1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

مشکل اور پیچیدہ اشعار کی تشریح

شہزاد احمد نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 17, 2012

  1. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    میرے خیال سے یہ مطلب نہیں ہے کرو صبر آتا ہے اچھا زمانہ۔۔۔۔ کی نظم کا حصہ ہے یہ شعر
     
  2. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,672
    پھر آپ پوری نظم پڑہیں
     
  3. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    تنے گا مسرت کا اب شامیانہ۔۔۔
    بجے کا محبت کا نقار خانہ
    حمایت گائیں گے مل کر ترانہ
    کرو صبر آتا ہے اچھا زمانہ


    نہ ہم روشنی دن کی دیکھیں گے لیکن
    چمک اپنی دکھلائیں گے اب بھلے دن
    رکے گا نہ عالم ترقی کئے بن
    کرو صبر آتا ہے اچھا زمانہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    حمایت کا گائیں گے مل کر ترانہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,929
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یہاں جو مفہوم میری سمجھ میں آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ
    اپنے سخت حالات پر شاعر عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ بھلے ہم اپنی زندگی مشکلات میں گزار دیں، مگر آنے والوں کے لیے کچھ کر جائیں گے۔
    یعنی ہمارے ہوتے یہ زمانے کی تلخیاں ختم نہ بھی ہوں تو ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے، اور ہماری محنت کے سبب اچھا زمانہ ضرور آئے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    نثر کرکے سمجھا دیجئے
     
  7. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,929
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اوپر نثر ہی لکھی ہے۔
    اگر شعر کی نثر صورت کہہ رہے ہیں، تو یوں بنے گی
    ہم دن کی روشنی نہیں دیکھ سکیں گے لیکن کسی نہ کسی دن ہم اپنی چمک ضرور دکھائیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    میرے خیال سے اس کا جو مطلب ہے یہ ہے۔۔۔

    بھلے ہی ہم دن کی روشنی یعنی دور ترقی کی چمک دمک نہ دیکھ پائیں۔ زندگی ختم ہو جائے


    لیکن وہ بھلے دن یعنی زمانہ ترقی اپنی چمک دکھلا کر ہی رہیں گے۔۔۔ یعنی ترقی ہوکر ہی رہے گی



    یہ مفہوم کیسا ہے
     
  9. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,929
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    شاعر کی ضمیر اپنی جانب ہے۔
    ویسے بھی زمانہ خود اچھا یا برا نہیں ہوتا، ہم ہی اسے اچھا یا برا بناتے ہیں۔ شاعر اسی عزم کا اظہار کر رہا ہے۔
     
  10. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    حضور ظرف بول کر مظروف مراد لیا جاتا ہے



    مجھ سے کسی نے اس شعر کا مفہوم پوچھا تھا۔۔
     
  11. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    دنیا مطلبی ہے

    مطلب دنیا کے لوگ مطلبی ہیں
     
  12. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    یہاں ظرف بول کر مظروف مراد لیا گیا ہے UOTE="ابوذر 123, post: 1974387, member: 18156"]دنیا مطلبی ہے

    مطلب دنیا کے لوگ مطلبی ہیں[/QUOTE]
    یع
     
  13. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,929
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یع[/QUOTE]

    ان مراسلات کی سمجھ نہیں آئی۔
    باقی میں نے اپنی رائے دی ہے، اور اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے پوچھا، جو مفہوم مجھے سمجھ آیا، وہ بتا دیا۔ خوش رہیں۔ :)
     
    • متفق متفق × 1
  14. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,672
    یہاں شاعر اپنی من پسند جماعت کے بارے ممیں کافی حسن ظن کا شکار ہے
    وہ سمجھتا ہے کہ اگراسکی جماعت کامیاب ہوگئی تو تبدیلی آجائے گی
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. ابوذر 123

    ابوذر 123 محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    لفظ رکھے کا یا غیر مقرو استعمال ہوسکتا ہے
     
  16. زاھدا

    زاھدا محفلین

    مراسلے:
    1
    اسے جانتے ہیں بڑا اپنا دشمن
    ہمارے کرے عیب جو ہم پہ روشن
    نصیحت سے نفرت ہے ناصح سے ان بن
    سمجھتے ہیں ہم رہنماءوں کو رہزن
    یہی عیب ہے سب کو کھویا ہے جس نے
    ہمیں ناءو بھر کر ڈبویا ہے جس نے(مسدس حالی)
     
  17. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,929
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ویسے یہ مشکل اشعار تو نہیں۔ :)
    اس بند میں مولانا حالی نے مسلمانوں کی زبوں حالی کی چند وجوہات بیان کی ہیں۔
    کہ جو ہمیں ہمارے عیب بتائے، اسے دشمن سمجھتے ہیں اور اپنے عیب درست کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ نصیحت اور نصیحت کرنے والے کو برا سمجھتے ہیں۔ جو صحیح راہ دکھا رہا ہو، اسے ہی راہ کھوٹا کرنے والا سمجھتے ہیں۔ اور یہی عیب معلوم نہ ہونا ہمارے زوال کا سبب ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. سیپ مہر

    سیپ مہر محفلین

    مراسلے:
    3
    شاعر علامہ اقبال ؟
     
  19. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,745
    خواجہ میر درد
     
  20. سیپ مہر

    سیپ مہر محفلین

    مراسلے:
    3
    شُکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر