قرآن شریف میں آیۃ “بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کتنی دفعہ آئی ہے؟

سلیم احمد نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 28, 2011

  1. سلیم احمد

    سلیم احمد محفلین

    مراسلے:
    264
    کیا بسم اللہ الرحمن الرحیم سورہ کا حصہ ہوتی ہے یعنی کیا یہ پہلی آیت ہے یا بسم اللہ کو سورہ میں شامل نہیں کیا جاتا ۔ مختلف جگہوں پر مختلف طریق پر نظر آیا ہے۔ یعنی
    بسم اللہ الرحمن الرحیم کو

    • بعض نے ایک نمبر آیت کے طور پر لکھا ہے
    • بعض نے قریبا ہر سورہ میں بغیر نمبر کے لکھا ہے۔
    • بعض نے صرف سورہ فاتحہ میں ایک نمبر آیت کے طور پر لکھا ہے اور بعد میں آنے والی سورہ میں بسم اللہ کو بغیر نمبر کے لکھا ہے۔
    • وغیرہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    زیادہ تر یہی کہا گیا ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ فاتحہ کی آیت ہے۔ اور یہ آیت قرآن میں دو دفعہ آئی ہے۔ ایک سورۃ فاتحہ میں اور دوسری دفعہ سورۃ نمل میں۔

    یہاں ہمارے عربی کے اُستاد نے بتایا تھا کہ جب بھی آپ بھی قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگیں تو اگر تو آپ کسی سورۃ سے شروع کر رہے ہیں تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر شروع کریں۔ اور اگر آپ کسی سورۃ کے بیچ میں سے تلاوت شروع کرنے لگے ہیں تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھکر تلاوت شروع کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    32,452
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شکریہ شمشاد، لیکن اس موضوع کا عنوان بھی کچھ تبدیل کر دیتے تو اچھا تھا۔ مجھے خیال ہوا کہ شاید اپنا تعارف کرنے کے لئے بسم اللہ لکھ کر کسی نے تعارف شروع کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بجا فرمایا اعجاز بھائی،

    میں نے عنوان مدون کر دیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,210
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    یہ فقہی مسئلہ ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کوئی بحث نہ شروع ہو جائے، صرف آپ کی تشفی کیلیے:

    - احناف کے نزدیک بسم اللہ کسی بھی سورۃ کے شروع میں قرآن کا حصہ نہیں ہے (سورۃ نمل کے درمیان میں ہے سو قرآن کا حصہ ہے)، مثلاً احناف جب نماز میں الحمد شریف پڑھتے ہیں تو پہلی رکعت میں بسم اللہ پڑھتے ہیں لیکن سورہ فاتحہ کا حصہ سمجھ کر نہیں بلکہ تسمیہ کا حصہ سمجھ کر۔ دوسری اور مابعد کی رکعتوں میں جب الحمد پڑھتے ہیں تو بغیر بسم اللہ کے پڑھتے ہیں۔ اور نہ ہی بسم اللہ کو کوئی آیت نمبر لگاتے ہیں۔

    - اہلِ حدیث اور فقہ جعفریہ کے نزدیک، بسم اللہ سورۃ فاتحہ کے شروع میں قرآن کا حصہ ہے ، سو اسکی تلاوت ہر رکعت میں واجب ہے۔ اور سورۃ فاتحہ کے شروع میں اس کو آیت نمبر ا کا نشان بھی لگایا جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  6. قیس

    قیس محفلین

    مراسلے:
    133
    جھنڈا:
    Austria
    موڈ:
    Amazed
    السلام علیکم، دوستان گرامی میں اس سلسلہ میں کسی کی نہیں سنتا، کیونکہ بسم اللہ الرحمن الرحیم میرے نزدیک کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کہ نعوذ بااللہ قرآن کریم میں کوئی تبدیلی واقع ہونے کا ڈر ہو۔ باقی ایسے مسائل ہمارے نام نہاد علماء و فقہا کے حلوں اور دیگر اشیائَے خورد و نوش تک رسائی کا شاخاسانہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک یا خلفاء راشدین کے دور مبارک یا پھر قرون اولی میں ایسی کوئی بحث نہیں ملتی ۔ کیونکہ انکے لئے قرآن کریم کتاب اللہ کے علاوہ زندگی کا لائحہ عمل تھا۔ باقی اگر علم کے حوالہ سے بحث کرنی ہے تو سیرت نبوی پر غور کیجئے حقیقت آشکار ہو جائے گی۔ ان حقیقتوں کو جاننے کے لئے آیت کریمہ رب زدنی علماء کا کثرت سے استعمال کریں۔ انشاء اللہ غیبی طور پر وہ حقیقتیں آشکار ہوں گی کہ آنکھوں سے اشک نہ رک رکیں گے۔ والسلام
     
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ہر سورۃ کے آغاز میں بسم اللہ، اس سورۃ کا حصہ ہے یا نہیں ہے، گو کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ مگر اس سے قرآن کی ’’اصل حیثیت‘‘ پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ الحمد سے لے کر والناس تک اُسی صورت میں موجود ہے، جس طرح کہ یہ نازل ہوا تھا۔
    اصل میں ابتدا مین جب قرآنی مصحف کو تحریری صورت میں یکجا کیا گیا تھا تو نہ تو اس پر اعراب موجود تھے، نہ ہی ہر آیت پر نمبر شمار لگائے گئے تھے۔ بلکہ بعض اسکالرز کے مطابق تو ابتدائی نصخوں میں تو تمام حروف بھی ’’غیر منقوط‘‘ (بغیر نقطوں والے) تھے۔ لیکن جلد ہی حفاظ کو یاد شدہ قرآن کے عین مطابق بعض حروف میں نقطے لگا کرغیر منقوط حروف سے الگ کردیا گیا تاکہ بعد میں آنے والے مسلمان قرآن کو اصل قرآت کے ساتھ پڑھ سکیں۔
    اسی طرح یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ قرآن مین اعراب بھی بہت بعد میں لگائے گئے۔ لیکن ان اعراب کے لگانے سے قرآن کی اصل قرآت پر کوئی فرق نہین پڑا۔

    یہی معاملہ آیات کے نمبر شمار کا ہے۔ جب قرآنی آیات پر نمبر شمار لگائی گئیں تو الگ الگ ادوار یا علاقوں میں تین مختلف طریقےاختیار کئے گئے۔ ایک میں ہر صورت کے آغاز میں لکھی ہوئی بسم اللہ کو بھی نمبر شمار دیا گیا۔ دوسری میں ایسا نہین کیا گیا اور تیسری میں یہ بھی اختلاف ہے کہ بعض لوگوں میں اس امر پر بھی اختلاف تھا کہ ایک آیت مقام الف پر ختم ہوتی ہے یا مقام ب پر ۔ اس طرح قرآن کے کل آیات کی تعداد بھی تین مختلف بیان کی جاتی ہے۔ لیکن ان تین مختلف ’’کل نمبر شمار‘‘ کے بوجود ان سب میں قرآنی آیات، الفاظ، بلکہ حروف تک سب میں یکساں ہیں۔

    واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  8. زلفی شاہ

    زلفی شاہ لائبریرین

    مراسلے:
    4,001
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    علماء و فقہاء کے نزدیک بسم اللہ شریف کے قرآن پاک کے حصہ ہونے یا ہونے میں اختلاف رہا ہے لیکن یہ کسی بھی دور میں بہت بڑا مسئلہ نہیں رہا اور نہ ہی اس مسئلہ پر کوئی فتنہ و فساد ہوا ہے۔ اگرایسا ہوا ہے تو قیس صاحب اس کی وضاحت ضرور فرمائیں اور اگر ایسا نہیں ہوا تو اس قسم کے سخت ریمارکس دینے کا کیا مقصد؟ کیا آپ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو نام نہاد فقہاء سے تعبیر کر رہے ہیں جن کے نزدیک بسم اللہ قرآن شریف کا جز ہے یا امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کو جو تابعی ہیں ،جن کے نزدیک یہ قرآن کا جز نہیں ہے۔ نام نہاد علماء و فقہاء سے کیا مراد ہے؟؟؟؟
    میں فورم کی انتظامیہ سے ملتمس ہوں کہ آپ ان الفاظ کو حذف کر دیں اور ان صاحب کو سمجھائیں کہ اس فورم کے اصول و ضوابط کیا ہیں۔ تاکہ مزید بدمزگی سے بچا جا سکے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,445
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    دوستوں کی معلومات کے لئے یہ بات شئیر کررہا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک بسم اللہ ہر سورت کا حصہ ہے۔ اسی لئے جماعت احمدیہ کے زیراہتمام چھاپے جانے والے قران شریف کے نسخوں میں ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ کو آیت نمبر ایک شمار کیا جاتا ہے۔
    یوسف ثانی صاحب نے بہت اچھی بات کہی ہے کہ اس سے قران کی اصل حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہ جس طرح ابتدا میں نازل ہوا تھا ویسا ہی آج ہمارے پاس اللہ کے فضل سے موجود ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  10. وجی

