عالمی دھشت گرد: امریکہ

سویدا

محفلین
برادرم فواد
آپ بھائی شمشاد کے سوال کا واضح الفاظ میں جواب کیوں نہیں دیتے جس طرح تحقیقی جواب آپ نے ملا ضعیف کے بارے میں دیا
 

شمشاد

لائبریرین
ميڈيا ميں امريکی انتظاميہ کی جانب سے مبينہ خطرناک نتائج کی دھمکيوں کے حوالے سے جن خبروں کو اجاگر کيا جا رہا ہے، وہ بالکل درست نہيں ہيں۔ بلکہ اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے نے اس ضمن میں باقاعدہ پريس ريليز بھی جاری کر دی ہے جس ميں واضح الفاظ ميں يہ بيان ديا گيا ہے کہ مختلف ميڈيا فورمز پر مذاکرات کی جو تفصيل بيان کی جا رہی ہے وہ حقائق پر مبنی نہيں ہيں۔

يہ پہلا موقع نہيں ہے کہ امريکی حکومت کے عہديدران اور ان کے پاکستانی ہمعصروں کے مابين کسی معاملے پر اتفاق رائے موجود نہيں ہے۔ ماضی ميں ايسی کئ مثالیں موجود ہيں جب باہم ڈائيلاگ اور تعميری گفتگو کے ذريعے دونوں ممالک کے حکام کے مابين افعام وتفہيم کے ساتھ معاملات کو دونوں ممالک کے دور رس اسٹريجيک مفادات کے ليے حل کر ليا گيا۔ يہ کيس بھی ان تعلقات کے حوالے سے مختلف نہيں ہے۔

ہم نے حکومت پاکستان پر اپنی پوزيشن واضح کر دی ہے جو کہ عالمی قوانين اور باہم اتفاق سے منظور شدہ ضوابط کے عين مطابق ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ دونوں حکومتيں اس معاملے ميں ابھی تک کسی حل تک نہيں پہنچ پائ ہيں۔ ليکن يہ امر کسی بھی صورت ميں پاکستان کے عوام کے ساتھ ہمارے ديرينہ تعلقات اور خطے ميں ہمارے سب سے مضبوط اتحادی کے ساتھ طويل المدت اسٹريجک تعلقات کا آئینہ دار نہيں ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall

جی ہاں جبھی تو محترمہ ہیلری کلنٹن صاحبہ نے گزشتہ روز ہندوستانی حکومت سے مصر کی صورتحال پر فون پر بات کی تھی۔ جبکہ سب ہی جانتے ہیں کہ مصر ہندوستان سے بہت دور ہے جبکہ پاکستان کی سرحد ہندوستان سے ملی ہوئی ہے۔
اب بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ پہلے بھی کبھی امریکی ارباب اختیار نے ہندوستان سے پوچھ کر اپنی پالیسیاں ترتیب دی ہیں۔

میرا سوال اپنی جگہ پر موجود ہے اور ہنوز جواب طلب ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
آج ہندوستانی فوج کے سربراہ کا بھی بیان آیا ہے کہ وہ پاکستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

مزید یہ کہ آج ایک امریکی سینیٹر پاکستان آیا ہے اور ہماری حکومت اس کے آگے پوری طرح لم لیٹ ہو گئی ہے۔ اب ہو گا یہ کہ ریمنڈ کو رہا کر دیا جائے گا۔

اب کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ہماری حکومت اس کو رہا کر دے گی اور چند دنوں میں سب لوگ بھول بھال جائیں گے۔

-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

یقین کریں یہ خون رائیگاں نہیں جائیں گے۔ جو بھی ارباب اختیار اس میں ملوث ہیں ان کو بہت جلد اللہ تعالٰی کے آگے جوابدہ ہونا پڑے گا۔
 

موجو

لائبریرین
السلام علیکم
میرا خیال ہے شمشاد بھائی اس کو سزا دی جائے تو اثرات دیر پا ہونگے
اس قاتل کو چھوڑ دیا تو چند دن تک جلاؤ گھراؤہوگا پھر ہم بھول جائیں گے انسان بہت جلدی بھول جاتا ہے حتی کہ اپنے جو بچھڑ جاتے ہیں ان کو بھی۔
 

شمشاد

لائبریرین
جناب ہمارے حکمران ان کے تلوے چاٹتے ہیں، ان کی جی حضوری کرتے ہیں، اپنا سرمایہ وہاں رکھتے ہیں، سیر سپاٹے اور عیاشی کرنے وہاں جاتے ہیں۔ امریکہ کے حکمران کی ایک دبکی سے ہمارے حکمرانوں کی ہوا نکل جاتی ہے۔ تو کس منہ سے کسی امریکی کو سزا دیں گے۔ یہ تو اُلٹا اپنے لوگوں کو قصور وار ٹھہرائیں گے۔ ہمارے حکمرانوں کا تو بس نہیں چل رہا ورنہ اس مجرم کو یہاں سے چھوڑ کر خود جا کر امریکہ چھوڑ آئیں۔ رہ گئی پاکستانی عوام تو یہ کیڑے مکوڑے ہیں، روز مرتے ہیں تو اس دن اگر چار مر گئے تھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
 
پاکستان میں روزآنہ بے شمار لوگ قتل کیئے جا رہے ہیں ۔ کوئی زمینداروں اور جاگیرداروں کی عقوبت خانوں میں مصلوب ہو رہا ہے ۔ سڑکوں پر دن دھاڑے ڈاکے پڑ رہے ہیں اور زیادہ تر لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ خود کش حملوں سے مسجدیں ، امام بارگاہیں ، زیارتیں محفوظ نہیں ہیں ۔ ٹارگٹ کلنگ میں روز لوگ لقمہِ اجل بن رہے ہیں ۔ کمسن بچیوں کو زیادتی اور پھر قتل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ لوگ بچوں سمیت یا تو خود کشی کررہے ہیں یا پھر اپنے ہاتھوں سے ان کا سودا کر رہے ہیں ۔ غیرت ، کاروکری پر روز قتل ہو رہے ہیں ۔ سیاسی جنازے روز اٹھائے جا رہے ہیں ۔ کہیں کسی کی بہن ، بیٹی کے سر کی چادر سرعام بازار میں اتاری جا رہی ہے ۔ اور ہمت علی کو صرف تین پاکستانی کا قتل میں ملک کی عزت ، وقار اور خود مختاری نظر آرہی ہے ۔ جواب نہیں ہمت علی تمہارا ۔۔۔ ذرا اپنا ویژن بڑھاؤ ہمت علی ۔۔۔۔ کیا سعودی عرب سے یہ مناظر نظر نہیں آرہے ہیں ۔ ؟ :eek:

۔

بدقسمتی سے ہمارے لوگ بھی غلامی میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ان کو اپنے ہی لوگ کیڑے مکوڑے لگتے ہیں-
پاکستانی عوام یہ سب دیکھ رہے ہیں اور کبھی نہیں بھولیں گے ۔ یہ ٹرننگ پوائنٹ ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
اللہ کرے یہی پوائنٹ ایک ٹرننگ پوائنٹ بن کر ایسا اُبھرے کہ پاکستانی عوام کو اپنی چھینی ہوئی شناخت مل جائے۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

برادرم فواد
آپ بھائی شمشاد کے سوال کا واضح الفاظ میں جواب کیوں نہیں دیتے جس طرح تحقیقی جواب آپ نے ملا ضعیف کے بارے میں دیا



جيسا کہ ميں نے پہلے بھی واضح کيا تھا کہ جنوری 27 کو پيش آنے والے واقعات کے تسلسل کا محرک امريکی سفارت کار نہيں تھا۔ اس میں کوئ شک نہيں کہ اس روز انسانی زندگيوں کا ضياع ہوا۔ ہم اس پر افسوس کا اظہار بھی کرتے ہيں اور ان خاندانوں سے ہمدردی رکھتے ہیں جن کے عزيز ان سے جدا ہو گئے۔ ليکن بنيادی حقيقت يہی ہے کہ دو مسلح افراد جو اس سے قبل وارداتوں ميں ملوث رہ چکے تھے، انھوں نے امريکی سفارت کار پر حملہ کيا۔ اس اقدام کے بعد جو کچھ بھی ہوا وہ کوئ طے شدہ منصوبہ ہرگز نہيں تھا بلکہ اپنی جان کے دفاع ميں کيا جانے والا اقدام تھا۔ جنوری 27 کو پيش آنے والے واقعات کی حتمی ذمہ داری انھی افراد پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے امریکی سفارت کار پر انھيں نقصان پہنچانے کی نيت سے حملہ کيا۔

اگر امريکی حکومت اس واقعے ميں ملوث اپنے سفارت کار کے ليے سفارتی استثنی کی درخواست کر رہی ہے تو اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ ہم پاکستانی قوانين کو خاطر ميں نہيں لا رہے۔ ہم صرف اس حقيقت پر اصرار کر رہے ہيں کہ يہ معاملہ پاکستان ميں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دائرہ اختيار ميں نہيں آتا۔ اسی بات کا اظہار صدر اوبامہ نے بھی اپنے بيان ميں کيا تھا۔

"يقينی طور پر ہميں انسانی جانوں کے ضياع پر تشويش ہے۔ ہم اس بارے ميں سردمہری کا مظاہرہ نہيں کر رہے ہيں۔ ليکن يہاں ايک بڑا اصول ہمارے سامنے ہے۔ ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ دنيا کا ہر وہ ملک جو سفارتی تعلقات کے حوالے سے ويانا کنوينشن کا حصہ ہے وہاں ماضی ميں بھی ان اصولوں کی پاسداری کی گئ ہے اور مستتقبل ميں بھی ايسا ہی ہونا چاہيے۔ اور وہ اصول يہ ہے کہ جب ہمارے سفارت کار دوسرے ممالک ميں ہوں تو ان ممالک ميں ان پر قانونی چارہ جوئ نہيں ہو سکتی۔"

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
 

شمشاد

لائبریرین
اپنی جان کا دفاع کرنے والا حملہ آوروں کو قتل کرنے کے بعد نکل بھاگنے کی کوشش کرتا ہے نہ کہ تسلی سے گاڑی سے اتر کر ان کی ویڈیو بنانے لگتا ہے جبکہ اس کے پاس بغیر لائسنس کے ممنوعہ بور کا اسلحہ بھی ہو۔

میرا مندرجہ بالا سوال ابھی بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ اس کے متعلق کچھ فرمائیں۔
 
پاکستان اور پاکستانی وزیر خارجہ نےکھل کر یہ بات کہہ دی ہے کہ امریکی دھشت گرد کو کوئی استثنٰی حاصل نہیں ہے- یہ ہی لوجکل ہے کہ قاتل کو استثنٰی نہیں ہوتا۔
سلمان بشیر نے بھی یہی بات کہی ہے۔
کیری نے بھی ناک رگڑ کر پاکستان سے معافی مانگ لی ہے-
ادھر واشنگٹن سے فلپ کرولی کہتا ہے کہ کنڑیکٹ ملازمیں کو بھی استثنٰی حاصل ہے۔
اسکامطلب یہ ہے کہ ایمبیسی کا بھنگی بھی بھنگ پی کر سڑک پراکر لوگو ں کو بھون سکتا ہے روند سکتا ہے کچل سکتا ہے اور کوئی اس کو ہاتھ نہیں لگاسکتا۔
یہ کھلی دھشت گردارنہ باتیں ہے۔
امریکی دھشت گردکو پاکستانی حکومت اسپیڈی ٹرائیل چلا کر سزا سنائے۔ یہی پاکستانی عوام کا حق اور مطالبہ ہے۔
بہت ہوچکی پاکستان میں دھشت گردی ۔ اب بس۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

يہ بات توجہ طلب ہے کہ سفارتی استثنی کے حوالے سے قوانين اور ضوابط کی تشکيل امريکہ کی جانب سے نہيں کی گئ تھی۔ اس کے علاوہ صرف امريکی سفارت کار ہی دنيا بھر ميں سفارتی تحفظ کے تحت خدمات انجام نہيں ديتے ہیں۔ اسی طرز کی سہوليات امريکہ ميں بھی پاکستانی سفارت کاروں سميت تمام غيرملکی سفارت کاروں کو حاصل ہوتی ہیں۔

سفارتی استثنی کو ايک ادارے کی طرح پروان چڑھانے کا مقصد يہ رہا ہے کہ اس کی بدولت حکومتوں کے مابين تعلقات کو برقرار رکھنے ميں مدد ملتی ہے خاص طور پر ان حالات ميں جب کہ ممالک کے مابين تعلقات کشيدہ ہوں يا باقاعدہ جنگی صورت حال کا سامنا ہو۔ سفارت کاروں کو وصول کرتے وقت ميزبان حکومت ايسی خصوصی مراعات اور تحفظ کا يقين دلانے کی مجاز ہوتی ہے جن کی موجودگی ميں سفارت کار فعال انداز ميں اپنی ذمہ دارياں پوری کر سکيں، اس يقين دہانی کے بدلے ميں ايسی ہی سہوليات اور تحفظ ميزبان ملک کے سفارت کاروں کو بھی مہيا کيا جاتا ہے۔

سفارت کاروں کو سہوليات اور تحفظ فراہم کرنا عالمی قوانين کی بڑی پرانی روايات ميں شامل ہے۔ يہ روايات جنھيں اس سے پہلے بھی اختيار کيا جاتا رہا ہے سال 1961 ميں سفارتی تعلقات سے متعلق ويانا ميں ہونے والے کنويشن ميں باقاعدہ قانونی شکل اختيار کر گئيں۔ جن ممالک نے ان ضوابط کو تسليم کيا ہے وہ اس بات پر متفق ہيں کہ اس طرح کی روايات متنوع معاشرتی نظاموں اور آئينی اقدار سے قطع نظر قوموں کے مابين دوستانہ روابط کی تشکيل ميں اہم کردار ادا کرتی ہيں۔ اس سوچ کا باقاعدہ اظہار ويانا کنونشن کے پیراگراف 3 ميں باقاعدہ درج ہے۔

ميں يہ بھی نشاندہی کر دوں کہ پاکستان کا نام ان ممالک ميں شامل ہے جن کی جانب سے اقوام متحدہ کے سيکرٹری جرنل کو ويانا ميں سفارتی تعلقات کے حوالے سے اجلاس کے انعقاد کے لیے کہا گيا تھا۔

ويانا کنونشن ميں سفارتی سہولیات، تحفظ اور استثنی کے حوالے سے جو مقصد بیان کيا گيا ہے اس کے مطابق انفرادی سطح پر مفادات نہیں بلکہ مجموعی طور پر رياستوں کی ترجمانی کرنے والے سفارتی مشنز کی فعال کارکردگی کو يقينی بنانا ملحوظ رکھا گيا ہے۔ اس کے علاوہ ميزبان ملک کو يہ اختيار بھی حاصل ہے کہ وہ سفارتی مشن ميں شامل عملے کے کسی بھی رکن کو ناپسنديدہ قرار دے سکتا ہے۔ يہ قدم کسی بھی موقع پر اٹھايا جا سکتا ہے اور اس فيصلے کے ليے کسی وضاحت کی بھی کوئ ضرورت نہيں ہوتی۔ ايسی صورت حال ميں سفارتی مشن بھيجنے والی رياست قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ اس شخص کو واپس بلوا لے يا سفارتی مشن کے ساتھ اس کے تعلق کو ختم کر دے۔ مجموعی طور پر سفارتی استثنی اور اس ضمن ميں دی جانے والی سہوليات کی بدولت رياستوں کے مابين تعلقات استوار کرنے ميں بہت مدد ملی ہے۔

يہ بات بھی غور طلب ہے کہ اقوام متحدہ کے کسی بھی ممبر ملک نے اس کنونشن کو ترک کرنے يا اس ميں درج قوانين کو تبديل کرنے کے لیے کبھی باضابطہ قرارداد پيش نہیں کی۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
 

شمشاد

لائبریرین
نجانے کیا مصلحت ہے کہ فواد ہر دفعہ میرا سوال گول کر جاتے ہیں۔ کیا یہ بھی ویانا کنونشن میں لکھا ہوا ہے؟
 

فرخ

محفلین
شمشاد بھائی۔۔
آپ کا تو صرف سوال گول ہوتا ہے۔ مگر ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی کاغذات بھی گول ہی ہوتے رہے ہیں ابھی تک
امریکہ خود اصل باتیں گول کر کے، ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ ہی گول کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔
 

فرخ

محفلین
اور تو اور ، وہ ڈرائیور بھی گول کردیا گیا جس نے موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار کر ہلاک کیا تھا۔۔۔۔
اور سونے پر سہاگا یہ کہ ہمارے دفتر خارجہ بھی اب ڈراوئیور کا کا معاملہ گول کرنے کے چکر میں ہیں اور اس سلسلے میں ہونے والے سوالات بھی گول کرتے جا رہے ہیں۔

ہم اتنے گول کرتے ہیں، ورلڈ بک آف گینس ریکارڈ بھی بنا سکتے ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ڈرائیور امریکہ پہنچ چکا ہے۔
واہ رے انصاف کے ٹھیکیدارو۔

رہی ہماری حکومت کی بات تو وہ تو ہے ہی امریکہ کی ذہنی و جسمانی غلام
 

سید ابرار

محفلین
يہ بات توجہ طلب ہے کہ سفارتی استثنی کے حوالے سے قوانين اور ضوابط کی تشکيل امريکہ کی جانب سے نہيں کی گئ تھی۔ اس کے علاوہ صرف امريکی سفارت کار ہی دنيا بھر ميں سفارتی تحفظ کے تحت خدمات انجام نہيں ديتے ہیں۔ اسی طرز کی سہوليات امريکہ ميں بھی پاکستانی سفارت کاروں سميت تمام غيرملکی سفارت کاروں کو حاصل ہوتی ہیں۔

سفارتی استثنی کو ايک ادارے کی طرح پروان چڑھانے کا مقصد يہ رہا ہے کہ اس کی بدولت حکومتوں کے مابين تعلقات کو برقرار رکھنے ميں مدد ملتی ہے خاص طور پر ان حالات ميں جب کہ ممالک کے مابين تعلقات کشيدہ ہوں يا باقاعدہ جنگی صورت حال کا سامنا ہو۔ سفارت کاروں کو وصول کرتے وقت ميزبان حکومت ايسی خصوصی مراعات اور تحفظ کا يقين دلانے کی مجاز ہوتی ہے جن کی موجودگی ميں سفارت کار فعال انداز ميں اپنی ذمہ دارياں پوری کر سکيں، اس يقين دہانی کے بدلے ميں ايسی ہی سہوليات اور تحفظ ميزبان ملک کے سفارت کاروں کو بھی مہيا کيا جاتا ہے۔

سفارت کاروں کو سہوليات اور تحفظ فراہم کرنا عالمی قوانين کی بڑی پرانی روايات ميں شامل ہے۔ يہ روايات جنھيں اس سے پہلے بھی اختيار کيا جاتا رہا ہے سال 1961 ميں سفارتی تعلقات سے متعلق ويانا ميں ہونے والے کنويشن ميں باقاعدہ قانونی شکل اختيار کر گئيں۔ جن ممالک نے ان ضوابط کو تسليم کيا ہے وہ اس بات پر متفق ہيں کہ اس طرح کی روايات متنوع معاشرتی نظاموں اور آئينی اقدار سے قطع نظر قوموں کے مابين دوستانہ روابط کی تشکيل ميں اہم کردار ادا کرتی ہيں۔ اس سوچ کا باقاعدہ اظہار ويانا کنونشن کے پیراگراف 3 ميں باقاعدہ درج ہے۔

ميں يہ بھی نشاندہی کر دوں کہ پاکستان کا نام ان ممالک ميں شامل ہے جن کی جانب سے اقوام متحدہ کے سيکرٹری جرنل کو ويانا ميں سفارتی تعلقات کے حوالے سے اجلاس کے انعقاد کے لیے کہا گيا تھا۔

ويانا کنونشن ميں سفارتی سہولیات، تحفظ اور استثنی کے حوالے سے جو مقصد بیان کيا گيا ہے اس کے مطابق انفرادی سطح پر مفادات نہیں بلکہ مجموعی طور پر رياستوں کی ترجمانی کرنے والے سفارتی مشنز کی فعال کارکردگی کو يقينی بنانا ملحوظ رکھا گيا ہے۔ اس کے علاوہ ميزبان ملک کو يہ اختيار بھی حاصل ہے کہ وہ سفارتی مشن ميں شامل عملے کے کسی بھی رکن کو ناپسنديدہ قرار دے سکتا ہے۔ يہ قدم کسی بھی موقع پر اٹھايا جا سکتا ہے اور اس فيصلے کے ليے کسی وضاحت کی بھی کوئ ضرورت نہيں ہوتی۔ ايسی صورت حال ميں سفارتی مشن بھيجنے والی رياست قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ اس شخص کو واپس بلوا لے يا سفارتی مشن کے ساتھ اس کے تعلق کو ختم کر دے۔ مجموعی طور پر سفارتی استثنی اور اس ضمن ميں دی جانے والی سہوليات کی بدولت رياستوں کے مابين تعلقات استوار کرنے ميں بہت مدد ملی ہے۔

يہ بات بھی غور طلب ہے کہ اقوام متحدہ کے کسی بھی ممبر ملک نے اس کنونشن کو ترک کرنے يا اس ميں درج قوانين کو تبديل کرنے کے لیے کبھی باضابطہ قرارداد پيش نہیں کی۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall

بہت اچھی ’’ تحریر ‘‘ ہے ، ویل ڈیوٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ایک ’’نظر ‘‘ ادھر بھی ۔۔۔۔۔

’ریمنڈ سی آئی اے کا اہلکار ہے‘ بی بی سی
:):):)
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اپ نے یہ فیصلہ کیسے کیا دھشت گرد ریمنڈ پر کوئی حملہ ہوا تھا؟ ۔

ريمنڈ ڈيوس پاکستان ميں کام کرنے والا واحد سفارت کار نہيں ہے۔ کچھ رائے دہندگان کی جانب سے يہ مضحکہ خيز سوچ سامنے آ رہی ہے کہ امريکی سفارت کار پاکستان کی سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہيں اور اندھا دھند پاکستانی شہريوں کو ہلاک کر رہے ہيں۔ اس سوچ کی نا تو کوئ منطق ہے اور نہ ہی کوئ توجيہہ۔ ميں چاہوں گا کہ آپ دنيا ٹی وی کے پروگرام دنيا ٹو ڈے کا جنوری 27 کو نشر ہونے والے شو کا يا حصہ سنيں جس ميں ايس پی سيکورٹی لاہور رانا فيصل نے ٹی وی اینکر معيد پيرزادہ کے سوالات کے جواب ميں واقعے کی تفصيل واضح کی تھی۔


يہ ياد رہے کہ واقعے کے حوالے سے يہ معلومات محض چند گھنٹوں بعد سامنے آ گئی تھيں لہذا کسی سرکاری دباؤ يا اثرورسوخ کا ان معلومات پر اثرانداز ہونے يا تبديل کرنے کا کوئ امکان موجود نہيں ہے۔ وہ اپنی سرکاری حيثيت ميں موقع پر موجود معلومات کی بنياد پر اپنا بيان دے رہے تھے۔

اس کے علاوہ يہ بيان کئ عينی شاہدوں کے بيانات کو بھی درست ثابت کرتا ہے جنھوں نے يہ واضح بيان ديا تھا کہ ريمنڈ ڈيوس نے اپنے دفاع میں اس وقت کاروائ کی تھی جب دو مسلح افراد نے موٹر سائيکل پر ان کا سامنا کيا۔ ہم يہ بھی سمجھتے ہيں ان افراد کے پاس سے چوری کا مال بھی برآمد ہوا اور پوليس کے بيان کے مطابق ان کے پاس اسلحہ بھی موجود تھا۔

ميں چاہوں گا کہ آپ مسلم ليگ کے رہنما خواجہ سعد رفيق کے بيانات پر بھی غور کريں۔ باوجود اس کے کہ وہ اس ايشو کے حوالے سے امريکہ کے موقف کی تائيد نہيں کرتے، انھوں نے بھی اس حقيقت کو تسليم کيا کہ موٹر سائيکل پر موجود افراد مجرمانہ پس منظر رکھتے تھے۔

ہميں اس بات پر افسوس ہے کہ پاکستانی حکام نے جب يہ بيان جاری کيا کہ امريکی سفارت کار نے اپنے دفاع ميں کاروائ نہيں کی تھی تو انھوں نے نا صرف يہ کہ عينی شاہدوں کے بيانات کو نظرانداز کيا بلکہ موقع پر موجود شہادتوں کو بھی پس پش ڈال ديا۔

اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے کے انتظامی اور تکنيکی عملے کی حيثيت سے ريمنڈ ڈيوس کو سال 1961 کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے ويانا کنونشن کے تحت پاکستان ميں کسی بھی قسم کی قانونی کاروائ سے مکمل استثنی حاصل ہے۔ پاکستان اور امريکہ سميت تمام ممالک نے اپنی مرضی سے ان قوانين اور ضوابط کو تسليم کيا ہے۔ ان قوانين کی موجودگی ميں اس کو فوری طور پر رہا کيا جانا چاہيے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
 

عثمان

محفلین
ريمنڈ ڈيوس پاکستان ميں کام کرنے والا واحد سفارت کار نہيں ہے۔ کچھ رائے دہندگان کی جانب سے يہ مضحکہ خيز سوچ سامنے آ رہی ہے کہ امريکی سفارت کار پاکستان کی سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہيں اور اندھا دھند پاکستانی شہريوں کو ہلاک کر رہے ہيں۔ اس سوچ کی نا تو کوئ منطق ہے اور نہ ہی کوئ توجيہہ۔ ميں چاہوں گا کہ آپ دنيا ٹی وی کے پروگرام دنيا ٹو ڈے کا جنوری 27 کو نشر ہونے والے شو کا يا حصہ سنيں جس ميں ايس پی سيکورٹی لاہور رانا فيصل نے ٹی وی اینکر معيد پيرزادہ کے سوالات کے جواب ميں واقعے کی تفصيل واضح کی تھی۔


يہ ياد رہے کہ واقعے کے حوالے سے يہ معلومات محض چند گھنٹوں بعد سامنے آ گئی تھيں لہذا کسی سرکاری دباؤ يا اثرورسوخ کا ان معلومات پر اثرانداز ہونے يا تبديل کرنے کا کوئ امکان موجود نہيں ہے۔ وہ اپنی سرکاری حيثيت ميں موقع پر موجود معلومات کی بنياد پر اپنا بيان دے رہے تھے۔

اس کے علاوہ يہ بيان کئ عينی شاہدوں کے بيانات کو بھی درست ثابت کرتا ہے جنھوں نے يہ واضح بيان ديا تھا کہ ريمنڈ ڈيوس نے اپنے دفاع میں اس وقت کاروائ کی تھی جب دو مسلح افراد نے موٹر سائيکل پر ان کا سامنا کيا۔ ہم يہ بھی سمجھتے ہيں ان افراد کے پاس سے چوری کا مال بھی برآمد ہوا اور پوليس کے بيان کے مطابق ان کے پاس اسلحہ بھی موجود تھا۔

ميں چاہوں گا کہ آپ مسلم ليگ کے رہنما خواجہ سعد رفيق کے بيانات پر بھی غور کريں۔ باوجود اس کے کہ وہ اس ايشو کے حوالے سے امريکہ کے موقف کی تائيد نہيں کرتے، انھوں نے بھی اس حقيقت کو تسليم کيا کہ موٹر سائيکل پر موجود افراد مجرمانہ پس منظر رکھتے تھے۔

ہميں اس بات پر افسوس ہے کہ پاکستانی حکام نے جب يہ بيان جاری کيا کہ امريکی سفارت کار نے اپنے دفاع ميں کاروائ نہيں کی تھی تو انھوں نے نا صرف يہ کہ عينی شاہدوں کے بيانات کو نظرانداز کيا بلکہ موقع پر موجود شہادتوں کو بھی پس پش ڈال ديا۔

اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے کے انتظامی اور تکنيکی عملے کی حيثيت سے ريمنڈ ڈيوس کو سال 1961 کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے ويانا کنونشن کے تحت پاکستان ميں کسی بھی قسم کی قانونی کاروائ سے مکمل استثنی حاصل ہے۔ پاکستان اور امريکہ سميت تمام ممالک نے اپنی مرضی سے ان قوانين اور ضوابط کو تسليم کيا ہے۔ ان قوانين کی موجودگی ميں اس کو فوری طور پر رہا کيا جانا چاہيے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall

یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس امریکی سی آئی اے کا اہلکار ہے جو پاکستان میں امریکی تخریب کارانہ مشن پر تھا۔ اس کیس کے باقی معاملات انشااللہ پاکستانی عدالتوں میں طے ہونگے۔ اس دھاگے میں آپ نے کافی شاندار "پرفارمنس" دیکھائی ہے۔ جس کی بہرحال میں آپ کو داد دیتا ہوں۔ لیکن میرے خیال میں ٹائم پورا ہوگیا ہے۔ امریکی عہدیداروں نے بھی اپنی آوازیں دھیمی کردی ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ اب آپ بھی نیویں نیویں ہوکر اس دھاگے سے نکل لیں۔ :rolleyes:
 
Top