مرزا غالب

  1. طارق شاہ

    نومیدی ما گردشِ ایّام ندارد

    نومیدیِ ما گردشِ ایام ندارد روزی کہ سیہ شد سحر وشام ندارد۔ ہر رشحہ باندازہِ ہر حوصلہ ریزند میخانہِ توفیق خم و جام ندارد۔ "مرزا غالب" منظوم ترجمہ: مایوسیاں ہیں گردشِ ایّام نہیں ہیں روز ایسے سیاہ ہیں کہ سحر و شام نہیں ہیں ہر قطرہ بہ اندازۂ ہمّت سے ہی ٹپکے میخانہ میں اسبابِ خُم و جام نہیں ہیں...
  2. میم الف

    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا • غالبؔ

    عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا تجھ سے قسمت میں مری صورتِ قفلِ ابجد تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تمام مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا ضعف سے...
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    مرزا غالب کا ایک خط منشی ہرگوپال تفتہ کے نام

  4. عرفان قادر

    "دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا ؟"

    "دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا" میری خاطر، ہیر کے چاچے سے ٹکراویں گے کیا گنج زخمی ہے مگر ناخن بھی چھوٹے ہیں ابھی "زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا" صاف کیوں آتی نہیں آواز موبی لنک پر "ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے، کیا؟" "چوہدری صاحب"، اپوزیشن کو سمجھانے گئے...
  5. میم الف

    مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

    ایک دوست محمد ارسلان کی فرمائش پر کلامِ غالب بزبانِ منیب الدین مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے جوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کو عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کیے ہوئے پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دم برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے پھر گرمِ نالہ ہائے شرر بار ہے...
  6. طارق شاہ

    غالب مرزا اسدؔاللہ خاں ::::: دیوانگی سے دَوش پہ زنّار بھی نہیں :::::: Assadullah KhaN Ghalib

    غزل مِرزا اسدؔاللہ خاں غالبؔ دیوانگی سے دَوش پہ زنّار بھی نہیں یعنی ہمارے جَیب میں اِک تار بھی نہیں دِل کو نیازِ حسرتِ دِیدار کر چُکے دیکھا تو، ہم میں طاقتِ دِیدار بھی نہیں مِلنا تِرا اگر نہیں آساں، تو سہل ہے ! دُشوار تو یہی ہے کہ، دُشوار بھی نہیں بے عِشق عُمر کٹ نہیں سکتی ہے، اور یاں طاقت...
  7. منہاج علی

    مرزا غالب کی وفات پر میر انیسؔ کی رباعی

    گلزارِ جہاں سے باغِ جنّت میں گئے مرحوم ہوئے جوارِ رحمت میں گئے مدّاحِ علیؑ کا رتبہ اعلیٰ ہے غالبؔ ’اسدُاللہ (ع)‘‘ کی خدمت میں گئے
  8. فہد اشرف

    غالب کا پوسٹ مارٹم

    غالب کا پوسٹ مارٹم ایک دن غالبؔ کے پڑھ کر شعر میری اہلیہ مجھ سے بولی آپ تو کہتے تھے ان کو اولیا عاشق بنت عنب کو آپ کہتے ہیں ولی فاقہ مستی میں بھی ہر دم کر رہا ہے مے کشی پوجنے سے مہ جبینوں کے یہ باز آتا نہیں اور پھر کافر کہے جانے سے شرماتا نہیں کوئی بھی مہوش اکیلے میں اگر آ جائے ہاتھ...
  9. فرحان محمد خان

    غالب کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا - مرزا اسد اللہ خان غالب

    کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا فکرِ نالہ...
  10. فرحان محمد خان

    غالب منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی - مرزا اسد اللہ خان غالب

    منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی اک خوں چکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی واعظ! نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو کیا بات ہے تمہاری شرابِ طہور کی! لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اٹھا؟ گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی آمد بہار...
  11. فرحان محمد خان

    غالب عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا - مرزا اسد اللہ خان غالب

    عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا تجھ سے، قسمت میں مری، صورتِ قفلِ ابجد تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تمام مِٹ گیا گھِسنے میں اُس عُقدے کا وا ہو جانا اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو...
  12. ا

    پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

    پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے سینہ جویائے زخم کاری ہے پھر جگر کھودنے لگا ناخن آمد فصل لالہ کاری ہے قبلۂ مقصد نگاہ نیاز پھر وہی پردۂ عماری ہے چشم دلال جنس رسوائی دل خریدار ذوق خواری ہے وہی صد رنگ نالہ فرسائی وہی صد گونہ اشک باری ہے دل ہوائے خرام ناز سے پھر محشرستان بیقراری ہے...
  13. فرخ منظور

    مکمل غالب اور سرکاری ملازمت ۔ سعادت حسن منٹو

    غالب اور سرکاری ملازمت (تحریر: سعادت حسن منٹو) حکیم محمود خان مرحوم کے دیوان خانے کے متصل یہ جو مسجد کے عقب میں ایک مکان ہے، مرزا غالب کا ہے۔ اسی کی نسبت آپ نے ایک دفعہ کہا تھا۔ مسجد کے زیر سایہ ایک گھر بنا لیا ہے یہ بندۂ کمینہ ہمسایۂ خُدا ہے آئیے! ہم یہاں آپ کو دیوان خانے میں لے چلیں۔ کوئی حرج...
  14. محمد خلیل الرحمٰن

    محاسنِ کلامِ غالب از عبدالرحمٰن بجنوری

    محاسنِ کلامِ غالب از عبدالرحمٰن بجنوری (۱) بلند خوانی محمد خلیل الرحمٰن Dropbox - Mahasin E Ghalib-1.m4a
  15. فرحان محمد خان

    غالب خود جاں دے کے روح کو آزاد کیجئے-مرزا غالب

    خود جاں دے کے روح کو آزاد کیجئے تاکے خیالِ خاطرِ جلّاد کیجئے بھولے ہوئے جو غم ہیں انہیں یاد کیجئے تب جاکے ان سے شکوۀ بے داد کیجئے حالانکہ اب زباں میں نہیں طاقتِ فغاں پر دل یہ چاہتا ہے کہ فریاد کیجئے بس ہے دلوں کے واسطے اک جنبشِ نگاه اجڑے ہوئے گھروں کو پھر آباد کیجئے کچھ دردمند منتظرِ انقلاب...
  16. فرحان محمد خان

    غالب مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے - مرزا اسد اللہ خان غالب

    مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے جوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کو عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کیے ہوئے پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دم برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے پھر گرمِ نالہ ہائے شرر بار ہے نفس مدت ہوئی ہے سیرِ چراغاں کیے ہوئے پھر پرسشِ جراحتِ...
  17. فرخ منظور

    مکمل غالب اور سرکاری ملازم ۔ سعادت حسن منٹو

    غالب اور سرکاری ملازمت (تحریر: سعادت حسن منٹو) حکیم محمود خان مرحوم کے دیوان خانے کے متصل یہ جو مسجد کے عقب میں ایک مکان ہے، مرزا غالب کا ہے۔ اسی کی نسبت آپ نے ایک دفعہ کہا تھا۔ مسجد کے زیر سایہ ایک گھر بنا لیا ہے یہ بندۂ کمینہ ہمسایۂ خُدا کا ہے آئیے! ہم یہاں آپ کو دیوان خانے میں لے چلیں۔...
  18. فرحان محمد خان

    غالب زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک

    زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیو نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا...
  19. فرحان محمد خان

    غالب خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے

    خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے فشار تنگی خلوت سے بنتی ہے شبنم صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آب تیغ نگاہ کہ زخم روزن در سے ہوا نکلتی ہے بہ رنگ شیشہ ہوں یک گوشۂ دل خالی کبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے مرزا غالب
  20. کاشفی

    آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک

    آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک
Top