1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

مشکل اور پیچیدہ اشعار کی تشریح

شہزاد احمد نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 17, 2012

  1. محمد منظور فرید

    محمد منظور فرید محفلین

    مراسلے:
    111
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا
    بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے

    اس شعر کی تشریح درکار ہے۔۔۔۔
     
  2. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,672
    یہاں شاعر یہ کہ رہا ہے کہ مسیحا سے ملاقات عام طور پر بیماری کی حالت میں ہوتی ہے اور شفا کی امید ہوتی ہے
    جبکہ خضر سے ملاقات جاودانی زندگی کی آرزو پیدا کرتا ہے
    مگر شاعر کا حال یہ ہے کہ نہ اسے شفا چاہیے نہ لمبی زندگی بلکہ وہ اپنے محبوب سے ملنے کا متمنی ہے چاہے اسکے بعد اسے موت ہی آجائے
    دوسرا مطلب یہ ہے کہ کہ شاعر خدا سے ملاقات کا متمنی ہے لہٰذا شفا اور لمبی زندگی کی اب آرزو نہیں رکھتا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  3. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    بہت اچھی تشریح ڈاکٹر صاحب!
    آپ نے میڈیکل نقطہ نظر بھی بیان فرما دیا ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,672
    سر اب ہم کیمیائی تجزیہ تو کرنے سے رہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. عین الف

    عین الف محفلین

    مراسلے:
    3
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lurking
    مرحمت کرتا ہے سینوں کو دوبارہ جو بشر
    وقتِ سارق سے متاعِ برُدہٰ دِل چھین کر
    نوعِ اِنساں کو عطا کرتا ہے جو بارِ دگر
    آدمی کے دیدہٗ باطن کی مسروقہ نظر
    اور برامد کر کے جیبِ دُزد سے ایقان کو
    بخشتا ہے جاگتا اِنسان جو اِنسان کو


    مجھے یہ شعر سمجھ نہیں آ رہا، برائے مہربانی سمجھادیں
     
  6. جویریہ جلیل

    جویریہ جلیل محفلین

    مراسلے:
    8
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    1)مرحمت = مرہم رکھنا چارہ جوئی کرنا
    مرہم رکھتا ہے سینے پہ دوبارہ جو بشر
    2)سارق =چور متاع = جان بردہ = غلام
    چور اوقات سے غلامی میں بندھےدل کو رہا کرتا ہے
    3)بار دگر = ایک بار پھر سے
    نوع انسان کو ایک بار پھر سے عطا کرتا ہے
    4)دیدہ =آنکھ مسروقہ =چوری شدہ
    آدمی کے باطن کی چوری شدہ آنکھ
    5)درز = دڑاڑ ایقان = یقین
    اور برآمد کرکے جیب کی دڑاڑوں سے یقین کو
    6)بخشتا ہے جاگتا انسان جو انسان کو = انسان دوسرے انسان کو بیدار کردیتا ہے
     
  7. مزمل اختر

    مزمل اختر محفلین

    مراسلے:
    90
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Pensive
    تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا
    ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا

    محسن نقوی

    شاعر کیا کہنا چاہتا ہے کیا اس کے چہرے کی کشش سورج سے کم ہے.۔؟
    تھوڑی سی وضاحت درکار ہے :act-up::smile2:
     
  8. فہدخان

    فہدخان محفلین

    مراسلے:
    1
    یوسف مصر تمنا تیرے جلوں کے نثار
    میری بیداریوں کو خواب زلیخا نہ بنا

    اس شعر کی تشریح درکار ہے... راہنما ئی فرمائیں..

    نوازش
     
  9. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,745
    چہرے کی کشش اور محبوب کے آتشی حسن کو آفتاب کی آب و تاب کے مثل ٹھہرایا گیا ہے جس کو نظر بھر کر دیکھنا مشکل ہے تاہم محبوب کے حُسن کی آب و تاب ایسی ہے کہ پلٹ کر دیکھنے کے علاوہ کوئی چارہء کار بھی نہیں۔ ہماری دانست میں اس شعر کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. مزمل اختر

    مزمل اختر محفلین

    مراسلے:
    90
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Pensive
    جی بھائی بہت بہت شکریہ بالکل سمجھ آگیا شعر ہمیشہ خوش رہے :best:
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    چاند محراب پہ سوئی ہوئی اک آیت ہے

    بے وضو آنکھیں ہیں پڑھتے ہوئے ڈر لگتا ہے

    اس کی تشریح درکار ہے
     
  12. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    اس شعر کا مطلب کیا ہے




    چاند محراب پہ سوئی ہوئی اک آیت ہے

    بے وضو آنکھیں ہیں پڑھتے ہوئے ڈر لگتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,745
    ہماری دانست میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح مسجد کے محراب پر کوئی آیت کندہ ہوتی ہے، جو کہ نصف یا چوتھائی دائروی صورت میں، چاند کے مثل ہوتی ہے اور سوئی ہوئی آنکھ سے مشابہ بھی ہوتی ہے اس لیے چاند کو محراب پر سوئی ہوئی آیت سے تشبیہ دی گئی ہے اور دوسرا مصرع تو خیر واضح ہے کہ مسجد میں عموماََ باوضو ہی جایا جاتا ہے۔۔۔!
     
  14. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    4,511
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    سحر گہہ‌ عید میں دور سبو تھا
    پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا
     
    آخری تدوین: ‏جون 17, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,745
    ہماری دانست میں اس کا سادہ مفہوم یہ ہے:
    عید کے روز عام طور پر سویرے سویرے دورِ جام چلتا تھا، تاہم شاعر کو اس میں کچھ لطف نہ آیا کیونکہ شاعر کے پیالے میں شراب کی بجائے لہو تھا جو کہ عاشق نامراد کے ارمانوں وغیرہ کا ہی ہو سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  16. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,148
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اس میں آپ نے "تجھ بن" کو اہمیت نہیں دی جو شعر کی بنیاد تھا۔ یعنی عید کے دن ہمیشہ جشن ہوا کرتا ہے مگر شاعر کے پیالے میں اس کے محبوب کی دوری سے لہو تھا ۔ مطلب یہ کہ شاعر کی عید محبوب کے بنا گزر رہی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  17. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,745
    ذہن میں تو مفہوم واضح تھا؛ شاید وضاحت کرنے میں بھول ہوئی؛ بہت شکریہ! :)
     
    • متفق متفق × 1
  18. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,672
    پینے کا مزہ دوستوں کے ساتھ ہے. جس جس کو دوست مل گئے وہ انجوائے کررہے ہیں اور ہمارا جام دوست کے آنے کی امید کا لہو پیش کررہا تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر