کیا وزل کو اردو شاعری میں وہ مقام حاصل ہے جسکی وہ متقاضی ہے؟

  • ہاں

  • نہیں

  • سوچ کر بتاؤں گا


نتائج کی نمائش رائے دہی کے بعد ہی ممکن ہے۔
وزل: ایک نئی صنفِ سخن کا تعارف

محمد خلیل الرحمٰن​

نیا زمانہ ہے ، نیا دور ہے، نئے اوقات ہیں۔ یاروں نے ہر فیلڈ میں روشِ کہنہ کو چھوڑ کر نئی طرزیں نکالی ہیں، نئی روشیں اپنالی ہیں۔ادبِ عالیہ اور ادبِ سافلہ بھی اس نئی ہوا سے نہ بچ پائے ہیں۔ جدید نظم، نثری نظم، جدید افسانہ، علامتی افسانہ ، ملامتی صوفی اور دیگر اصنافِ سخن کی ایجاد و توجیہ کا کام تیزی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔یہاں تک کہ صنفِ نازک اور صنفِ غزل بھی اس سے نہ بچ پائے ہیں۔ صنفِ نازک کا تو کہنا ہی کیا، کہ ایسی ایسی نئی صورتیں وجود میں آرہی ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں۔ اللہ بچائے حسن والوں سے۔صنفِ نازک گو اصنافِ سخن کا ہمیشہ سے موضوع رہی ہیں لیکن ہمارے اس مضمون کا براہِ راست موضوع نہیں لہٰذا ان کا تذکرہ درمیان میں چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔


غزل جس کا موضوع شروع ہی سے محبوب سے باتیں کرنا تھا اسے بھی ستم ظریفوں نے بدلنا چاہا اور اس میں دنیا جہان کے موضوعات شامل کرنے کی ایک مہم چلائی گئی جو بضفلِ خدا بری طرح ناکام ہوئی۔ اس ناکامی کے بعد جدید اور نثری نظم کی طرز پر جدید اور نثری غزل متعارف کروائی گئیں اور اب ان میں روز افزوں ترقی و تنوع دیکھنے میں آرہا ہے۔


اس نئی صورتِ احوال سے اربابِ سخن تو پریشان تھے ہی ، کل صبح جب ہماری آنکھ کھلی تو ہم بھی پریشان ہوگئے۔ ابھی آنکھیں کھول کر خالی الذہنی کے عالم میں خلا میں گھو رہے تھے کہ بیگم نے عینک ہاتھ میں تھمادی۔ اب جو چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا تو وہی کاٹھ کباڑ سے بھری ہوئی دنیاء نظر آئی اور ایک نیا خیال دل میں گھر کر گیا۔ اے عضوِ معطل! اُٹھ اور اُٹھ کر نئی غزل کی تلبیس و تسمیہ کا کارِ عظیم سر انجام دے۔

غزل اور ہزل کی قدیم اصنافِ سخن کے ساتھ ہم اس نئی صنف کا نام وزل تجویز کرتے ہیں اور مندرجہ ذیل مضمون میں اس کی وجہِ تسمیہ اور دیگر اوصاف بیان کرنے کی حتیٰ الوسع کوشش کرتے ہیں۔

اردو زبان مین کسی بھی لفظ کے ساتھ اسکے پہلے حرف کو واو سے بدل کر استعمال کرنے کا طریقہ نیا نہیں ۔ اس دوسرے لفظ کو عموماً بے معنی سمجھا جاتا ہے جو کہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ یہ لفظ اس پہلے لفظ کا ہمزاد ہوتا ہے اور اس لفظ کے مساوی اور مخالف معنی رکھتا ہے۔ غزل کے ساتھ وزل کا لفظ استعمال کیا جانا چاہیے۔ اسی وزل کو جدید یا نثری غزل بھی کہا جاسکتا ہے۔ذیل میں وزل کے خواص درج کیے جاتے ہیں۔


· ایسے الفاظ و تراکیب کا استعمال جو اب متروک ہیں یا کبھی انہیں استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئی

