شفیق خلش شفیق خلش ::::: تِنکوں کا ڈُوبتوں کو سہارا بتائیں کیا ::::: Shafiq Khalish

طارق شاہ

محفلین
غزلِ
شفیق خلش

تِنکوں کا ڈُوبتوں کو سہارا بتائیں کیا
پیشِ نظر وہ روز نظارہ بتائیں کیا

جی کیوں اُٹھا ہے ہم سے کسی کا بتائیں کیا
پُوچھو نہ بار بار خُدارا بتائیں کیا

تڑپا کے رکھ دِیا ہمَیں دِیدار کے لئے
کیوں کر لِیا کسی نے کِنارا بتائیں کیا

روئے بہت ہیں باغ کے جُھولوں کو دیکھ کر
یاد آیا کیسا کیسا نظارا بتائیں کیا

دیکھا نہ پھر پَلٹ کے چُھڑا کر گیا جو ہاتھ
کِس کِس کے واسطوں سے پُکارا بتائیں کیا

کہنے کو تو بچھڑ کے بھی زندہ رہے، مگر
تم بن یہ وقت کیسے گُزارا بتائیں کیا

بُھولے نہیں کسی بھی ادا کو تِری، مگر
پہلے پَہل وہ تیرا اشارہ بتائیں کیا

سب کوششیں بُھلانے کی بےسُود ہی رہِیں
ہے دِل پہ اب بھی اُن کا اِجارہ بتائیں کیا

سچ ہے نہ ٹھہرا وقت کسی کے لئے کبھی
کِس کشمکش میں ہم نے گُزارا بتائیں کیا

مُمکن نہیں کہ دِل سے خلش دُور ہو خلش
کیا کیا لِیا نہ ہم نے سہارا بتائیں کیا

شفیق خلش
 

طارق شاہ

محفلین
اب تک کی شاعری کی ای بک بن گئی ہے۔ کیا مزید خلش کا کلام ٹائپ کر رہے ہیں؟
اعجازعبید صاحب !
16 قریب آڈیو میں غزل ہیں جن میں صرف تین یا چار انترے ہی گائے گئے ہیں
ان غزلوں کی بقیہ اشعار ڈھونڈ کر مکمل کرلوں ۔، اس کے علاوہ اتنا ہی اور لکھا کلام بھی ہے
کوشش کروںگا جلد مکمل کرلوں ، آپ کو مطلع کردونگا ٹائپنگ مکمل ہو تے ہی :)

مولانا اصغر گونڈوی کے کلام کی e-book کے لئے شکریہ :)
بہت شاد رہیں
 
Top