    وجی لائبریرین

    مراسلے:
    24,355
    موڈ:
    Daring
    سورۃ التوبہ کہ شروع میں بسم اللہ نہیں ہے اسکے بارے میں کہاجاتا ہے کہ قرآن کی سورتیں جب نازل ہوتی تھیں تو بسم اللہ کو استعمال کیا جاتا تھا کہ پہلی سورۃ مکمل ہوگئی ہے اور اب دوسری شروع ۔ تو یہ کہاجاسکتا ہےکہ بسم اللہ سورۃ کی آیت نہیں ہے ہاں قرآن کا حصہ ہے یانہیں اس پر یہ کہاجاسکتا ہے کہ اگر اعراف قرآن کا حصہ اب بن گئے ہیں اسی طرح بسم اللہ بھی قرآن کا حصہ ہے
     
  11. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,515
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بسم الله سورة فاتحہ کا حصہ ہے یا نہیں یہ الگ بحث یا مسئلہ ہے ۔

    البتہ بسم الله کا ذکر قرآن مجید میں دو دفعہ ہے
    1-

    وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

    اردو:

    نوح نے کہا کہ اللہ کا نام لے کر کہ اسی کے کرم سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے اس میں سوار ہو جاؤ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا ہے مہربان ہے۔

    سورة ۱۱- ہود ۔ آیت نمبر 41

    2-

    إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

    اردو:

    وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے کہ شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

    سورة ۲۷ ۔ النمل ۔ آیت نمبر ۳۰

    بطور آیت بسم الله الرحمن الرحیم سورة نمل ہی میں مذکور ہے
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 23, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  12. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    4,129
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Depressed
    بالکل درست فرمایا آپ نے۔
    آپ کو کچھ عرصے بعد دیکھا،خوش آمدید، امید ہے سب خیریت ہو گی۔

    ماشاءاللہ آپ کا قرآن کا مطالعہ کافی وسیع ہے۔ اس ضمن میں آپ سے ایک سوال ہے۔ کیا آپ نے کبھی اناجیلِ اربعہ کو قرآن کے تحت رکھ کر سمجھنے کی کوشش کی؟

    مراسلۂ بالا کے لحاظ سے دریافت کروں تو بسم اللہ کا مضمون انجیل میں کہاں مذکور ہے؟
     
  13. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,515
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    الحمد لله با خیریت

    مجھے قرآن مجید سے محبت ہے فی الحال تو اسی کے گرد گھومتی ہوں ۔ اناجیل اربعہ یا انجیل کے بارے میں بالکل علم نہیں ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,730
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    خالصتاً طباعت اور اشاعت کے نکتہ نظر سے ۔ میری تحقیق کے مطابق ، بسم اللہ الرحمن الرحیم، سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت ہے، یہ آپ اوپن برہان سمیت کسی بھی قرآن کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں اور کتابی مصحف میں بھی۔ سورۃ توبہ کے علاوہ، تمام سورۃ سے پہلے یہ آیت پڑھی اور لکھی بھی جاتی ہے لیکن یہ ان سورتوں کی پہلی آیت شمار نہیں کی جاتی ہے۔ دیکھئے تنزیل القرآن اور اسی طرح کی دوسری ویب سائٹس ۔ سورۃ النمل میں یہ آیت سورۃ کے متن میں آئی ہے۔

    عام طور پر اس آیت کو سورتوں سے پہلے پڑھنے سے قرآں کے احکامات میں کسی قسم کا فرق نہیں پرتا ہے۔ یہ درست ہے

    واللہ اعلم بالصواب
    والسلام
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 23, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر