikipedia.org/wiki/Saladin
حیرت ہے لوگ تو آج کے دور میں ’نبوت‘ کی پٹاری کھول کر بیٹھ گئے تھے ۔۔۔ میں نے صرف صحابہ کا کردار زندہ کرنے کی بات کی ہے ۔
 
پدر ما سلطان بود۔۔۔۔ لگتا تو یہ ہے کہ ان معروف خلفاء کے بعد کوئی اسلامی حکومت کبھی قائم ہی نہیں ہوئی؟؟؟؟ تو اب کیسے ہوگی؟ مسلمان ایک شیر کے بچے کی تلاش میں ہیں۔ خود کیا کرنے کے لائق ہیں؟
 

ظفری

لائبریرین
مذہب کو سیاست سے الگ کرنے والے اب خاموش ہوچک ہیں۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اس دھاگے کا خلاصہ بیان کروں ان حضرات کو مہلت دیتا ہوں جو سیاست کو کوئی اور شے سمجھ رہے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی اور دلیل ہو تو وہ پیش کریں۔

میرا خیال ہے کہ اس بارے میں آپ اپنا استدلال اور دلائل پیش کردیں تو اس بحث کو موضوع کے پیرائے میں رکھنے میں مدد ملے گی ۔ چونکہ آپ نے ہی یہ دھاگہ شروع کیا ہے ۔ اور بظاہر آپ کے سوال سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ آپ کو سیاست اور مذہب کے باہمی تعلق پر معلومات درکار ہیں ۔ مگر آپ اب چونکہ مہلت کی بات کررہے ہیں تو اس سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ آپ کے پاس اس سلسلے میں اپنا ایک خاص نکتہِ نظر موجودہے ۔ میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ اپنا وہ نکتہِ نظر یہاں بیان کر دیں تو مجھ سمیت اور طالبعلموں کو شاید کچھ سیکھنے کا موقع مل جائے ۔
باقی ۔۔۔۔ حالیہ بحث گفتگو کے پیرائے سے نکل کر اپنی ہی بات منوانے کے کلچر پر ہمیشہ کی طرح چل نکلی ہے ۔ تو میرا خیال یہ ہے کہ آپ خلاصہ بیان کردیں تاکہ لوگ واپس موضوع کی طرف لوٹ سکیں ۔
 

عسکری

معطل
عبداللہ بھیا یہ تو بہت آسان کام ہے کہ مقابلے کی دوڑ سے ہی باہر نکل لیا جائے ۔۔۔ عموما جن کا رزلٹ خراب آتا ہے وہ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ چھوڑو جی ہمیں تو اے پلس لینے کا کوئی خبط نہیں ۔ اسی کو defeatism کہتے ہیں نا ؟ سولجر اور لڑے بنا ہار مان لے ؟
آپ خود کو جتنا مرضی ملحد کہیں آپ کے اندر کا مسلمان نہیں نکلے گا ۔
لڑائی کی تو بات ہی نا کریں نا بہن جی آج ہو جائے اس کی فکر نہیں ۔ پر یہاں اب معاملات کو سیدھا کرنا اتنا آسان نہین ہر وہ انسان جو 4 بندوں میں آیا کنٹرونشل ہو جاتا ہے یہاں اب سچ یا جھوٹ کو مخٹلف عنکیں لگا کر دیکھا جاتا ہے ۔
 
لڑائی کی تو بات ہی نا کریں نا بہن جی آج ہو جائے اس کی فکر نہیں ۔ پر یہاں اب معاملات کو سیدھا کرنا اتنا آسان نہین ہر وہ انسان جو 4 بندوں میں آیا کنٹرونشل ہو جاتا ہے یہاں اب سچ یا جھوٹ کو مخٹلف عنکیں لگا کر دیکھا جاتا ہے ۔
ہر لڑائی اسلحے سے نہیں ہوتی بھیا ؟ یہ بھی جنگ ہی ہے ۔ آپ اس سے ڈر گئے کہ آپ متنازعہ ہو جائیں گے تو دنیا کا کوئی ایسا انسان بتائیے جو متنازعہ نہ ہوا ہو؟ ابراھیم علیہ السلام تمام ابراھیمی ادیان کی متفقہ محترم شخصیت ہیں (اس وقت دنیا کی کم از کم ۵۱ فی صد آبادی کی محترم ترین شخصیت ) لیکن متنازعہ وہ بھی تھے ، ہیں اور رہیں گے ۔۔۔ ایک زمانے میں آگ میں ڈالے گئے، ملک سے نکالے گئے اور بت پرستوں کے لیے اب بھی ناقابل قبول ہیں ۔۔۔ یہ عینکیں تب بھی تھیں جب عینک ایجاد نہیں ہوئی تھی ۔ معاملات ہمیشہ اتنے ہی ٹیڑھے رہے ہیں ۔ راستہ بنانا ہمارا کام ہے ۔
 
پدر ما سلطان بود۔۔۔ ۔ لگتا تو یہ ہے کہ ان معروف خلفاء کے بعد کوئی اسلامی حکومت کبھی قائم ہی نہیں ہوئی؟؟؟؟ تو اب کیسے ہوگی؟ مسلمان ایک شیر کے بچے کی تلاش میں ہیں۔ خود کیا کرنے کے لائق ہیں؟
ہماری جنریشن تو ابھی کرے گی ۔۔ آپ بتائیے آپ کی نسل نے کیا کیا ؟
 

رمان غنی

محفلین
میرا خیال ہے کہ اس بارے میں آپ اپنا استدلال اور دلائل پیش کردیں تو اس بحث کو موضوع کے پیرائے میں رکھنے میں مدد ملے گی ۔ چونکہ آپ نے ہی یہ دھاگہ شروع کیا ہے ۔ اور بظاہر آپ کے سوال سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ آپ کو سیاست اور مذہب کے باہمی تعلق پر معلومات درکار ہیں ۔ مگر آپ اب چونکہ مہلت کی بات کررہے ہیں تو اس سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ آپ کے پاس اس سلسلے میں اپنا ایک خاص نکتہِ نظر موجودہے ۔ میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ اپنا وہ نکتہِ نظر یہاں بیان کر دیں تو مجھ سمیت اور طالبعلموں کو شاید کچھ سیکھنے کا موقع مل جائے ۔
باقی ۔۔۔ ۔ حالیہ بحث گفتگو کے پیرائے سے نکل کر اپنی ہی بات منوانے کے کلچر پر ہمیشہ کی طرح چل نکلی ہے ۔ تو میرا خیال یہ ہے کہ آپ خلاصہ بیان کردیں تاکہ لوگ واپس موضوع کی طرف لوٹ سکیں ۔
میری اردو پر اتنی پکڑ نہیں ہے بھائی۔۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ مہلت کی جگہ کون سا لفظ استعمال کروں۔۔ :):)
 
بہنا انکی نسل تو 20 فیصد پر اتفاق کر رہی ہے۔یہ کیا کم ہے۔ انکی اپنی ایجاد کردہ 20 فیصد۔:D اور ابھی آج کل وہ لوگوں پر بھی مثلث کر رہیں ہیں۔

8:41
وَاعْلَمُواْ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُمْ بِاللّهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

کر کسی بھی نفع ، منافع، فائیدے، آمدنی، غنمتم ۔۔۔ کسی بھی شے سے ، من شئیً ۔۔۔ تو اللہ کے لئے پانچواں حصہ ہے ۔۔
أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّهِ خُمُسَهُ
20 فیصد کو نا ماننے والے طرح طرح کی فی صد ایجاد کرکے بیٹھے ہیں ۔ ڈھائی فی صد پر کوئی ثبوت قرآں حکیم سے فراہم کیجئے :)
 
Top