لفظ "افعی" کا درست تلفظ کیا ہے۔

Fraz siddique نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 27, 2020

  1. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,260
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    لیکن اس لحاظ سے بھی افعی تو ہونا تو لازم نہیں ٹھہرتا ۔
     
  2. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,260
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    طبا طبائی کی رائے قابل قدر ضرور ہو گی لیکن حرف آخر نہیں ۔
    ایک دوسری بات یہ بھی کہ اہل عرب کی قدیم قرائتوں اور روایتوں میں اور جدید لہجات میں بھی الف ، یا اور ان کہ بین بین کئی قسم کے لہجات کا تغیراور تفاوت پایا جاتا ہے ۔
     
  3. رضوان راز

    رضوان راز محفلین

    مراسلے:
    22
    جھنڈا:
    Pakistan
    سید صاحب خاکسار نے جناب طباطبائی کا فرمانا تلفظ کے ضمن میں نقل نہیں کیا بلکہ جناب غالب کی غزل میں موجود قوافی کے ضمن میں ان کی کیا رائے ہے وہ بیان کیا گیا ہے۔

    تلفظ کے حوالے سے عرض کر چکا ہوں کہ اردو اور فارسی کی لغات میں تلفظ عربی کے تلفظ سے یکسر جدا ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. رضوان راز

    رضوان راز محفلین

    مراسلے:
    22
    جھنڈا:
    Pakistan
    بجا ارشاد حفص کی قرأت اور لہجہ ورش کی قرأت اور لہجے سے مختلف ہے۔
    آپ کا فرمان خاکسار کے موقف کی تائید کرتا ہے۔ جب ایک لفظ کی ایک ہی زبان میں قرأت اور لہجہ میں اختلاف ہے تو اسی لفظ کا ایک دوسری زبان میں تلفظ مختلف ہونا باعثِ حیرت نہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  5. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,260
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اس سے تو بالکل کوئی انکار ہی نہیں بھائی ۔
    اور یہ تغیر صرف حفص و ورش میں ہی نہیں آج کی عرب دنیا میں بھی بہت مختلف و متفاوت لہجات رائج ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,334
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    رضوان راز صاحب نے بالکل درست کہا کہ اس کا تلفظ " اَف ۔ عی" ہے یعنی یہ جس طرح لکھا ہوا ہے بالکل اُسی طرح پڑھا جائے گا ۔
    اس اصول پر اردو کے تمام علمائے لسانیات متفق ہیں کہ جب کوئی لفظ عربی ، فارسی یا کسی اور زبان سے اردو میں داخل ہوکر مستعمل ہوگیا تو اب اس لفظ پر اصل زبان کا تلفظ ، ہجے یا گرامر لاگو نہیں ہونگے بلکہ جس طرح اردو والے اسے برتتے ہیں وہی طریق معتبر کہلائے گا ۔ اردو میں اس کی ان گنت مثالیں ہیں ۔
    ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ عربی کے اکثر الفاظ جو اردو میں مستعمل ہیں وہ براہِ راست عربی سے اردو میں نہیں آئے بلکہ فارسی کے ذریعے داخل ہوئے ہیں ۔ یعنی وہ عربی الفاظ پہلے تفریس کے عمل سے گزرے اور پھر جس طرح اہلِ فارس انہیں برتتے تھے اردو والوں نے بھی اُسی طرح ان سے لے لیا ۔ چنانچہ لفظ مذکور عربی میں تو "افعیٰ" ہی ہوتا ہے لیکن فارسیوں نے اسے افعی بنادیا اور وہیں سے اردو میں داخل ہوا ۔ چنانچہ اردو کی تمام معتبر لغات نے اسے افعی ہی لکھا ہے ۔ سو یہی املا اور تلفظ درست ہے ۔ املا کے لفظ سے یاد آیا کہ املا بھی عربی میں " املاء" ہوتا ہے لیکن فارسیوں نے اسے املا کردیا اور وہیں سے یہ اردو میں آیا۔ چنانچہ اردو کی تمام معتبر لغات میں "املا" لکھا ہے ۔ سو "املاء" لکھنا درست نہیں ہے ۔ یہ لفظ اب اردو کا ہے عربی کا نہیں ۔ چنانچہ اس کے عربی ہجے پر قائم رہنا ٹھیک نہیں ۔ املا کمیٹی نے ان معاملات پر کماحقہ تحقیق اور بحث و مباحثے کے بعدتفصیلی سفارشات جاری کر رکھی ہیں ۔ اردو املا کی "اسٹینڈرڈائزیشن " کرنے کے لئے یا اسے ایک غیر متنازعہ واحد معیار دینے کی خاطر ضروری ہے کہ جہاں تک ہوسکے ہم سب ان سفارشات پر عمل کریں ۔ :):):)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 2
    • زبردست زبردست × 1
  7. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    875
    متفق
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,260
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    ویسے ظہیر بھائی ! میں بھی اس لفظ کو نوجوانی ہی سے افعی ہی پڑھتا آیا تھا اب تک کہ "اصل" لفظ کا ادراک نہیں تھا ۔لیکن یہاں عربی زبان سے کچھ حد تک واقفیت سے الفاظ کا اندازہ ہوا کہ ان کی اصل کچھ اور ہے اور یہ بحث یقین پیچیدہ ہے ان سے نمٹنا یقینا ماہرین کا کام ہے ۔ اور ماہرین میں اختلاف کوئی غیر معمولی بات ہے ۔اس سلسلے میں ہمارے ایک عربی زبان کے استاد کی ایک بات انتہائی دلچسپ لگی کہ لسانیات میں اختلاف فقہ کے اختلاف کی طرح ہے کسی رائے کو مطلق غلط نہیں کہنا چاہیئے اگر اس کے پیچھے کوئی بھی بنیاد ہو ۔ اردو میں تو یقینا جو زبان نے قبول کیا اور اہل زبان میں رائج ہوا وہی چلنا چاہیئے ۔ ہم نے کیوں کہ اس لفظ کو کبھی کسی سے سنا ہی نہیں سو افعی ہی سمجھے جو درست بھی نکلا (فہد بھائی کی لغت میں ثبوت بھی آگیا) لیکن وہ بھی کتابت ہی میں کیوں کہ گفتگو میں یہ لفظ ہی مستعمل نہیں ۔
    اس صورت میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غالب نے اس سانپ کو راضی یا تسلی کے مقابل استعمال کیا یا عیسی و تقوی کے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. رضوان راز

    رضوان راز محفلین

    مراسلے:
    22
    جھنڈا:
    Pakistan
    خاکسار کی رائے میں زیرِ نظر غزل کے تمام تر قوافی شعرائے فارس کے تتبع میں باندھے گئے ہیں اور کسی ایک قافیہ میں بھی ہائے معروف (ی) پر کھڑی زبر نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  10. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,680
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کیا فارسی میں عیسی اور تقوی یائے معروف کے ساتھ مستعمل ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,260
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    کتابتی یا بصارتی قافیوں کی حد تک ہی شاید مستعمل رہا ہو ۔ وہ بھی محدود ۔ واللہ اعلم ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,835
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    میرے خیال سے صرف شعرا نے ضرورت شعری کے بنا پر اسے روا رکھا ہے ورنہ رائج تلفظ وہی ہے جو قرآن مجید میں ہے کیونکہ یہ الفاظ بذریعہ قرآن ہی رائج ہوئے ہیں۔
    لغت میں بھی ہر جگہ تلفظ عیسی (سا) ہی درج ہے۔
    جست‌وجوی عیسی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  13. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,835
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  14. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,260
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ شبلی اور فارسی شعر و شاعری کا "کیا تعلق ہے آپس میں" ۔ :)
     
    • متفق متفق × 1
  15. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,260
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    جی ہاں درست فہد اشرف بھائی ۔
    قرآن مجید کی بھی کئی قرائتوں میں الف کو ی کی آواز میں ادا کیے جانے کی صورتیں موجود ہیں البتہ اس کی نزاکتوں کو ہم عجمی عموماََ اچھی طرح نہیں سمجھتے ۔ حتی کہ "ے " جس کا وجود ہی عربی زبان میں نہیں اردو میں "بڑی یے" کہلاتی ہے کئی قرآنی قرائتوں میں اس کی منطوق صورت سننے کو ملتی ہے جو بظاہر بہت عجیب لگتی ہے کیوں کہ ہم عجمی عموماََ ایک ہی مروجہ قرائت کرنے اور سننے کے عادی ہوتے ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,334
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    عاطف بھائی ، جواب اس سوال کا تو بے حد مشکل ہے کیونکہ اس غزل میں غالب نے دونوں ہی طرز کے قوافی استعمال کئے ہیں ۔ سو غالب کی اس غزل سے اس کی سند لینا تو ممکن نہیں ہے ۔ البتہ مولوی صاحب نورالحسن نے اپنی لغت میں افعی کی ذیل میں جن چار اشعار کا حوالہ دیا ہے ان میں سے دو اشعار میں شعرا نے افعی کی "ی" کو ترکیبِ اضافی کی صورت میں مکسور لکھا ہے ۔
    گیسوئے یار سے کس کس کو گزندیں پہنچیں
    اُڑ کے کاٹا کیا یہ افعیِ رہزن کیسا
    (صبا)
    بیڑیاں برسوں سے ہلتی ہیں سرِ گیسو میں
    اے پری کھیلتے ہیں افعیِ زنجیر اب تک
    (منیر)
    سو اس سے ثابت ہوا کہ شعرا نے بھی اسے افعی ہی برتا ہے ۔ اور یہی تلفظ نوراللغات ، فرہنگ آصفیہ ، علمی لغت ، فیروزاللغات ، لغت کبیر وغیرہم میں درج ہے ۔ غالب کی بات اور ہے وہ تو گویا پیدا ہی اس لئے ہوئے تھے کہ قیامت تک کے لئے محققین اور شارحین کے لئے ایک مسلسل کام چھوڑ جائیں ۔ :):):)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    978
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    اس لڑی میں غالب کی غزل کے قوافی پر ہورہی بحث کو دیکھ کر قبلہ و استاذی سرور صاحب کا ایک مضمون یاد آگیا جو اسی غزل کے قوافی کے متعلق ہے.
    Sarwar Alam Raz Sarwar -- Articles | ادبی مضامین
    مضمون کافی پرانا ہے، یونیکوڈ میں دستیاب نہیں اس لئے اسی ربط پر ہی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے.

    ایک اور مضمون بھی ہے، کم و بیش اسی ضمن میں.
    Sarwar Alam Raz Sarwar -- Articles | ادبی مضامین
     
    آخری تدوین: ‏جون 29, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر