شاعر ہے راحیلؔ غضب کا، اس کی غزل کا کافر کافر

عینی مروت

محفلین
ویرانی سی ویرانی ہے، تنہائی سی تنہائی ہے
پہلے ٹوٹ کے رونے والا اب خاموش تماشائی ہے

شوخ ہوا کا مہکتا جھونکا گلیوں سے اٹھلاتا گزرا
چیخیں مار کے رویا پاگل، "ہرجائی ہے! ہرجائی ہے!"
واااہ ۔۔
حد تمام کردی روانی پر۔۔۔
اور تخیل کی بلند پروازی کے کیا کہنے ۔۔
 
سر راحیل فاروق صاحب ابھی تک سیاہ رنگ کی گرویدگی میں مبتلا ہیں ۔۔ اس صورت میں بال دھوپ میں رکھنا مفید نہیں شاید۔۔۔۔ ظہیراحمدظہیر
کیپسول کو نگلنے میں ازحد دشواری ہورہی ہے ۔ جان کی امان پاؤں تو عرض ہے کہ اس کیپسول کو کھول کر بیمار کو کچھ دانے عطا کئے جائیں تاکہ بیماریٔ ادراک و فہم کو افاقہ ہو۔
 
Top