ڈاکٹر اور استاد سے ملاقات از قلم نیرنگ خیال

ڈاکٹر صاحب سے گزشتہ ملاقات جو کرونا وارڈ اور مریضوں بھرے ماحول میں ہوئی تھی طے پایا کہ اگلی بار اس چار دیواری سے باہر ایک ملاقات رکھیں گے۔ اور بندۂ ناچیز کی خواہش کہ اس کی جائے سکونت اس کام کے لیے انتہائی مناسب مقام ہے۔ اس دورانیے میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ خط و کتاب کا نا شروع ہونے والا سلسلہ جاری رہا۔ جس میں ڈاکٹر صاحب کسی کیفیت نامے پر کوئی طغرہ ارسال کرتے جس کا جواب بھی اسی انداز میں دے دیا جاتا۔ مزید جورابطے کا سلسلہ ڈاکٹر صاحب سے رہا اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ جب سے احباب کو معلوم پڑا کہ بندۂ ناچیز کی واقفیت ایک ڈاکٹر سے نکل آئی ہے، انہوں نے دنیا جہاں کے تمام اطباء پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا۔ کال یا میسیج پر تفصیل موصول ہوتی کہ ڈاکٹر صاحب سے علاج تجویز کروا دیں۔ ہم بھی کمال بے شرمی سے ڈاکٹر صاحب کو زحمت دیتے۔ یہاں ان کے حوصلے کی داد بنتی ہے کہ دن ہو یارات جب کبھی رابطہ کیا مایوس نہیں کیا گیا۔ جلد بدیر جواب موصول ہوا۔ میں حیران تھا پیغام میں بھی اور یقیناً چہرے پر ڈاکٹر صاحب کبھی شکن نہیں لائے ( اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو ماتھے پر اس قدر گنجائش نہیں ثانیا شکن لانے کے لیے جس قدر توانائی صرف ہوتی ہے اس کے لیے صاحب کی صحت اجازت نہیں دیتی). پھر اپنے علم، تعلیم اور تجربے کی بنیاد پر بہترین مشورہ دیتے "حسن بھائی بہتر ہے کسی قریبی ماہر ڈاکٹر کو دکھا دیں".
خیر ہر دوسرے اتوار یاد دہانی کروائی جاتی رہی کہ آپ کا ایک وعدۂ ملاقات تاحال موقوف ہے۔ اب کی بار پیغام بھیجا تو جھٹ سے حامی اس انداز میں بھری کہ براہ راست ہاں کہنے کی بجائے کہا "نین بھائی سے بھی پوچھیں اگر ان سے بھی ملاقات ہوجائے". نین بھائی کو میسیج کیا تو جوابا کہنے لگے " کل کس وقت اور کہاں"؟ عرض کی حضور کل نہیں پرسوں بروز اتوار۔ جس میں دوپہر کے اوقات میں اس طالب علم کو ایک کلاس پڑتی ہے اس کے معاً بعد بلا توقف تردد و تاخیر۔
اب ہم چونکہ شادی شدہ نہیں اس بات کا اندازہ نہیں بندہ قرون اولیٰ کے غلاموں کی زندگی بسر کرتا ہے۔ جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔ اسے دیکھنا ہوتا ہے کہ ان اوقات میں امور گھرداری میں سے تو معمول میں نہیں؟ یا مالکوں کی مرضی اجازت دیں نہ دیں۔ پھر صاحب بھی ایک نہیں دو جا غلامی کی زنجیروں میں بندھے ہیں ایک بیرون ملک اور دوسری اندرون خانہ۔ محمد علی جناح کے بعد پاکستانی تاریخ میں ایسا کامی اور ایماندار شخص شاید ہی کوئی آیا ہو۔ خیر صاحب کو دو گھنٹوں کی اجازت مل گئی۔
اتوار کے روز وقت مقررہ سے کچھ وقت پہلے ڈاکٹر صاحب اس حال میں موٹر سائیکل پر وارد ہوئے کی بزعم جوانی کوئی مناسب بندوبست سردی سے بچنے کا نہ تھا۔ اس طرف توجہ دلائی تو ناپسندیدگی کی چند وجوہات کے سامنے ہم خاموش ہو گئے۔ملاقات کا اگلا مرحلہ بہت دلچسپ ہے۔ جہاں ایک رند ایک پارسا اور ایماندار کے درمیان پھنس گیا۔ ڈاکٹر صاحب نماز قضا کرنے پر راضی نہ تھے دوسری جانب صاحب مقررہ وقت پر مقررہ جگہ موجود۔ صاحب سے بات ہوئی، بتایا ڈاکٹر صاحب تشریف لے آئے ہیں آپ کس وقت پہنچیں گے۔ بولے یہ ہی کوئی گن کے چار منٹ۔ یہاں ہم نے اندازہ لگایا کہ صاحب کو فلاں جگہ سے مقام لقاء تک آنے میں چار منٹ لگیں گے ٹریفک بھی ہے تو چار اور ڈال لیں۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر صاحب حضور الہ میں سر بسجود تھے۔ ادھر جناح کے پیروکار وقت مقررہ کے عین مطابق چار منٹ میں وہاں موجود۔ بندہ حیران الہی ماجرہ کیا ہے؟ یہ شخص فلائنگ کار پر آیا ہے یا پہلے سے وہیں موجود انتظار میں تھا کہ کب کال آئے۔ خیر بتایا کہ بھیا یہ ہی قریب میں دو گلی آگے موجود ہیں ابھی آئے۔ جائے وقوعہ پر پہنچے تو صاحب غیر موجود۔ سامنے بغیر کسی سویٹر کوٹ کے ایک نوجوان براجمان تھا جس کی ہیئت پر اسے قطعی طور پر نظرانداز کرتے ہوئے ہم نے نگاہ دور تک دوڑائی لیکن مطلوبہ صارف موجود نہیں۔ کال کی بھیا کہاں ہیں بولے آپ کے سامنے۔ اب جو نقاب رخ سے اٹھایا تو واقعی وہ "سجیلا نوجوان" اپنے صاحب تھے۔ جناح کی طرز پر پہلے تو جھڑکے کہ آپ وقت کی پابندی نہیں کرتے۔ عرض کی حضور ہم پاکستانی وقت کے مطابق عین مقررہ وقت پر پہنچے ہیں (طے شدہ وقت سے محض 15، 20 منٹ بعد میں آنا پاکستانی مقررہ وقت ہے، ہاں اگر گھنٹہ ڈیڑھ بعد آئے تو اسے کہہ سکتے ہیں کہ دس پندرہ منٹ تاخیر سے آئے ہیں)۔ کھانے کی میز پر بیٹھے تو ڈاکٹر صاحب اور صاحب ایک دوسرے کو تاکنے بیٹھ گئے کیونکہ یہ ان احباب کی آپس میں پہلی ملاقات تھی۔ چند ساعتیں اس کیفیت میں گزریں تو مجبورا کھنگورا مارنا پڑا کہ صاحب تھوڑا فلمی ماحول بن گیا ہے۔ یہاں ابتدائیے کا حکم نامہ دیا گیا اور اب باقاعدہ گفتگو کا پہلا دور شروع ہوا۔ جس میں ابتداء صاحب نے اپنے معمولات زندگی پر روشنی ڈالی اور ڈاکٹر صاحب نے اپنی مصروفیات مختصرا ذکر کیں۔ اب کھانے کی آمد پر گفتگو کچھ سماجی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی موضوعات پر رہی۔ لیکن اس میں کچھ غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال پر یہ حصہ کاروائی سے حذف کیا جارہا ہے۔ کھانے کے بعد "ہماری ادبی روایات اور زوال" پر تبادلۂ خیال رہا۔ ہماری نوجوان نسل جس سمت جارہی ہے۔ ایسے میں "ابھرتے ہوئے نوجوان شعراء" کے ہتھے شاعری اور پھر وہ شاعری ہماری نوجوان نسل کے ہتھے چڑھ گئی ہے۔ اس دور میں بھرپور غیبتوں کا تڑکا لگا۔ ایسے میں صاحب نے "ہماری ادبی روایات" پر چند تاریخی حواجات پیش کیے ۔ جو فقیر کے لیے انتہائی اہم تھے جنہیں یاداشت میں رکھتے ہوئے فورا نوٹ کیا اور صاحب کو پھر زحمت دی کہ اس حوالے سے مزید رہنمائی فرمائیں۔ کیونکہ اگلے ہفتے یونیورسٹی میں جس موضوع پر پریزنٹیشن دینی تھی یہ حصہ اس سے متعلق اور انتہائی موزوں تھا۔ جس پر ہم صاحب کے شکرگزار ہیں کہ آرمی جنرل ( جو ہمارے پروفیسر) کے سامنے ہمیں سرخرو کروایا۔ جس پر جنرل صاحب نے داد بھی دی۔ جو ہم نے فورا صاحب کو ایصال ثواب کی۔
بڑھتی ٹھنڈ اور ضرورت کے پیش نظر اگلا پڑاؤ چائے خانے پر تھا جس دوران نماز مغرب ادا کی۔ صاحب نے کلمہ اور نماز پڑھ کر دکھائی بلکہ ماضی کے اپنے معمولات صیام و قیام کا تذکرۂ پارسائی بھی سنایا۔ چائے کی میز پر پنجابیوں کا اپنی ماں بولی"پنجابی سے رویہ، پنجابی ادب کے زوال، پنجابی ماؤں کا کردار اور ہماری پرانی روایات جو اب رخصت ہو رہی ہیں" کا تذکرہ رہا۔ نین بھائی نے کچھ اپنا پنجابی کلام سنایا اور کچھ متروک ہوتے پنجابی الفاظ پر تبصرہ کیا۔ اب باری آئی ڈاکٹر صاحب کی جہاں کلام شاعر بزبان شاعر سنا گیا۔ ساتھ کچھ تڑکا بندۂ ناچیز نے بھی لگایا۔ کہ فقیر کو بھی کلام سنانے کا شوق ہے (شعراء کا اپنا نہیں)۔ اب صورتحال یہ بنی کہ پہلا کلام سنایا تو صاحب اور ڈاکٹر صاحب ہونقوں کی طرح دیکھنے لگے۔ آنکھوں آنکھوں میں اشارہ کیا چلو یہ سن لو پھرنہیں۔ ہم نے اگلا کلام شروع کیا تو پھر کن اکھیوں سے تکنے لگے چلو آئندہ موقع نہیں دیں گے۔ تیسرا کلام شروع کیا تو حالت یہ بنی کہ آئندہ اسے ملاقات میں نہیں لانا (یہ باتیں آنکھوں آنکھوں میں ہوئیں لفظا نہیں)۔ اس پورے دورانیہ میں فقیر نے احمد فراز، مشتاق عاجز، امان اللہ خان جدون کے کلام سنائے، کوئی جدید "تہذیب" کا شعر نہ پڑھا، لیکن مجال ہے کہ داد کا ایک لقمہ بھی دیا ہو ان دونوں احباب نے۔ ایسے میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے چائے کا دوسرا دور چلا۔ یہاں اب ڈاکٹر صاحب کا حوصلہ سردی کے آگے جواب دے رہا تھا اور صاحب کو آقاؤں کے بلاوے۔ آئندہ کے وعدوں پر رخصت و اجازت لی۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ہمارے مقام سکونت پر چھوڑا اور چل دیے۔ اپنے مکان تک جاتے جاتے سوچتا رہا کہ کیا ہی اچھا دن تھا کہ یہ ملاقات ہوگئی اور دو تین ہفتے بعد ایسے ملاقات رکھ لینے چاہیے ( اچھا کھانا اور چائے تو مل ہی جاتے ہیں)۔
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
روداد آپ تینوں نے بہت خوب لکھی ہے ۔ فرداً فرداً داد وصول کیجے۔

لیکن ہر تحریری روداد سے یہی تاثر ملتا ہے کہ " کچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے"۔ :)

نین بھائی کو فون کرکے پوچھنا پڑے گا۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
IMG-20201213-164232-01.jpg

گو کہ ہم نین بھائی سے کبھی نہیں ملے لیکن نین بھائی کی یہ تصویر دیکھ کر ہمارا فیس ریکگنیشن سافٹ وئیر بھی کریش ہو گیا۔ :p:D

یقیناً یہ کرونا اور ورک فرام ہوم کے اثرات ہیں۔ "کچھ کام کیا ، کچھ طعام کیا" ۔ :):):)
 

شمشاد

لائبریرین
ڈاکٹر صاحب سے گزشتہ ملاقات جو کرونا وارڈ اور مریضوں بھرے ماحول میں ہوئی تھی طے پایا کہ اگلی بار اس چار دیواری سے باہر ایک ملاقات رکھیں گے۔ اور بندۂ ناچیز کی خواہش کہ اس کی جائے سکونت اس کام کے لیے انتہائی مناسب مقام ہے۔ اس دورانیے میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ خط و کتاب کا نا شروع ہونے والا سلسلہ جاری رہا۔ جس میں ڈاکٹر صاحب کسی کیفیت نامے پر کوئی طغرہ ارسال کرتے جس کا جواب بھی اسی انداز میں دے دیا جاتا۔ مزید جورابطے کا سلسلہ ڈاکٹر صاحب سے رہا اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ جب سے احباب کو معلوم پڑا کہ بندۂ ناچیز کی واقفیت ایک ڈاکٹر سے نکل آئی ہے، انہوں نے دنیا جہاں کے تمام اطباء پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا۔ کال یا میسیج پر تفصیل موصول ہوتی کہ ڈاکٹر صاحب سے علاج تجویز کروا دیں۔ ہم بھی کمال بے شرمی سے ڈاکٹر صاحب کو زحمت دیتے۔ یہاں میں ان کے حوصلے کی داد بنتی کہ دن ہو یارات جب کبھی رابطہ کیا مایوس نہیں کیا گیا۔ جلد بدیر جواب موصول ہوا۔ میں حیران تھا پیغام میں بھی اور یقیناً چہرے پر ڈاکٹر کبھی شکن نہیں لائے ( اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو ماتھے پر اس قدر گنجائش نہیں ثانیا شکن لانے کے لیے جس قدر توانائی صرف ہوتی ہے اس کے لیے صاحب کی صحت اجازت نہیں دیتی). پھر اپنے علم، تعلیم اور تجربے کی بنیاد پر بہترین مشورہ دیتے "حسن بھائی بہتر ہے کسی قریبی ماہر ڈاکٹر کو دکھا دیں".
خیر ہر دوسرے اتوار یاد دہانی کروائی جاتی رہی کہ آپ کا ایک وعدۂ ملاقات تاحال موقوف ہے۔ اب کی بار پیغام بھیجا تو جھٹ سے حامی اس انداز میں بھری کہ براہ راست ہاں کہنے کی بجائے کہا "نین بھائی سے بھی پوچھیں اگر ان سے بھی ملاقات ہوجائے". نین بھائی کو میسیج کیا تو جوابا کہنے لگے " کل کس وقت اور کہاں"؟ عرض کی حضور کل نہیں پرسوں بروز اتوار۔ جس میں دوپہر کے اوقات میں اس طالب علم کو ایک کلاس پڑتی ہے اس کے معاً بعد بلا توقف تردد و تاخیر۔
اب ہم چونکہ شادی شدہ نہیں اس بات کا اندازہ نہیں بندہ قرون اولیٰ کے غلاموں کی زندگی بسر کرتا ہے۔ جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔ اسے دیکھنا ہوتا ہے کہ ان اوقات میں امور گھرداری میں سے تو معمول میں نہیں؟ یا مالکوں کی مرضی اجازت دیں نہ دیں۔ پھر صاحب بھی ایک نہیں دو جا غلامی کی زنجیروں میں بندھے ہیں ایک بیرون ملک اور دوسری اندرون خانہ۔ محمد علی جناح کے بعد پاکستانی تاریخ میں ایسا کامی اور ایماندار شخص شاید ہی کوئی آیا ہو۔ خیر صاحب کو دو گھنٹوں کی اجازت مل گئی۔
اتوار کے روز وقت مقررہ سے کچھ وقت پہلے ڈاکٹر صاحب اس حال میں موٹر سائیکل پر وارد ہوئے کی بزعم جوانی کوئی مناسب بندوبست سردی سے بچنے کا نہ تھا۔ اس طرف توجہ دلائی تو ناپسندیدگی کی چند وجوہات کے سامنے ہم خاموش ہو گئے۔ملاقات کا اگلا مرحلہ بہت دلچسپ ہے۔ جہاں ایک رند ایک پارسا اور ایماندار کے درمیان پھنس گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے نماز قضا کرنے پر راضی نہ تھے دوسری جانب صاحب مقررہ وقت پر مقررہ جگہ موجود۔ صاحب سے بات ہوئی، بتایا ڈاکٹر صاحب تشریف لے آئے ہیں آپ کس وقت پہنچیں گے۔ بولے یہ ہی کوئی گن کے چار منٹ۔ یہاں ہم نے اندازہ لگایا کہ صاحب کو فلاں جگہ سے مقام لقاء تک آنے میں چار منٹ لگیں گے ٹریفک بھی ہے تو چار اور ڈال لیں۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر صاحب حضور الہ میں سر بسجود تھے۔ ادھر جناح کے پیروکار وقت مقررہ کے عین مطابق چار منٹ میں وہاں موجود۔ بندہ حیران الہی ماجرہ کیا ہے؟ یہ شخص فلائنگ کار پر آیا ہے یا پہلے سے وہیں موجود انتظار میں تھا کہ کب کال آئے۔ خیر بتایا کہ بھیا یہ ہی قریب میں دو گلی آگے موجود ہیں ابھی آئے۔ جائے وقوعہ پر پہنچے تو صاحب غیر موجود۔ سامنے بغیر کسی سویٹر کوٹ کے ایک نوجوان براجمان تھا جس کی ہیئت پر اسے قطعی طور پر نظرانداز کرتے ہوئے ہم نے نگاہ دور تک دوڑائی لیکن مطلوبہ صارف موجود نہیں۔ کال کی بھیا کہاں ہیں بولے آپ کے سامنے۔ اب جو نقاب رخ سے اٹھایا تو واقعی وہ "سجیلا نوجوان" اپنے صاحب تھے۔ جناح کی طرز پر پہلے تو جھڑکے کہ آپ وقت کی پابندی نہیں کرتے۔ عرض کی حضور ہم پاکستانی وقت کے مطابق عین مقررہ وقت پر پہنچے ہیں (طے شدہ وقت سے محض 15، 20 منٹ بعد میں آنا پاکستانی مقررہ وقت ہے، ہاں اگر گھنٹہ ڈیڑھ بعد آئے تو اسے کہہ سکتے ہیں کہ دس پندرہ منٹ تاخیر سے آئے ہیں)۔ کھانے کی میز پر بیٹھے تو ڈاکٹر صاحب اور صاحب ایک دوسرے کو تاکنے بیٹھ گئے کیونکہ یہ ان احباب کی آپس میں پہلی ملاقات تھی۔ چند ساعتیں اس کیفیت گزریں تو مجبورا کھنگورا مارنا پڑا کہ صاحب تھوڑا فلمی ماحول بن گیا ہے۔ یہاں ابتدائیے کا حکم نامہ دیا گیا اور اب باقاعدہ گفتگو کا پہلا دور شروع ہوا۔ جس میں ابتداء صاحب نے اپنے معمولات زندگی پر روشنی ڈالی اور ڈاکٹر صاحب نے اپنی مصروفیات مختصرا ذکر کیں۔ اب کھانے کی آمد پر گفتگو کچھ سماجی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی موضوعات پر رہی۔ لیکن اس میں کچھ غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال پر یہ حصہ کاروائی سے حذف کیا جارہا ہے۔ کھانے کے بعد "ہماری ادبی روایات اور زوال" پر تبادلۂ خیال رہا۔ ہماری نوجوان نسل جس سمت جارہی ہے۔ ایسے میں "ابھرتے ہوئے نوجوان شعراء" کے ہتھے شاعری اور پھر وہ شاعری ہماری نوجوان نسل کے ہتھے چڑھ گئی ہے۔ اس دور میں بھرپور غیبتوں کا تڑکا لگا۔ ایسے میں صاحب نے "ہماری ادبی روایات" پر چند تاریخی حواجات پیش کیے ۔ جو فقیر کے لیے انتہائی اہم تھے جنہیں یاداشت میں رکھتے ہوئے فورا نوٹ کیا اور صاحب کو پھر زحمت دی کہ اس حوالے سے مزید رہنمائی فرمائیں۔ کیونکہ اگلے ہیں ہفتے یونیورسٹی میں جس موضوع پر پریزنٹیشن دینی تھی یہ حصہ اس سے متعلق اور انتہائی موزوں تھا۔ جس پر ہم صاحب کے شکرگزار ہیں کہ آرمی جنرل ( جو ہمارے پروفیسر) کے سامنے ہمیں سرخرو کروایا۔ جس پر جنرل صاحب نے داد بھی دی۔ جو ہم نے فورا صاحب کو ایصال ثواب کی۔
بڑھتی ٹھنڈ اور ضرورت کے پیش نظر اگلا پڑاؤ چائے خانے پر تھا جس دوران نماز مغرب ادا کی۔ صاحب نے کلمہ اور نماز پڑھ کر دکھائی بلکہ ماضی کے اپنے معمولات صیام و قیام کا تذکرۂ پارسائی بھی سنایا۔ چائے کی میز پر پنجابیوں کا اپنی ماں بولی"پنجابی سے رویہ، پنجابی ادب کے زوال، پنجابی ماؤں کا کردار اور ہماری پرانی روایات جو اب رخصت ہو رہی ہیں" کا تذکرہ رہا۔ نین بھائی نے کچھ اپنا پنجابی کلام سنایا اور کچھ متروک ہوتے پنجابی الفاظ پر تبصرہ کیا۔ اب باری آئی ڈاکٹر صاحب جہاں کلام شاعر بزبان شاعر سنا گیا۔ ساتھ کچھ تڑکا بندۂ ناچیز نے بھی لگایا۔ کہ فقیر کو بھی کلام سنانے کا شوق ہے (شعراء کا اپنا نہیں)۔ اب صورتحال یہ بنی کہ پہلا کلام سنایا تو صاحب اور ڈاکٹر صاحب ہونقوں کی طرح دیکھنے لگے۔ آنکھوں آنکھوں میں اشارہ کیا چلو یہ سن لو پھرنہیں۔ ہم نے اگلا کلام شروع کیا تو پھر کن اکھیوں سے تکنے لگے چلو آئندہ موقع نہیں دیں گے۔ تیسرا کلام شروع کیا تو حالت یہ بنی کہ آئندہ اسے ملاقات میں نہیں لانا (یہ باتیں آنکھوں آنکھوں میں ہوئیں لفظا نہیں)۔ اس پورے دورانیہ میں فقیر نے احمد فراز، مشتاق عاجز، امان اللہ خان جدون کے کلام سنائے، کوئی جدید "تہذیب" کا شعر نہ پڑھا، لیکن مجال ہے کہ داد کا ایک لقمہ بھی دیا ہو ان دونوں احباب نے۔ ایسے میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے چائے کا دوسرا دور چلا۔ یہاں اب ڈاکٹر صاحب کا حوصلہ سردی کے آگے جواب دے رہا تھا اور صاحب کو آقاؤں کے بلاوے۔ آئندہ کے وعدوں پر رخصت و اجازت لی۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ہمارے مقام سکونت پر چھوڑا اور چل دیے۔ اپنے مکان تک جاتے جاتے سوچتا رہا کہ کیا ہی اچھا دن تھا کہ یہ ملاقات ہوگئی اور دو تین ہفتے بعد ایسے ملاقات رکھ لینے چاہیے ( اچھا کھانا اور چائے تو مل ہی جاتے ہیں)۔
خوبصورت تحریر، خوبصورت روداد۔ بہت لطف آیا پڑھ کر۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ڈاکٹر صاحب سے گزشتہ ملاقات جو کرونا وارڈ اور مریضوں بھرے ماحول میں ہوئی تھی طے پایا کہ اگلی بار اس چار دیواری سے باہر ایک ملاقات رکھیں گے۔ اور بندۂ ناچیز کی خواہش کہ اس کی جائے سکونت اس کام کے لیے انتہائی مناسب مقام ہے۔ اس دورانیے میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ خط و کتاب کا نا شروع ہونے والا سلسلہ جاری رہا۔ جس میں ڈاکٹر صاحب کسی کیفیت نامے پر کوئی طغرہ ارسال کرتے جس کا جواب بھی اسی انداز میں دے دیا جاتا۔ مزید جورابطے کا سلسلہ ڈاکٹر صاحب سے رہا اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ جب سے احباب کو معلوم پڑا کہ بندۂ ناچیز کی واقفیت ایک ڈاکٹر سے نکل آئی ہے، انہوں نے دنیا جہاں کے تمام اطباء پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا۔ کال یا میسیج پر تفصیل موصول ہوتی کہ ڈاکٹر صاحب سے علاج تجویز کروا دیں۔ ہم بھی کمال بے شرمی سے ڈاکٹر صاحب کو زحمت دیتے۔ یہاں ان کے حوصلے کی داد بنتی ہے کہ دن ہو یارات جب کبھی رابطہ کیا مایوس نہیں کیا گیا۔ جلد بدیر جواب موصول ہوا۔ میں حیران تھا پیغام میں بھی اور یقیناً چہرے پر ڈاکٹر صاحب کبھی شکن نہیں لائے ( اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو ماتھے پر اس قدر گنجائش نہیں ثانیا شکن لانے کے لیے جس قدر توانائی صرف ہوتی ہے اس کے لیے صاحب کی صحت اجازت نہیں دیتی). پھر اپنے علم، تعلیم اور تجربے کی بنیاد پر بہترین مشورہ دیتے "حسن بھائی بہتر ہے کسی قریبی ماہر ڈاکٹر کو دکھا دیں".
خیر ہر دوسرے اتوار یاد دہانی کروائی جاتی رہی کہ آپ کا ایک وعدۂ ملاقات تاحال موقوف ہے۔ اب کی بار پیغام بھیجا تو جھٹ سے حامی اس انداز میں بھری کہ براہ راست ہاں کہنے کی بجائے کہا "نین بھائی سے بھی پوچھیں اگر ان سے بھی ملاقات ہوجائے". نین بھائی کو میسیج کیا تو جوابا کہنے لگے " کل کس وقت اور کہاں"؟ عرض کی حضور کل نہیں پرسوں بروز اتوار۔ جس میں دوپہر کے اوقات میں اس طالب علم کو ایک کلاس پڑتی ہے اس کے معاً بعد بلا توقف تردد و تاخیر۔
اب ہم چونکہ شادی شدہ نہیں اس بات کا اندازہ نہیں بندہ قرون اولیٰ کے غلاموں کی زندگی بسر کرتا ہے۔ جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔ اسے دیکھنا ہوتا ہے کہ ان اوقات میں امور گھرداری میں سے تو معمول میں نہیں؟ یا مالکوں کی مرضی اجازت دیں نہ دیں۔ پھر صاحب بھی ایک نہیں دو جا غلامی کی زنجیروں میں بندھے ہیں ایک بیرون ملک اور دوسری اندرون خانہ۔ محمد علی جناح کے بعد پاکستانی تاریخ میں ایسا کامی اور ایماندار شخص شاید ہی کوئی آیا ہو۔ خیر صاحب کو دو گھنٹوں کی اجازت مل گئی۔
اتوار کے روز وقت مقررہ سے کچھ وقت پہلے ڈاکٹر صاحب اس حال میں موٹر سائیکل پر وارد ہوئے کی بزعم جوانی کوئی مناسب بندوبست سردی سے بچنے کا نہ تھا۔ اس طرف توجہ دلائی تو ناپسندیدگی کی چند وجوہات کے سامنے ہم خاموش ہو گئے۔ملاقات کا اگلا مرحلہ بہت دلچسپ ہے۔ جہاں ایک رند ایک پارسا اور ایماندار کے درمیان پھنس گیا۔ ڈاکٹر صاحب نماز قضا کرنے پر راضی نہ تھے دوسری جانب صاحب مقررہ وقت پر مقررہ جگہ موجود۔ صاحب سے بات ہوئی، بتایا ڈاکٹر صاحب تشریف لے آئے ہیں آپ کس وقت پہنچیں گے۔ بولے یہ ہی کوئی گن کے چار منٹ۔ یہاں ہم نے اندازہ لگایا کہ صاحب کو فلاں جگہ سے مقام لقاء تک آنے میں چار منٹ لگیں گے ٹریفک بھی ہے تو چار اور ڈال لیں۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر صاحب حضور الہ میں سر بسجود تھے۔ ادھر جناح کے پیروکار وقت مقررہ کے عین مطابق چار منٹ میں وہاں موجود۔ بندہ حیران الہی ماجرہ کیا ہے؟ یہ شخص فلائنگ کار پر آیا ہے یا پہلے سے وہیں موجود انتظار میں تھا کہ کب کال آئے۔ خیر بتایا کہ بھیا یہ ہی قریب میں دو گلی آگے موجود ہیں ابھی آئے۔ جائے وقوعہ پر پہنچے تو صاحب غیر موجود۔ سامنے بغیر کسی سویٹر کوٹ کے ایک نوجوان براجمان تھا جس کی ہیئت پر اسے قطعی طور پر نظرانداز کرتے ہوئے ہم نے نگاہ دور تک دوڑائی لیکن مطلوبہ صارف موجود نہیں۔ کال کی بھیا کہاں ہیں بولے آپ کے سامنے۔ اب جو نقاب رخ سے اٹھایا تو واقعی وہ "سجیلا نوجوان" اپنے صاحب تھے۔ جناح کی طرز پر پہلے تو جھڑکے کہ آپ وقت کی پابندی نہیں کرتے۔ عرض کی حضور ہم پاکستانی وقت کے مطابق عین مقررہ وقت پر پہنچے ہیں (طے شدہ وقت سے محض 15، 20 منٹ بعد میں آنا پاکستانی مقررہ وقت ہے، ہاں اگر گھنٹہ ڈیڑھ بعد آئے تو اسے کہہ سکتے ہیں کہ دس پندرہ منٹ تاخیر سے آئے ہیں)۔ کھانے کی میز پر بیٹھے تو ڈاکٹر صاحب اور صاحب ایک دوسرے کو تاکنے بیٹھ گئے کیونکہ یہ ان احباب کی آپس میں پہلی ملاقات تھی۔ چند ساعتیں اس کیفیت میں گزریں تو مجبورا کھنگورا مارنا پڑا کہ صاحب تھوڑا فلمی ماحول بن گیا ہے۔ یہاں ابتدائیے کا حکم نامہ دیا گیا اور اب باقاعدہ گفتگو کا پہلا دور شروع ہوا۔ جس میں ابتداء صاحب نے اپنے معمولات زندگی پر روشنی ڈالی اور ڈاکٹر صاحب نے اپنی مصروفیات مختصرا ذکر کیں۔ اب کھانے کی آمد پر گفتگو کچھ سماجی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی موضوعات پر رہی۔ لیکن اس میں کچھ غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال پر یہ حصہ کاروائی سے حذف کیا جارہا ہے۔ کھانے کے بعد "ہماری ادبی روایات اور زوال" پر تبادلۂ خیال رہا۔ ہماری نوجوان نسل جس سمت جارہی ہے۔ ایسے میں "ابھرتے ہوئے نوجوان شعراء" کے ہتھے شاعری اور پھر وہ شاعری ہماری نوجوان نسل کے ہتھے چڑھ گئی ہے۔ اس دور میں بھرپور غیبتوں کا تڑکا لگا۔ ایسے میں صاحب نے "ہماری ادبی روایات" پر چند تاریخی حواجات پیش کیے ۔ جو فقیر کے لیے انتہائی اہم تھے جنہیں یاداشت میں رکھتے ہوئے فورا نوٹ کیا اور صاحب کو پھر زحمت دی کہ اس حوالے سے مزید رہنمائی فرمائیں۔ کیونکہ اگلے ہفتے یونیورسٹی میں جس موضوع پر پریزنٹیشن دینی تھی یہ حصہ اس سے متعلق اور انتہائی موزوں تھا۔ جس پر ہم صاحب کے شکرگزار ہیں کہ آرمی جنرل ( جو ہمارے پروفیسر) کے سامنے ہمیں سرخرو کروایا۔ جس پر جنرل صاحب نے داد بھی دی۔ جو ہم نے فورا صاحب کو ایصال ثواب کی۔
بڑھتی ٹھنڈ اور ضرورت کے پیش نظر اگلا پڑاؤ چائے خانے پر تھا جس دوران نماز مغرب ادا کی۔ صاحب نے کلمہ اور نماز پڑھ کر دکھائی بلکہ ماضی کے اپنے معمولات صیام و قیام کا تذکرۂ پارسائی بھی سنایا۔ چائے کی میز پر پنجابیوں کا اپنی ماں بولی"پنجابی سے رویہ، پنجابی ادب کے زوال، پنجابی ماؤں کا کردار اور ہماری پرانی روایات جو اب رخصت ہو رہی ہیں" کا تذکرہ رہا۔ نین بھائی نے کچھ اپنا پنجابی کلام سنایا اور کچھ متروک ہوتے پنجابی الفاظ پر تبصرہ کیا۔ اب باری آئی ڈاکٹر صاحب کی جہاں کلام شاعر بزبان شاعر سنا گیا۔ ساتھ کچھ تڑکا بندۂ ناچیز نے بھی لگایا۔ کہ فقیر کو بھی کلام سنانے کا شوق ہے (شعراء کا اپنا نہیں)۔ اب صورتحال یہ بنی کہ پہلا کلام سنایا تو صاحب اور ڈاکٹر صاحب ہونقوں کی طرح دیکھنے لگے۔ آنکھوں آنکھوں میں اشارہ کیا چلو یہ سن لو پھرنہیں۔ ہم نے اگلا کلام شروع کیا تو پھر کن اکھیوں سے تکنے لگے چلو آئندہ موقع نہیں دیں گے۔ تیسرا کلام شروع کیا تو حالت یہ بنی کہ آئندہ اسے ملاقات میں نہیں لانا (یہ باتیں آنکھوں آنکھوں میں ہوئیں لفظا نہیں)۔ اس پورے دورانیہ میں فقیر نے احمد فراز، مشتاق عاجز، امان اللہ خان جدون کے کلام سنائے، کوئی جدید "تہذیب" کا شعر نہ پڑھا، لیکن مجال ہے کہ داد کا ایک لقمہ بھی دیا ہو ان دونوں احباب نے۔ ایسے میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے چائے کا دوسرا دور چلا۔ یہاں اب ڈاکٹر صاحب کا حوصلہ سردی کے آگے جواب دے رہا تھا اور صاحب کو آقاؤں کے بلاوے۔ آئندہ کے وعدوں پر رخصت و اجازت لی۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ہمارے مقام سکونت پر چھوڑا اور چل دیے۔ اپنے مکان تک جاتے جاتے سوچتا رہا کہ کیا ہی اچھا دن تھا کہ یہ ملاقات ہوگئی اور دو تین ہفتے بعد ایسے ملاقات رکھ لینے چاہیے ( اچھا کھانا اور چائے تو مل ہی جاتے ہیں)۔
اعلی روداد۔۔۔ خود اتنی اچھی لکھنی تھی تو مجھے ہی منع کر دیتے۔۔۔ یوں کھلواڑ کرنا اچھی بات ہے کیا۔۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
روداد آپ تینوں نے بہت خوب لکھی ہے ۔ فرداً فرداً داد وصول کیجے۔

