شاعری ، اپنی پسند کی ،

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

فریب

محفلین
جام کی بات چلی تو پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میخانے کی توہین ہے ، رندوں کی ہتک
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
 
شمشاد نے کہا:
آج اتنی بھی باقی نہیں میخانے میں
جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

یقین تو نہیں آتا کہ پیمانے میں کچھ چھوڑ دیا کرتے ہوں گے آپ :wink:


تمہاری بے رخی نے بادہ خانوں کی لاج رکھ لی
تم اگر آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے
(قتیل شفائی)
 

الف عین

لائبریرین
درست یوں ہے محب:
تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانوں کی
تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے
 
شکریہ اعجاز صاحب مجھے احساس تھا کہ میں بھول رہا ہوں مگر یہ یقین بھی تھا کہ کوئی ضرور درست کردے گا ۔ ویسے شعر تو اچھا تھا نہ :)
 

شمشاد

لائبریرین
جُھکی جُھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں

تُو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا
میری طرح تیرا دل بے قرار ہے کہ نہیں

وہ پل کہ جس میں محبت جواں ہوتی ہے
اُس ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں

تیری اُمید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو
تجھے بھی اپنے پہ یہ اختیار ہے کہ نہیں
 

فریب

محفلین
ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعد
وہ مسکرا کے ملے بھی تو کون دیکھتا ہے؟
جس آنکھ میں کوئی چہرہ نہ کوئی عکس طلب!
وہ آنکھ جل کے بجھے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟
ہجومِ درد میں کیا مسکرائیے کہ یہاں!
خزاں میں پھول کھلے بھی تو کون دیکھتا ہے؟
ملے بغیر جو مجھ سے بچھڑ گیا محسن
وہ راستے میں رکے بھی تو کون دیکھتا ہے؟
 

ماوراء

محفلین
کیسے لکھوں میں چاند کے قصے،کیسے لکھوں میں پھول کی بات
ریت اڑائے گرم ہوا تو کیسے میں برسات لکھوں​
 
جواب

مقبول عامر کی ایک نظم جو مجھے بے حد پسند ہے

ذرا اے راہرو اک بات سننا
میں پربت پار کا نادار بندہ
تیری بستی کی جانب آگیا ہوں
کہ اک نازک بدن شیریں سخن نے
ہریری پیرہن مانگا ہے مجھ سے
تجھ کچھ علم ہے ان وادیوں میں
کوئی ریشم کے کیڑے پالتا ہے

جب کہ ان کی ایک اور نظم ہے

تیری آنکھیں بہت گہری
بہت ہی خوبصورت ہیں
اجازت ہو تو میں کچھ دیر
ان میں جھانک کر دیکھوں
کہ مجھ کو چاند کی مانند
جھیلوں میں اترنا
لطف دیتا ہے
 

ماوراء

محفلین
جب کسی سے کوئی گلہ رکھنا
سامنے اپنے آئینہ رکھنا
یوں اجالوں سے واسطہ رکھنا
شمع کے پاس ہی ہوا رکھنا
گھر کی تعمیر چاہے جیسی ہو
اس میں رونے جگہ رکھنا
مسجدیں ہیں نمازیوں ک لیے
اپنے گھر میں کہیں خدا رکھنا
ملنا جلنا جہاں ضروری ہو
ملنے جلنے کا حوصلہ رکھنا۔​
 

ماوراء

محفلین

میدانِ زندگی میں گھبرا کر مٹ نہ جانا
تکمیلِ زندگی ہے چوٹوں پر چوٹ کھانا
جہاں چوٹ کھانا وہیں پہ مسکرانا
مگر اس ادا سے کہ رو دے زمانہ
 

شمشاد

لائبریرین
کاش ایسا ہو کہ اب کے بے وفائی میں کروں
تُو پھرے قریہ بہ قریہ، کُو بہ کُو میرے لیئے

میں تو لامحدود ہو جاؤں سمندر کی طرح
تُو بہے دریا بہ دریا، جُو بہ جُو میرے لیئے
 

شمشاد

لائبریرین
دل تو کیا چیز ہے ہم روح میں اُترے ہوتے
تُو نے چاہا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح
 

الف نظامی

لائبریرین
شاخِ زیتون پر
کم سخن فاختاوں کے اتنے بسیرے اجاڑے گئے
اور ہوا چپ رہی۔۔۔
زرد پرچم اڑاتا ہوا لشکرِ بے اماں
گل زمینوں کو پامال کرتا رہا
اور ہوا چپ رہی۔۔
آرزو مند آنکھیں، بشارت طلب دل
دعاوں کو اٹھے ہاتھ
سب بے ثمر رہ گئے
اور ہوا چپ رہی۔۔
اور تب
جس کے قہر میں موسموں کے عذاب
ان زمینوں‌پہ بھیجے گئے
اور منادی کرادی گئی
جب کبھی رنگ کی اور خوشبو کی ، آواز کی
اور خوابوں کی توہین کی جائے گی
یہ عذاب ان زمینوں پہ آتے رہیں گے
از افتخاز عارف
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top