مجھ پر بنائے کیسز میں میرے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے، پرویز مشرف

جاسم محمد نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 3, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    مجھ پر بنائے کیسز میں میرے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے، پرویز مشرف
    ویب ڈیسک 2 گھنٹے پہلے
    [​IMG]
    کمیشن میرا بیان ریکارڈ کرلے تو عدالت میں میرے وکیل کی بات بھی سنی جائے، سابق صدر۔ فوٹو: اسکرین گریب


    دبئی: سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ آئین شکنی کیس بے بنیاد ہے مجھ سے زیادتی ہورہی ہے انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوا۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں مجھ پر بنائے کیسز میں میرے ساتھ زیادتی ہورہی ہے اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہورہے، عدالت میں میرے وکیل کو بھی نہیں سنا جارہا، کیس میں میری شنوائی نہیں ہو رہی، اگر کمیشن میرا بیان ریکارڈ کرلے تو عدالت میں میرے وکیل کی بات بھی سنی جائے۔

    سابق صدر نے کہا کہ میری نظر میں آئین شکنی کیس بےبنیاد ہے، غداری چھوڑیں میں نے ملک کے لیے بہت خدمات انجام دیں، جنگیں لڑیں اور دس سال ملک کی خدمت بھی کی، اب میری طبیعت خراب ہے اور اسپتال میں آنا جانا لگا رہتا ہے، ابھی بھی چکر آنے کے باعث بے ہوش ہوا تو مجھے اسپتال پہنچا دیا گیا، کیس میں کمیشن میرا بیان ریکارڈ کرے، امید ہے مجھے عدالت سے انصاف ملے گا۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    اپنی شامت اعمال ہے۔ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ برداشت کریں جیسے قوم نے کیا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  3. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    581
    کئی سو بچوں کو جلا کر قوم کے ساتھ بڑی وفا کی تو نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • غمناک غمناک × 1
  4. عدیل عبد الباسط

    عدیل عبد الباسط محفلین

    مراسلے:
    145
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    عام طور پر اس حالت میں سابقہ لیڈرز یا اہم شخصیات کے بیانات وغیرہ منظر عام پر نہیں لائے جاتے۔ اس معاملے میں غالبا قوم کی تسلی کے لئے ایسا کیا گیا ہے کہ قوم جان لے کہ اس کے مجرم کا احتساب (اللہ تعالیٰ کی جانب سے) شروع ہے، اور ابھی آخرت کی عدالت باقی ہے۔ کاش ہمیں احساس کی دولت اس وقت حاصل ہو جایا کرے جب ہم طاقتور ہوتے ہیں۔
    کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جہاں تک جنرل مشرف کی بیماری اور موت کا مسئلہ ہے تو مشرف پہلے ہی ایک پاکستانی کی اوسط عمر سے دس بارہ برس زیادہ جی چکا ہے، اب اس عمر میں بھی کسی نے بیمار نہیں ہونا تو کب ہونا ہے اور موت برحق ہے سب کو آنی ہے چاہے کوئی غدار ہو چاہے کوئی مولانا یا ولی اللہ۔

    باقی مشرف بغاوت کیس بھی قوم کے ساتھ محض ایک مذاق ہے اور کچھ بھی نہیں۔ مشرف کے خلاف کیس 2007ء میں ملک میں ایمرجنسی لگانے پر بنایا گیا ہے۔ مشرف کا اصل کارنامہ تو 1999ء میں آئین کو معطل یا کالعدم کرنا اور ایک جمہوری منتخب حکومت کو ختم کرنا تھا، اُس پر کیس کیوں نہیں بنا۔ کیوں مشرف اتنے سال تک ان "جمہوریوں" کی ناک کے نیچے آزاد گھومتا پھرتا رہا بلکہ انہوں نے اسے اپنا حکمران بھی قبول کیا۔ کیوں اس کے 1999ء کے تمام اقدامات معاف کیے۔ کیوں اس کے فیصلے کالعدم قرار نہیں دیئے۔ مشرف کے ساتھ ان کی کیا ڈیل ہوئی تھی، این آر او کی اصل شقیں کیا تھیں، کیا لیا تھا کیا دیا تھا، اس کی حقیقت سے کون مائی کا لعل پردہ اٹھائے گا؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 2
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اقتدار کے لیے سیاستدانوں کا ان آئین شکن جنرلوں سے مفاہمت کرنے پر ایک قصہ یاد آ گیا۔