· ایسے الفاظ کا استعمال جو اردو زبان کے لیے نئی دریافت کا درجہ رکھتے ہیں

· ایسی تراکیب کا استعمال جو اساتذہ کے لیے بھی اچنبھے کا باعث ہیں

· اشعار کو بامعنی بنانے کی مصنوعی مساعی سے گریز

· غزل کے برعکس ضروری نہیں کہ شعر کے مضمون کا مکمل ابلاغ بھی ہورہا ہو

· ایک ہی وَزَل میں دو یا دوسے زیادہ بحور کا استعمال

· غزل کے برعکس قافیے پر قافیہ تنگ کردینا یعنی آزادانہ قافیوں کا استعمال

· ردیف کی جگہ وزل کی خصوصیت ‘‘ ردیفِ خفی ’’ کا استعمال ، یعنی

o ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے

·



اس نئی صنفِ سخن کو متعارف کروانے والوں میں سرِ فہرست تو امام المتوزلین ( بروزنِ اما م المتغزلین ) جناب استاد محبوب نرالے عالم کا ہے۔ پھر دوسرا نہیں تو تیسرا نام فدوی کا ہونا چاہئے۔ استاد محبوب نرالے عالم کے کلام سے کچھ چیدہ اشعار اس ضمن میں پیش ہیں۔

حسن کو آفتاب میں ضم ہوگیا ہے
عاشقی کو ضرور بے خودی کا غم ہوگیا ہے


پوچھو ہو رشتہ ہم سے فسردہ بہارِ دل
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے مزار کے​

مزید

تم بھلا باز آؤ گے غالب
راستے میں چڑھاؤ گے غالب
کعبہ کِس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی

استاد محبوب نرالے عالم کا فارسا کلام بھی قابلِ تعریف ہے۔


نظر خمی خمی، نظر گمی گمی، نظر سمی سمی
دھمک سٹک فزوں، فضا فسردنی، حیا لبم لبم
عشر خموشگی، خمو عشر فشاں، نمو زدم زدم
قلی وقل ونی، وقل فنوقنی، قنا قلم قلم
نظر خمی خمی، نظر گمی گمی، نظر سمی سمی



اس عارفانہ کلام کے بعد (جو ہم نے جناب ابنِ صفی کی کتاب ڈاکٹر دعاگو سے مستعار لیا ہے) ہم کچھ اپنی نگارشات بھی پیش کرنے کی جسارت کریں گے۔ فی الحال ایک وزل پیشِ خدمت ہے۔

‘‘گو نو ا گو ’’ میں زے بھی آتی ہے
زے لگائیں تو بحر جاتی ہے

کیسا ‘‘لمگشتگی’’ کا عالم ہے
نیند آتی نہ نیند جاتی ہے

ہار کر بھی جو ہارنا چاہوں
جیت ناخن کھڑی چباتی ہے

ایک بکرا ہی چاہیے تھا ‘‘ وَر’’
اس سے سستی تو گائے آتی ہے

اُس ‘‘ نے آخر کو ہولیا خاموش’’
بات کرنی اُسے بھی آتی ہے

‘‘شعر گوئی پہ ہم ہی کیوں مائل’’
تُک (کی) بندی تو سب کو آتی ہے

‘‘دل ہتھیلی میں پیش ’’ کرتے ہی
‘‘نیک نام’’ اپنی داستاں کی ہے

روندنے کو ہی لیک (ن) آجاتے
شاعری روز کی کہانی ہے


نوٹ کیجیے کہ کس خوبصورتی کے ساتھ ہم نے لیکن کی جگہ ‘‘لیک’’ اور ورنہ کی جگہ‘‘ ور’’ استعمال کیا ہے۔ مزید یہ کہ اردو زبان کو نئے الفاظ سے روشناس کروانے کا ذمہ بھی چونکہ وزل نے ہی لیا ہے لہٰذا ہم ایک نیا لفظ‘‘ لمگشتگی ’’ بھی استعمال کیا ہے ۔ گو ابھی ان الفاظ کے معنی دریافت نہیں ہوپائے لیکن ہمیں یقین ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام الناس ان الفاظ کو بامعنی بھی بنا دیں گے۔

ہمیں قوی امید ہے کہ وزل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے سبب موجودہ شعراء گھبرا کر غزل کہنا چھوڑ دیں گے اور وزل کی طرف لپکے ہوئے آئیں گے نیز وہ دن دور نہیں جب اردو زبان و ادب نثری نظم اور وزل کے حوالے سے جانے پہچانے جائیں گے۔

ویکی پیڈیا کی طرز پر ہم چاہیں گے کہ دیگر وزل گو شعراء بھی اپنے آپ کو اس دھاگے میں متعارف کروائیں گے اور اپنا نمائندہ کلام پیش کرنے سے نہیں چوکیں گے۔
(جاری)