لیکن ہر تحریری روداد سے یہی تاثر ملتا ہے کہ " کچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے"۔ :)

نین بھائی کو فون کرکے پوچھنا پڑے گا۔ :)
کر لیں فون۔۔۔۔ اس کے بعد ایک روداد لکھیں گے۔۔۔۔ احمد سے آدھی ملاقات۔۔۔۔۔ ;):p
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
گو کہ ہم نین بھائی سے کبھی نہیں ملے لیکن نین بھائی کی یہ تصویر دیکھ کر ہمارا فیس ریکگنیشن سافٹ وئیر بھی کریش ہو گیا۔ :p:D

یقیناً یہ کرونا اور ورک فرام ہوم کے اثرات ہیں۔ "کچھ کام کیا ، کچھ طعام کیا" ۔ :):):)
احمد بھائی یہ ڈاکٹر کے سیلفی فون کا کمال ہے جو گرگٹ کو بھی لپ اسٹک لگا دیتے ہیں۔۔۔۔ باقی میں موٹا نہیں ہوا۔۔۔ قسم سے یار۔۔۔ اب ایسے نہ کہیں۔۔۔ :silent3:
 

مقدس

لائبریرین
گو کہ ہم نین بھائی سے کبھی نہیں ملے لیکن نین بھائی کی یہ تصویر دیکھ کر ہمارا فیس ریکگنیشن سافٹ وئیر بھی کریش ہو گیا۔ :p:D

یقیناً یہ کرونا اور ورک فرام ہوم کے اثرات ہیں۔ "کچھ کام کیا ، کچھ طعام کیا" ۔ :):):)
ہیں ناں، موٹوں ہو گئے ہیں نین بھیا
 
ماشااللہ
اللہ کریم سے دعا ہے کہ یہ محبتیں اور خلوص ہمیشہ قائم و دائم رہے ۔آمین
امین جزاک اللہ حضور۔
ماشاء اللّہ ماشاء اللّہ
پروردگار آپس میں خلوص قائم رکھے ایسے ہی ہنستے مسکراتے رہیے
بہت اچھے لگ رہے ہیں تینوں :):):):):)
آمین بہت شکریہ آپ کی نظر شفقت کا۔
ڈاکٹر اور پروفیسر کے ورژن آف سٹوری کا انتظار ہے۔
حکم کی تعمیل کر دی گئی ہے حضور۔۔۔
اس بیان سے شاید یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ میں غلط کہہ رہا ہوں اور الزام تراشی ہو رہی ہے۔ جبکہ حقیقت ہی یہی ہے۔۔۔
اپنے خلاف فیصلہ خود ہی لکھا ہے آپ نے
ہاتھ بھی مل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں۔۔۔۔
نہیں۔۔۔ یہ وہ والا استاد ہے۔۔۔ "یار! اوہ بڑا استاد بندا اے۔۔۔ "
یعنی وہی
بندہ تابعدار ہے۔۔۔ تعمیل کی گئی اور تیر بھی برسا دیے گئے۔ آخر چاہتے کیا ہیں آپ۔۔۔۔
ماشاء اللہ ! خوب ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔

اللہ تعالیٰ یہ محبتیں قائم رکھے ۔ آمین
آمین شکریہ احمد بھائی آپ کی توجہ کا۔
خوبصورت تحریر، خوبصورت روداد۔ بہت لطف آیا پڑھ کر۔
شکریہ شمشاد آپ کا
اعلی روداد۔۔۔ خود اتنی اچھی لکھنی تھی تو مجھے ہی منع کر دیتے۔۔۔ یوں کھلواڑ کرنا اچھی بات ہے کیا۔۔۔
پہلے عرض کی سندا مراسلے موجود ہیں۔ تاکید آپ نے خود کی۔۔۔۔ مزید۔ صرف اتنا ہی عرض ہے کہ۔

زحمتِ ضربتِ دگر دوست کو دیجئے نہیں
گر کے سنبھل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں


دائرہ دار ہی تو ہیں عشق کے راستے تمام
راہ بدل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں


دشت کی ساری رونقیں خیر سے گھر میں ہیں تو کیوں
گھر سے نکل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں


اپنی تلاش کا سفر ختم بھی کیجیے کبھی
خواب میں چل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
 

سیما علی

لائبریرین
ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ہمارے مقام سکونت پر چھوڑا اور چل دیے۔ اپنے مکان تک جاتے جاتے سوچتا رہا کہ کیا ہی اچھا دن تھا کہ یہ ملاقات ہوگئی اور دو تین ہفتے بعد ایسے ملاقات رکھ لینے چاہیے ( اچھا کھانا اور چائے تو مل ہی جاتے ہیں)۔
بہت خوب !
اللّہ تعالیٰ محبتیں قائم رکھے سلامت رہیے ،بہت خوب اندازِ بیاں
سلامت رہیے۔۔
 

جاسمن

مدیر
زیک سے ملاقات کے بعد میں دوبارہ اسی گوشہ نشینی میں چلا گیا تھا، جہاں سے زیک سے ملاقات کے لیے مجھے نکلنا پڑا تھا۔ زندگی دو جمع دو چار کی صورت چل رہی تھی۔ صبح سے شام اور شام سے صبح کب اور کیسے ہوئی جاتی ہے کوئی احساس نہ تھا۔ بس ایک لگی بندھی سی روٹین۔۔۔ رہٹ کے بیل کی طرح۔۔۔ کہ ایک دن مجھے ایک پیغام موصول ہوا۔
حسن محمود جماعتی سے بہت سی ملاقاتیں ہیں۔ مختلف موضوعات پر حسن سے کھلی ڈلی گفتگو رہی ہے اور رہتی ہے۔ اس کا ظرف ہے کہ وہ ہماری باتیں سن بھی لیتا ہے او ر برا بھی نہیں مناتا۔ گزشتہ برس حسن سے کوئی ملاقات نہ ہوسکی۔ سبب اس کا قنوطیت تھی جو دونوں فریقین پر طاری تھی۔ درمیان میں عاطف ملک سے بھی ملاقات ہوتے ہوتے رہ گئی۔ عاطف بڑے آدمی ہیں۔ اپنے شیڈول کے مطابق ہم سے ملاقات کرنا چاہتے تھے ، اور ہم چھوٹے آدمی ہیں، مزدوری سے فرصت نہ مل سکی۔ یوں ملاقات نہ ہوسکی۔ لیکن دل میں یہ خیال ضرور رہا کہ اگلی بار جب عاطف اپنی عدیم الفرصتی سے وقت نکال کر ہم کو عزت بخشنا چاہیں گے تو ہم ہر صورت میں ان سے ملاقات کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاکہ ہماری حالت زار دیکھ کر ان کو مزدور والی بات پر یقین بھی آجائے۔

خدا جانتا ہے کہ ایسے سرد لمحوں میں کیسے حسن کے مزاج پر جمی برف پگھلی اور اس نے ایک مراسلہ ہمارے نام روانہ کیا کہ اگر بڑے لوگوں سے ملاقات کر کے اپنا نام تاریخ میں لکھوانا چاہتے ہو، تو یہ موقع ہے۔ میں نے اس کو اپنی خوش بختی سمجھا اور کہا کہ اگر غربت کدے پر تشریف لے آئیں تو دیدہ و دل فرش راہ کروں گا۔ بصورت دیگر جہاں آپ کہتے ہیں وہاں آجاؤں گا مگر پھردیدہ و دل والی بات کی ضمانت نہیں۔ حسن صاحب پروفیسر ہیں، سو فرمانے لگے، کہ مجھے تو دیدہ و دل میں کچھ ایسی دلچسپی نہیں۔ دوسرا عاطف صاحب ڈاکٹر ہیں ، اور دل کے نام سے چلتے ہیں، لہذا آپ کو باہر کسی ہوٹل میں ہی تشریف لانا ہوگا۔ میں وقت مقررہ پر متعین مقام پر پہنچا تو وہاں ان دونوں کے علاوہ ایک خلقت کو مصروف طعام پایا۔

ایک کونے میں مجھے بھی جگہ مل گئی۔ حسن سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جناب اور ڈاکٹر صاحب پاس ہی ہیں اور کسی لمحے پہنچا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بات میرے علم میں نہ تھی کہ امتداد زمانہ نے حسن کی بصارت اور یادداشت کو دھندلا دیا ہے۔ موصوف سامنے کھڑے ہوئے مجھے فون ملا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بھئی کدھر ہو۔ نظر نہیں آرہے۔ ہم نے ہاتھ ہلایا تو بجائے شرمندہ ہو کر معافی طلب کرتے۔ کمال ڈھٹائی سے کہنے لگے۔ خدا لگتی ہے کہ آپ کو پہچان نہیں پایا۔ مزید جی کو جلاتے ہوئے بولے کہ دیکھا بھی آپ کی طرف! لیکن پھر سوچا یہ آپ نہیں ہو سکتے۔ یعنی بےمروتی سی بے مروتی، حسن کو دیکھ کر صنم یاد آیا۔ ڈاکٹر صاحب سے تو خیر کیا شکوہ کرتے۔ سردی کی جانب نگاہ کرتے تو ڈاکٹر صاحب کی صحت اور جیکٹ ناکافی معلوم ہوتی تھی ۔ شاید انجانی حسیناؤں کا خیال ہی ان کو گرمی دینے کے لیے کافی تھا، جن کا ذکر ان کی شاعری میں جابجا ملتا ہے۔

بھائیوں سے بغل گیر ہو کر کرونائی وائرس ایک دوسرے میں منتقل کر چکنے کے بعد ہم اطمینان سے بیٹھے، کھانا آرڈر کیا اور دنیا جہان کی باتیں کی۔ ہر قسم کی غیر ادبی گفتگو کی۔ معاشرے کے ہر فرد کو برا بھلا کہا۔ اچھائی اور برائی کی تخصیص کے نئے معیار قائم کیے۔ کھانا کھا چکنے کے بعد حسن کے حکم کے مطابق ہم نے نماز پڑھی اور ایک چائے کے ڈھابے پر آبیٹھے۔ حسن نے تاخیرسے آنے کی وجہ بھی نماز ہی بتائی تھی۔ آج کل جس طرح کا چلن ہے۔ مجھے بھی اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دینے کے لیے دونوں بھائیوں کے سامنے نماز پڑھنی پڑی۔ کیا معلوم کس وقت دونوں کے اندر کا شاعر مر جاتا اور مسلہ (م پر پیش) جاگ جاتا۔ آخر کو احتیاط بہتر ہے۔ چائے کے ساتھ کلام بزبان شاعر کاآغاز ہوا۔ بعد میں پتا چلا یہ بھی حسن کی چال تھی۔ عاطف سے ایک غزل سننے کے بعد اس نے اپنی غزلوں کی پٹاری کھولی اور غزلیں سنا سنا کر ہم کو ادھ موا کر دیا۔ یہ ایک بہت دلنشیں شام تھی۔ عاطف سے میری پہلی ملاقات تھی اور ابھی تک آخری بھی یہی ہے ۔ اگرچہ وعدہ الی اللقاء قائم و دائم ہے۔ اس شام کی گفتگو کا ذائقہ ابھی تک قائم ہے۔

ہائے اتنا پیارا احوال!
رنگ ہی رنگ بھرے ہیں اس میں۔
محبت، خلوص، کسرنفسی، عاجزی، تراکیب کا شاندار استعمال، میٹھا میٹھا طنز، مزاح کی چاشنی،۔۔۔۔ اور بھی بہت کچھ جسے محسوس تو کیا ہے ہر بیان نہیں کیا جا رہا۔ ظاہر ہے صاحب احوال کی جیب میں تو ہمہ وقت ایسے ایسے اچھوتے خیالات، الفاظ و تراکیب۔ ہوتی ہیں لیکن ہم تہی دامن۔۔۔
مزہ آ گیا پڑھ کے۔
اللہ آپ کو دونوں جہانوں میں کامیاب کرے۔ آپ کے پیاروں کو آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ آمین!
 

جاسمن

مدیر
ڈاکٹر صاحب سے گزشتہ ملاقات جو کرونا وارڈ اور مریضوں بھرے ماحول میں ہوئی تھی طے پایا کہ اگلی بار اس چار دیواری سے باہر ایک ملاقات رکھیں گے۔ اور بندۂ ناچیز کی خواہش کہ اس کی جائے سکونت اس کام کے لیے انتہائی مناسب مقام ہے۔ اس دورانیے میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ خط و کتاب کا نا شروع ہونے والا سلسلہ جاری رہا۔ جس میں ڈاکٹر صاحب کسی کیفیت نامے پر کوئی طغرہ ارسال کرتے جس کا جواب بھی اسی انداز میں دے دیا جاتا۔ مزید جورابطے کا سلسلہ ڈاکٹر صاحب سے رہا اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ جب سے احباب کو معلوم پڑا کہ بندۂ ناچیز کی واقفیت ایک ڈاکٹر سے نکل آئی ہے، انہوں نے دنیا جہاں کے تمام اطباء پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا۔ کال یا میسیج پر تفصیل موصول ہوتی کہ ڈاکٹر صاحب سے علاج تجویز کروا دیں۔ ہم بھی کمال بے شرمی سے ڈاکٹر صاحب کو زحمت دیتے۔ یہاں ان کے حوصلے کی داد بنتی ہے کہ دن ہو یارات جب کبھی رابطہ کیا مایوس نہیں کیا گیا۔ جلد بدیر جواب موصول ہوا۔ میں حیران تھا پیغام میں بھی اور یقیناً چہرے پر ڈاکٹر صاحب کبھی شکن نہیں لائے ( اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو ماتھے پر اس قدر گنجائش نہیں ثانیا شکن لانے کے لیے جس قدر توانائی صرف ہوتی ہے اس کے لیے صاحب کی صحت اجازت نہیں دیتی). پھر اپنے علم، تعلیم اور تجربے کی بنیاد پر بہترین مشورہ دیتے "حسن بھائی بہتر ہے کسی قریبی ماہر ڈاکٹر کو دکھا دیں".
خیر ہر دوسرے اتوار یاد دہانی کروائی جاتی رہی کہ آپ کا ایک وعدۂ ملاقات تاحال موقوف ہے۔ اب کی بار پیغام بھیجا تو جھٹ سے حامی اس انداز میں بھری کہ براہ راست ہاں کہنے کی بجائے کہا "نین بھائی سے بھی پوچھیں اگر ان سے بھی ملاقات ہوجائے". نین بھائی کو میسیج کیا تو جوابا کہنے لگے " کل کس وقت اور کہاں"؟ عرض کی حضور کل نہیں پرسوں بروز اتوار۔ جس میں دوپہر کے اوقات میں اس طالب علم کو ایک کلاس پڑتی ہے اس کے معاً بعد بلا توقف تردد و تاخیر۔
اب ہم چونکہ شادی شدہ نہیں اس بات کا اندازہ نہیں بندہ قرون اولیٰ کے غلاموں کی زندگی بسر کرتا ہے۔ جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔ اسے دیکھنا ہوتا ہے کہ ان اوقات میں امور گھرداری میں سے تو معمول میں نہیں؟ یا مالکوں کی مرضی اجازت دیں نہ دیں۔ پھر صاحب بھی ایک نہیں دو جا غلامی کی زنجیروں میں بندھے ہیں ایک بیرون ملک اور دوسری اندرون خانہ۔ محمد علی جناح کے بعد پاکستانی تاریخ میں ایسا کامی اور ایماندار شخص شاید ہی کوئی آیا ہو۔ خیر صاحب کو دو گھنٹوں کی اجازت مل گئی۔
اتوار کے روز وقت مقررہ سے کچھ وقت پہلے ڈاکٹر صاحب اس حال میں موٹر سائیکل پر وارد ہوئے کی بزعم جوانی کوئی مناسب بندوبست سردی سے بچنے کا نہ تھا۔ اس طرف توجہ دلائی تو ناپسندیدگی کی چند وجوہات کے سامنے ہم خاموش ہو گئے۔ملاقات کا اگلا مرحلہ بہت دلچسپ ہے۔ جہاں ایک رند ایک پارسا اور ایماندار کے درمیان پھنس گیا۔ ڈاکٹر صاحب نماز قضا کرنے پر راضی نہ تھے دوسری جانب صاحب مقررہ وقت پر مقررہ جگہ موجود۔ صاحب سے بات ہوئی، بتایا ڈاکٹر صاحب تشریف لے آئے ہیں آپ کس وقت پہنچیں گے۔ بولے یہ ہی کوئی گن کے چار منٹ۔ یہاں ہم نے اندازہ لگایا کہ صاحب کو فلاں جگہ سے مقام لقاء تک آنے میں چار منٹ لگیں گے ٹریفک بھی ہے تو چار اور ڈال لیں۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر صاحب حضور الہ میں سر بسجود تھے۔ ادھر جناح کے پیروکار وقت مقررہ کے عین مطابق چار منٹ میں وہاں موجود۔ بندہ حیران الہی ماجرہ کیا ہے؟ یہ شخص فلائنگ کار پر آیا ہے یا پہلے سے وہیں موجود انتظار میں تھا کہ کب کال آئے۔ خیر بتایا کہ بھیا یہ ہی قریب میں دو گلی آگے موجود ہیں ابھی آئے۔ جائے وقوعہ پر پہنچے تو صاحب غیر موجود۔ سامنے بغیر کسی سویٹر کوٹ کے ایک نوجوان براجمان تھا جس کی ہیئت پر اسے قطعی طور پر نظرانداز کرتے ہوئے ہم نے نگاہ دور تک دوڑائی لیکن مطلوبہ صارف موجود نہیں۔ کال کی بھیا کہاں ہیں بولے آپ کے سامنے۔ اب جو نقاب رخ سے اٹھایا تو واقعی وہ "سجیلا نوجوان" اپنے صاحب تھے۔ جناح کی طرز پر پہلے تو جھڑکے کہ آپ وقت کی پابندی نہیں کرتے۔ عرض کی حضور ہم پاکستانی وقت کے مطابق عین مقررہ وقت پر پہنچے ہیں (طے شدہ وقت سے محض 15، 20 منٹ بعد میں آنا پاکستانی مقررہ وقت ہے، ہاں اگر گھنٹہ ڈیڑھ بعد آئے تو اسے کہہ سکتے ہیں کہ دس پندرہ منٹ تاخیر سے آئے ہیں)۔ کھانے کی میز پر بیٹھے تو ڈاکٹر صاحب اور صاحب ایک دوسرے کو تاکنے بیٹھ گئے کیونکہ یہ ان احباب کی آپس میں پہلی ملاقات تھی۔ چند ساعتیں اس کیفیت میں گزریں تو مجبورا کھنگورا مارنا پڑا کہ صاحب تھوڑا فلمی ماحول بن گیا ہے۔ یہاں ابتدائیے کا حکم نامہ دیا گیا اور اب باقاعدہ گفتگو کا پہلا دور شروع ہوا۔ جس میں ابتداء صاحب نے اپنے معمولات زندگی پر روشنی ڈالی اور ڈاکٹر صاحب نے اپنی مصروفیات مختصرا ذکر کیں۔ اب کھانے کی آمد پر گفتگو کچھ سماجی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی موضوعات پر رہی۔ لیکن اس میں کچھ غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال پر یہ حصہ کاروائی سے حذف کیا جارہا ہے۔ کھانے کے بعد "ہماری ادبی روایات اور زوال" پر تبادلۂ خیال رہا۔ ہماری نوجوان نسل جس سمت جارہی ہے۔ ایسے میں "ابھرتے ہوئے نوجوان شعراء" کے ہتھے شاعری اور پھر وہ شاعری ہماری نوجوان نسل کے ہتھے چڑھ گئی ہے۔ اس دور میں بھرپور غیبتوں کا تڑکا لگا۔ ایسے میں صاحب نے "ہماری ادبی روایات" پر چند تاریخی حواجات پیش کیے ۔ جو فقیر کے لیے انتہائی اہم تھے جنہیں یاداشت میں رکھتے ہوئے فورا نوٹ کیا اور صاحب کو پھر زحمت دی کہ اس حوالے سے مزید رہنمائی فرمائیں۔ کیونکہ اگلے ہفتے یونیورسٹی میں جس موضوع پر پریزنٹیشن دینی تھی یہ حصہ اس سے متعلق اور انتہائی موزوں تھا۔ جس پر ہم صاحب کے شکرگزار ہیں کہ آرمی جنرل ( جو ہمارے پروفیسر) کے سامنے ہمیں سرخرو کروایا۔ جس پر جنرل صاحب نے داد بھی دی۔ جو ہم نے فورا صاحب کو ایصال ثواب کی۔
بڑھتی ٹھنڈ اور ضرورت کے پیش نظر اگلا پڑاؤ چائے خانے پر تھا جس دوران نماز مغرب ادا کی۔ صاحب نے کلمہ اور نماز پڑھ کر دکھائی بلکہ ماضی کے اپنے معمولات صیام و قیام کا تذکرۂ پارسائی بھی سنایا۔ چائے کی میز پر پنجابیوں کا اپنی ماں بولی"پنجابی سے رویہ، پنجابی ادب کے زوال، پنجابی ماؤں کا کردار اور ہماری پرانی روایات جو اب رخصت ہو رہی ہیں" کا تذکرہ رہا۔ نین بھائی نے کچھ اپنا پنجابی کلام سنایا اور کچھ متروک ہوتے پنجابی الفاظ پر تبصرہ کیا۔ اب باری آئی ڈاکٹر صاحب کی جہاں کلام شاعر بزبان شاعر سنا گیا۔ ساتھ کچھ تڑکا بندۂ ناچیز نے بھی لگایا۔ کہ فقیر کو بھی کلام سنانے کا شوق ہے (شعراء کا اپنا نہیں)۔ اب صورتحال یہ بنی کہ پہلا کلام سنایا تو صاحب اور ڈاکٹر صاحب ہونقوں کی طرح دیکھنے لگے۔ آنکھوں آنکھوں میں اشارہ کیا چلو یہ سن لو پھرنہیں۔ ہم نے اگلا کلام شروع کیا تو پھر کن اکھیوں سے تکنے لگے چلو آئندہ موقع نہیں دیں گے۔ تیسرا کلام شروع کیا تو حالت یہ بنی کہ آئندہ اسے ملاقات میں نہیں لانا (یہ باتیں آنکھوں آنکھوں میں ہوئیں لفظا نہیں)۔ اس پورے دورانیہ میں فقیر نے احمد فراز، مشتاق عاجز، امان اللہ خان جدون کے کلام سنائے، کوئی جدید "تہذیب" کا شعر نہ پڑھا، لیکن مجال ہے کہ داد کا ایک لقمہ بھی دیا ہو ان دونوں احباب نے۔ ایسے میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے چائے کا دوسرا دور چلا۔ یہاں اب ڈاکٹر صاحب کا حوصلہ سردی کے آگے جواب دے رہا تھا اور صاحب کو آقاؤں کے بلاوے۔ آئندہ کے وعدوں پر رخصت و اجازت لی۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ہمارے مقام سکونت پر چھوڑا اور چل دیے۔ اپنے مکان تک جاتے جاتے سوچتا رہا کہ کیا ہی اچھا دن تھا کہ یہ ملاقات ہوگئی اور دو تین ہفتے بعد ایسے ملاقات رکھ لینے چاہیے ( اچھا کھانا اور چائے تو مل ہی جاتے ہیں)۔

واہ بھئی ایک نہیں دو دو احوال۔ بہت خوبصورت۔ لطیف انداز تحریر۔ لطف آیا۔
 

اے خان

محفلین
گو کہ ہم نین بھائی سے کبھی نہیں ملے لیکن نین بھائی کی یہ تصویر دیکھ کر ہمارا فیس ریکگنیشن سافٹ وئیر بھی کریش ہو گیا۔ :p:D

یقیناً یہ کرونا اور ورک فرام ہوم کے اثرات ہیں۔ "کچھ کام کیا ، کچھ طعام کیا" ۔ :):):)
گولڈن پرل کا کمال لگتا ہے۔ان کے بال بھی ایسے نہیں تھے۔بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وغیرہ وغیرہ
 

اے خان

محفلین
حالانکہ "پیغامِ زبانی اور ہے":LOL:

اور آپ نے اس باہر کو بعینہٖ "باہر" سمجھ کے ہمیں کھلے آسمان تلے سردی میں ٹھٹھرنے پر مجبور کیا:cautious:

ہن معصومیت ویکھو:unsure:

شکر ہے،آپ نے انجانی حسیناؤں کے تذکرے پر ہی اکتفا کر لیا۔ورنہ :eek:


اور میں کوشش کروں گا کہ یونہی رہے:p

تفنن برطرف،ملاقات کیلیے بہت بہت شکریہ۔
اور احوال تحریر کرنے پر مزید شکریہ:)
IMG-20201213-164232-01.jpg
ماشاءاللہ سارے اتنے گورے ہوگئے ہیں۔عاطف بھائی مسکرانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ عاطف ملک بھائی ایسا ہوتا ہے دل چھوٹا نہ کریں یہ حسینائیں جنہیں دن رات یاد کرتے کرتے آپ اتنے کمزور ہوگئے ہیں سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ہمارے ساتھ بھی ہوا تھا۔نین بھائی تو اچھے ہیں ۔ حسن محمود جماعتی بھائی ماشاءاللہ اب عالم ہوگئے ہیں فیس بک پر دیدار ہوتا رہتا ہے۔
 

اے خان

محفلین
لیکن اس میں کچھ غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال پر یہ حصہ کاروائی سے حذف کیا جارہا ہے۔
نیرنگ خیال بھائی سے میری ملاقات کے دوران سارے الفاظ غیر پارلیمانی تھے۔ سوبہت سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ رواداد شریک نہیں ہونی چاہیے۔
 
Top