والد صاحب کی ایک غزل بفرمائش محترمی @محمد خلیل الرحمٰن صاحب۔نہ تیری آرزو دو دن نہ تیری آرزو برسوں

والد صاحب کی ایک غزل بفربائش محترمی محمد خلیل الرحمٰن صاحب

نہ تیری آرزو دو دن نہ تیری آرزو برسوں
تجھے پا کر کیا کرتا ہوں اپنی جستجو برسوں

مجھے دیر و حرم جانا ضروری تھا مرے ساقی
مرے ہونٹوں کو ترسے ہیں ترے جام و سبو برسوں

بڑی تاخیر سے تیرا پیامِ بے رخی آ یا
خزاں کے واسطے ترسی بہار ِ آرزو برسوں

خزاں آتے ہوئے ڈرتی ہے ایسے گلستانوں میں
جہاں کانٹے پیا کرتے ہیں پھولوں کا لہو برسوں

اُنہی کا تیر ہے وہ آپ ہی آ کر نکالیں گے
یونہی چبھتی رہے نوکِ ہلالِ آرزو برسوں

جبینِ ماہ پر لکھے بَاِظہار ِ سحر ہم نے
شب غم کی سیاہی سے حروفِ آرزو برسوں​
 
مدیر کی آخری تدوین:
نام بھائی جان چاچوجان کا ؟؟
سید خورشید علی ضیاء عزیزی (جے پوری)۔۔۔والد صاحب جے پور کے استاد شاعر عزیز کی نسبت سے نام کے ساتھ عزیزی لگانا پسند کیا کرتے تھے ۔اور بتایا کرتے تھے کہ عزیز صاحب کے استاد متخلص بہ" آگاہ " غالب کے شاگرد وں میں سے تھے ۔واللہ اعلم
 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہہہہہہہ
کیا کہہ گیا کہنے والا ۔۔۔۔۔۔۔
خزاں آتے ہوئے ڈرتی ہے ایسے گلستانوں میں
جہاں کانٹے پیا کرتے ہیں پھولوں کا لہو برسوں

شراکت پر بہت شکریہ بہت دعائیں
 
سید خورشید علی ضیاء عزیزی (جے پوری)۔۔۔ والد صاحب جے پور کے ایک استاد شاعر عزیز کی نسبت سے نام کے ساتھ عزیزی لگانا پسند کیا کرتے تھے ۔اور کہا کرتے تھے کہ عزیز صاحب کے استاد متخلص بہ" آگاہ " غالب کے شاگرد وں میں سے تھے ۔واللہ اعلم
بہت شکریہ بھائی جان معلومات فراہم کرنے کا
مزید کلام کا انتظار رہے گا ۔۔
 
والد صاحب کی ایک غزل بفربائش محترمی محمد خلیل الرحمٰن صاحب

نہ تیری آرزو دو دن نہ تیری آرزو برسوں
تجھے پا کر کیا کرتا ہوں اپنی جستجو برسوں

مجھے دیر و حرم جانا ضروری تھا مرے ساقی
مرے ہونٹوں کو ترسے ہیں ترے جام و سبو برسوں

بڑی تاخیر سے تیرا پیامِ بے رخی آ یا
خزاں کے واسطے ترسی بہار ِ آرزو برسوں

خزاں آتے ہوئے ڈرتی ہے ایسے گلستانوں میں
جہاں کانٹے پیا کرتے ہیں پھولوں کا لہو برسوں

اُنہی کا تیر ہے وہ آپ ہی آ کر نکالیں گے
یونہی چبھتی رہے نوکِ ہلالِ آرزو برسوں

جبینِ ماہ پر لکھے بَاِظہار ِ سحر ہم نے
شب غم کی سیاہی سے حروفِ آرزو برسوں​
بہت اعلیٰ۔ بہت خوبصورت
 
واہ واہ مزہ آگیا عاطف بھائی
بہت خوبصورت بہت اعلیٰ

بڑی تاخیر سے تیرا پیامِ بے رخی آ یا
خزاں کے واسطے ترسی بہار ِ آرزو برسوں
 
سبحان اللہ۔ توجہ دلانے کا بےحد شکریہ، سید صاحب۔ پڑھ کر ایک مسرت نصیب ہوئی جس کے بغیر آج کا دن گزر جاتا تو برا ہوتا۔
اُنہی کا تیر ہے وہ آپ ہی آ کر نکالیں گے
یونہی چبھتی رہے نوکِ ہلالِ آرزو برسوں
ایسے شعر وہ ریاضت مانگتے ہیں جو آج کل کے شعرا میں کم و بیش نایاب ہو گئی ہے۔ بہت ہی عمدہ!
 
Top