غزل: مت رکھو دل کو یوں سدا خاموش ٭ تابش

ایک کاوش احباب کی نذر

مت رکھو دل کو یوں سدا خاموش
ٹوٹ جائے گا جو رہا خاموش

جو سمجھتا تھا صرف میں ہی ہوں
ہر ستمگر وہ ہو گیا خاموش

اب کے مظلوم خوں رلائے گا
ہو چکا ہے یہ بارہا خاموش

بسمل آہو نے سہمے بچوں سے
آنکھوں آنکھوں میں کہہ دیا خاموش

چند چیخیں اُٹھی تھیں دل میں جنھیں
فکرِ دنیا نے کر دیا خاموش

ساعتِ پُر فتن ہے یہ تابشؔ
مٹ ہی جائے گا جو رہا خاموش

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
 

یاسر شاہ

محفلین
بہت خوب -ہمیشہ کی طرح پرامید ،پر درد ،ولولہ انگیز اور مشعل راہ اشعار -لکھتے رہیے اور پیش کرتے رہیے -:)


---------------

تابش بھائی آپ کی دو ایپ میرے پاس ہیں -ایک تو کلّیات اقبال دوسری کلیات میر -
یہاں کوئی لڑی بنائیں ،جسے اوپر نتھی کر دیں تاکہ ڈھونڈھنے میں آسانی ہو ،جس میں غلطیوں کی نشاندہی کی جا سکے -کچھ دن پہلے کلیات میر پڑھتے ہوئے مشہور غزل :<فقیرانہ آئے صدا کر چلے> میں تین غلطیاں نظر آئیں -دو تو مطلع میں ہی تھیں -اب وہ غزل ہی مجھے نہیں مل رہی - :)
 
بہت خوب -ہمیشہ کی طرح پرامید ،پر درد ،ولولہ انگیز اور مشعل راہ اشعار -لکھتے رہیے اور پیش کرتے رہیے -:)
جزاک اللہ خیر یاسر بھائی۔
آپ احباب کی حوصلہ افزائی سے مہمیز ملتی ہے۔

بہت خوب -ہمیشہ کی طرح پرامید ،پر درد ،ولولہ انگیز اور مشعل راہ اشعار -لکھتے رہیے اور پیش کرتے رہیے -:)


---------------

تابش بھائی آپ کی دو ایپ میرے پاس ہیں -ایک تو کلّیات اقبال دوسری کلیات میر -
یہاں کوئی لڑی بنائیں ،جسے اوپر نتھی کر دیں تاکہ ڈھونڈھنے میں آسانی ہو ،جس میں غلطیوں کی نشاندہی کی جا سکے -کچھ دن پہلے کلیات میر پڑھتے ہوئے مشہور غزل :<فقیرانہ آئے صدا کر چلے> میں تین غلطیاں نظر آئیں -دو تو مطلع میں ہی تھیں -اب وہ غزل ہی مجھے نہیں مل رہی - :)
میری تینوں ایپس پر یہاں لڑیاں موجود ہیں۔ ان میں بھی پوسٹ کر سکتے ہیں۔ اور مجھ سے مکالمہ کی صورت میں بھی بھیج سکتے ہیں۔

شاعرِ مشرق
کلیاتِ میر
دیوانِ غالب
 
واہ! بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں تابش بھائی ! بہت داد آپ کے لئے!
حسبِ معمول آپ کی اس غزل کے مضامین بھی سنجیدہ ، فکر انگیز اور ذاتی سے زیادہ سماجی نوعیت کے ہیں۔ فکر کی پختگی نظر آرہی ہے ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!

چند چیخیں دبی تھیں دل میں جنھیں
فکرِ دنیا نے کر دیا خاموش
یہاں پہلے مصرع میں "دبی" کے بجائے "اٹھی" میری رائے میں زیادہ مناسب ہوگا ۔ دبی چیخوں کو خاموش کرنے کے مقابلے میں اٹھتی چیخوں کو خاموش کرنا زیادہ معقول لگتا ہے ۔

مطلع اچھا ہے! اس کی موجودہ صورت میں کوئی خرابی نہیں ۔ میری ناقص رائے میں پہلے مصرع میں اگر الفاظ کی نشست بدل دی جائے تو زیادہ موثر ہوجائےگا:
مت رکھو دل کو یوں سدا خاموش
ٹوٹ جائے گا جو رہا خاموش

کہا یہ جاتا ہے کہ جملہء امریہ میں اگر فعلِ کو مفعول پرمقدم کیا جائے (یعنی جملے میں مفعول سے پہلے لایا جائے) تو شدت اور تاکید پیدا ہوتی ہے ۔ چونکہ یہاں موقع بھی تاکید ہی کا ہےاس لئے شاید مجوزہ بندش نسبتاً بہتر ہوگی ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
 
واہ! بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں تابش بھائی ! بہت داد آپ کے لئے!
حسبِ معمول آپ کی اس غزل کے مضامین بھی سنجیدہ ، فکر انگیز اور ذاتی سے زیادہ سماجی نوعیت کے ہیں۔ فکر کی پختگی نظر آرہی ہے ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
جزاک اللہ خیر
چند چیخیں دبی تھیں دل میں جنھیں
فکرِ دنیا نے کر دیا خاموش
یہاں پہلے مصرع میں "دبی" کے بجائے "اٹھی" میری رائے میں زیادہ مناسب ہوگا ۔ دبی چیخوں کو خاموش کرنے کے مقابلے میں اٹھتی چیخوں کو خاموش کرنا زیادہ معقول لگتا ہے ۔

مطلع اچھا ہے! اس کی موجودہ صورت میں کوئی خرابی نہیں ۔ میری ناقص رائے میں پہلے مصرع میں اگر الفاظ کی نشست بدل دی جائے تو زیادہ موثر ہوجائےگا:
مت رکھو دل کو یوں سدا خاموش
ٹوٹ جائے گا جو رہا خاموش

کہا یہ جاتا ہے کہ جملہء امریہ میں اگر فعلِ کو مفعول پرمقدم کیا جائے (یعنی جملے میں مفعول سے پہلے لایا جائے) تو شدت اور تاکید پیدا ہوتی ہے ۔ چونکہ یہاں موقع بھی تاکید ہی کا ہےاس لئے شاید مجوزہ بندش نسبتاً بہتر ہوگی ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
قیمتی آراء پر ممنون ہوں۔ اور دونوں مشورے قبول کرتا ہوں۔ :)
 
ایک کاوش احباب کی نذر

مت رکھو دل کو یوں سدا خاموش
ٹوٹ جائے گا جو رہا خاموش

جو سمجھتا تھا صرف میں ہی ہوں
ہر ستمگر وہ ہو گیا خاموش

اب کے مظلوم خوں رلائے گا
ہو چکا ہے یہ بارہا خاموش

بسمل آہو نے سہمے بچوں سے
آنکھوں آنکھوں میں کہہ دیا خاموش

چند چیخیں اُٹھی تھیں دل میں جنھیں
فکرِ دنیا نے کر دیا خاموش

ساعتِ پُر فتن ہے یہ تابشؔ
مٹ ہی جائے گا جو رہا خاموش

٭٭٭
محمد تابش صدیقی

کیا خوب کہا ہے۔ داد قبول فرمائیے
 
Top