مرثیہ جناب مرزا اسد اللہ خاں مرحوم دہلوی متخلص بہ غالب ۔ حالی

فرخ منظور نے 'غالبیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 30, 2009

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    مرثیہ جناب مرزا اسد اللہ خاں مرحوم دہلوی متخلص بہ غالب

    از الطاف حسین حالی

    کیا کہوں حالِ دردِ پنہانی
    وقت کوتاہ و قصہ طولانی

    عیشِ دنیا سے ہو گیا دل سرد
    دیکھ کر رنگِ عالمِ فانی

    کچھ نہیں جز طلسمِ خواب و خیال
    گوشۂ فقر و بزمِ سلطانی

    ہے سراسر فریبِ وہم و گماں
    تاجِ فغفور و تختِ خاقانی

    بے حقیقت ہے شکلِ موجِ سراب
    جامِ جمشید و راحِ ریحانی

    لفظ مہمل ہے نطقِ اعرابی
    حرف باطل ہے عقل یونانی

    ایک دھوکا ہے لحنِ داؤدی
    اِک تماشا ہے حسنِ کنعانی

    نہ کروں تشنگی میں تر لبِ خشک
    چشمۂ خضر کا ہو گر پانی

    لوں نہ اِک مشتِ خاک کے بدلے
    گر ملے خاتمِ سلیمانی

    بحرِ ہستی بجز سراب نہیں
    چشمۂ زندگی میں آب نہیں

    (جاری ہے)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    جس سے دنیا نے آشنائی کی
    اس سے آخر کو کج ادائی کی

    تجھ پہ بھولے کوئی عبث اے عمر
    تو نے کی جس سے بے وفائی کی

    ہے زمانہ وفا سے بے گانہ
    ہاں قسم مجھ کو آشنائی کی

    یہ وہ بے مہر ہے کہ ہے اس کی
    صلح میں چاشنی لڑائی کی

    ہے یہاں حظِ وصل سے محروم
    جس کو طاقت نہ ہو جدائی کی

    ہے یہاں حفظِ وضع سے مایوس
    جس کو عادت نہ ہو گدائی کی

    خندۂ گل سے بے بقا، تر ہے
    شان ہو جس میں دل ربائی کی

    جنس کاسد سے ناروا تر ہے
    خوبیاں جس میں ہوں خدائی کی

    بات بگڑی رہی سہی افسوس
    آج خاقانی و سنائی کی

    رشکِ عرفی و فخر طالب مُرد
    اسداللہ خان غالب مُرد


    (جاری ہے)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,699
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    دخل در معقولات کیلیے معذرت فرخ صاحب۔

    پہلے مصرعے میں 'بے بقا، تر ہے'

    اور کاسِد (عربی) بمعنی ناقص، بے قدر وغیرہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شکریہ وارث صاحب رہ نمائی کے لئے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بلبلِ ہند مر گیا ہیہات
    جس کی تھی بات بات میں اِک بات

    نکتہ داں ، نکتہ سنج ، نکتہ شناس
    پاک دل ، پاک ذات ، پاک صفات

    شیخ اور بذلہ سنج، شوخ مزاج
    رند اور مرجّعِ کرام و ثقات

    لاکھ مضموں اور اس کا ایک ٹھٹھول
    سو تکلف اور اس کی سیدھی بات

    دل میں چبھتا تھا وہ اگر بالمثل
    دن کو کہتا دن اور رات کو رات

    ہو گیا نقش دل پہ جو لکھّا
    قلم اس کا تھا اور اس کی دوات

    تھیں تو دلی میں اس کی باتیں تھیں
    لے چلیں اب وطن کو کیا سوغات

    اس کے مرنے سے مر گئی دلّی
    خواجہ نوشہ تھا اور شہر برات

    یاں اگر بزم تھی تو اس کی بزم
    یاں اگر ذات تھی تو اس کی ذات

    ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
    شہر میں اِک چراغ تھا نہ رہا

    (جاری ہے)


     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    دل کو باتیں جب اس کی یاد آئیں
    کس کی باتوں سے دل کو بہلائیں

