واہ کینٹ میں خود کش حملہ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
واہ کینٹ میں دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو واصل جہنم کردیا اور 20 کے قریب بیگناہ انسانوں کو شہید کردیا اور 40 کے لگ بھگ لوگ زخمی ہیں۔
یہ انسانیت دشمن مزدوروں کے بھی نہیں چھوڑرہے۔
 

نوید صادق

محفلین
انا للہ و انا الیہ راجعون

جیو کی رپورٹ 52 اموات ہے۔
باقی اللہ خیر کرے۔ وہاں تو چھٹی کے وقت ہزاروں لوگ ہوتے ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
انا للہ و انا الیہ راجعون ہ

انتہائی افسوس اور دکھ کا وقت ہے۔ دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ بیچارے بیگناہ مزدورں پر حملہ کر کے ان کو شہید کر دیا۔ کتنے خاندان اجڑ گئے، کتنے خاندان برباد ہو گئے۔ اللہ سے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ شہیدوں پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، زخمیوں کو صحت عطا فرمائے اور پسماندگان کو ہمت اور صبر عطا فرمائے۔

اور یہ ظالم اور جاہل اور بدبخت جنہوں نے یہ حملہ کروایا سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسلام کی خدمت کی، اللہ کی لعنت ہو ان پر۔
 

مغزل

محفلین
خدا غریقِ رحمت کرے شہداء کو اور پسماندگان کو صبر کی توفیق دے
اور ان نام نہاد مولویوں ، جہادیوں کو مالک سیدھا راستہ دکھائے (اٰمین)
 

نوید صادق

محفلین
تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے واہ فیکٹری میں ہونے والے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ۔۔(بی بی سی)

اللہ ہی ان لوگوں کو سیدھا راستہ دکھائے۔
 

شمشاد

لائبریرین
ظالمو ان غریب مزدوروں، فوجی سپاہیوں اور عام عوام کو کیوں مارتے ہو، تمہیں اللہ کا خوف محسوس نہیں ہوتا۔

مارنا ہی ہے تو ان کو مارو جو تمہارے خلاف پالیسیاں بناتے ہیں، جو تمہارے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ ان غریبوں کو مار کر تمہیں کیا مل جائے گا سوائے اس کے پسماندگان ساری عمر تمہیں بد دعائیں دیتے رہیں گے۔
 

زھرا علوی

محفلین
بلکل صیحح کہا آپ نے شمشاد بھائی آخر ان غریب لوگوں نے ان کا کیا بگاڑا ہے۔۔۔۔انہیں کس جرم کی سزا مل رہی ہے کیا محض مسلمان ہونے کی ، پاکستانی ہونے کی۔۔۔
 

نوید صادق

محفلین
مارنے والے لعنتی بھی تو مسلمان کہاتے ہیں۔ نجانے ان کا کیسا اسلام ہے۔ اسلام تو اس طرح غیر مسلموں کی جان لینے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔
 

حسن علوی

محفلین
انا للہ و انا الیہ راجعون

جیو کی تازہ ترین خبروں کے مطابق 70 سے زائد افراد شہید اور اسّی سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

آج کا دن بھی پاکستان کی تاریخ میں انسانیت سوز ظلم کی نظر ہوا۔ کتنے ہی بچے یتیم ہو گئے، عورتیں بیوہ ہو گئیں اور ماؤں کے لختِ جگر ان سے چھین لئے گئے۔ آج پھر کئی معصوم بچوں کی آنکھیں ہمیشہ کے لیئے منتظر ہو گئیں کہ کب ابو آئیں گے اور وہ ان کے ساتھ گھومنے جائیں گے۔
میری دل سے بد دعا ھے ایسے تمام خودکش حملہ آوروں کے لیئے کہ خدا انہیں جہنم رسید کرے۔
اور خدا پاکستان اور اس کے باسیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)
 

زیک

مسافر
وقت آ گیا ہے کہ ان طالبان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔

میرا بچپن واہ کینٹ میں گزرا ہے اور وہاں فیکٹری سے چھٹی کے وقت ہزاروں ورکرز کو سائیکلوں پر جاتے دیکھا ہے۔ ان evil حیوانی طالبان نے ان کو بھی نہ چھوڑا۔

اگر کسی نے طالبان کو سمجھنے یا ان کی حمایت کرنے کی کوشش کی اس تھریڈ‌ میں تو اسے ان 52 مزدوروں کی موت کا حساب بھی دینا ہو گا۔
 

چاند بابو

محفلین
واہ میں اسلحہ فیکٹری کے قریب دو خودکش حملے: 70 افراد ہلاک، 67 زخمی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے پینتیس کلومیٹر دور واقع پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے مرکزی دروازوں پر دو خودکش حملے ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان خود کش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھاون ہے جبکہ 67 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
واہ آرڈیننس فیکٹری پاکستان کی سب سے بڑی اسلحہ فیکٹری ہے جہاں لگ بھگ پچیس ہزار افراد کام کرتے ہیں۔
پی او ایف ہسپتال کے انفارمیشن ڈیسک سے ڈاکٹر مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک اٹھاون افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان میں سے چار افراد ایسے ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی۔

ناصر خان درانی نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سارے سویلین تھے۔ ان میں کوئی فوجی اہلکار شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملے اُس وقت ہوئے جب شفٹ تبدیل ہو رہی تھی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق واہ فیکٹری کے گیٹ نمبر ون سے ملحق مسجدِ عثمان کے اندر پولیس کو خود کش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس اور دھماکوں میں استعمال کیا جانے والا سامان بھی ملا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ خود کش حملہ آور حملوں سے قبل اسی مسجد میں تھے اور یہیں سے باہر نکلے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے واہ فیکٹری میں ہونے والے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ناصرخان درانی نے کہا کہ باجوڑ اور دوسرے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائی کے بعد پنجاب اور بالخصوص راولپنڈی پولیس کو ریڈ الرٹ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس فیکٹری ایک فوجی علاقہ ہے اس لیے وہاں سکیورٹی کے فرائض سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہی انجام دیتےہیں۔

ناصر خان درانی کے مطابق یہ خودکش حملے اُسی نوعیت کے ہیں جس طرح دو روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک ہسپتال میں ہوا تھا۔

اس سے قبل واہ کینٹ کے ڈی ایس پی شہباز خان نےہلاکتوں کی تعداد چالیس بتائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں خودکش حملے تھے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ڈی ایس پی شہباز خان کے مطابق پہلا دھماکہ مرکزی گیٹ پر جبکہ دوسرا دھماکہ گیٹ نمبر ایک پر ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آوروں نے خود کو اُس وقت دھماکے سے اُڑا دیا جب ملازمین چھٹی کرکے گھروں کے لیے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خود کش حملہ آوروں کی لاشیں بھی وہاں پر پڑی ہوئی ہیں جو قابل شناخت نہیں ہیں۔

اس فیکٹری میں پاکستانی افواج کے لیے اسلحہ تیار کیا جاتا ہے اور اس علاقے میں سکیورٹی انتہائی سخت ہوتی ہے۔ ان خودکش حملوں کے بعد فوجی اہلکاروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے علاوہ کسی کو بھی جائے حادثہ پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان خود کش حملوں میں زخمیوں میں سے پچیس افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

واہ کینٹ میں واقع پی او ایف ہسپتال کے باہر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے جن کو سکیورٹی نے ہسپتال کے اندر جانے سے روک دیا ہے۔ وہ افراد جن کے عزیز ان خودکش حملوں میں زخمی حالت میں ہسپتال میں ہیں ہسپتال کے باہر غصے کے عالم میں ہیں۔

