شاعری ، اپنی پسند کی ،

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

تیشہ

محفلین
باندھ لیں ہاتھھ پہ سینے پہ سجا لیں تمکو
جی میں آتا ہے کہ تعویز بنا لیں تم کو

پھر تمھں روز سنواریں تمھں بڑھتا دیکھں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تمکو

کیا عجب خواہیشیں اَٹھتی ہیں ہمارے دل میں
کر کے مناَ سا ہواؤں میں اچھالیں تم کو

کبھی خوابوں کی طرح آنکھھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تمکو

اس قدر ٹوٹ کے تم پہ ہمیں پیار آتا ہے
اپنی بانہوں میں بھریں مار ہی ڈالیں تم کو ۔
 

شمشاد

لائبریرین
بہت خوب باجو
لیکن کیا پوری پوری نظم یا غزل لکھنی ہے یا چیدہ چیدہ اشعار بھی لکھے جا سکتے ہیں۔

دن گزرتا ہے ذکرِ عارض میں
فکرِ گیسو میں رات ہوتی ہے

ہم سناتے ہیں شعر میں جسکو
وہ تمہاری ہی بات ہوتی ہے
 

شمشاد

لائبریرین
ہر طرف اک نور ہوتا ہے
رنج و غم دل سے دور ہوتا ہے

جب محبت سے دیکھتا ہے کوئی
بے پیئے بھی سرور ہوتا ہے
 

تیشہ

محفلین
شمشاد نے کہا:
بہت خوب باجو
لیکن کیا پوری پوری نظم یا غزل لکھنی ہے یا چیدہ چیدہ اشعار بھی لکھے جا سکتے ہیں۔

دن گزرتا ہے ذکرِ عارض میں
فکرِ گیسو میں رات ہوتی ہے

ہم سناتے ہیں شعر میں جسکو
وہ تمہاری ہی بات ہوتی ہے


جو دل ہے مرضی لکھئے اس میں چاہے نظم لکئھیے ، غزل لکھئے
چیدہ چیدہ اشعار لکھئے ،
دو دو لائین کے شعر لکھئے جو دل ہے لکھئں ،
میں نے اسی لئے الگ سے کھولا ، اکثر بیت بازی میں ہی سب نظمیں لکھنے لگ جاتے ہیں تو بیت بازی کا سارا مزہ خراب ہو جاتا ہے اور ‘ عشق ‘ میں صرف عشق ہوتا ہے اور محبت میں محبت ،
اور اب یہاں مکسچر تو لکھا جا ہی سکتا ہے نہ ۔
 

فریب

محفلین
اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر، اب لکھنے کو کیا باقی ھے
اک دل تھا سو وہ ٹوٹ گیا، اب لٹنے کو کیا باقی ہے
ریت کے ذروں پر ہم نے اک نقش بنایا تھا
پھر ان ریت کے ذروں‌کو ہم نے دل میں‌سجایا تھا
وہ ریت تو کب کی بکھر گئی وہ نقش کہاں اب باقی ہے
اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر، اب لکھنے کو کیا باقی ہے
 

شمشاد

لائبریرین
“ زندگی“ کے موضوع پر چند اشعار

زندگی کیا ہے مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگائے جاتے ہیں
----------------------------------------------------------------
زندگی کیا ہے، چند عناصر کا ظہور ترتیب
موت کیا ہے، انہی اجزا کا پریشاں ہونا
---------------------------------------------------------------
آتے ہوئے اذاں ہوئی جاتے ہوئے نماز
کتنے قلیل وقت میں ہم آئے اور چلے گئے
 
زندگی

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
پھر وہی زندگی ہماری ہے

زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہء سنگ گراں ہے زندگی
 

تیشہ

محفلین
تیرے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں

تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں

کوئی بھی فیصلہ ہم سوچکر نیہں کرتے
تمھارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں
 

شمشاد

لائبریرین
مر مر کے مسافر نے بسایا ہے تجھے
رُخ سب سے پھرا کے منہ دیکھایا ہے تجھے
کیونکر نہ لپٹ کر تجھ سے سوؤں اے قبر
میں نے بھی تو جان دے کے پایا ہے تجھے
 

فریب

محفلین
کہتے ہو نہ دیں گے ہم، دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجئے، ہم نے مدعا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا
 

شمشاد

لائبریرین
اگر ہیں تیغ میں جوہر، جواہر میں خمیرے ہیں
ادھر زور آزمائی ہے، اُدھر طاقت کے نسخے ہیں

مطب میں اور میدانِ دَغا میں فرق اتنا ہے
وہاں کُشتوں کے پُشتے ہیں، یہاں پُشتوں کے کُشتے ہیں
(انور مسعود)
 

شمشاد

لائبریرین
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے

سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت
ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اُٹھا رکھا ہے

روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہو
ہم نے یہ سوچ کے ہی تم کو خفا رکھا ہے

تم جِسے روٹھا ہوا چھوڑ گئے تھے اک دن
ہم نے اس شام کو سینے سے لگا رکھا ہے

چین لینے نہیں دیتے کسی طور مجھے
تیری یادوں نے جو طوفان اٹھا رکھا ہے

جانے والے نے کہا تھا کہ وہ لوٹے گا ضرور
اک اسی آس پہ دروازہ کھلا رکھا ہے

تیرے جانے سے جو اک دھول اُٹھی تھی غم کی
ہم نے اس دھول کو آنکھوں میں بسا رکھا ہے

مجھ کو کل شام سے وہ یاد بہت آنے لگا
دل نے مدت سے جو اک شخص بُھلا رکھا ہے
آ
خری بار جو آیا تھا میرے نام
میں نے اُس خط کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
 

تیشہ

محفلین
جناب ، کس کے خط کو کلیجے سے لگا رکھا ہے؟ :p خیر تو ہے نہ یہ صبخ صبح شاعری؟ وہ بھی غمگین ۔ :roll: :p

سب خیریت تو ہے نہ؟
 

شمشاد

لائبریرین
پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے
نئے پرندوں کو اُڑنے میں وقت تو لگتا ہے
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top