افتخار عارف غزل ۔ حریمِ لفظ میں کس درجہ بے ادب نکلا ۔ افتخار عارف

محمداحمد

لائبریرین
غزل

حریمِ لفظ میں کس درجہ بے ادب نکلا
جسے نجیب سمجھتے تھے کم نسب نکلا

سپاہِ شام کے نیزے پہ آفتا ب کا سر
کس اہتمام سے پروردگارِ شب نکلا

ہماری گرمیِ گفتار بھی رہی بے سود
کسی کی چپ کا بھی مطلب عجب عجب نکلا

بہم ہوئے بھی مگر دل کی وحشتیں نہ گئیں
وصال میں بھی دلوں کا غبار کب نکلا

ابھی اُٹھا بھی نہیں تھا کسی کا دستِ کرم
کہ سارا شہر لئے کاسۂ طلب نکلا

افتخار عارف
 
Top