عینی شاہد عبدالشکور نے ہمارے ساتھی ذیشان حیدر کو بتایا: ’ہمیں دو بج کر پینتیس منٹ پر چھٹی ہوتی ہے اور یہ دھماکے چھٹی ہونے کے ایک نہیں تو دو منٹ بعد ہوئے ہیں۔ مجھ سے کچھ افراد آگے جب لوگ باہر نکلے ہیں تو ایک زور دار آواز آئی۔ ہم جب باہر نکلے تو ہم نے لوگوں کو ایسے بیٹھا دیکھا جیسے اپنی حفاظت کر رہے ہوں اور جب ہم نے ان کو ہاتھ لگایا تو وہ فوت ہو چکے تھے۔ وہ لوگ بالکل سفید رنگ کے ہو گئے تھے اور ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی مجسمے ہوں۔‘

’ہم لوگ زخمیوں کو منتقل کر رہے تھے لیکن وہ لوگ نہ تو کراہ رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ ان کو کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔‘

دھماکوں کے ایک عینی شاہد رانا تنویر نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ دھماکوں کے فوری بعد وہ جائے وقوع پر پہنچا جہاں اس نے ’ہر طرف خون اور انسانی لاشیں دیکھیں۔مقامی لوگ زخمیوں کو اپنی گاڑیوں میں بٹھاکر ہسپتال لے جارہے تھے۔‘

پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے مطابق قائم مقام پاکستانی صدر محمد میاں سومرو نے واہ فیکٹری میں ہونے والے خودکش حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستانی صدر نے اپنے پیغام میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ اس بہیمانہ حملوں کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

اے پی پی کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ہلاکتوں پر صدمے کا اظہار کیا اور حکام کو ہدایت کی کہ اس دھماکے کے پیچھے خفیہ ہاتھوں کا پردہ فاش کریں۔


بشکریہ بی بی سی اردو اور جیو ٹی وی
 
ان طالبان سے تو درندے اچھے ہیں ان ملعون لوگوں کے لئے لفظ انسان استعمال کرنا انسانیت کی توہین ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر مذمت سے آگے کوئی عملی قدم اٹھائیں لوگوں میں شعور اجاگر کریں جو لوگ ظالمان کو محب دین سمجھتے ہیں ان کو صحیح صورتحال بتائیں اور مختلف فورمز کو استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں ان کے خلاف ایک مضبوط مخالفت کی بنیاد ڈالی جائے اور مدارس کی اصلاح کی جائے اور وہاں جدید علوم پڑھائیں جائیں تاکہ ان کی جہالت ختم ہو۔
 

خرم

محفلین
اس جنگ میں بہت قربانیاں دی جا چکیں اور اب بھی اگر کوئی ان ظالمان کو اپنا سمجھنے کی بات کرتا ہے تو اسے ان تمام جانوں کا حساب دینا ہوگا۔ جنگ یا تو جیتی جاتی ہے اور یا ہاری جاتی ہے اور ہم ظالمان کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ یہ نہ پہلے معصوم تھے اور نہ اب معصوم ہیں۔ ان کا مقصد حیات ایک جنگلی اور وحشیانہ نظام کو اسلام کے نام پر نافذ کرنا ہے جہاں یہ جسے جب چاہیں جیسے چاہیں اسلام کا نام لگا کر ذبح کردیں یا پھاڑ دیں۔ اس لعنت کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا۔ یہ جو آج جان قربان کرگئے وہ شہید ہیں اور جو کوئی بھی ان ظالمان کی حمایت کرتا ہے وہ ان کا قاتل۔
یا یہ ظالمان ختم ہوجائیں یا ہم۔ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
ظہور بھائی یہ ایسے ظالم لوگ ہیں جو مدرسوں میں بچوں کو بچپن سے ہی یہ سکھانا شروع کرتے ہیں کہ یہی اسلام ہے اور یہی جنت جانے کا مختصر ترین راستہ ہے۔ پھر قبل اس کے کہ یہ بچے اپنے ذہن سے کچھ سوچنا شروع کریں، انہیں خود کُش حملے میں استعمال کر لیا جاتا ہے۔ اصل ظالم وہ لوگ ہیں جو ان بچوں کو استعمال کرتے ہیں۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top