    اقبال اخوند 1988ء میں بننے والی بے نظیر کی پہلی حکومت میں بے نظیر کے قومی سلامتی اور امورِ خارجہ کے مشیر تھے۔ ان کے مراسم بہت عرصے سے ذوالفقار علی بھٹو اور انکی فیملی کے ساتھ تھے۔ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جنرل ضیا کے ہاتھوں جونیجو کی حکومت کی برطرفی کے بعد الیکشنز کا شور تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ بے نظیر یہ الیکشنز جیت جائے گی۔ اسی سلسلے میں جنرل ضیا کی موت اور الیکشنز سے پہلے اقبال اخوند کی بے نظیر سے ایک ملاقات ہوئی تو انہوں نے بے نظیر سے پوچھا کہ اگر آپ مجوزہ الیکشنز جیت گئیں تو آپ کو جنرل ضیا سے، جو آرمی چیف کے ساتھ صدر بھی ہیں، حلف لینا پڑے گا تو کیا آپ اپنے والد کے قاتل سے حلف لے لیں گی اور ان کو قبول بھی کر لیں گی؟ اقبال اخوند لکھتے ہیں کہ بے نظیر نے اس بات کا دو ٹوک جواب نہیں دیا لیکن یہ کہا کہ میں اس بات کو یقینی بناؤں گی کہ جنرل ضیا آرمی چیف نہ رہیں۔

    اقبال اخوند اس بات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نہ صرف بے نظیر جنرل ضیا سے حلف لینے پر تیار تھیں بلکہ ان کو صدر برقرار رکھنے اور ان کےساتھ کام کرنے کو بھی تیار تھیں۔ جہاں تک جنرل ضیا کو آرمی چیف کے طور پر بدلنے کی بات تھی تو اخوند لکھتے ہیں کہ یہ بھی ممکن نہ تھا کیونکہ اس وقت آئین کے مطابق (آٹھویں ترمیم کے بعد) سروس چیفس کی تقرری کا مطلق اختیار بھی صدر کے پاس تھا۔
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 4, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غمناک غمناک × 1
  7. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,487
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
    کل اس پہ ہے پھر شور یہیں نوحہ گری کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    بھائی آپ نے تو ان نہاد جمہوریوں کو پھاڑ کر رکھ دیا۔ زبردست!!!
    اب سمجھ میں آیا آپ نے تحریک انصاف کو ووٹ کیوں دیا تھا :)
     
    • غیر متفق غیر متفق × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    فرقان احمد ابھی بھی چاہتے ہیں کہ ملک اسی طرح مفاہمت، این آر او، کچھ لو کچھ دو، نورا کشتی کی بنیاد پر چلایا جائے۔ حد ہے ویسے!
    اگر ملک میں سیاسی استحکام لانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز (مافیاز) کو ہمہ وقت خوش رکھا جائے تو پھر اس پورے کرپٹ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا چاہئے!
     
  10. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,495
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    یہ تو کافی سادہ سی بات ہے۔ 1999 میں مشرف جیت گیا تھا اور 2007 میں ہار گیا تھا۔ تخت کی جنگ میں سزا ہار ہی پر ملتی ہے
     
    • متفق متفق × 1
    • غمناک غمناک × 1
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    لیکن محمد وارث یہ کہہ رہے ہیں کہ تختہ الٹنا زیادہ بڑا جرم ہے بجائے ایمرجنسی لگانے۔ اصل کیس غیر آئینی طور پر تختہ الٹنے پہ ہونا چاہئے اور کر دیا ایمرجنسی لگانے پر۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    اگر یہ بات سچ ہے تو اس کے بعد تمام شکوک و شبہات دور ہو جانے چاہئے کہ شریف ، بھٹو اور زرداری خاندان کس مقصد کے تحت سیاست میں آیا۔ کیونکہ اگر ملک و قوم کی خدمت کیلئے آتا تو اس طرح ملک کے آئین و قانون توڑنے والوں کے ساتھ بار بار مفاہمت نہ کرتا۔ اقتدار کی خاطر آئین شکنوں کے ساتھ مفاہمت کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ دونوں مافیا جماعتیں اور ان کے لیڈران ملک و قوم کے ساتھ مخلص نہیں۔
    دوسری طرف شیخ مجیب الرحمان نے اقتدار کی خاطر جنرل یحییٰ کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں کی۔ اور یوں اپنا ملک لے کر الگ ہو گئے۔ جس کا ثمرآج ان کی بیٹی شیخ حسینہ بنگلہ دیش کو دن دگنی رات چگنی ترقیات سے منور کرکے ملک و قوم کو کھلا رہی ہیں۔
    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 1
  13. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    تحریکِ انصاف کو ووٹ اس لیے دیا تھا کہ مجھے معاشرے والے جینے نہیں دے رہے تھے کہ ووٹ قومی امانت ہے اسے ضائع نہ کریں وغیرہ وغیرہ سو مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق lesser evil کو ووٹ دے دیا۔ اگر 'نوٹا' کا آپشن ہوتا تو نوٹا پر سب سے پہلے مہر لگانے والا میں خود ہوتا۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  14. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ہم لوگ جو پچاس کے ہیر پھیر میں ہیں، اپنی مختصر سی زندگی میں دو مطلق العنان فوجی آمر دیکھ چکے ہیں جنہوں نے صریح طور پر آئین توڑا یا معطل کیا یا کالعدم قرار دیا۔ حسرت ہی رہی کہ کوئی "جمہوریا" سیاستدان ان آمروں کے کسی غیر قانونی اقدام کو غلط قرار دے۔ ہر بار ان سیاستدانوں نے ان آمروں کو جمہوری تحفظ دیا، ان کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کو آئین کو حصہ بنایا۔

    مانا کہ 1985ء کی جونیجو حکومت یا 2003ء کی قاف لیگ کی حکومت انہی آمروں کی کٹھ پتلیاں تھیں اور انہوں نے ہی ان کے غیر آئینی اقدامات کو آئینی تحفظ دیا لیکن بعد میں دو تہائی اکثریت والے جمہوری بغل بچے کیا ہوئے۔ 1997ء میں تیرہویں آئینی ترمیم کر کے آمر صدر کے اختیارات ختم کیے جا سکتے ہیں تو اسی آمر صدر کے تمام اقدامات غیر قانونی کیوں قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ 2010ء کی اٹھارویں آئینی ترمیم کر کے 'تیسری بار وزیر اعظم' بننے والی پابندی ختم کی جا سکتی ہے تو اسی آمر کے باقی غیر آئینی اقدامات کیوں کالعدم قرار نہیں دیئے جا سکتے؟

    فوجی آمروں کو ہمیشہ اپنے غیر آئینی اقدامات کے لیے بیساکھیوں کی ضرورت پڑتی ہے اور افسوس صد افسوس کہ ہمارے یہی جمہوری سیاستدان ان کو ہر بار یہ بیساکھیاں فراہم کرتے ہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    صرف سیاست دان ہی کیوں؟ اس بہتی گنگا میں ججوں نے بھی اپنے ہاتھ پاؤں بلکہ پورا جسم اچھی طرح دھو کر حلال کیا ہے :)
     
    • متفق متفق × 2
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    بالکل صحیح کہا۔ حالیہ آرمی چیف جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے لئے بھی اسٹیبلشمنٹ، ججوں اور سیاست دانوں کا شرم ناک کردار واضح طور پر کھل کر سامنے آیا ہے۔ کونسے ملک میں عدالت قانون بننے سے قبل ہی ایک خلاف قانون کام کو عارضی طور پر جائز قرار دیتے ہوئے 6 ماہ کی ایکسٹینشن یا رعایت دیتی ہے کہ جاؤ جا کر اس دوران قانون سازی کر لو؟ ایسے کام صرف بنانارپبلک میں ہی ہو سکتے ہیں۔ :)
     
  17. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    9,119
    جی ہاں! ریاست کو افراتفری اور انارکی سے بچانے کے لیے مفاہمت کی پالیسی بہتر ہے، اگر ہم نے واقعی یہ نظام چلانا ہے۔ اسی میں سے بہتری کے آثار رفتہ رفتہ برآمد ہو سکتے ہیں۔ وگرنہ، فرشتے لائیے جو ملک چلائیں۔ اس وقت انقلابی حکومت ہوتی تو علیمہ خانم، فیصل واؤڈا، علیم خان، جہانگیر ترین، پرویز خٹک، زلفی بخاری (ایک طویل فہرست ہے ویسے) شاید سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔ اگر آپ انقلاب برپا نہیں کر سکتے ہیں تو یہ کھوکھلے نعرے بھی نہ لگائیے۔ ابھی تو جب یہ 'فرشتے'جائیں گے تو معلوم پڑے گا کہ انہوں نے کس حد تک بدعنوانی اور اقرباپروری کی۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  18. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,495
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    اکثر سیاستدانوں نے آمروں سے کم ہی اختلاف کیا ہے اور ان کی مدد سے اقتدار میں آنے کی کوشش کی ہے۔ مقتدر سیاسی لیڈروں نے سسٹمیٹک طریقے سے فوجی سیاسی دباؤ کم یا ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ نواز شریف کا اس سلسلے میں بیانیہ 1993 میں “میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا” سے شروع ہوتا ہے 26 سالوں میں کوئی باقاعدہ اصول نہیں بنایا اور نہ ہی تحریک شروع کی بلکہ آج بھی اس کی پارٹی اس معاملے میں کافی کنفیوز ہے۔

    آج آپ نون لیگ یا تحریک انصاف کے کسی لیڈر سے ضیا کے متعلق سوال کر لیں۔ مشکل سے ہی کوئی اس کی مخالفت کرے گا حالانکہ ضیا کو مرے بھی تیس سال سے اوپر بیت گئے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  19. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,941
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    سابق صدر یعنی موجودہ غدار :)
     
    • زبردست زبردست × 1
  20. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    ارے بھائی پچھلے دس سال سے ن لیگ اور پی پی پی کے درمیان یہ مفاہمت ہی تو چل رہی تھی۔ نہ تم ہمارے کیسز کھولو، نہ ہم تمہارے کھولیں گے۔ مل جل کر باری باری ملک کو لوٹیں گے۔
    اگر اسٹیبلشمنٹ مداخلت کر کے تحریک انصاف کو آگے نہ لاتی تو یہ سلسلہ آئندہ بھی کئی سال چلتا رہتا یہاں تک کہ ملک دیوالیہ ہو جاتا۔
    معلوم نہیں آپ اس کرپٹ نظام سے کونسی بہتری کے آثار برآمد کروانا چاہتے ہیں؟ :)
     

اس صفحے کی تشہیر