تبسم غزل - یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب - صوفی تبسم

محمد وارث

لائبریرین
یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو

ایسا نہ ہو یہ درد بنے دردِ لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو

شاید تمھیں بھی چین نہ آئے مرے بغیر
شاید یہ بات تم بھی گوارا نہ کر سکو

کیا جانے پھر ستم بھی میسر ہو یا نہ ہو
کیا جانے یہ کرم بھی کرو یا نہ کر سکو

اللہ کرے جہاں کو مری یاد بھول جائے
اللہ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو

میرے سوا کسی کی نہ ہو تم کو جستجو
میرے سوا کسی کی تمنا نہ کر سکو

(صوفی غلام مصطفٰی تبسم)
 

فرخ منظور

لائبریرین
یہ غزل شاید ترنم ناز نے گائی بھی ہے - غزل تو میرے پاس پڑی ہے لیکن یہ پتہ نہیں چل رہا کے گلوکارہ کون ہے -
 

محمد وارث

لائبریرین
فرخ صاحب میں نے اسے شاید فریدہ خانم کی آواز میں سنا تھا، ہو سکتا ہے کسی اور نے بھی گائی ہو، بہرحال ضرور شیئر کیجیے گا۔ نوازش
 

سید زبیر

محفلین
بہت خوب
کیا عمدہ غزل شریک محفل کی ہے
اللہ کرے جہاں کو مری یاد بھول جائے
اللہ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو
واہ​
 
Top