فراز کل رات ہم سخن کوئی بُت تھا خدا کہ میں - از احمد فراز

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 31, 2007

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کل رات ہم سخن کوئی بُت تھا خدا کہ میں
    میں سوچ ہی رہا تھا کہ دل نے کہا کہ میں

    تھا کون جو گرہ پہ گرہ ڈالتا رہا
    اب یہ بتا کہ عقدہ کشا تُو ہوا کہ میں

    جب سارا شہر برف کے پیراہنوں میں تھا
    ان موسموں میں لوگ تھے شعلہ قبا کہ میں

    جب دوست اپنے اپنے چراغوں کے غم میں تھے
    تب آندھیوں کی زد پہ کوئی اور تھا کہ میں

    جب فصل ِ گل میں فکر ِ رفو اہل ِ دل کو تھی
    اس رُت میں بھی دریدہ جگر تُو رہا کہ میں

    کل جب رُکے گا بازوئے قاتل تو دیکھنا
    اے اہل ِ شہر تم تھے شہید ِ وفا کہ میں

    کل جب تھمے گی خون کی بارش تو سوچنا
    تم تھے عُدو کی صف میں سر ِ کربلا کہ میں
     
  2. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,612
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where

    جب سارا شہر برف کے پیراہنوں میں تھا
    ان موسموں میں لوگ تھے شعلہ قبا کہ میں

    جب دوست اپنے اپنے چراغوں کے غم میں تھے
    تب آندھیوں کی زد پہ کوئی اور تھا کہ میں


    خوب ۔۔۔
     
  3. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    بہت خوب۔ سخنور ، بہت اچھا انتخاب ہے۔
     
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ ضبط اور ساجد آپ کا-
     

اس صفحے کی تشہیر