۔
 
معذرت خواہ ہوں محمد خلیل الرحمٰن صاحب ۔ اس فقیر کو ایسی ناگفتنی سے معاف ہی رکھئے۔

آپ کا سوال نامہ بجائے خود محلِ نظر ہے۔ ’’وزل‘‘ نام کی کوئی صنف اردو شاعری میں وجود ہی نہیں رکھتی ( مقام کا سوال تو وجود سے مشروط ہے)۔


جناب الف عین کیا فرماتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نقل:
کیا وزل کو اردو شاعری میں وہ مقام حاصل ہے جسکی وہ متقاضی ہے؟
  1. ہاں
  2. نہیں
  3. سوچ کر بتاؤں گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
اس وزل گو کے بارے میں چند ایک معلومات ہم بهی فراہم کئے دیتے ہیں- موصوف نے آج تک کسی ایک کتاب کا مطالعہ نہیں فرمایا اور حضرت کسی پنجابی خاندان سے تعلق رکهتے ہیں اردو سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تها - سنا ہے ایک سال سے ماتها پهوڑتے پهر رہے - بیچارے کم عقل علم والوں میں آ گهرے مگر ایسے ڈهیٹ پائے گئے کہ ایک نئی صنف سخن ایجاد کر چلے - سبحان اللہ -
 
اس وزل گو کے بارے میں چند ایک معلومات ہم بهی فراہم کئے دیتے ہیں- موصوف نے آج تک کسی ایک کتاب کا مطالعہ نہیں فرمایا اور حضرت کسی پنجابی خاندان سے تعلق رکهتے ہیں اردو سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تها - سنا ہے ایک سال سے ماتها پهوڑتے پهر رہے - بیچارے کم عقل علم والوں میں آ گهرے مگر ایسے ڈهیٹ پائے گئے کہ ایک نئی صنف سخن ایجاد کر چلے - سبحان اللہ -

محمد خلیل الرحمٰن صاحب کی ’’وزل‘‘ سے اختلاف مجھے بھی ہے، تاہم اختلاف کا منقولہ بالا انداز اور لہجہ مستحسن نہیں ہے۔
 
اتنا کافی نہیں ادب سے معافی مانگو عظیم۔ یہ اتنا زہریلا اندازکہاں سے سیکھاہے ۔تمہیں یہ ہرگز ہرگز شایاں نہیں۔اختلاف تو ہر جگہ ہوسکتا ہے لیکن" با ادب بانصیب "کے مصداق بنو "بے ادب بے نصیب "کے مصداق نہ بنو۔
 

عظیم

محفلین
اتنا کافی نہیں ادب سے معافی مانگو عظیم۔ یہ اتنا زہریلا اندازکہاں سے سیکھاہے ۔تمہیں یہ ہرگز ہرگز شایاں نہیں۔اختلاف تو ہر جگہ ہوسکتا ہے لیکن" با ادب بانصیب "کے مصداق بنو "بے ادب بے نصیب "کے مصداق نہ بنو۔

بابا سے ۔ وہ کیا ہے نا مجھے دکھاوا کرنا نہیں آتا سمجھنے والے ادب کو سمجھ جایا کرتے ہیں ۔ گھٹنوں میں گرنے والے ہمیشہ اپنی نظروں سے گرا کرتے ہیں ادب کا تقاضہ تو یہ ہے صاحب ۔ کہ بڑوں سے اتنی لمبی چوڑی بات مت کی جائے ۔ اب آپ جیسے دوست ہوں تو ہم ایک کی بجائے دس سطریں اور لکھ دیں ۔
 

فاتح

لائبریرین
:)
جو لکھنا چاہتا تھا وہ یعقوب آسی صاحب لکھ چکے
معذرت خواہ ہوں محمد خلیل الرحمٰن صاحب ۔ اس فقیر کو ایسی ناگفتنی سے معاف ہی رکھئے۔

آپ کا سوال نامہ بجائے خود محلِ نظر ہے۔ ’’وزل‘‘ نام کی کوئی صنف اردو شاعری میں وجود ہی نہیں رکھتی ( مقام کا سوال تو وجود سے مشروط ہے)۔
 

فاتح

لائبریرین
محمد خلیل الرحمٰن بھائی، ہماری رائے میں اصنافِ سخن یوں ایجاد نہیں ہوا کرتیں کہ کچھ اصول بنا کر لکھ دیے جائیں کہ آیندہ سے ان پر عمل کرتے ہوئے اس طرح لکھنا شروع کر دیا جائے۔۔۔
خواہ وہ آزاد نظم ہو یا ہائیکو کی اردو میں آمد، نئی صنف ایجاد کرنے کا ایک ہی طریق ہے کہ آپ اس طور پر لکھنا شروع کر دیں اور اگر آپ کے کلام میں کوئی خوبی اہل زبان کو بھا گئی اور وہ چیز قارئین کو پسند آ گئی تو دیگر لوگ بھی اس انداز کو اپنا کر اس میں لکھنے کی کوششیں کرنے لگیں گے۔
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
آپ سب حضرات سے معافی کا خواستگار ہوں ۔ ہو سکے تو معاف کر دیجئے گا ۔ در اصل محمد خلیل الرحمن صاحب نے میری ایک تک بندی کا استعمال کیا تھا پیروڈی کے لئے میں سمجھا شاید وہ مجھے وزل گو کے خطاب سے نواز رہیں ہیں ۔ اگر ایسا ہوتا بھی تو مجھے اسے اپنی انا کر مسئلہ نہیں بنانا چاہئے تھا ۔ آپ سب صاحبان سے ایک بار پھر معذرت طلب کرتا ہوں ۔ یہ سب ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا ۔
بہت شکریہ ۔
 
لا حول و لا قوۃ الا باللہ! کیا اردو ادب اتنا حساس ہے کہ اس میں طنز و مزاح کی بھی گنجائش نہیں؟ یہاں تو ایسے احتجاجی مراسلے دیکھنے کو ملے گویا کسی لا دین نے کسی مذہبی مجلس میں وجود خدا سے انکار کی کاری ضرب لگا دی ہو۔ اس لڑی کے مقفل ہونے کا سبب کم از کم ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ :) :) :)
 

سید ذیشان

محفلین
غزل وزل پر تو بحث چلتی رہے گی۔ ہمیں تو ایک واقعہ یاد آ گیا، شائد اس سے دھاگے کا ماحول کچھ بہتر ہو:
(حوالہ: آبِ حیات از محمد حسین آزاد)

پس منظر: غالب پر ان کے ہم عصر اعتراضات کرتے تھے کہ ان کے اشعار بے معنی ہیں۔ حکیم آغا جان عیشؔ نے ایک مدرسے کے استاد کو ”ہدہد“ تخلص دے کر اسے شاعر بنوایا اور مشاعرے میں اشعار پڑھوائے جو کہ دراصل عیشؔ نے ہی لکھے ہوتے تھے۔ یہ اشعار اکثر مزاحیہ ہوتے۔

آبِ حیات سے اقتباس: ”حکیم صاحب کے اشارہ پر ہدہد بلبلانِ سخن کو ٹھونگیں بھی مارتا تھا۔ چنانچہ بعض غزلیں سرِ مشاعرہ پڑھتا تھا۔ جس کے الفاظ بہت شستہ اور رنگین لیکن شعر بالکل بے معنی- اور کہہ دیتا کہ یہ غالب کے انداز میں غزل لکھی ہے۔ ایک مطلع یاد ہے:

؎
مرکزِ محورِ گردوں بہ لبِ آب نہیں
ناخنِ قوسِ قزح شبہۂ مظراب نہیں

غالب مرحوم تو بہتے دریا تھے۔ سنتے تھے اور ہنستے تھے۔“
 
آخری تدوین:
غالباً صاحبِ آب حیات ہی جناب غلام ھمدانی (المعروف بہ مصحفی) کی زود گوئی کے تذکرے میں فرماتے ہیں کہ موصوف مشاعرے سے قبل رات کئی (شاید آٹھ دس ) غزلیں کہہ لیتے تھے۔ ایک منتخب کر کے باقی بیچ دیتے تھے۔۔۔۔۔(واللہ اعلم)
 

محمداحمد

لائبریرین
خلیل الرحمٰن بھائی آپ فکر نہ کریں، تمام اعلیٰ و ارفع افکار کو شروع میں ایسے ہی شد و مد کے ساتھ رد کیا جاتا ہے لیکن پھر آہستہ آہستہ دنیا گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ :)

بشرطِ ہمت و استطاعت ہم بھی آپ سے اس نئی صنف کی مبادیات سمجھنے کی سعی کریں گے۔ :)
 
Top