غزل: اور اس کے بعد ہمیشہ مجھے عدو سمجھے

Qamar Shahzad نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 17, 2020

  1. Qamar Shahzad

    Qamar Shahzad محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اور اس کے بعد ہمیشہ مُجھے عدو سمجھے
    مری مراد نہیں دوست ہو بہو سمجھے

    اگرچہ مادری میری زباں ہے پنجابی
    پہ شعر اردو میں کہتا ہوں تاکہ تُو سمجھے

    نہ سنگِ لفظ گرائے سکوت دریا میں
    کوئی نہیں جو خموشی کی آبرو سمجھے

    زبانِ حال سے کہتے رہے حذر لیکن
    تھرکتے جسم نہ اعضاء کی گفتگو سمجھے

    مجھ ایسے مست کا غوغا جسے کھٹکتا ہے
    وہ میرے ساتھ رہے، لطفِ ہا و ہو سمجھے

    کرے تلاش زمینِ گماں پہ اس کا عکس
    وہ روبرو نہ رہے، آنکھ روبرو سمجھے

    مرے خیال کو ندرت خدا نے بخشی ہے
    تو کیسے شعر مرے کوئی بے وضو سمجھے
    قمر آسی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    430
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
  3. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,746
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بزمِ سخن میں خوش آمدید قمر شہزاد صاحب!
    امید ہے کہ آپ اپنے کلام سے بزم کو رونق بخشتے رہیں گے ۔ اگر مناسب سمجھیں تو اہلِ بزم کو اپنے تعارف کا شرف بخشئے ۔ آپ سب کو سراپا استقبال پائیں گے ۔
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر