غزل: لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا ٭ تابش

سال کے اختتام پر کچھ خیالات رواں ہو گئے۔ احباب کی بصارتوں کی نذر

لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا
کیا ہمارا یہ حال بدلے گا؟

ہو گئے ہر ستم کے ہم عادی
اب تو ظالم ہی چال بدلے گا

دل بدلتا نہیں ہے کہنے سے
اشکِ توبہ میں ڈھال، بدلے گا

کون بدلے گا ملک کے حالات؟
کیا کبھی یہ سوال بدلے گا؟

ہم نے بدلی نہیں رَوِش تابشؔ
کیسے کہہ دوں مآل بدلے گا

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
 
ماشاء اللہ ، بہت خوب!
جزاک اللہ خیر نظامی بھائی
عمدہ اشعار۔
داد قبول کیجیے:)
آداب آداب۔ شکریہ
ماشاء اللہ ۔۔۔ اتنا اچھا لکھتے ہیں تو اس گوشے میں آج کل نظر کیوں نہیں آتے :)
جزاک اللہ خیر احسن بھائی۔
جورِ روزگار نے تخیل کے گھوڑے کو پروگرامنگ کے اصطبل میں باندھ کر رکھ دیا ہے۔
عمدہ اور رواں اشعار! بہت سی داد قبول کیجیے تابش بھائی!
بہت شکریہ مریم بہن۔
 
سال کے اختتام پر کچھ خیالات رواں ہو گئے۔ احباب کی بصارتوں کی نذر

لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا
کیا ہمارا یہ حال بدلے گا؟

ہو گئے ہر ستم کے ہم عادی
اب تو ظالم ہی چال بدلے گا

دل بدلتا نہیں ہے کہنے سے
اشکِ توبہ میں ڈھال، بدلے گا

کون بدلے گا ملک کے حالات؟
کیا کبھی یہ سوال بدلے گا؟

ہم نے بدلی نہیں رَوِش تابشؔ
کیسے کہہ دوں مآل بدلے گا

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
زبردست۔ اعلیٰ۔ بہت داد قبول فرمائیے۔
 
زبردست۔ اعلیٰ۔ بہت داد قبول فرمائیے۔
آداب آداب۔ بہت شکریہ خلیل بھائی
ماشاء اللہ ،
خوبصورت غزل
جزاک اللہ خیر عدنان بھائی
ماشاءاللہ

بہت خوب تابش بھائی!
جزاک اللہ خیر احمد بھائی
عمدہ اور حسبِ حال غزل ہے صدیقی صاحب، بہت خوب۔
بہت شکریہ وارث بھائی۔ پسند فرمانے پر شکر گزار ہوں۔
 
جورِ روزگار نے تخیل کے گھوڑے کو پروگرامنگ کے اصطبل میں باندھ کر رکھ دیا ہے۔
تابش بھائی ، کبھی کبھی چپکے سے رات کو اٹھ کر آہستگی سے اصطبل کا دروازہ کھولا کیجئے اور گھوڑے پر سوار ہو کر ایک آدھ چکر شہر ِ سخن کا لگا لیا کیجئے ۔ کسی کو پتہ نہیں چلے گا ۔ :):):) تجربے کی بات بتا رہے ہیں آپ کو ۔

ہم چھوڑ بھی دیتے ہیں کُھلا توسنِ دل کو
تھامے ہوئے ہر وقت لگامیں نہیں رہتے
 
تابش بھائی ، کبھی کبھی چپکے سے رات کو اٹھ کر آہستگی سے اصطبل کا دروازہ کھولا کیجئے اور گھوڑے پر سوار ہو کر ایک آدھ چکر شہر ِ سخن کا لگا لیا کیجئے ۔ کسی کو پتہ نہیں چلے گا ۔ :):):) تجربے کی بات بتا رہے ہیں آپ کو ۔

ہم چھوڑ بھی دیتے ہیں کُھلا توسنِ دل کو
تھامے ہوئے ہر وقت لگامیں نہیں رہتے
اب تو لاک ڈاؤن نے اصطبل پر مزید پہرے بٹھا دیے ہیں۔

آپ کا بتایا ہوا تجربہ ایک دفعہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ تخیل کے گھوڑے کو ایڑھ لگانا ہی چاہی تھی کہ کسی نے یہ کہہ کر گھوڑے کی باگیں کھینچ لیں کہ یہ کیا رات کے اس پہر موبائل میں گھسے ہوئے ہیں۔:terror:اور جس رفتار سے تخیل میں ایک مصرع سمایا تھا، اس سے دوگنی رفتار سے چمپت ہو گیا۔ :)
 
آپ کا بتایا ہوا تجربہ ایک دفعہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ تخیل کے گھوڑے کو ایڑھ لگانا ہی چاہی تھی کہ کسی نے یہ کہہ کر گھوڑے کی باگین کھینچ لیں کہ یہ کیا رات کے اس پہر موبائل میں گھسے ہوئے ہیں۔:terror:اور جس رفتار سے تخیل میں ایک مصرع سمایا تھا، اس سے دوگنی رفتار سے چمپت ہو گیا۔ :)
ادھر اپنا تو لاک ڈاؤن میں یہ حال ہے کہ

رو میں ہے رخش "خیال" کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

رات کوئی ایک بجے ظہیر بھائی کا پیغام دیکھا۔ تڑپ اٹھے اور ان کی تجویز کو ذہن میں لاتے ہی موبائل پر ہی شروع ہوگئے ۔ اچھی تو نہیں کہہ سکتے، ہاں پہلے سے بہتر ہوگئی۔


جزاک اللہ ظہیر بھائی۔ آپ کامشورہ پڑھتے ہی چھوٹی بحر میں لکھنے کی کوشش کرڈالی ہے۔ پڑھ کر اپنی را ئے سے ضرور نوازئیے۔

سردی میں کھیتوں پر کہرا چھائے گا
گیت لکھے گا شاعر اور یوں گائے گا

گلشن میں جب سبزہ شان دکھائے گا
تب شاعر مطلب اس کا سمجھائے گا

گرمی کے دن لمبے اور راتیں چھوٹی
تب اس کا تم مطلب سمجھو گی موٹی

پت جھڑ میں جب پتے سب جھڑ جائیں گے
لکھ لینا جو معنی سمجھ میں آئیں گے

دریا کی مچھلیوں کو میں نے خط لکھا
میں نے ان کو جتا دیا جو مطلب تھا

ان لوگوں کا تب مجھ کو یوں خط آیا
خط میں مجھ کو لکھ بھیجا جو مطلب تھا

ایسے اپنے خط میں آئیں مطلب پہ
لکھا یه تو کر نہیں سکتیں ہم کیونکہ۔۔

اپنے خط میں میں نے دے دی اک دھمکی
بہتر ہوگا کہنا مانو فوراً ہی

ہنس کر بولیں غصے میں لگتے ہیں آپ
تھوک دیں غصہ اور نہ لکھیں اناپ شناپ

ان سب نے پھر ہنس کر مجھ کو ٹال دیا
میرا کہنا پشت کے پیچھے ڈال دیا

تب اک دیگ بھی میں لے آیا تھا جاکر
دل میں ٹھانی تھی میں نے کچھ بھنا کر

دل میرا یوں زور سے دھک دھک کرتا تھا
پمپ پہ جاکر جب میں دیگ کو بھرتا تھا

تب کوئی میرے پاس آیا اور یوں بولا
سب جا سوئی ہیں اور خالی ہے دریا

میں نے اس کو ڈانٹ دیا اور یوں بولا
ان کو جگاؤ منہ کیا تکتے ہو میرا

میں نے اپنا مطلب اس کو جتلایا
اس کے کان پہ منہ رکھا اور میں چیخا

کڑوا سا منہ بناکے اس نے آہ بھری
بولا چیخ کے کہنے کی حاجت کیا تھی

پیر پٹخ کر پھر بولا اب جاؤں کدھر
ان کو اٹھانے جاتا ہوں میں پھر بھی اگر۔۔

میں نے شیلف سے اک سوا بھی اٹھالیا
اور ان کو یوں آپ جگانے چلاگیا

جب میں ان کے گھر پہنچا وہ سوتی تھیں
میری کوشش اور محنت بے کار گئیں

میں نے اپنی کوشش کرلی ہر ممکن
دروازے پر محنت کی میں نے لیکن۔۔​
 
Top