قتیل شفائی پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ - قتیل شفائی

فرخ منظور

لائبریرین
خوشی بہت شکریہ آپ نے بالکل درست کہا کہ یہ ایک فلمی غزل ہے اور اسے اقبال بانو نے گایا تھا۔ میڈم نورجہاں نے نہیں۔ میں نے غلط لکھ دیا تھا۔ شکریہ تصحیح کے لئے
 

فاتح

لائبریرین
خوشی بہت شکریہ آپ نے بالکل درست کہا کہ یہ ایک فلمی غزل ہے اور اسے اقبال بانو نے گایا تھا۔ میڈم نورجہاں نے نہیں۔ میں نے غلط لکھ دیا تھا۔ شکریہ تصحیح کے لئے
تصحیح ہم نے کی اور شکریے آپ خوشی صاحبہ کے ادا کیے جاتے ہیں۔ چہ خوب!
 

فاتح

لائبریرین

ارے آپ نے کہاں تصحیح کی ہے؟ مجھے تو آپ کی تصحیح کہیں نظر نہیں آئی کیا آپ نے اپنے ساتھ تصحیح کو بھی سلیمانی ٹوپی پہنا رکھی ہے؟ ;)
حضور! لگتا ہے آج کل آپ سوائے اپنے شروع کردہ دھاگوں کے کچھ پڑھ ہی نہیں رہے۔;)
ناچیز نے یہاں آپ پر نکتہ چینی کے بجائے آپ کو سراہتے ہوئے :)laughing:) یہی کہنے کی جسارت کی تھی:
فاتح نے کہا:
مجھ سمیت اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ "پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ" نور جہاں کا گایا ہوا نغمہ ہے مگر درست یہ ہے کہ یہ نغمہ اقبال بانو نے گایا تھا۔ بعد ازاں نصرت فتح علی خان نے بھی اس پر ہاتھ صاف کیے۔
اس سے پہلے فرخ صاحب قتیل شفائی کا لکھا ہوا یہ نغمہ پسندیدہ کلام میں ارسال کر چکے ہیں۔
:rollingonthefloor::rollingonthefloor:
 

فرخ منظور

لائبریرین
حضور! لگتا ہے آج کل آپ سوائے اپنے شروع کردہ دھاگوں کے کچھ پڑھ ہی نہیں رہے۔;)
ناچیز نے یہاں آپ پر نکتہ چینی کے بجائے آپ کو سراہتے ہوئے :)laughing:) یہی کہنے کی جسارت کی تھی:

:rollingonthefloor::rollingonthefloor:

جی درست فرمایا۔ ہم وہاں ہیں جہاں کہ ہم کو اب، صرف اپنی خبر ہی آتی ہے
:)
 
Top