1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $450
    $368.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ سیزدہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں
  3. دو ملین پیغامات کا کاؤنٹ ڈاؤن

    اردو محفل فورم پر دو ملین پیغامات مکمل ہونے میں صرف 1500 پیغامات باقی رہ گئے ہیں۔ مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔

    اعلان ختم کریں

مشکل اور پیچیدہ اشعار کی تشریح

شہزاد احمد نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 17, 2012

  1. شہزاد احمد

    شہزاد احمد مہمان

    شب خوں کے لیے فلک پھرے ہے
    کھینچے ہوئے تیغ، کہکشاں سے ۔۔۔۔۔


    نہ لازم نیستی اُس کو، نہ ہستی ہی ضروری ہے
    بیاں کیا کیجیے اے درد! ممکن کی تباہی کو


    اور افزونی طلب کی بعد مرنے کے ہوئی
    خاک ہونے نے، کیا ہر ذرہ گرمِ جستجو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    31,140
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلا شعر تو مجھے بھی پسند ہے۔
    فلک کیونکہ جور و ستم کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے، تو اس کے ہاتھ میں تلوار دے دی گئی ہے اور وہ بھی کہکشاں کی۔ کہکشاں بھی ایسی ہی خمدار ہوتی ہے نا جیسے تلوار!
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  3. شہزاد احمد

    شہزاد احمد مہمان

    شکریہ ۔۔۔ ویسے میری صلاح یہ تھی کہ اس فورم پر کوئی ایسا سلسلہ بھی شروع کیا جائے، اگر پہلے سے موجود نہیں ہے، جہاں پیچیدہ اور مشکل اشعار کی تشریح کا کوئی "مناسب انتظام" موجود ہو ۔۔۔
     
    • متفق متفق × 3
  4. کاتب

    کاتب محفلین

    مراسلے:
    19
    محترم شہزاد احمد صاحب، پیچیدہ اور مشکل اشعار کی تشریح کے سلسلے کی تجویز نہ صرف بہت اچھی بلکہ نہایت اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس سے مجھ جیسے محدود علم کے حامل افراد نہ صرف مستفید ہو سکیں گے بلکہ یہ سلسلہ فروغ علم و ادب کا باعث بھی بنے گا۔ لہٰذا آپ کی تجویز سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے آپ کو اس کار خیر پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    پیچیدہ اور مشکل اشعار کی تشریح کے سلسلےکو آگے بڑھاتے ہوئے، میں صاحبان علم سے درخواست گزار ہوں کہ درج ذیل شعر جو مجھے کافی عرصہ سے پریشان کئے ہوئے ہے، کے الفاظ و معانی کی تشریح سے نوازیں۔ شکریہ

    غالبا اقبال کا شعر ہے:

    مومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست
    مور بے پر حاجتِ پیشِ سلیمانے مبر

    اس شعر کا بقیہ کلام کیا ہے؟
    مومیائی کا کیا مطلب ہے؟
    فارسی شعر کا کیا مطلب ہے؟

    اضافی سوال؟ اس فورم میں دو زبر کیسے لگاتے ہیں؟
    شکریہ:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    23,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مومیائی - موم کی طرح نرم ایک دوا جو زخموں پر لگائی جاتی ہے۔
    مور - چیونٹی
    مبر - نہ کر

    مانگے تانگے کی دوا سے بہتر ہے کہ غیرت مند انسان زخموں سے ٹوٹ پھوٹ جائے۔ تو اگر بغیر پروں والی چیونٹی بھی ہے تو سلیمان یعنی دنیاوی بادشاہوں کے سامنے حاجت پیش نہ کر۔ اس میں چیونٹی اور حضرت سلیمان ع کے واقعے کی طرف اشارہ یعنی تلمیح ہے۔

    یہ شعر علامہ کی طویل نظم خضرِ راہ کا ایک شعر ہے، کتاب بانگِ درا
     
    • زبردست زبردست × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. کاتب

    کاتب محفلین

    مراسلے:
    19
    السلام و علیکم

    عزیز و قابلِ صد احترام، برادر محمد وارث صاحب۔ تاخیر سے حاضری و سپاس گذاری کی معذرت قبول فرمائیے۔

    بے حد مشکور و ممنون احسان ہوں کہ آپ نے نہایت آسان لفظوں اور تفصیل سے علامہ اقبال کے کلام کی تشریح و وضاحت فرمائی جس کی کافی عرصہ سے مجھے ضرورت تھی۔ آپ کی بلاگ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا جس سے جناب کے مرتبہ علمی کا علم ہوا۔ اور یہ پیاسا ان شا اللہ گاہے بگاہے اس چشمہ علم سے سیرابی حاصل کرتا رہے گا۔

    اللہ کریم آپ کے علم و فضل میں برکت و اضافہ اور طالبان علم کو آپ سے فیضیابی کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔

    والسلام و علیکم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. کاتب

    کاتب محفلین

    مراسلے:
    19
    غالب کی غزل کے درج ذیل شعر کے پہلے مصرعہ کا مفہوم و پس منظر کیا ہے۔ میں اپنی ناقص دانست میں یہ سمجھتاآیا ہوں کہ اس سے مراد ایک خفیف طنز ہے۔

    مقطع میں آ پڑی ہے، سخن گسترانہ بات
    مقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے


    مقطع:
    صادق ہوں اپنے قول میں، غالبؔ! خدا گواہ
    کہتا ہوں سچ کہ، جھوٹ کی عادت نہیں مجھے


    مزید یہ کہ درج بالا شعر اصل مقطع کے ساتھ کوئی تعلق رکھتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو براہ کرم مکمل مفہوم یا تشریح سے نوازیں۔ بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    23,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    درست مصرع یوں ہے

    مقطع میں آ پڑی تھی سخن گسترانہ بات

    مقطع سے یہاں مراد اِس قطعہ معذرت کا مقطع نہیں بلکہ اُس سہرے کا مقطع ہے جو اصل فساد کی جڑ تھا۔ بہادر شاہ ظفر کے بیٹے کی شادی کے موقع غالب نے ایک سہرا لکھا تھا اور کہا جاتا ہے کہ غالب صنف سہرا کا موجد ہے، اور اس سہرے کے مقطع میں لکھا تھا کہ دیکھیے اس سہرے سے بڑھ کر سہرا کون لکھتا ہے۔ سہرے کا مقطع یہ ہے

    ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں
    دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بڑھ کر سہرا

    اس سے بادشاہ اور بادشاہ کا استاد ذوق دونوں اس کو چوٹ سمجھ کر غالب سے ناراض ہو گئے تھے اور ذوق نے پھر ایک سہرا لکھ کر بھی دکھایا، اس کے بعد مجبوراً غالب کو قطعہ معذرت بعنوان بیان مصنف لکھنا پڑا جس کے اشعار آپ نے درج کیے ہیں۔

    پورا واقعہ، ذوق کا جوابی سہرا، اور دونوں سہروں کی حیثیت پر مولانا غلام رسول مہر نے نوائے سروش میں سیر حاصل بحث کی ہے، مطالعہ سود مند ثابت ہوگا، انشاءاللہ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    23,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ذرہ نوازی ہے آپ کی محترم، نوازش آپ کی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. کاتب

    کاتب محفلین

    مراسلے:
    19
    برادرم و استاذِ گرامی قدر محمد وارث صاحب!

    سب سے پہلے تو تصحیح کا شکرگزار ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی عنایت کردہ وضاحت سے معلومات اور علم میں گرانقدر اضافہ ہوا جس کے لئے احسان مند اور دعا گو ہوں۔

    معلوم نہیں کہ ایسا کہنا (علمی) بے ادبی ہو یا نہیں لیکن سوء ادب ہر گز مقصود نہیں۔ آپ کی عطا کردہ معلومات کے رد عمل میں بہادر شاہ ظفر اور استاد ابراہیم ذوق کا شعر و ادب کے حوالے سے (شب گزشتہ) ایک سرسری مطالعہ کیا۔ مجھے ایک گونہ افسوس ہوا کہ نالائق اور بزدل بادشاہ اور حسد و غرور میں مبتلا ذوق نے غالب کی نا قدر شناسی کی اور غالب کو معذرت پر مجبور کیا۔

    مولانا غلام رسول مہر کی نوائے سروش کا مطالعہ تجویز فرمانے کا بہت شکریہ۔ میں اپنی اردو زبان کی اہلیت کو بہتر بنانے میں مصروف ہوں اور الحمد اللہ یہاں کافی مدد مل رہی ہے اور جلد ہی نوائے سروش کا حصول اور مطالعہ ہو گا۔

    مجھے امید ہے کہ گاہے بگاہے اس زمرہ میں سوالات پوچھ کر آپ اور دیگر رفقا جوابات سے اسی طرح نواز کر میرے اور مجھ جیسے نو آموزان کی تعلیم اور ادبی تربیت کو جاری و ساری رکھیں گے جو نہ صرف اس دھاگے کا بنیادی مقصد بلکہ آپ جیسے محسنین کا وصف و کمال ہے۔

    بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  11. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    23,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    نوازش آپ کی محترم۔

    غالب اور ذوق کی چپقلش یا زیادہ واضح الفاظ میں ذوق کا حسد واقعی ایک تاریک باب ہے اور اسی وجہ سے غالب نے انتہائی کسمپرسی اور افلاس کی زندگی بسر کی کہ اس وقت بادشاہ اور نوابین اور تعلقہ دار وغیرہ ہی شعرا کے مربی ہوتے تھے، دہلی میں بادشاہ ہی سب سے بڑا سہارا تھا اور غالب اسکے دربار سے دور رکھا گیا۔ ذوق کی وفات کے بعد چند سال آسودگی سے گزرے تو 1857ء کی جنگِ آزادی میں سب کچھ مٹ گیا اور غالب ایک بار پھر خاک نشین ہو گیا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  12. عطا اللہ خان

