غفلت بھری یہ زندگی لگتی ہے ایک خواب
اب میرے پاس کچھ نہیں ، خالی ہے ایک خواب

کرتا نہیں خلیل عمل میں اگر مگر
ذبحِ پسر کے واسطے کافی ہے ایک خواب

رہنا اے بھائی! جاگتے دنیا کے مکر سے
سرسبز باغ کا یہ دکھاتی ہے ایک خواب

دل اور دماغ سو چکے اور روح مرچکی
آنکھوں میں جاگتا مرا ساتھی ہے ایک خواب

کچھوے بھی سو رہے ہیں تو کچھ غم نہیں ہمیں
خرگوش کی طرح ابھی جاری ہے ایک خواب

اقبال کی طرح ہمیں دِکھتا ہے سَرسَری!
تعبیر جانے ہے کہاں ، باقی ہے ایک خواب

 
خوب، بس یہ اعتراض کہ سبز باغ دکھانا محاورہ ہے۔ اس کے خواب دکھانا نہیں
بے حد شکرگزار ہوں استاد جی! توجہ فرمائی پر۔
جزاکم اللہ خیرا۔

سبز باغ کا خواب بطور محاورہ نہیں بلکہ بطور استعارہ ہے ، اے بھائی جاگتے رہنا ، اگر سوگئے تو خواب میں یہ دنیا سبز باغ دکھائے گی۔ پھر بھی اگر غلط ہے تو میں اسے تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
 
دِکھنا۔ کا لفظ مجھے کچھ عوامی سا "دِکھتا" ہے ۔ دکھائی دینا البتہ مناسب "دکھتا" ہے ۔ کیا خیال ہے احباب کا ؟
ان میں سے انتخاب کیجیے:

اقبال کی طرح ہمیں دِکھتا ہے سَرسَری!
تعبیر جانے ہے کہاں ، باقی ہے ایک خواب

اقبال سا دکھائی جو دیتا ہے سَرسَری!
تعبیر جانے کیا ہوئی ، باقی ہے ایک خواب

اقبال سا جو دیکھتے ہیں ہم اے سَرسَری!
تعبیر جانے کیا ہوئی ، باقی ہے ایک خواب
 
آخری تدوین:
ان میں سے انتخاب کیجیے:

اقبال کی طرح ہمیں دِکھتا ہے سَرسَری!
تعبیر جانے ہے کہاں ، باقی ہے ایک خواب

اقبال سا دکھائی جو دیتا ہے سَرسَری!
تعبیر جانے کیا ہوئی ، باقی ہے ایک خواب

اقبال سا جو دیکھتے ہیں ہم اے سَرسَری!
تعبیر جانے کیا ہوئی ، باقی ہے ایک خواب
بہت اچھا۔اب لہجہ (مجھے) سشتہ لگ رہا ہے دوسرے اور ت۔ تاہم ۔"جانے کیا ہوئی" کچھ بہتر ہو سکے ماضی کا استعمال کچھ عجیب ہے (یا شاید یہ بھی مجھے ہی لگ رہا ہے ) ۔
مثلاً ۔تعبیر خواہ کچھ بی ہو، باقی ہے ایک خواب۔
 
Top