ابن انشا کل چودھویں کی رات تھی۔۔۔۔۔(ابن انشا)

adilch نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 28, 2005

  1. adilch

    adilch محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Germany
    کل چودھویں کی رات تھی۔۔۔۔۔(ابن ان

    http://nahiadil.blogspot.com/2005/08/blog-post_28.html

    -------------------------------------------------------------------------------------------------
    کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا


    کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
    کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا

    ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی شب پوچھا کیے
    ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا

    اس شہر میں کس سے ملیں، ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
    ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص ہے دیوانہ تیرا

    کوچی کو تےرے چھوڈ کر، جوگی ہی بن جائیں مگر
    جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا

    ہم اور رسمِ بندگی،آشفتگی،اوفتگی
    احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسن بے پروا تیرا

    دو اشک جانے کس لئے، پلکوں پہ آکے ٹک گیے
    الطاف کی بارش تیری، اکرام کا ردیا تیرا

    اے بے دریغ و بے ایماں! ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
    ہم کو تیری وحشت سہی، ہم کو سہی سوادا تیرا

    ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگزر
    رستہ کبھی روکا تیرا؟ دامن کبھی تھاما تیرا؟

    ہاں ہاں تےری صورت حسیں! لیکن تو ایسا بھی نہیں
    اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا تیرا

    بے درد سننی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
    عاشق تیرا، رسوا تیرا، شاعر تیرا، انشاء تیرا

    کسی لگی مجھے تو یہ بہت پسند ہے۔۔۔۔۔ :wink:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. منہاجین

    منہاجین محفلین

    مراسلے:
    672
    کوچی یا کوچہ؟

    ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تِرا

    لیکن ہم ہنس کے چپ نہیں ہونے والے، ابھی کہے دیتے ہیں کہ اپنی اِملاء پر توجہ دو تاکہ آپ کا اِظہارِ مدعا بآسانی قارئین کے پلے پڑ سکے۔

    کوچی کو تےرے چھوڈ کر، جوگی ہی بن جائیں مگر
    جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا

    کو یوں لکھنے کی عادت ڈالیں:

    کوچے کو تیرے چھوڑ کر، جوگی ہی بن جائیں مگر
    جنگل ترے، پربت ترے، بستی تری، صحرا ترا


    ویسے بہت زبردست اِنتخاب ہے آپ کا۔ میرے ایسے تبصرے پر ناک منہ نہیں بسورنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لئے :wink:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. adilch

    adilch محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Germany
    ج

    نہیں ایسی بات نہیں۔۔۔اصل میں مجھے ٹاپنگ کی عادت نہیں اور بٹن علط پریس ہوجاتے ہیں :shock:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. منہاجین

    منہاجین محفلین

    مراسلے:
    672
    ٹاپنگ

    ہمارے ساتھ رہیں گے تو خود ہی عادتیں سیدھی ہو جائیں گی۔ ویسے اگر آپ ٹاپنگ کی بجائے ٹائپنگ کی کوشش کریں تو بات جلدی بن سکتی ہے۔ :idea:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. جیسبادی

    جیسبادی محفلین

    مراسلے:
    1,096
    میرے خیال میں انگریزی الفاظ کو اردو میں ڈھالنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ ہمارے آباء کا طریقہ رہا ہے۔ مثلاً میں "کمپوٹر" لکھتا ہوں۔ کچھ انگریزی الفاظ میں "ی" کا حرف بہت بار لکھنا پڑتا ہے۔ مثلاً انگریزی لفظ "لائیسینس"لکھنا میرے لیےخاصا دشوار ہے، اچھا ہو کہ ہم اسے اردو میں یوں "لاسانس" لکھیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,765
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    کہیں یہ لاسانس لے کر ہم سانس تو نہ کھو بیٹھیں گے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. سیفی

    سیفی محفلین

    مراسلے:
    634
    زکریا بھائی !
    “لا سانس “سے آپ کو سانس پھول جانے کا خطرہ کیوں لاحق ہو گیا۔
    لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

    بہر حال لا ئیسینس کے لئیے “لا سانس“ کی بجائے “لے سانس“ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امید ہے آپ کا مسئلہ حل ہو گیا ہو گا۔
    مگر شرط وہی ہے کہ آہستہ لینا ہو گا ورنہ آفاق کی شیشیہ گری کا کوئی بھروسہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :roll:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. ثناءاللہ

    ثناءاللہ محفلین

    مراسلے:
    554
    جب سانس پھول رہا ہو تو آہستہ لینا دشوار ہوتا ہے لیکن پھر بھی “لا سانس“ سے بدر جہاں بہتر ہے جہاں زندہ رہنا ناممکن ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. کملی

    کملی محفلین

    مراسلے:
    6
    سلام
    انشا جی کی بہت خوبصورت غزل کا انتخاب کیا ہے آپ نے۔ بہت شکریہ
     
  10. NAZRANA

    NAZRANA محفلین

    مراسلے:
    36
    بہت خوب۔ :lol:
     
  11. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
    کچھ نہ کہا یہ چاند ہے، کچھ نہ کہا چہرا تیرا

    ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے
    ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردا تیرا

    اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں
    ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا

    کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر
    جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا

    تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
    ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا

    بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے
    تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا

    ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
    احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسنِ بے پروا تیرا

    دو اشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے
    الطاف کی بارش تیری اکرام کا دریا تیرا


    اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
    ہم کو تِری وحشت سہی، ہم کو سہی سودا تیرا

    ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگزر
    رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا

    ہاں ہاں تیری صورت حسیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں
    اس شخص کے اشعار سے شہر ہوا کیا کیا تیرا

    بے درد، سننی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
    عاشق تیرا، رسوا تیرا، شاعر تیرا، اِنشا تیرا
    (ابن انشاء)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر