ظہیر بھائی کی غزل کی تیزی اور ہم۔۔۔ (نیرنگ خیال)

نیرنگ خیال

لائبریرین
دوستو! آج شام کو جب ظہیر بھائی کی یہ غزل پڑھی ہے۔ تو اس کے اشعار نے اپنے معانی مجھ پر کھولے ہیں۔اول شام کا ذکر بالخصوص اس لیے ضروری ہے کہ شام ناصح اور عشاق کے چوکس و چوکنا ہونے کا وقت ہے۔ اس وقت ان کی حسیات عروج پر ہوتی ہیں۔ جب عشاق کرام اپنے ناکردہ و کردہ عشق میں رنگ بھرنےکو آہ و فغاں کا ماحول بنانے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں، اسی وقت ناصح ان کو اس شوق بیکار کے نقصانات اور عملی و حقیقی زندگی کے معاملات سمجھانے کو پر تول رہے ہوتے ہیں۔ دوم شام کا بالعموم ذکر اس لیے ضروری ہے کہ شاید یہ شرح میرے جیسے عام لوگ پڑھیں۔ جو نہ عاشق ہوں اور نہ ناصح۔ لیکن روزمرہ کے لایعنی معمولات نبٹاتے نبٹاتے ان کے پاس یہی ایک وقت ہو جس میں وہ کچھ کام کی باتیں سیکھنے کا ارادہ رکھے ہوں۔ بھئی وہ سقراط نے کہتا تھا نا کہ مصروف زندگی کے بنجر پن سے محتاط رہو۔۔۔ ہو سکتا ہے دو چار اور نے بھی یہ مقولہ پڑھ رکھا ہوں۔ آئیے چلتے ہیں غزل کی طرف۔۔۔۔

زہر کی ہے یہ لہو میں کہ دوا کی تیزی
دل کی رفتار میں آئی ہے بلا کی تیزی
پہلے مصرعہ ہی سے بات کرنے والے کا جو تاثر ابھرتا ہے وہ بہت مضبوط ہے۔ ایک تو شاعر بیمار ہے۔ اور دوائیوں کے اثرات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ دوسرا شاعر کاروباری آدمی بھی ہے۔ اور ملاوٹ کے تمام اصولوں سے بخوبی واقف ہے۔ تیسرا اگر شاعر ادویات کا ہی تاجر ہو تو کیا کہنے۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔ لیکن یہ ہمارا اندازہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ کہیں گے کہ شاعر عاشق بھی ہوسکتا ہے۔ اور ڈاکٹر بھی۔۔۔ اور اگر ڈاکٹر عاشق ہو۔۔۔ توبھائیو! اگر ڈاکٹر عاشق یا عاشق ڈاکٹر والی بات درست ہے، تو اس کی اثرانگیزی کا چند سطور میں احاطہ کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔ سو ہم بہت زیادہ اندازے لگانے سے گریز کرتے ہوئے شاعر کی بجائے شعر کی طرف واپس آتے ہیں کہ مدت العمر تک جمود کا شکار رہنے کے بعد، یا شاید ایک لگی بندھی مصروفیت کا اسیر ہونے کے بعد شاعر کے روز وشب میں جو تغیر آیا ہے ، اس کا شاعر نے کما حقہ ہو "نوٹس" لیا ہے ۔ معدودے چند افراد کہ جو جانتے ہیں کہ یہ "نوٹس" سیاسی و عدالتی نہیں ہے، بقیہ کے لیے نوٹس حاضر ہے کہ یہ ایسا نوٹس بالکل نہیں ہے جیسا کہ وہ سوچ رہے ہیں۔

اُس کے چھونے سے مرے زخم ہوئے رشکِ گلاب
بس گئی خون میں اُس رنگِ حنا کی تیزی
ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنے پڑا اور شعر اول میں جو تیزی کا ذکر تھا، شاعر نے دوسرے شعر میں وہی بھید کھولے ہیں۔ شاعر بیمار ہو کر جس طبیب کے پاس پہنچا ہے، اس نے یقینی طور پر نسخے میں "دیدار مسلسل" تجویز نہیں کیا۔ لیکن اس کی قربت اور تشخیص کے دوران جو اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ اس شعر میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ شاعر کے مشاہدہ کی داد نہ دینا بھی زیادتی ہوگی، جس نے ہاتھوں کی تازہ مہندی، اور اس کے تیکھے نقش و نگار تک بین السطور بیان کرنےمیں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ تازہ مہندی اس لیے کہ رنگ حنا تیز تھا، ورنہ اتنی بات تو مجھ جیسا کم علم بھی جانتا ہے کہ پرانی مہندی کا رنگ دھیما ہوتا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس لمس شائستہ کے زیر اثر اندرونی کیفیات کو زبان شائستہ و شستہ میں جس خوبی سے بیان کیا ہے، اس پر ہمیں شاعر کے بیان پر دسترس کی داد دینی ہوگی۔ وگرنہ ایسی باتیں نثر میں کرنے پر کسی بھی قسم کے "ٹھکائی پروگرام " کی ضمانت نہیں ہوتی۔

بھاوٴ بڑھتے ہی گئے عشقِ طلب گار کے اور
راس آئی اُسے بازارِ وفا کی تیزی
یہ سلسلہ عشق کا آغاز ہی تھا کہ شاعر جو شاعری اور کاروبار دنیا پر گہری نظر رکھتا ہے۔ سمجھ گیا کہ میری یہ بیماری اس کافر ڈاکٹر کو کچھ ضرورت سے زیادہ ہی راس آ رہی ہے۔ ایک تو ہر دوسرے دن چیک اپ اور پھر فیس۔۔۔ ظلم یہ کہ فیس بھی بڑھا دی گئی ہے۔ اور بہانہ مہنگائی کا ہر دور میں موجود رہا ہی ہے۔ شاعر اس شعر پر میں اپنا رونا رو رہا ہے کہ کیسے کافر ادا سے تشخیص کی خاطر جیب خالی ہوئی جا رہی ہے۔ شاعر کو مستقبل میں رابطہ ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔ اور وہ شعر کی آڑ میں یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ اگر یہ مریض مستقل مریض رکھنا ہے تو کچھ اس طرف بھی توجہ دیجیے۔ شاعر میں پرکھوں کی مروت اور رواداری صاف دیکھی جا سکتی ہے۔

پھر کسی رخصتِ تازہ کی خبر دیتی ہے
سرد موسم کے تناظر میں ہوا کی تیزی
ابھی عشق کا آغاز ہی ہوا تھا کہ جراح بمعہ سامان جراحی (یہاں مراد وہ حنائی ہاتھ ہیں، احباب اپنی سوچ کو زحمت دینے سے گریز کریں)سالانہ یا ماہانہ چھٹیوں پر چلا گیا۔شاعر کی طبیعت بڑی مکدر ہوئی۔ جب نائب سے یہ خبر ملی کہ اب کچھ عرصہ پرانی دوائی پٹی پر ہی قانع رہیں۔ شاعر کو یہاں محبوب کی رخصت سے زیادہ اپنی لابالی طبع کا ڈر ہے۔ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دل کہیں اور اٹک جائے۔ شاعر کی زندگی "یہ اعجاز ہے حسن لاچارگی کا" کی زندہ مثال ہے۔ اور شاعر اس سے بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے۔شعر سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر خود بھی ایسا ہی کچھ چاہ رہا تھا۔

صرف ہونٹوں سے جو نکلے تو صدا ہے رسمی
دل سے نکلے تو ہے برّاق دعا کی تیزی
شاعر چونکہ ایک جہاں دیدہ آدمی ہے اور اس بات سے خوب واقف ہے کہ ایک آدھی بزرگانہ، مشفقانہ اور زاہدانہ بات کرنے سے کلام کی اثر انگیزی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ بلکہ کلام ہی کیا۔۔۔ دوران گفتگو بھی ایسی ایک آدھی بات سے انسان صوفی صوفی سا تاثر دینے میں کامیاب رہتا ہے۔ سو ایک جمعہ جب شاعر کی ایک نہ پیش چلی اور اس کو گھریلو دباؤ کے تحت مسجد کا رخ کرنا پڑا۔ وہاں امام کے سلام پھیرتے ہی شاعر اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی راہ لی۔ باہر نکلتے شاعر نے دیکھا کہ ایک نوجوان باہر بھی نکل رہا ہے اور ساتھ ساتھ دعا کے لیے بھی ہاتھ اٹھائے ہے۔ یہ دیکھ کر شاعر کے ہونٹوں پر ایک بزرگانہ مسکراہٹ منجمد ہوگئی۔ دھیرے سے اسے سمجھایا کہ پتر! اگر دعا ہی مانگنی ہے تو دل سے مانگو۔۔۔۔ یہ راہ چلتے دعا مانگ کر تم کیا احسان اتار رہے ہو۔ ایسے بھلا کون سنتا ہے۔ وہ نوجوان شاعر کی بات سن کر بڑا شرمندہ ہوا۔

شہر عادی ہے یہ سرگوشیاں سننے کا ظہیرؔ
کہیں بھونچال نہ بن جائے صدا کی تیزی
شاعر اس نوجوان کو نصیحت کرکے چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ ایک پرانے رفیق جاں، جلیس ناداں نے کاندھے پر آ کر ہاتھ رکھا۔ اور کہا۔ میاں کیسے ہو! کدھر مسجدوں میں پھرتے ہو۔اور بچے کو آہستہ آہستہ کیا سمجھا رہے ہو؟ یہ سن کر شاعر کی پریشان ہو گیا کہ کہیں اس نے میری چند ثانیے قبل کی نصیحت تو نہیں سن لی۔ یہ ہلکا پیٹ ناداں دوست تو شہر بھر میں اس کا ڈھنڈورا پیٹ کر رکھ دے گا۔ اصل میں شاعر نمودونمائش سے گھبراتا اور اپنی کرامات اور نیکیوں کو بیان کرنے میں ہچکچاتا تھا۔ ہاں دوسرے لوگ نیکیوں کو کم زیادہ کر کے بیان کریں تو کبھی منع نہیں کیا۔ سو شاعر نے پرانے دوست سے کہا کہ یار تجھے پتا ہے کہ مسجد میں اسلیے نہیں آتا کہ شخصیت پرست لوگ ہیں۔جبکہ میری کرامات زبان زد عام ہیں۔ سو اگر ان کو بھنک بھی پڑ گئی تو یہاں پائے لاگو کرنے والوں کا ہجوم ہوجائے گا۔ جبکہ طبیعت نمود و نمائش سے عاری ہے۔ یہ سن کر شاعر کا دوست بھونچکا رہ گیا۔یہاں ایک بار پھر ہم شاعر کی درویشی کے قائل ہو گئے ہیں۔

نیرنگ خیال
۲۳ نومبر ۲۰۲۰
 

محمداحمد

لائبریرین
یہ تشریح غزل سے بھی تیز ہے بھئی!

اور ہم اتنی سبک خرامی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ :)

آپ ہیلمیٹ پہن کر قبلہ ڈاکٹر و شاعر صاحب کا انتظار کریں۔ :)
 

Ali Baba

محفلین
مطلعے کی تیزی کو تو "لول" گروپ سے خاطر خواہ افاقہ ہو سکتا ہے، میرا مطلب ہے "پرو پینولول"، "اٹینولول"، "میٹوپرولول" و علیٰ ھذا القیاس۔
 

فاخر رضا

محفلین
دوستو! آج شام کو جب ظہیر بھائی کی یہ غزل پڑھی ہے۔ تو اس کے اشعار نے اپنے معانی مجھ پر کھولے ہیں۔اول شام کا ذکر بالخصوص اس لیے ضروری ہے کہ شام ناصح اور عشاق کے چوکس و چوکنا ہونے کا وقت ہے۔ اس وقت ان کی حسیات عروج پر ہوتی ہیں۔ جب عشاق کرام اپنے ناکردہ و کردہ عشق میں رنگ بھرنےکو آہ و فغاں کا ماحول بنانے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں، اسی وقت ناصح ان کو اس شوق بیکار کے نقصانات اور عملی و حقیقی زندگی کے معاملات سمجھانے کو پر تول رہے ہوتے ہیں۔ دوم شام کا بالعموم ذکر اس لیے ضروری ہے کہ شاید یہ شرح میرے جیسے عام لوگ پڑھیں۔ جو نہ عاشق ہوں اور نہ ناصح۔ لیکن روزمرہ کے لایعنی معمولات نبٹاتے نبٹاتے ان کے پاس یہی ایک وقت ہو جس میں وہ کچھ کام کی باتیں سیکھنے کا ارادہ رکھے ہوں۔ بھئی وہ سقراط نے کہتا تھا نا کہ مصروف زندگی کے بنجر پن سے محتاط رہو۔۔۔ ہو سکتا ہے دو چار اور نے بھی یہ مقولہ پڑھ رکھا ہوں۔ آئیے چلتے ہیں غزل کی طرف۔۔۔۔

زہر کی ہے یہ لہو میں کہ دوا کی تیزی
دل کی رفتار میں آئی ہے بلا کی تیزی
پہلے مصرعہ ہی سے بات کرنے والے کا جو تاثر ابھرتا ہے وہ بہت مضبوط ہے۔ ایک تو شاعر بیمار ہے۔ اور دوائیوں کے اثرات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ دوسرا شاعر کاروباری آدمی بھی ہے۔ اور ملاوٹ کے تمام اصولوں سے بخوبی واقف ہے۔ تیسرا اگر شاعر ادویات کا ہی تاجر ہو تو کیا کہنے۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔ لیکن یہ ہمارا اندازہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ کہیں گے کہ شاعر عاشق بھی ہوسکتا ہے۔ اور ڈاکٹر بھی۔۔۔ اور اگر ڈاکٹر عاشق ہو۔۔۔ توبھائیو! اگر ڈاکٹر عاشق یا عاشق ڈاکٹر والی بات درست ہے، تو اس کی اثرانگیزی کا چند سطور میں احاطہ کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔ سو ہم بہت زیادہ اندازے لگانے سے گریز کرتے ہوئے شاعر کی بجائے شعر کی طرف واپس آتے ہیں کہ مدت العمر تک جمود کا شکار رہنے کے بعد، یا شاید ایک لگی بندھی مصروفیت کا اسیر ہونے کے بعد شاعر کے روز وشب میں جو تغیر آیا ہے ، اس کا شاعر نے کما حقہ ہو "نوٹس" لیا ہے ۔ معدودے چند افراد کہ جو جانتے ہیں کہ یہ "نوٹس" سیاسی و عدالتی نہیں ہے، بقیہ کے لیے نوٹس حاضر ہے کہ یہ ایسا نوٹس بالکل نہیں ہے جیسا کہ وہ سوچ رہے ہیں۔

اُس کے چھونے سے مرے زخم ہوئے رشکِ گلاب
بس گئی خون میں اُس رنگِ حنا کی تیزی
ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنے پڑا اور شعر اول میں جو تیزی کا ذکر تھا، شاعر نے دوسرے شعر میں وہی بھید کھولے ہیں۔ شاعر بیمار ہو کر جس طبیب کے پاس پہنچا ہے، اس نے یقینی طور پر نسخے میں "دیدار مسلسل" تجویز نہیں کیا۔ لیکن اس کی قربت اور تشخیص کے دوران جو اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ اس شعر میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ شاعر کے مشاہدہ کی داد نہ دینا بھی زیادتی ہوگی، جس نے ہاتھوں کی تازہ مہندی، اور اس کے تیکھے نقش و نگار تک بین السطور بیان کرنےمیں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ تازہ مہندی اس لیے کہ رنگ حنا تیز تھا، ورنہ اتنی بات تو مجھ جیسا کم علم بھی جانتا ہے کہ پرانی مہندی کا رنگ دھیما ہوتا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس لمس شائستہ کے زیر اثر اندرونی کیفیات کو زبان شائستہ و شستہ میں جس خوبی سے بیان کیا ہے، اس پر ہمیں شاعر کے بیان پر دسترس کی داد دینی ہوگی۔ وگرنہ ایسی باتیں نثر میں کرنے پر کسی بھی قسم کے "ٹھکائی پروگرام " کی ضمانت نہیں ہوتی۔

بھاوٴ بڑھتے ہی گئے عشقِ طلب گار کے اور
راس آئی اُسے بازارِ وفا کی تیزی
یہ سلسلہ عشق کا آغاز ہی تھا کہ شاعر جو شاعری اور کاروبار دنیا پر گہری نظر رکھتا ہے۔ سمجھ گیا کہ میری یہ بیماری اس کافر ڈاکٹر کو کچھ ضرورت سے زیادہ ہی راس آ رہی ہے۔ ایک تو ہر دوسرے دن چیک اپ اور پھر فیس۔۔۔ ظلم یہ کہ فیس بھی بڑھا دی گئی ہے۔ اور بہانہ مہنگائی کا ہر دور میں موجود رہا ہی ہے۔ شاعر اس شعر پر میں اپنا رونا رو رہا ہے کہ کیسے کافر ادا سے تشخیص کی خاطر جیب خالی ہوئی جا رہی ہے۔ شاعر کو مستقبل میں رابطہ ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔ اور وہ شعر کی آڑ میں یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ اگر یہ مریض مستقل مریض رکھنا ہے تو کچھ اس طرف بھی توجہ دیجیے۔ شاعر میں پرکھوں کی مروت اور رواداری صاف دیکھی جا سکتی ہے۔

پھر کسی رخصتِ تازہ کی خبر دیتی ہے
سرد موسم کے تناظر میں ہوا کی تیزی
ابھی عشق کا آغاز ہی ہوا تھا کہ جراح بمعہ سامان جراحی (یہاں مراد وہ حنائی ہاتھ ہیں، احباب اپنی سوچ کو زحمت دینے سے گریز کریں)سالانہ یا ماہانہ چھٹیوں پر چلا گیا۔شاعر کی طبیعت بڑی مکدر ہوئی۔ جب نائب سے یہ خبر ملی کہ اب کچھ عرصہ پرانی دوائی پٹی پر ہی قانع رہیں۔ شاعر کو یہاں محبوب کی رخصت سے زیادہ اپنی لابالی طبع کا ڈر ہے۔ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دل کہیں اور اٹک جائے۔ شاعر کی زندگی "یہ اعجاز ہے حسن لاچارگی کا" کی زندہ مثال ہے۔ اور شاعر اس سے بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے۔شعر سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر خود بھی ایسا ہی کچھ چاہ رہا تھا۔

صرف ہونٹوں سے جو نکلے تو صدا ہے رسمی
دل سے نکلے تو ہے برّاق دعا کی تیزی
شاعر چونکہ ایک جہاں دیدہ آدمی ہے اور اس بات سے خوب واقف ہے کہ ایک آدھی بزرگانہ، مشفقانہ اور زاہدانہ بات کرنے سے کلام کی اثر انگیزی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ بلکہ کلام ہی کیا۔۔۔ دوران گفتگو بھی ایسی ایک آدھی بات سے انسان صوفی صوفی سا تاثر دینے میں کامیاب رہتا ہے۔ سو ایک جمعہ جب شاعر کی ایک نہ پیش چلی اور اس کو گھریلو دباؤ کے تحت مسجد کا رخ کرنا پڑا۔ وہاں امام کے سلام پھیرتے ہی شاعر اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی راہ لی۔ باہر نکلتے شاعر نے دیکھا کہ ایک نوجوان باہر بھی نکل رہا ہے اور ساتھ ساتھ دعا کے لیے بھی ہاتھ اٹھائے ہے۔ یہ دیکھ کر شاعر کے ہونٹوں پر ایک بزرگانہ مسکراہٹ منجمد ہوگئی۔ دھیرے سے اسے سمجھایا کہ پتر! اگر دعا ہی مانگنی ہے تو دل سے مانگو۔۔۔۔ یہ راہ چلتے دعا مانگ کر تم کیا احسان اتار رہے ہو۔ ایسے بھلا کون سنتا ہے۔ وہ نوجوان شاعر کی بات سن کر بڑا شرمندہ ہوا۔

شہر عادی ہے یہ سرگوشیاں سننے کا ظہیرؔ
کہیں بھونچال نہ بن جائے صدا کی تیزی
شاعر اس نوجوان کو نصیحت کرکے چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ ایک پرانے رفیق جاں، جلیس ناداں نے کاندھے پر آ کر ہاتھ رکھا۔ اور کہا۔ میاں کیسے ہو! کدھر مسجدوں میں پھرتے ہو۔اور بچے کو آہستہ آہستہ کیا سمجھا رہے ہو؟ یہ سن کر شاعر کی پریشان ہو گیا کہ کہیں اس نے میری چند ثانیے قبل کی نصیحت تو نہیں سن لی۔ یہ ہلکا پیٹ ناداں دوست تو شہر بھر میں اس کا ڈھنڈورا پیٹ کر رکھ دے گا۔ اصل میں شاعر نمودونمائش سے گھبراتا اور اپنی کرامات اور نیکیوں کو بیان کرنے میں ہچکچاتا تھا۔ ہاں دوسرے لوگ نیکیوں کو کم زیادہ کر کے بیان کریں تو کبھی منع نہیں کیا۔ سو شاعر نے پرانے دوست سے کہا کہ یار تجھے پتا ہے کہ مسجد میں اسلیے نہیں آتا کہ شخصیت پرست لوگ ہیں۔جبکہ میری کرامات زبان زد عام ہیں۔ سو اگر ان کو بھنک بھی پڑ گئی تو یہاں پائے لاگو کرنے والوں کا ہجوم ہوجائے گا۔ جبکہ طبیعت نمود و نمائش سے عاری ہے۔ یہ سن کر شاعر کا دوست بھونچکا رہ گیا۔یہاں ایک بار پھر ہم شاعر کی درویشی کے قائل ہو گئے ہیں۔

نیرنگ خیال
۲۳ نومبر ۲۰۲۰
بے انتہا پر مزاح
 

جاسمن

مدیر
ہاہاہا۔
ان دنوں میں اپنے بچوں کی اردو کے حصہ نظم میں تشریح کے ضمن میں ان کی مدد کر رہی ہوں تو اس تشریح کو پڑھ کے جی چاہ رہا ہے بچوں کی کتاب کے تمام اشعار کی تشریح نیرنگ سے کروا لوں۔:)
پورے نمبر بھی ملیں گے اور ممتحن سر دھنتا رہے گا۔ جگہ جگہ بتائے اس تشریح کی تعریفیں کرے گا۔
انتہائی مزیدار تشریح۔
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔
شاباش!:)
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
دوستو! آج شام کو جب ظہیر بھائی کی یہ غزل پڑھی ہے۔ تو اس کے اشعار نے اپنے معانی مجھ پر کھولے ہیں۔اول شام کا ذکر بالخصوص اس لیے ضروری ہے کہ شام ناصح اور عشاق کے چوکس و چوکنا ہونے کا وقت ہے۔ اس وقت ان کی حسیات عروج پر ہوتی ہیں۔ جب عشاق کرام اپنے ناکردہ و کردہ عشق میں رنگ بھرنےکو آہ و فغاں کا ماحول بنانے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں، اسی وقت ناصح ان کو اس شوق بیکار کے نقصانات اور عملی و حقیقی زندگی کے معاملات سمجھانے کو پر تول رہے ہوتے ہیں۔ دوم شام کا بالعموم ذکر اس لیے ضروری ہے کہ شاید یہ شرح میرے جیسے عام لوگ پڑھیں۔ جو نہ عاشق ہوں اور نہ ناصح۔ لیکن روزمرہ کے لایعنی معمولات نبٹاتے نبٹاتے ان کے پاس یہی ایک وقت ہو جس میں وہ کچھ کام کی باتیں سیکھنے کا ارادہ رکھے ہوں۔ بھئی وہ سقراط نے کہتا تھا نا کہ مصروف زندگی کے بنجر پن سے محتاط رہو۔۔۔ ہو سکتا ہے دو چار اور نے بھی یہ مقولہ پڑھ رکھا ہوں۔ آئیے چلتے ہیں غزل کی طرف۔۔۔۔

زہر کی ہے یہ لہو میں کہ دوا کی تیزی
دل کی رفتار میں آئی ہے بلا کی تیزی
پہلے مصرعہ ہی سے بات کرنے والے کا جو تاثر ابھرتا ہے وہ بہت مضبوط ہے۔ ایک تو شاعر بیمار ہے۔ اور دوائیوں کے اثرات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ دوسرا شاعر کاروباری آدمی بھی ہے۔ اور ملاوٹ کے تمام اصولوں سے بخوبی واقف ہے۔ تیسرا اگر شاعر ادویات کا ہی تاجر ہو تو کیا کہنے۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔ لیکن یہ ہمارا اندازہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ کہیں گے کہ شاعر عاشق بھی ہوسکتا ہے۔ اور ڈاکٹر بھی۔۔۔ اور اگر ڈاکٹر عاشق ہو۔۔۔ توبھائیو! اگر ڈاکٹر عاشق یا عاشق ڈاکٹر والی بات درست ہے، تو اس کی اثرانگیزی کا چند سطور میں احاطہ کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔ سو ہم بہت زیادہ اندازے لگانے سے گریز کرتے ہوئے شاعر کی بجائے شعر کی طرف واپس آتے ہیں کہ مدت العمر تک جمود کا شکار رہنے کے بعد، یا شاید ایک لگی بندھی مصروفیت کا اسیر ہونے کے بعد شاعر کے روز وشب میں جو تغیر آیا ہے ، اس کا شاعر نے کما حقہ ہو "نوٹس" لیا ہے ۔ معدودے چند افراد کہ جو جانتے ہیں کہ یہ "نوٹس" سیاسی و عدالتی نہیں ہے، بقیہ کے لیے نوٹس حاضر ہے کہ یہ ایسا نوٹس بالکل نہیں ہے جیسا کہ وہ سوچ رہے ہیں۔

اُس کے چھونے سے مرے زخم ہوئے رشکِ گلاب
بس گئی خون میں اُس رنگِ حنا کی تیزی
ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنے پڑا اور شعر اول میں جو تیزی کا ذکر تھا، شاعر نے دوسرے شعر میں وہی بھید کھولے ہیں۔ شاعر بیمار ہو کر جس طبیب کے پاس پہنچا ہے، اس نے یقینی طور پر نسخے میں "دیدار مسلسل" تجویز نہیں کیا۔ لیکن اس کی قربت اور تشخیص کے دوران جو اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ اس شعر میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ شاعر کے مشاہدہ کی داد نہ دینا بھی زیادتی ہوگی، جس نے ہاتھوں کی تازہ مہندی، اور اس کے تیکھے نقش و نگار تک بین السطور بیان کرنےمیں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ تازہ مہندی اس لیے کہ رنگ حنا تیز تھا، ورنہ اتنی بات تو مجھ جیسا کم علم بھی جانتا ہے کہ پرانی مہندی کا رنگ دھیما ہوتا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس لمس شائستہ کے زیر اثر اندرونی کیفیات کو زبان شائستہ و شستہ میں جس خوبی سے بیان کیا ہے، اس پر ہمیں شاعر کے بیان پر دسترس کی داد دینی ہوگی۔ وگرنہ ایسی باتیں نثر میں کرنے پر کسی بھی قسم کے "ٹھکائی پروگرام " کی ضمانت نہیں ہوتی۔

بھاوٴ بڑھتے ہی گئے عشقِ طلب گار کے اور
راس آئی اُسے بازارِ وفا کی تیزی
یہ سلسلہ عشق کا آغاز ہی تھا کہ شاعر جو شاعری اور کاروبار دنیا پر گہری نظر رکھتا ہے۔ سمجھ گیا کہ میری یہ بیماری اس کافر ڈاکٹر کو کچھ ضرورت سے زیادہ ہی راس آ رہی ہے۔ ایک تو ہر دوسرے دن چیک اپ اور پھر فیس۔۔۔ ظلم یہ کہ فیس بھی بڑھا دی گئی ہے۔ اور بہانہ مہنگائی کا ہر دور میں موجود رہا ہی ہے۔ شاعر اس شعر پر میں اپنا رونا رو رہا ہے کہ کیسے کافر ادا سے تشخیص کی خاطر جیب خالی ہوئی جا رہی ہے۔ شاعر کو مستقبل میں رابطہ ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔ اور وہ شعر کی آڑ میں یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ اگر یہ مریض مستقل مریض رکھنا ہے تو کچھ اس طرف بھی توجہ دیجیے۔ شاعر میں پرکھوں کی مروت اور رواداری صاف دیکھی جا سکتی ہے۔

پھر کسی رخصتِ تازہ کی خبر دیتی ہے
سرد موسم کے تناظر میں ہوا کی تیزی
ابھی عشق کا آغاز ہی ہوا تھا کہ جراح بمعہ سامان جراحی (یہاں مراد وہ حنائی ہاتھ ہیں، احباب اپنی سوچ کو زحمت دینے سے گریز کریں)سالانہ یا ماہانہ چھٹیوں پر چلا گیا۔شاعر کی طبیعت بڑی مکدر ہوئی۔ جب نائب سے یہ خبر ملی کہ اب کچھ عرصہ پرانی دوائی پٹی پر ہی قانع رہیں۔ شاعر کو یہاں محبوب کی رخصت سے زیادہ اپنی لابالی طبع کا ڈر ہے۔ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دل کہیں اور اٹک جائے۔ شاعر کی زندگی "یہ اعجاز ہے حسن لاچارگی کا" کی زندہ مثال ہے۔ اور شاعر اس سے بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے۔شعر سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر خود بھی ایسا ہی کچھ چاہ رہا تھا۔

صرف ہونٹوں سے جو نکلے تو صدا ہے رسمی
دل سے نکلے تو ہے برّاق دعا کی تیزی
شاعر چونکہ ایک جہاں دیدہ آدمی ہے اور اس بات سے خوب واقف ہے کہ ایک آدھی بزرگانہ، مشفقانہ اور زاہدانہ بات کرنے سے کلام کی اثر انگیزی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ بلکہ کلام ہی کیا۔۔۔ دوران گفتگو بھی ایسی ایک آدھی بات سے انسان صوفی صوفی سا تاثر دینے میں کامیاب رہتا ہے۔ سو ایک جمعہ جب شاعر کی ایک نہ پیش چلی اور اس کو گھریلو دباؤ کے تحت مسجد کا رخ کرنا پڑا۔ وہاں امام کے سلام پھیرتے ہی شاعر اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی راہ لی۔ باہر نکلتے شاعر نے دیکھا کہ ایک نوجوان باہر بھی نکل رہا ہے اور ساتھ ساتھ دعا کے لیے بھی ہاتھ اٹھائے ہے۔ یہ دیکھ کر شاعر کے ہونٹوں پر ایک بزرگانہ مسکراہٹ منجمد ہوگئی۔ دھیرے سے اسے سمجھایا کہ پتر! اگر دعا ہی مانگنی ہے تو دل سے مانگو۔۔۔۔ یہ راہ چلتے دعا مانگ کر تم کیا احسان اتار رہے ہو۔ ایسے بھلا کون سنتا ہے۔ وہ نوجوان شاعر کی بات سن کر بڑا شرمندہ ہوا۔

شہر عادی ہے یہ سرگوشیاں سننے کا ظہیرؔ
کہیں بھونچال نہ بن جائے صدا کی تیزی
شاعر اس نوجوان کو نصیحت کرکے چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ ایک پرانے رفیق جاں، جلیس ناداں نے کاندھے پر آ کر ہاتھ رکھا۔ اور کہا۔ میاں کیسے ہو! کدھر مسجدوں میں پھرتے ہو۔اور بچے کو آہستہ آہستہ کیا سمجھا رہے ہو؟ یہ سن کر شاعر کی پریشان ہو گیا کہ کہیں اس نے میری چند ثانیے قبل کی نصیحت تو نہیں سن لی۔ یہ ہلکا پیٹ ناداں دوست تو شہر بھر میں اس کا ڈھنڈورا پیٹ کر رکھ دے گا۔ اصل میں شاعر نمودونمائش سے گھبراتا اور اپنی کرامات اور نیکیوں کو بیان کرنے میں ہچکچاتا تھا۔ ہاں دوسرے لوگ نیکیوں کو کم زیادہ کر کے بیان کریں تو کبھی منع نہیں کیا۔ سو شاعر نے پرانے دوست سے کہا کہ یار تجھے پتا ہے کہ مسجد میں اسلیے نہیں آتا کہ شخصیت پرست لوگ ہیں۔جبکہ میری کرامات زبان زد عام ہیں۔ سو اگر ان کو بھنک بھی پڑ گئی تو یہاں پائے لاگو کرنے والوں کا ہجوم ہوجائے گا۔ جبکہ طبیعت نمود و نمائش سے عاری ہے۔ یہ سن کر شاعر کا دوست بھونچکا رہ گیا۔یہاں ایک بار پھر ہم شاعر کی درویشی کے قائل ہو گئے ہیں۔
واہ۔ کیا کہنے آپ کے نین بھیا۔بہت مزیدار اور پرمزاح۔
 
دوستو! آج شام کو جب ظہیر بھائی کی یہ غزل پڑھی ہے۔ تو اس کے اشعار نے اپنے معانی مجھ پر کھولے ہیں۔اول شام کا ذکر بالخصوص اس لیے ضروری ہے کہ شام ناصح اور عشاق کے چوکس و چوکنا ہونے کا وقت ہے۔ اس وقت ان کی حسیات عروج پر ہوتی ہیں۔ جب عشاق کرام اپنے ناکردہ و کردہ عشق میں رنگ بھرنےکو آہ و فغاں کا ماحول بنانے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں، اسی وقت ناصح ان کو اس شوق بیکار کے نقصانات اور عملی و حقیقی زندگی کے معاملات سمجھانے کو پر تول رہے ہوتے ہیں۔ دوم شام کا بالعموم ذکر اس لیے ضروری ہے کہ شاید یہ شرح میرے جیسے عام لوگ پڑھیں۔ جو نہ عاشق ہوں اور نہ ناصح۔ لیکن روزمرہ کے لایعنی معمولات نبٹاتے نبٹاتے ان کے پاس یہی ایک وقت ہو جس میں وہ کچھ کام کی باتیں سیکھنے کا ارادہ رکھے ہوں۔ بھئی وہ سقراط نے کہتا تھا نا کہ مصروف زندگی کے بنجر پن سے محتاط رہو۔۔۔ ہو سکتا ہے دو چار اور نے بھی یہ مقولہ پڑھ رکھا ہوں۔ آئیے چلتے ہیں غزل کی طرف۔۔۔۔

زہر کی ہے یہ لہو میں کہ دوا کی تیزی
دل کی رفتار میں آئی ہے بلا کی تیزی
پہلے مصرعہ ہی سے بات کرنے والے کا جو تاثر ابھرتا ہے وہ بہت مضبوط ہے۔ ایک تو شاعر بیمار ہے۔ اور دوائیوں کے اثرات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ دوسرا شاعر کاروباری آدمی بھی ہے۔ اور ملاوٹ کے تمام اصولوں سے بخوبی واقف ہے۔ تیسرا اگر شاعر ادویات کا ہی تاجر ہو تو کیا کہنے۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔ لیکن یہ ہمارا اندازہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ کہیں گے کہ شاعر عاشق بھی ہوسکتا ہے۔ اور ڈاکٹر بھی۔۔۔ اور اگر ڈاکٹر عاشق ہو۔۔۔ توبھائیو! اگر ڈاکٹر عاشق یا عاشق ڈاکٹر والی بات درست ہے، تو اس کی اثرانگیزی کا چند سطور میں احاطہ کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔ سو ہم بہت زیادہ اندازے لگانے سے گریز کرتے ہوئے شاعر کی بجائے شعر کی طرف واپس آتے ہیں کہ مدت العمر تک جمود کا شکار رہنے کے بعد، یا شاید ایک لگی بندھی مصروفیت کا اسیر ہونے کے بعد شاعر کے روز وشب میں جو تغیر آیا ہے ، اس کا شاعر نے کما حقہ ہو "نوٹس" لیا ہے ۔ معدودے چند افراد کہ جو جانتے ہیں کہ یہ "نوٹس" سیاسی و عدالتی نہیں ہے، بقیہ کے لیے نوٹس حاضر ہے کہ یہ ایسا نوٹس بالکل نہیں ہے جیسا کہ وہ سوچ رہے ہیں۔

اُس کے چھونے سے مرے زخم ہوئے رشکِ گلاب
بس گئی خون میں اُس رنگِ حنا کی تیزی
ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنے پڑا اور شعر اول میں جو تیزی کا ذکر تھا، شاعر نے دوسرے شعر میں وہی بھید کھولے ہیں۔ شاعر بیمار ہو کر جس طبیب کے پاس پہنچا ہے، اس نے یقینی طور پر نسخے میں "دیدار مسلسل" تجویز نہیں کیا۔ لیکن اس کی قربت اور تشخیص کے دوران جو اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ اس شعر میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ شاعر کے مشاہدہ کی داد نہ دینا بھی زیادتی ہوگی، جس نے ہاتھوں کی تازہ مہندی، اور اس کے تیکھے نقش و نگار تک بین السطور بیان کرنےمیں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ تازہ مہندی اس لیے کہ رنگ حنا تیز تھا، ورنہ اتنی بات تو مجھ جیسا کم علم بھی جانتا ہے کہ پرانی مہندی کا رنگ دھیما ہوتا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس لمس شائستہ کے زیر اثر اندرونی کیفیات کو زبان شائستہ و شستہ میں جس خوبی سے بیان کیا ہے، اس پر ہمیں شاعر کے بیان پر دسترس کی داد دینی ہوگی۔ وگرنہ ایسی باتیں نثر میں کرنے پر کسی بھی قسم کے "ٹھکائی پروگرام " کی ضمانت نہیں ہوتی۔

بھاوٴ بڑھتے ہی گئے عشقِ طلب گار کے اور
راس آئی اُسے بازارِ وفا کی تیزی
یہ سلسلہ عشق کا آغاز ہی تھا کہ شاعر جو شاعری اور کاروبار دنیا پر گہری نظر رکھتا ہے۔ سمجھ گیا کہ میری یہ بیماری اس کافر ڈاکٹر کو کچھ ضرورت سے زیادہ ہی راس آ رہی ہے۔ ایک تو ہر دوسرے دن چیک اپ اور پھر فیس۔۔۔ ظلم یہ کہ فیس بھی بڑھا دی گئی ہے۔ اور بہانہ مہنگائی کا ہر دور میں موجود رہا ہی ہے۔ شاعر اس شعر پر میں اپنا رونا رو رہا ہے کہ کیسے کافر ادا سے تشخیص کی خاطر جیب خالی ہوئی جا رہی ہے۔ شاعر کو مستقبل میں رابطہ ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔ اور وہ شعر کی آڑ میں یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ اگر یہ مریض مستقل مریض رکھنا ہے تو کچھ اس طرف بھی توجہ دیجیے۔ شاعر میں پرکھوں کی مروت اور رواداری صاف دیکھی جا سکتی ہے۔

پھر کسی رخصتِ تازہ کی خبر دیتی ہے
سرد موسم کے تناظر میں ہوا کی تیزی
ابھی عشق کا آغاز ہی ہوا تھا کہ جراح بمعہ سامان جراحی (یہاں مراد وہ حنائی ہاتھ ہیں، احباب اپنی سوچ کو زحمت دینے سے گریز کریں)سالانہ یا ماہانہ چھٹیوں پر چلا گیا۔شاعر کی طبیعت بڑی مکدر ہوئی۔ جب نائب سے یہ خبر ملی کہ اب کچھ عرصہ پرانی دوائی پٹی پر ہی قانع رہیں۔ شاعر کو یہاں محبوب کی رخصت سے زیادہ اپنی لابالی طبع کا ڈر ہے۔ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دل کہیں اور اٹک جائے۔ شاعر کی زندگی "یہ اعجاز ہے حسن لاچارگی کا" کی زندہ مثال ہے۔ اور شاعر اس سے بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے۔شعر سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر خود بھی ایسا ہی کچھ چاہ رہا تھا۔

صرف ہونٹوں سے جو نکلے تو صدا ہے رسمی
دل سے نکلے تو ہے برّاق دعا کی تیزی
شاعر چونکہ ایک جہاں دیدہ آدمی ہے اور اس بات سے خوب واقف ہے کہ ایک آدھی بزرگانہ، مشفقانہ اور زاہدانہ بات کرنے سے کلام کی اثر انگیزی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ بلکہ کلام ہی کیا۔۔۔ دوران گفتگو بھی ایسی ایک آدھی بات سے انسان صوفی صوفی سا تاثر دینے میں کامیاب رہتا ہے۔ سو ایک جمعہ جب شاعر کی ایک نہ پیش چلی اور اس کو گھریلو دباؤ کے تحت مسجد کا رخ کرنا پڑا۔ وہاں امام کے سلام پھیرتے ہی شاعر اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی راہ لی۔ باہر نکلتے شاعر نے دیکھا کہ ایک نوجوان باہر بھی نکل رہا ہے اور ساتھ ساتھ دعا کے لیے بھی ہاتھ اٹھائے ہے۔ یہ دیکھ کر شاعر کے ہونٹوں پر ایک بزرگانہ مسکراہٹ منجمد ہوگئی۔ دھیرے سے اسے سمجھایا کہ پتر! اگر دعا ہی مانگنی ہے تو دل سے مانگو۔۔۔۔ یہ راہ چلتے دعا مانگ کر تم کیا احسان اتار رہے ہو۔ ایسے بھلا کون سنتا ہے۔ وہ نوجوان شاعر کی بات سن کر بڑا شرمندہ ہوا۔

شہر عادی ہے یہ سرگوشیاں سننے کا ظہیرؔ
کہیں بھونچال نہ بن جائے صدا کی تیزی
شاعر اس نوجوان کو نصیحت کرکے چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ ایک پرانے رفیق جاں، جلیس ناداں نے کاندھے پر آ کر ہاتھ رکھا۔ اور کہا۔ میاں کیسے ہو! کدھر مسجدوں میں پھرتے ہو۔اور بچے کو آہستہ آہستہ کیا سمجھا رہے ہو؟ یہ سن کر شاعر کی پریشان ہو گیا کہ کہیں اس نے میری چند ثانیے قبل کی نصیحت تو نہیں سن لی۔ یہ ہلکا پیٹ ناداں دوست تو شہر بھر میں اس کا ڈھنڈورا پیٹ کر رکھ دے گا۔ اصل میں شاعر نمودونمائش سے گھبراتا اور اپنی کرامات اور نیکیوں کو بیان کرنے میں ہچکچاتا تھا۔ ہاں دوسرے لوگ نیکیوں کو کم زیادہ کر کے بیان کریں تو کبھی منع نہیں کیا۔ سو شاعر نے پرانے دوست سے کہا کہ یار تجھے پتا ہے کہ مسجد میں اسلیے نہیں آتا کہ شخصیت پرست لوگ ہیں۔جبکہ میری کرامات زبان زد عام ہیں۔ سو اگر ان کو بھنک بھی پڑ گئی تو یہاں پائے لاگو کرنے والوں کا ہجوم ہوجائے گا۔ جبکہ طبیعت نمود و نمائش سے عاری ہے۔ یہ سن کر شاعر کا دوست بھونچکا رہ گیا۔یہاں ایک بار پھر ہم شاعر کی درویشی کے قائل ہو گئے ہیں۔

نیرنگ خیال
۲۳ نومبر ۲۰۲۰
ہجوِ ثقیل فی بحرِ طویل در مذمتِ مصنفِ تحریرِ بالا المعروف بہ نیرنگِ خیال پر کام شروع کردیا ہے ۔ درایں اثنا اگر کوئی صاحب اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیں تو مصنف تحریرِ بالا کو حسبِ توفیق کچھ "القاباتِ عالیہ" سے نوازیں اور مرحومہ غزل کی روح کو ایصالِ ٹھنڈک کے لئے کچھ "نیک خواہشات" کا اظہار کریں ۔ قارئین کی آسانی کے لئے مثال کے طور پر ایک نمونہ ذیل کی سرگوشی میں دیا جارہا ہے۔ ۔
ذوالقرنین ، تمہارے کیبورڈ میں کیڑے پڑیں اور کمپیوٹر میں تین دن کے لئے پرتگالی زبان کا کوئی پیچیدہ سا وائرس آجائے۔
 
یہ تشریح غزل سے بھی تیز ہے بھئی!

اور ہم اتنی سبک خرامی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ :)

آپ ہیلمیٹ پہن کر قبلہ ڈاکٹر و شاعر صاحب کا انتظار کریں۔ :)
احمد بھائی ، میرا خیال ہے کہ وہ دیوار پر نعرے لکھنے والی مہم شروع کرنی ہی پڑے گی ۔ اب وقت آگیا ہے کہ غزل کے تحفظ کے لئے تمام شعرا اور سخن پرور قارئین سفیدی اور کوچیاں لے کر شہر میں نکل جائیں ۔
 
ذوالقرنین ، تمہارے کیبورڈ میں کیڑے پڑیں اور کمپیوٹر میں تین دن کے لئے پرتگالی زبان کا کوئی پیچیدہ سا وائرس آجائے۔
اب سمجھ آیا کہ یہ آئے دن نین بھیا کے لیپ ٹاپ کے نئے قصے آتے ہیں، یہ سب شعرا حضرات کی ”دعاؤں“ کی بدولت ہے۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
یہ تشریح غزل سے بھی تیز ہے بھئی!

اور ہم اتنی سبک خرامی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ :)

آپ ہیلمیٹ پہن کر قبلہ ڈاکٹر و شاعر صاحب کا انتظار کریں۔ :)
ایسے ۔۔۔۔ :cowboy::music:
یعنی یہ ہوگا ہمارے ساتھ :box:
یہی چلن رہ گیا زمانے میں۔۔۔ کہ نکل لیے۔۔۔ کوئی تو بچاؤ۔۔۔۔۔ :mad3:
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ہاہاہا۔
ان دنوں میں اپنے بچوں کی اردو کے حصہ نظم میں تشریح کے ضمن میں ان کی مدد کر رہی ہوں تو اس تشریح کو پڑھ کے جی چاہ رہا ہے بچوں کی کتاب کے تمام اشعار کی تشریح نیرنگ سے کروا لوں۔:)
پورے نمبر بھی ملیں گے اور ممتحن سر دھنتا رہے گا۔ جگہ جگہ بتائے اس تشریح کی تعریفیں کرے گا۔
انتہائی مزیدار تشریح۔
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔
شاباش!:)
کالج کے دنوں کی بات ہے۔۔۔ میں تشریح میں اکثر الٹی سیدھی باتیں لکھ دیتا تھا۔۔۔ جیسے "شاعر زمینی حقائق فراموش کر بیٹحا ہے۔ وغیرہ وغیرہ"۔۔۔ لیکن ایک دن ٹیسٹ میں شعر آگیا۔ کہ
صد رگ جاں کو بل دے کر باہم
زلف جاناں کا ایک تار کیا
میں نے تشریح کر دی۔اگلے دن اردو کے لیکچرار نے مجھے آفس میں بلایا۔ اور کہا۔۔۔ آپ اکثر ہی اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس بار تو آپ نے تختہ ہی کر دیا ہے۔ تشریح اچھی ہے۔ لیکن بیٹا! یہ بورڈ کے پیپرز میں نہیں لکھنی۔
سر میرے ٹیسٹ اکثر واپس نہیں کرتے تھے۔ تو کلاس کے لڑکوں کو بڑی کیوراسٹی ہوتی تھی کہ یہ آخر کیا لکھتا ہے۔ :devil:
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ہجوِ ثقیل فی بحرِ طویل در مذمتِ مصنفِ تحریرِ بالا المعروف بہ نیرنگِ خیال پر کام شروع کردیا ہے ۔ درایں اثنا اگر کوئی صاحب اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیں تو مصنف تحریرِ بالا کو حسبِ توفیق کچھ "القاباتِ عالیہ" سے نوازیں اور مرحومہ غزل کی روح کو ایصالِ ٹھنڈک کے لئے کچھ "نیک خواہشات" کا اظہار کریں ۔ قارئین کی آسانی کے لئے مثال کے طور پر ایک نمونہ ذیل کی سرگوشی میں دیا جارہا ہے۔ ۔
ذوالقرنین ، تمہارے کیبورڈ میں کیڑے پڑیں اور کمپیوٹر میں تین دن کے لئے پرتگالی زبان کا کوئی پیچیدہ سا وائرس آجائے۔
ہجو پر کام بھلے شروع کر دیں۔ لیکن پوسٹ دو دہائیوں کے بعد ہی کرنی ہے۔۔۔
آپ کی اس سرگوشی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے بقیہ غزلوں کی شرح بیان کرنے کا بھی کہا ہے۔۔۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ :devil3:
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
احمد بھائی ، میرا خیال ہے کہ وہ دیوار پر نعرے لکھنے والی مہم شروع کرنی ہی پڑے گی ۔ اب وقت آگیا ہے کہ غزل کے تحفظ کے لئے تمام شعرا اور سخن پرور قارئین سفیدی اور کوچیاں لے کر شہر میں نکل جائیں ۔
یہ ستم مت کیجیے گا۔ لوگ کہیں گے کوچی باز۔۔۔ میں یہ بات آپ لوگوں بارے نہیں سن سکتا۔۔۔ :devil:
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
اب سمجھ آیا کہ یہ آئے دن نین بھیا کے لیپ ٹاپ کے نئے قصے آتے ہیں، یہ سب شعرا حضرات کی ”دعاؤں“ کی بدولت ہے۔
میرا نیا لیپ ٹاپ دو ہفتے قبل رضائے الہی سے وفات پا گیا ہے۔ مرحوم بالکل نیا تھا۔ اور اسی سال ہی دنیائے فانی میں آیا تھا۔ حق مغفرت کرے۔۔۔ مرحوم نے پسماندگان میں ایک ریم اور ایک ہارڈ ڈسک چھوڑی ہے بس۔
 
Top