    کس کو جا کر سنائیں شعر و غزل
    کس سے دادِ سخنوری پائیں

    مرثیہ اس کا لکھتے ہیں احباب
    کس سے اصلاح لیں کدھر جائیں

    پست مضموں ہے نوحۂ استاد
    کس طرح آسماں پہ پہنچائیں

    لوگ کچھ پوچھنے کو آئے ہیں
    اہلِ میّت جنازہ ٹھیرائیں

    لائیں گے پھر کہاں سے غالب کو
    سوئے مدفن ابھی نہ لے جائیں

    اس کو اَگلوں پہ کیوں نہ دیں ترجیح
    اہلِ انصاف غور فرمائیں

    قدسی و صائب و اسیر و کلیم
    لوگ جو چاہیں ان کو ٹھیرائیں

    ہم نے سب کا کلام دیکھا ہے
    ہے ادب شرط منہ نہ کھلوائیں

    غالبِ نکتہ داں سے کیا نسبت
    خاک کو آسماں سے کیا نسبت

    (جاری ہے)

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نثر حسن و جمال کی صورت
    نظم غنج و دلال کی صورت

    تہنیت اِک نشاط کی تصویر
    تعزیت اِک ملال کی صورت

    قال اس کا وہ آئینہ جس میں
    نظر آتی تھی حال کی صورت

    اس کی توجیہ سے پکڑتی تھی
    شکلِ امکاں محال کی صورت

    اس کی تاویل سے بدلتی تھی
    رنگِ ہجراں وصال کی صورت

    لطف آغاز سے دکھاتا تھا
    سخن اس کا مآل کی صورت

    چشمِ دوراں سے آج چھپتی ہے
    انوری و کمال کی صورت

    لوحِ امکاں سے آج مٹتی ہے
    علم و فضل و کمال کی صورت

    دیکھ لو آج پھر نہ دیکھو گے
    غالبِ بے مثال کی صورت

    اب نہ دنیا میں آئیں گے یہ لوگ
    کہیں ڈھونڈے نہ پائیں گے یہ لوگ

    (جاری ہے)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شہر میں جو ہے سوگوار ہے آج
    اپنا بیگانہ اشک بار ہے آج

    نازشِ خلق کا محل نہ رہا
    رحلتِ فخرِ روزگار ہے آج

    تھا زمانے میں ایک رنگیں طبع
    رخصتِ موسمِ بہار ہے آج

    بارِ احباب جو اٹھاتا تھا
    دوشِ احباب پر سوار ہے آج

    تھی ہر اِک بات نیشتر جس کی
    اس کی چپ سے جگر فگار ہے آج

    دل میں مدت سے تھی خلش جس کی
    وہی برچھی جگر کے پار ہے آج

    دلِ مضطر کو کون دے تسکیں
    ماتمِ یارِ غم گسار ہے آج

    تلخیِ غم کہی نہیں جاتی
    جانِ شیریں بھی ناگوار ہے آج

    کس کو لاتے ہیں بہرِ دفن کہ قبر
    ہمہ تن چشمِ انتظار ہے آج

    غم سے بھرتا نہیں دلِ ناشاد
    کس سے خالی ہوا جہان آباد

    (جاری ہے)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  9. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نقدِ معنی کا گنجداں نہ رہا
    خوانِ مضموں کا میزباں نہ رہا

    ساتھ اس کے گئی بہارِ سخن
    اب کچھ اندیشۂ خزاں نہ رہا

    ہوا ایک ایک کارواں سالار
    کوئی سالارِ کارواں نہ رہا

    رونقِ حسن تھا بیاں اس کا
    گرم بازارِ گُل رُخاں نہ رہا

    عشق کا نام اس سے روشن تھا
    قیس و فرہاد کا نشاں نہ رہا

    ہوچکیں حسن و عشق کی باتیں
    گل و بلبل کا ترجماں نہ رہا

    اہلِ ہند اب کریں گے کس پر ناز
    رشکِ شیراز و اصفہاں نہ رہا

    زندہ کیونکر رہے گا نامِ ملوک
    بادشاہوں کا مدح خواں نہ رہا

    کوئی ویسا نظر نہیں آتا
    وہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا

    اٹھ گیا تھا جو مایہ دارِ سخن
    کس کو ٹھیرائیں اب مدارِ سخن

    (جاری ہے)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  10. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کیا ہے جس میں وہ مرد کار نہ تھا
    اک زمانہ کہ سازگار نہ تھا

    شاعری کا کیا حق اس نے ادا
    پر کوئی اس کا حق گزار نہ تھا

    بے صلہ مدح و شعرِ بے تحسیں
    سخن اس کا کسی پہ بار نہ تھا

    قطعہ

    نذرِ سائل تھی جان تک لیکن
    در خورِ ہمتِ اقتدار نہ تھا

    ملک و دولت سے بہرہ ور نہ ہوا
    جان دینے پر اختیار نہ تھا

    خاکساروں سے خاکساری تھی
    سر بلندوں سے انکسار نہ تھا

    لب پہ احباب سے بھی تھا نہ گلا
    دل میں اعدا سے بھی غبار نہ تھا

    بے ریائی تھی زہد کے بدلے
    زہد اس کا اگر شعار نہ تھا

    ایسے پیدا کہاں ہیں مست و خراب
    ہم نے مانا کہ ہوشیار نہ تھا

    مظہرِ شانِ حسنِ فطرت تھا
    معنیِ لفظِ آدمیت تھا

    (جاری ہے)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کچھ نہیں فرق باغ و زنداں میں
    آج بلبل نہیں گلستاں میں

    شہر سارا بنا ہے بیتِ حُزن
    ایک یوسف نہیں جو کنعاں میں

    ملک یکسر ہوا ہے بے آئیں
    اِک فلاطوں نہیں جو یوناں میں

    ختم تھی اِک زباں پہ شیرینی
    ڈھونڈتے کیا ہو سیب و رمّاں میں

    اب جادو بیاں ہوا خاموش
    گوشِ گُل وا ہے کیوں گلستاں میں

    گوشِ معنی شنو ہوا بے کار
    مرغ کیوں نعرہ زن ہے بستاں میں

    وہ گیا بزم جس سے روشن تھی
    شمع جلتی ہے کیوں شبستاں میں

    نہ رہا جس سے تھا فروغِ نظر
    سرمہ بنتا ہے کیوں صفاہاں میں

    ماہِ کامل میں آ گئی ظلمت
    آبِ حیواں پہ چھا گئی ظلمت

    (جاری ہے)

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  12. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ہند میں نام پائے گا اب کون
    سکّہ اپنا بٹھائے گا اب کون

    ہم نے جانی ہے اس سے قدرِ سَلَف
    ان پر ایمان لائے گا اب کون

    اس نے سب کو بھلا دیا دل سے
    اس کو دل سے بھلائے گا اب کون

    تھی کسی کی نہ جس میں گنجائش
    وہ جگہ دل میں پائے گا اب کون

    اس سے ملنے کو یاں ہم آتے تھے
    جا کے دلّی سے آئے گا اب کون

    مر گیا قدر دانِ فہمِ سخن
    شعر ہم کو سنائے گا اب کون

    مر گیا تشنۂ مذاقِ کلام
    ہم کو گھر سے بلائے گا اب کون

    تھا بساطِ سخن میں شاطر ایک
    ہم کو چالیں بتائے گا اب کون

    شعر میں ناتمام ہے حالی
    غزل اس کی بنائے گا اب کون

    (ختم شم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  13. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,074
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    شکر ہے کہ ختم شد کا لفظ دیکھ لیا۔ میں منتظر تھی کہ کب ختم ہوگا اور میں اسے کاپی ، پرنٹ کرکت آرام سے پڑھوں گی۔

    فرخ آپ اس کارنامے پر تہہ دل سے مبارکباد دیتی ہوں۔ تبصرہ پورا مرثیہ پڑھ کر ہی کروں گی انشاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,699
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ جناب اس کارِ خیر کیلیے، جزاک اللہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    شکریہ جویریہ! میں نے جب دیوانِ حالی خریدا تھا تو مجھے یہ مرثیہ بہت ہی عمدہ لگا تھا لیکن حیرت یہ ہوئی کہ اس مرثیے کا ذکر میں نے کسی کی زبانی کبھی نہیں سنا تھا سوائے ایک دوست کی زبانی ایک شعر کے
    غالبِ نکتہ داں سے کیا نسبت
    خاک کو آسماں سے کیا نسبت


    پسند کرنے کے لئے بہت شکریہ وارث صاحب اور فاتح صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,576
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    چلو، اب میں بھی ای بک بنا لوں گا اس کی، یا فرخ، مجھے ای میل ہی کر دیں نا، تاکہ میں ایک ایک پیغام الگ الگ کاپی پیسٹ کی زحمت سے بچ جاؤں!!!
    اورشکریہ تو ادا کرنا ہی بھول گیا اس خوشی میں۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شکریہ اعجاز صاحب! مرثیہ ای میل کر دیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,576
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    رسید بھی دے چکا ہوں۔ شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر