طعنہء سود و زیاں مجھ کو نہ دینا ، دیکھو

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
طعنہء سود و زیاں مجھ کو نہ دینا ، دیکھو
میرے گھر آؤ کبھی ، میرا اثاثہ دیکھو

در کشادہ ہے تمہارا مجھے تسلیم مگر
مجھ میں جھانکو ،کبھی قد میری انا کا دیکھو

بس سمجھ لینا اُسے میری سوانح عمری
سادہ کاغذ پہ کبھی نام جو اپنا دیکھو

اِس خموشی کو مری ہار سمجھنے والو!
بات سمجھو ، مرے دشمن کا نشانہ دیکھو

آج لگتا ہے کہ پھر اُس سے ملے ہو جاکر
گفتگو تو سنو اپنی ، ذرا لہجہ دیکھو

کس کی یادوں سے ہے میرے سخن کو نسبت
ڈائری کھولو پرانی ، یہ حوالہ دیکھو

مانگنا خیر تم اُس حاصلِ ہجرت کی ظہیر
اجنبی شہر میں جب کوئی شناسا دیکھو

ظہیر احمد ظہیر ۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰۲
ٹیگ: فاتح سید عاطف علی محمد تابش صدیقی کاشف اختر
 

فاتح

لائبریرین
یوں تو تمام غزل ہی خوبصورت ہے لیکن اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے
بس سمجھ لینا اُسے میری سوانح عمری
سادہ کاغذ پہ کبھی نام جو اپنا دیکھو
واہ واہ واہ کیا ہی خوبصورت خیال کو نظم کیا ہے۔
 

کاشف اختر

لائبریرین
یوں تو تمام غزل ہی خوبصورت ہے لیکن اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے


بس سمجھ لینا اُسے میری سوانح عمری
سادہ کاغذ پہ کبھی نام جو اپنا دیکھو
واہ واہ واہ کیا ہی خوبصورت خیال کو نظم کیا ہے۔

آپ نے میرے منھ کی بات چھین لی
 

سیما علی

لائبریرین
بس سمجھ لینا اُسے میری سوانح عمری
سادہ کاغذ پہ کبھی نام جو اپنا دیکھو
غزل تو لاجواب ہے ہے ہر شعر اعلیٰ ۔
پر یہ شعر تو یوں ہے ؀
گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
بہت ساری داد و تحسین ظہیر بھائی ،
سلامت رہیے شاد و آباد رہیے
اللہ پاک آپکو اور آپ سے وابستہ لوگوں کو اپنی امان میں رکھے آمین
 

یاسر شاہ

محفلین
السلام علیکم ظہیر بھائی -

کیسے مزاج ہیں ؟ آپ کی غزل مجھے گد گدا کر کچھ نہ کچھ لکھنے پہ آمادہ کر دیتی ہے -


طعنہء سود و زیاں مجھ کو نہ دینا ، دیکھو
میرے گھر آؤ کبھی ، میرا اثاثہ دیکھو

اپنے اثاثے تو تبھی شو کیے جاتے ہیں جب غبن کا کیس ہو یعنی :

تہمتِ دجل و غبن مجھ پہ نہ دھرنا دیکھو
میرے گھر آؤ کبھی میرا اثاثہ دیکھو

یا پھر کوئی کنگال یا مفلس ہونے کا طعنہ یا الزام دے کہ فلاں راستے پہ چل کر آپ کو حاصل وصول تو کچھ نہیں ہوا الٹا دنیا برباد کر دی تو اثاثے دکھائے جاتے ہیں گویا اثاثے دکھانا یا تو اظہار کمتری کے لئے ہو گا یا اظہار برتری کے لیے اور غالباً آپ کے شعر میں دوسری صورت، اظہار برتری کی ہے -لہٰذا "طعنہء سود و زیاں"کی ترکیب میں "سود" بےسود ہی معلوم ہوتا ہے -