    عطا اللہ خان محفلین

    مراسلے:
    1
    مر کے حیات ِ جاوداں عشق کو مل گئی حفیظ
    جی کے ہوس کو کیا ملا مرگِ دوام کے سوا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  13. زارا آریان

    زارا آریان محفلین

    مراسلے:
    37
    جھنڈا:
    Belgium
    موڈ:
    Brooding
    کعبہ نشیں سنے تو کہوں حالِ دل امیرؔ
    کعبہ میں جا کے اینٹ اور پتھّر سے کیا کہوں

    ﺍﻣﯿﺮؔ ﻣﯿﻨﺎﺋﯽ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,184
    نہ لازم نیستی اُس کو، نہ ہستی ہی ضروری ہے
    بیاں کیا کیجیے اے درد! ممکن کی تباہی کو

    اس شعر میں شاعر وجود کی قسموں پر روشنی ڈال رہا ہے
    فلسفے کے اعتبار سے وجود کی تین قسمیں ہی ممکن ہیں
    واجب الوجود، یعنی وہ وجود جس کا ہونا لازمی ہے اور اسے ہونے کے لئے کسی اور وجود کی ضرورت نہی ہوتی، وہ وجود خود سے قائم ہوتا ہے. خود سے قائم رہنے کے لئے غنی اور صمد ہونا ضروری ہے، ظاہر ہے کہ یہ وجود مادی نہیں ہوسکتا کیونکہ مادہ نہ خود سے وجود میں آسکتا ہے نہ قائم رہ سکتا ہے. مادے کے وجود کا انحصار حرکت پر ہے، اب چاہے یہ حرکت اندرونی ہو جیسے الیکٹران کی حرکت یا بیرونی مثلاً دنیا کی اپنے محور اور مدار میں

    دوسرا وجود ممتنع الوجود ہے جس کا ہونا کسی صورت ممکن نہیں، مثلاً ایک انڈا ایک ہی وقت میں انڈا بھی ہو اور چوزہ بھی ہو جو دانہ چگتا ہے

    وجود کی آخری قسم ممکن الوجود ہے جسے اپنے ہونے اور نہ ہونے کے لئے کسی سبب کی ضرورت ہوتی ہے. یہ مادی دنیا ممکن الوجود ہی ہے اور اسے اپنے ہونے کے لئے ایک واجب الوجود کی ضرورت ہے
    شاعر نے اس ممکن الوجود کی نازک صورتحال پر روشنی ڈالی ہے اور اس کے وجود کو ہر لمحے لاحق خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے تباہی سے تشبیہ دی ہے. یہ وجود ہر لمحہ واجب کا محتاج ہے یعنی تباہی کے دہانے پر ہے. فلسفی نقطہ نگاہ سے خدا اور کائنات کا تعلق گھڑی ساز اور گھڑی والا نہیں ہے، بلکہ یہ تعلق سورج اور اس کی کرنوں والا ہے. ایک لمحے کےلیے سورج سے قطع تعلق کرنوں کی نابودی کا سبب بن جاتا ہے

    پڑھنے کے لئے شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. عبد الرحمٰن

    عبد الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    2,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ایسی تشریح کبھی نہیں پڑھی پتہ ہی نہیں چلا شعر کے بارے میں ہے یافلسفے کا لیکچر ہے ؟؟
    کلاس ختم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,184
    اگرچہ آپ نے نہیں پڑھی مگر دیگر صاحبان نظر نے پسندیدگی کا اظہار کیا ہے. دوسری بات یہ ہے کہ یہ تشریح میں نے پہلی دفعہ کی ہے اور یہاں پوسٹ کی ہے تو کیسا ممکن تھا کہ آپ پڑھتے. تیسری بات یہ ہے کہ آپ کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. عبد الرحمٰن

    عبد الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    2,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ہمیں لگتا ہے آُپ نے ہمارا کومنٹ نہیں پڑھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. عمران شیخ

    عمران شیخ محفلین

    مراسلے:
    1
    براہ مہربانی اس شعر کی تشریح فرمائیں
     
  19. مزمل اختر

    مزمل اختر محفلین

    مراسلے:
    42
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Pensive
    ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
    اور ہم بھول گئے ہو تجھے ایسا بھی نہیں ہے

    اس شعر کی کچھ وضاحت کریں دونوں چیزیں کیسے ممکن ہے
     
  20. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    4,824
    شاعر محبوب کو مکمل طور پر بھلا نہ پایا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ محبوب کی یاد اب بھی کبھی کبھار اسے بے طرح ستاتی ہے۔
    ناصر کاظمی کا ایک شعر یاد آ گیا۔
    اے دوست ہم نے ترکِ محبت کے باوجود
    محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی!!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر