نبیل

تکنیکی معاون
نہیں، اس کا جواب قرآن میں موجود نہیں ہے۔ میں نے یہ سوال برسبیل تذکرہ پوچھا ہے۔

اسی لیے میں عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ اس سلسلے کو قران کوئز تک ہی محدود رکھا جائے تو بہتر ہوگا۔ اگر دوسرے ذرائع سے معلومات شئیر کرنا چاہتے ہیں تو بے شک علیحدہ تھریڈ کا آغاز کر سکتے ہیں۔
 

شمشاد خان

محفلین
اسی لیے میں عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ اس سلسلے کو قران کوئز تک ہی محدود رکھا جائے تو بہتر ہوگا۔ اگر دوسرے ذرائع سے معلومات شئیر کرنا چاہتے ہیں تو بے شک علیحدہ تھریڈ کا آغاز کر سکتے ہیں۔
اب ایک سوال کے لیے کیا الگ سے لڑی کھولنی، لیکن اگر آپ مصر ہیں، تو الگ سےلڑی کھول دیتا ہوں۔

یہاں نئی لڑی بنا دی ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
اب ایک سوال کے لیے کیا الگ سے لڑی کھولنی، لیکن اگر آپ مصر ہیں، تو الگ سےلڑی کھول دیتا ہوں۔

یہاں نئی لڑی بنا دی ہے۔

میں مصر ہرگز نہیں ہوں، محض ایک گزارش ہے متعلقہ تھریڈ کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے۔ اس سلسلے میں اس تھریڈ کی پہلی پوسٹ سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
 

شمشاد خان

محفلین
سوال:
بچے کی پیدائش کے مدارج قرآن مجید کی کس آیت میں بیان کیے گئے ہیں؟
ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ﴿المؤمنون:١٣
پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا۔

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ﴿المؤمنون:١٤
پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا۔ برکتوں والا ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ (ترجمہ محمد جونا گڑھی)
 
آخری تدوین:

شمشاد خان

محفلین
قرآن کریم میں چار دھاتوں کا ذکر آیا ہے، لوہا، سونا، چاندی اور تانبا۔

قُلْ كُونُوا حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا ﴿الاسراء:٥٠
جواب دیجیئے کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔

آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا سَاوَىٰ بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انفُخُوا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا ﴿الکھف:٩٦
میں تم میں اور ان میں مضبوط حجاب بنا دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں ﻻ دو۔ یہاں تک کہ جب ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دیوار برابر کر دی تو حکم دیا کہ آگ تیز جلاؤ تاوقتیکہ لوہے کی ان چادروں کو بالکل آگ کر دیا، تو فرمایا میرے پاس ﻻؤ اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دوں ۔

وَلَهُم مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ ﴿الحج:٢١
اور ان کی سزا کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہیں۔

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ ﴿سبا:١٠
ور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کردیا ۔

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿الحدید:٢٥
یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت وقوت ہے اور لوگوں کے لیے اور بھی (بہت سے) فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بےدیکھے کون کرتا ہے، بیشک اللہ قوت والا اور زبردست ہے۔

مندرجہ بالا پانچ آیات میں لوہے کا ذکر آیا ہے۔

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّ۔هُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ ﴿آلعمران:١٤
مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزین کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔

مندرجہ بالا آیت میں سونے اور چاندی کا ذکر آیا ہے۔

وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ ۖ وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ ﴿سبا:١٢
اور ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا کہ صبح کی منزل اس کی مہینہ بھر کی ہوتی تھی اور شام کی منزل بھی اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔ اور اس کے رب کے حکم سے بعض جنات اس کی ماتحتی میں اس کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرے ہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزه چکھائیں گے۔

مندرجہ بالا آیت میں تانبے کا ذکر آیا ہے۔

(نوٹ : تمام تراجم محمد جونا گڑھی کے ہیں۔)
 

سید رافع

محفلین
قرآن پاک میں لعلکم تتقون کن امور کے لیے کہا گیا ہے ؟

روزے کے لیے۔

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 183

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو
 
Top