در کشادہ ہے تمہارا مجھے تسلیم مگر
مجھ میں جھانکو ،کبھی قد میری انا کا دیکھو

گھر کا در کشادہ ہے اور انا کا قد لمبا ، چوڑائی کا مقابلہ لمبائی سے کیسے ہو سکتا ہے ؟-ایسا شعر اصلاح سخن میں اگر پیش ہوتا تو یوں اصلاح کرتا -

در کشادہ ہے تمہارا مجھے تسلیم مگر
مجھ میں جھانکو میں بھی ہوں پھول کے کُپّا دیکھو

مزاح کا مزاح ،اصلاح کی اصلاح -

بس سمجھ لینا اُسے میری سوانح عمری
سادہ کاغذ پہ کبھی نام جو اپنا دیکھو

واہ سائیں واہ ! کیا بات ہے -

اِس خموشی کو مری ہار سمجھنے والو!
بات سمجھو ، مرے دشمن کا نشانہ دیکھو

خموشی -ہار -دشمن -نشانہ بڑی خطرناک پلاننگ ہے -

آج لگتا ہے کہ پھر اُس سے ملے ہو جاکر
گفتگو تو سنو اپنی ، ذرا لہجہ دیکھو
واہ - خوب

کس کی یادوں سے ہے میرے سخن کو نسبت
ڈائری کھولو پرانی ، یہ حوالہ دیکھو

آہا-

مانگنا خیر تم اُس حاصلِ ہجرت کی ظہیر
اجنبی شہر میں جب کوئی شناسا دیکھو

واہ -لیکن دوسرا مصرع زوردار ہے پہلے کے مقابلے میں -

اللہ تعالیٰ آپ کا سایۂ شفقت تا دیر ہمارے سروں پہ قائم و دائم رکھے -آمین
 

صابرہ امین

لائبریرین
بہت زبردست اشعار، گہرے اور پر معنی۔ شاید یہ سب کہنا تجربات کا متقاضی ہے۔

بس سمجھ لینا اُسے میری سوانح عمری
سادہ کاغذ پہ کبھی نام جو اپنا دیکھو

اِس خموشی کو مری ہار سمجھنے والو!
بات سمجھو ، مرے دشمن کا نشانہ دیکھو

آج لگتا ہے کہ پھر اُس سے ملے ہو جاکر
گفتگو تو سنو اپنی ، ذرا لہجہ دیکھو

مانگنا خیر تم اُس حاصلِ ہجرت کی ظہیر
اجنبی شہر میں جب کوئی شناسا دیکھو

ایک سے بڑھ کر ایک شعر ۔ سبحان اللہ، ما شا اللہ ۔:applause::applause::applause:
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
یوں تو تمام غزل ہی خوبصورت ہے لیکن اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے
بس سمجھ لینا اُسے میری سوانح عمری
سادہ کاغذ پہ کبھی نام جو اپنا دیکھو
واہ واہ واہ کیا ہی خوبصورت خیال کو نظم کیا ہے۔

آپ نے میرے منھ کی بات چھین لی
افسوس ، صد افسوس اپنے آپ پر! جواب دینے میں انتہائی تاخیر ہوئی ۔ فاتح بھائی تو عرصہ ہوا محفل سے رخصت لے چکے ۔ کاشف اختر بھی کبھی کبھار تشریف لاتے ہیں ادھر۔ دونوں حضرات سے معذرت اور ان کا بہت شکریہ!
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
غزل تو لاجواب ہے ہے ہر شعر اعلیٰ ۔
پر یہ شعر تو یوں ہے ؀
گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
بہت ساری داد و تحسین ظہیر بھائی ،
سلامت رہیے شاد و آباد رہیے
اللہ پاک آپکو اور آپ سے وابستہ لوگوں کو اپنی امان میں رکھے آمین

واہ کیا بات ہے !
جیتے رہیے 😊😊😊😊
بہت شکریہ، بہت نوازش، سیما آپا! آپ کو شعر پسند آئے تو خوشی ہوئی ۔ اس محبت اور شفقت کے لیے ممنون ہوں ۔ دعا کے لیے خصوصاً شکریہ!
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
السلام علیکم ظہیر بھائی -

کیسے مزاج ہیں ؟ آپ کی غزل مجھے گد گدا کر کچھ نہ کچھ لکھنے پہ آمادہ کر دیتی ہے -
وعلیکم السلام ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ ۔ یاسر بھائی ، آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ غزل آپ کی طبیعت گدگدا گئی ۔ آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی ہوگا لیکن آپ کے تبصرے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت گدگدائی نہیں بلکہ گڑبڑاگئی۔ :D

در کشادہ ہے تمہارا مجھے تسلیم مگر
مجھ میں جھانکو ،کبھی قد میری انا کا دیکھو

گھر کا در کشادہ ہے اور انا کا قد لمبا ، چوڑائی کا مقابلہ لمبائی سے کیسے ہو سکتا ہے ؟-ایسا شعر اصلاح سخن میں اگر پیش ہوتا تو یوں اصلاح کرتا -

در کشادہ ہے تمہارا مجھے تسلیم مگر
مجھ میں جھانکو میں بھی ہوں پھول کے کُپّا دیکھو

مزاح کا مزاح ،اصلاح کی اصلاح -
بھائی ، لفظ کشادن کا مطلب ہے کھولنا اور اسی سے لفظ کشادہ نکلا ہے یعنی کھلا ہوا۔ در کشادہ ہونے کا مطلب ہے در کھلا ہونا۔ اس میں لمبائی اور چوڑائی کا ذکر کہاں سے آگیا؟!
اس دہر کی کشادہ دری پر نہ جائیے
اندر قدم قدم پہ ہیں تالے پڑے ہوئے
(احمد مشتاقؔ)
حیدرآباد بھی اک باغ ہے ماشاء اللہ
ہے جہاں فیض کا دروازہ کشادہ سب پر
(حالؔی)
در کشادہ ہونے کے معنی کنایتاً یہ ہوتے ہیں کہ ہر خاص و عام کے لیے داخلے کی اجازت ہے ، جو چاہے آجائے ۔ اسی طرح دل کشادہ ہونا ، آغوش کشادہ ہونا ، دست کشادہ ہونا وغیرہ ہیں ۔
؎ جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں
یاسر بھائی ، لفظ کے لغوی معنی (annotation) اور مفہوم ( connotation) میں فرق ہوتا ہے۔ شعر میں لفظ کے جامد معنی نہیں لیے جاتے بلکہ وسیع تر مفہوم مراد لیا جاتا ہے۔ سمجھانے کی غرض سے ایک مثال لکھتا ہوں ۔ علامہ اقبال کا مقبولِ عام شعر ہے :
میں جو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
اگر آپ اس کے لفظی معنوں کو دیکھیں تو اعتراض کریں گے کہ زمین سے صدا کیسے آسکتی ہے۔ ایسی صدا تو غیب سے یا آسمان سے ہی آسکتی ہے۔ اردو کی قدیم شعری روایت چلی آتی ہے کہ ایسے موقع پر غیب کی صدا یا ندائے ہاتف استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اقبال نے یوں نہیں کہا کہ " فلک سے آنے لگی صدا" بلکہ زمین پر پیشانی کی رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زمین کا لفظ استعمال کیا ۔ اس سے شعر میں ایک منظر پیدا ہوگیا۔ سجدے اور زمین کی رعایت پیدا ہوگئی۔ اگر زمین کے بجائے فلک استعمال کیا جائے تو شعر کی خوبصورتی جاتی رہے گی۔ شعر سطحی سا ہوجائے گا۔

اسی مثال کی روشنی میں میرے شعر کو دیکھیے تو آپ کو دروازے کی کشادگی اور انا کے قد کی رعایت نظر آئے گی۔ ایک منظر پردۂ تصور پر نمودار ہوگا۔ پہلے مصرع میں کشادہ (جس کے ایک معنی وسیع ، فراخ ، لمبا چوڑا وغیرہ بھی ہوتے ہیں) اور دوسرے مصرع میں انا کے قد کے ذکر کی وجہ سے دونوں مصرعوں میں ایک رعایت پیدا ہوگئی ہے۔ اسے مراعات النظیر کہتے ہیں۔ انا کے قد سے مراد طبعی یا جسمانی قد نہیں ہوتا بلکہ بڑائی مراد ہوتی ہے۔مثلاً اقبال کی شاعری کا قد اپنے ہم عصروں میں سب سے بڑا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
طعنہء سود و زیاں مجھ کو نہ دینا ، دیکھو
میرے گھر آؤ کبھی ، میرا اثاثہ دیکھو

اپنے اثاثے تو تبھی شو کیے جاتے ہیں جب غبن کا کیس ہو یعنی :

تہمتِ دجل و غبن مجھ پہ نہ دھرنا دیکھو
میرے گھر آؤ کبھی میرا اثاثہ دیکھو

یا پھر کوئی کنگال یا مفلس ہونے کا طعنہ یا الزام دے کہ فلاں راستے پہ چل کر آپ کو حاصل وصول تو کچھ نہیں ہوا الٹا دنیا برباد کر دی تو اثاثے دکھائے جاتے ہیں گویا اثاثے دکھانا یا تو اظہار کمتری کے لئے ہو گا یا اظہار برتری کے لیے اور غالباً آپ کے شعر میں دوسری صورت، اظہار برتری کی ہے -لہٰذا "طعنہء سود و زیاں"کی ترکیب میں "سود" بےسود ہی معلوم ہوتا ہے -

یاسر بھائی ، مطلع تو آپ نے بالکل ہی اپنے سر کے اوپر سے گزار لیا۔ نہ تو آپ سود و زیاں کے معنی سمجھے اور نہ ہی آپ اثاثہ اور اثاثے کے فرق کو دیکھ سکے۔ سود و زیاں کے معنی ہیں نفع نقصان ، برا بھلا ۔ اردو شاعری اور نثر میں سود و زیاں کا مطلب کبھی بھی مادی نفع نقصان نہیں ہوتا۔ یہ تو بالکل عام سی بات ہے اور اردو شاعری کا ہر قاری اس سے واقف ہے۔ ہزاروں اشعار میں یہ ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ آپ کی خاطر میں چند مثالیں یہاں لکھ دیتا ہوں۔
(مندرجہ ذیل اشعار میں سود و زیاں کا مطلب نفع نقصان ہے۔ یعنی جیسے کہتے ہیں کہ تم اپنا نفع نقصان مجھ سے بہتر جانتے ہو ۔ وغیرہ ۔)
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے
(فرازؔ)
ہے سلسلہ احوال کا ہر لحظہ دگرگوں
اے سالکِ رہ! فکر نہ کر سود و زياں کا
(اقبالؔ)
جو سود و زیاں کی فکر کرے
وہ عشق نہیں مزدوری ہے
(سلیم احمد)

(جبکہ ذیل کے اشعار میں سود و زیاں کا مطلب بُرا بھلا ہے ۔ یعنی جیسے کہتے ہیں کہ بھئی تم اپنا برا بھلا خوب جانتے ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔)
ازل سے کر رہی ہے زندگانی تجربے لیکن
زمانہ آج تک سمجھا نہیں سود و زیاں اپنا
(قابل اجمیری)
اب سمجھنے لگا ہوں سود و زیاں
اب کہاں مجھ میں وہ جنوں صاحب
(جاوید اختر)

آپ نے اپنا تبصرہ اثاثوں کے متعلق لکھ دیا جبکہ شعر میں لفظ اثاثہ استعمال ہوا ہے۔ دونوں میں بہت بڑا فرق ہے ۔ جمع کا صیغہ یعنی اثاثے یا اثاثہ جات تو مادی اشیا کے لیے استعمال ہوتے ہیں جبکہ اثاثہ غیر مادی شے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے کہا جائے کہ مسلمان کا اثاثہ تو اس کا ایمان ہوتا ہے وغیرہ۔
داغِ دل نقش ہے اک لالۂ صحرائی کا
یہ اثاثہ ہے مری بادیہ پیمائی کا
(احمد ندیم قاسمی)
ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
(افتخار عارف)
یہ ہم جو زیست کے ہر عشق میں سچائیاں سوچیں
یہ ہم جن کا اثاثہ تشنگی ، تنہائیاں سوچیں
(فرازؔ)
تہمتِ زر سے تہی کیسہ و کاسہ نکلے
میرے قرطاس و قلم میرا اثاثہ نکلے
(خاکسار)
چنانچہ مطلع میں سود و زیاں اور اثاثہ کے الفاظ سے رعایت پیدا ہوگئی ہے۔ یہ شعر کی خوبی میں شمار ہوتا ہے۔ شعر کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نفع نقصان کے طعنے دینے والو میرے گھر آؤ اور دیکھو کہ میں نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے ، میرا اثاثہ دیکھو ۔ اب یہ اثاثہ فقر و غنا بھی ہوسکتا ہے ، محبت بھی ہوسکتی ہے ، سادگی بھی ہوسکتی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ اس کا تعین قاری کے اپنے ذوق اورتجربے پر منحصر ہے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت زبردست اشعار، گہرے اور پر معنی۔ شاید یہ سب کہنا تجربات کا متقاضی ہے۔

بس سمجھ لینا اُسے میری سوانح عمری
سادہ کاغذ پہ کبھی نام جو اپنا دیکھو

اِس خموشی کو مری ہار سمجھنے والو!
بات سمجھو ، مرے دشمن کا نشانہ دیکھو

آج لگتا ہے کہ پھر اُس سے ملے ہو جاکر
گفتگو تو سنو اپنی ، ذرا لہجہ دیکھو

مانگنا خیر تم اُس حاصلِ ہجرت کی ظہیر
اجنبی شہر میں جب کوئی شناسا دیکھو

ایک سے بڑھ کر ایک شعر ۔ سبحان اللہ، ما شا اللہ ۔:applause::applause::applause:
بہت شکریہ ، بہت نوازش ، صابرہ امین! آپ کو اشعار پسند آئے ، خوشی ہوئی ۔ بہت پرانی غزل ہے یہ ۔ جس زمانے میں اشعار یہاں جمع کرنا شروع کیے تھے تو روزانہ چار پانچ غزلیں ٹائپ کرکے پوسٹ کردیا کرتا تھا۔ احمد بھائی کی سوانح عمری والی لڑی دیکھی تو اس کا ایک شعر یاد آگیا جو مجھے پسند ہے ۔
سیما آپا کا شکریہ کہ اس پرانی غزل کو اوپر لے آئیں ۔ :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
یاسر شاہ بھائی ، نجانے كیوں مجھے آپ کی باتوں سے محسوس ہورہا ہے کہ تبصرہ آرائی کے پردے میں کوئی اور ہی جذبہ کارفرما ہے۔ اللّٰہ کرے یہ میرا گمان ہو اور ایسی کوئی بات نہ ہو ۔ بہرحال ، اگر ماضی میں میری کسی بات سے آپ کی دل آزاری ہوگئی ہو تو میں اس کے لیے دست بستہ معذرت خواہ ہوں۔ میں انسان ہوں اور خطا میری سرشت میں ہے لیکن بخدا میں نے آج تک دانستہ طور پر کسی کی دل آزاری نہیں کی۔ میرے نزدیک شعر و ادب تو کیا دنیا کی کوئی بھی چیز آدمی کے ادب اور احترام کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ خیالِ خاطرِ احباب میرے لیئ ہر چیز پر مقدم ہے ۔ اگرمجھ سے ایسی کوئی بات ہوگئی ہو تو درخواست گزار ہوں کہ آپ درگزر فرمائیں گے اور مجھے معاف فرمائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرے اشعار پر آپ کے اکثر تبصرے شعر کی غلط تفہیم پر مبنی ہوتے ہیں۔ بھائی، اگر کوئی لفظ یا ترکیب سمجھ میں نہ آئے تو لغت سے رجوع کرنا کوئی گناہ نہیں۔ بڑے بڑے شعرا اور ادیب ایسا کرتے آئے ہیں ۔میں اور آپ تو کسی شمار میں نہیں۔ اگر لغت دستیاب نہ ہو تو مجھ سے پوچھ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ اس بات کا کیا مطلب ہے۔ میں نے پہلے بھی کہیں عرض کیا تھا کہ آپ شعر کو اس کے جامد اور لفظی معنوں میں ہی دیکھتے ہیں ۔ جبکہ شاعری میں الفاظ کے صرف لغوی اور سامنے کے معنی نہیں لیے جاتے۔ سیاق و سباق کو دیکھا جاتا ہے۔ بیانیے کے مجموعی اور وسیع تر مفہوم کو لیا جاتا ہے۔ یہ تو شعر فہمی کا بنیادی اصول ہے۔ یاسر بھائی ، معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ آپ تو اصلاحِ سخن میں اصلاح دیتے ہیں لیکن اگر آپ ہی شعر فہمی کے بنیادی اصولوں کو توڑیں گے اور لفظ کے جامد اور سطحی معنوں کو لیں گے تو پھر بات کیسے بنے گی؟ مشہور شعر ہے :
میرے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کے صنم
آج بت خانے میں بھگوان بنے بیٹھے ہیں
اب اگر اس شعر پر یہ اعتراض کیا جائے کہ بت خود تو بھگوان نہیں بنتے۔ انہیں بھگوان کا درجہ تو انسان دیتے ہیں۔ تو پھر اس کا کیا جواب؟! اس شعر کا مطلب تو سیاق و سباق کو دیکھتے ہوئے وسیع تر معنوں سے سمجھا جائے گا۔
ہر شعر ہر آدمی کی سمجھ میں آنے لگے تو کیا بات ہے۔ میں تو خیر کج سخن اور عاجز البیان ہوں۔ غالب، میر اور اقبال جیسے شعرا کی شاعری پر شرحیں لکھی گئی ہیں۔ تو میں کس کھیت کی مولی ہوں۔ ایک دفعہ پھر اس سخن گستری کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ اللّٰہ کریم آپ کو خوش رکھے ، اپنی امان میں رکھے اور دین و دنیا کی تما نعمتوں سے سرفراز کرے ، خیر و عافیت کا معاملہ فرمائے ۔ آمین
 
یاسر شاہ بھائی ، نجانے كیوں مجھے آپ کی باتوں سے محسوس ہورہا ہے کہ تبصرہ آرائی کے پردے میں کوئی اور ہی جذبہ کارفرما ہے۔ اللّٰہ کرے یہ میرا گمان ہو اور ایسی کوئی بات نہ ہو ۔ بہرحال ، اگر ماضی میں میری کسی بات سے آپ کی دل آزاری ہوگئی ہو تو میں اس کے لیے دست بستہ معذرت خواہ ہوں۔ میں انسان ہوں اور خطا میری سرشت میں ہے لیکن بخدا میں نے آج تک دانستہ طور پر کسی کی دل آزاری نہیں کی۔ میرے نزدیک شعر و ادب تو کیا دنیا کی کوئی بھی چیز آدمی کے ادب اور احترام کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ خیالِ خاطرِ احباب میرے لیئ ہر چیز پر مقدم ہے ۔ اگرمجھ سے ایسی کوئی بات ہوگئی ہو تو درخواست گزار ہوں کہ آپ درگزر فرمائیں گے اور مجھے معاف فرمائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرے اشعار پر آپ کے اکثر تبصرے شعر کی غلط تفہیم پر مبنی ہوتے ہیں۔ بھائی، اگر کوئی لفظ یا ترکیب سمجھ میں نہ آئے تو لغت سے رجوع کرنا کوئی گناہ نہیں۔ بڑے بڑے شعرا اور ادیب ایسا کرتے آئے ہیں ۔میں اور آپ تو کسی شمار میں نہیں۔ اگر لغت دستیاب نہ ہو تو مجھ سے پوچھ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ اس بات کا کیا مطلب ہے۔ میں نے پہلے بھی کہیں عرض کیا تھا کہ آپ شعر کو اس کے جامد اور لفظی معنوں میں ہی دیکھتے ہیں ۔ جبکہ شاعری میں الفاظ کے صرف لغوی اور سامنے کے معنی نہیں لیے جاتے۔ سیاق و سباق کو دیکھا جاتا ہے۔ بیانیے کے مجموعی اور وسیع تر مفہوم کو لیا جاتا ہے۔ یہ تو شعر فہمی کا بنیادی اصول ہے۔ یاسر بھائی ، معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ آپ تو اصلاحِ سخن میں اصلاح دیتے ہیں لیکن اگر آپ ہی شعر فہمی کے بنیادی اصولوں کو توڑیں گے اور لفظ کے جامد اور سطحی معنوں کو لیں گے تو پھر بات کیسے بنے گی؟ مشہور شعر ہے :
میرے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کے صنم
آج بت خانے میں بھگوان بنے بیٹھے ہیں
اب اگر اس شعر پر یہ اعتراض کیا جائے کہ بت خود تو بھگوان نہیں بنتے۔ انہیں بھگوان کا درجہ تو انسان دیتے ہیں۔ تو پھر اس کا کیا جواب؟! اس شعر کا مطلب تو سیاق و سباق کو دیکھتے ہوئے وسیع تر معنوں سے سمجھا جائے گا۔
ہر شعر ہر آدمی کی سمجھ میں آنے لگے تو کیا بات ہے۔ میں تو خیر کج سخن اور عاجز البیان ہوں۔ غالب، میر اور اقبال جیسے شعرا کی شاعری پر شرحیں لکھی گئی ہیں۔ تو میں کس کھیت کی مولی ہوں۔ ایک دفعہ پھر اس سخن گستری کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ اللّٰہ کریم آپ کو خوش رکھے ، اپنی امان میں رکھے اور دین و دنیا کی تما نعمتوں سے سرفراز کرے ، خیر و عافیت کا معاملہ فرمائے ۔ آمین
ظہیر بھائی یہ اسی پہلے تبصرے کا بقیہ جواب ہے یا ہم سے محترم یاسر شاہ کا کوئی تبصرہ چھوٹ گیا؟
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
واہ واہ۔۔۔۔ بہت اچھی غزل ہے ماشاءاللہ، ڈھیروں داد قبول کیجیے۔

@یاسر شاہ بھائی ، نجانے كیوں مجھے آپ کی باتوں سے محسوس ہورہا ہے کہ تبصرہ آرائی کے پردے میں کوئی اور ہی جذبہ کارفرما ہے۔
لیکن شاہ صاحب کے اعتراض اور آپ کی تشریحات سے ہمارا بھلا ہو جاتا ہے۔ 😊
 

الف عین

لائبریرین
یاسر شاہ تو اکثر اشعار کی مزاحیہ تشریح کرتے ہی رہتے ہیں، جس کو میں صرف مزاح ہی سمجھ کر مزے لیتا ہوں، اسے سنجیدگی سے لینے کی غلطی کر رہے ہیں ظہیراحمدظہیر کم از کم میں یہ سمجھتا ہوں۔ اور مجھے قوی امید ہے کہ میں غلطی پر نہیں ہوں
 

سید عاطف علی

لائبریرین
بس سمجھ لینا اُسے میری سوانح عمری
سادہ کاغذ پہ کبھی نام جو اپنا دیکھو
واہ واہ ظہیر بھائی ۔ خؤب غزل ہے سادگی اور کچھ کچھ پرکاری کا امتزاج بھی ۔ سلامت رہیے ۔
سخن نسبت والے شعر میں کچھ کتابت کی غلطی ہے شاید۔
حیرت ہے ٹیگ کے باوجود یہ غزل پوشیدہ رہی طویل عرصے تک ۔
 
Top