زیادہ بچے پیدا کرنے پر ٹیکس لگانے کی تجویز

راشد احمد

محفلین
up63.gif

بحوالہ روزنامہ جنگ
 

کاشفی

محفلین
:grin: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی اب ٹیکس کی وجہ کر شوہرحضرات سچا پیار نہیں کر سکیں گے اپنی اپنی بیویوں سے۔۔۔ اللہ رحم کرے۔۔۔ جل جلال تو آئی بلا کو ٹال تو۔۔۔
 

زین

لائبریرین
وفاقی وزیر بہبود آبادی ڈاکٹرعاشق فردوس اعوان نے کہاکہ دو سے زیادہ بچے پیداکرنے پراگرٹیکس لگانا ضروری ہے تو اس کا آغاز پارلیمنٹرنیز سے ہونا چاہیے‘اگرایوان اس معاملے پراتفاق رائے پیدا کرے تو میں اس کیلئے تیارہوں۔یہ بات انہوں نے پیرکے روزوقفہ سوالات کے دوران (ق)لیگ کے رکن اسمبلی ریاض فتیانہ کے سوال کے جواب میںکہی۔ریاض فتیانہ نے ایک ضمنی سوال کے دوران کہاکہ وزارت بہبود آبادی ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول پانے میں ناکام ہوگئی ہے اس لئے ان کی تجویز ہے کہ زیادہ بچوں کی پیدائش پر ٹیکس عائدکردینا چاہیے۔عاشق فردوس اعوان نے اس سوال کے جواب میں کہاکہ مجھے معززممبرکی تجویز سے اتفاق ہے لیکن اگر یہ ٹیکس لگنا ضروری ہے تو سب سے پہلے اس کا اطلاق ممبران پارلیمنٹ پرہونا چاہیے کیونکہ ہم لوگ عوام کیلئے رول ماڈل ہیں اگرہم اس پر عمل کریں گے توعوام بھی پیروی کریں گے۔
 

طالوت

محفلین
چلیں اس بہانے زرداری بھی ٹیکس دے گا ۔۔۔ اس کے بھی تو تین ہیں ۔۔ کیا عظیم لوگ منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچیں ہیں ، سبحان اللہ !
وسلام
 

arifkarim

معطل
ہاہاہاہا، یہ 63 سال بعد یہ اچانک پارلیمنٹ‌میں‌کیا ماجراہو گیا ؟!
ہماری تاریخ‌گواہ ہے کہ ہماری قوم کا ہر خاندان ایک کرکٹ ٹیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ :)
Pakistan-demography.png

یہ کام تو 1950 میں ہی ہو جاان چاہئے تھا۔ اب جبکہ ویسے ہی قیامت آنے والی ہے، تو نئے بل پاس کروانے کی فکر پڑی ہے!
 

arifkarim

معطل
ویسے وہ اسلامی علما کہاں ہیں جنکے مطابق اسلام میں خاندانی منصوبہ بندی کرنا ناجائز ہے۔ کیونکہ اولاد تو خدا کی دین ہے نا!
 

شمشاد

لائبریرین
گزشتہ پچاس سالوں سے اعشاری نظام رائج کر رہے ہیں، وہ تو ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ ابھی بھی عوام آٹھ آنے اور چار آنے گنتی ہے۔

گزشتہ +30 سالوں سے شناختی کارڈ جاری ہو رہے ہیں اور اب تک کتنی دفعہ بدل چکے ہیں، آج تک یہی فیصلہ نہ ہو سکا کہ کون سا کارڈ صحیح رہے گا۔ پاکستان کی عوام کو اب تک شناختی کارڈ جاری نہیں کر سکے۔

میرے خیال میں تو پاکستان کے کئی ایک پسماندہ علاقے ایسے ہیں جہاں بچوں کی پیدائش ہی درج نہیں ہوتی ہو گی۔

اب یہ بھی آزما لیں۔
 

راشد احمد

محفلین
وفاقی وزیر بہبود آبادی ڈاکٹرعاشق فردوس اعوان نے کہاکہ دو سے زیادہ بچے پیداکرنے پراگرٹیکس لگانا ضروری ہے تو اس کا آغاز پارلیمنٹرنیز سے ہونا چاہیے‘اگرایوان اس معاملے پراتفاق رائے پیدا کرے تو میں اس کیلئے تیارہوں۔یہ بات انہوں نے پیرکے روزوقفہ سوالات کے دوران (ق)لیگ کے رکن اسمبلی ریاض فتیانہ کے سوال کے جواب میںکہی۔ریاض فتیانہ نے ایک ضمنی سوال کے دوران کہاکہ وزارت بہبود آبادی ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول پانے میں ناکام ہوگئی ہے اس لئے ان کی تجویز ہے کہ زیادہ بچوں کی پیدائش پر ٹیکس عائدکردینا چاہیے۔عاشق فردوس اعوان نے اس سوال کے جواب میں کہاکہ مجھے معززممبرکی تجویز سے اتفاق ہے لیکن اگر یہ ٹیکس لگنا ضروری ہے تو سب سے پہلے اس کا اطلاق ممبران پارلیمنٹ پرہونا چاہیے کیونکہ ہم لوگ عوام کیلئے رول ماڈل ہیں اگرہم اس پر عمل کریں گے توعوام بھی پیروی کریں گے۔

کرپشن، اقرباء پروری، وی آئی پی کلچر، ملک و قوم سے غداری ہی رول ماڈل ہے
 

ساجداقبال

محفلین
یہ گیلانی صاحب کی جو ہر ماہ وزیراعظم ہاؤس میں کسی بیٹے بیٹی کا ولیمہ ہوتا ہے، انکا اپنا سکور کتنا ہے؟
میرے خیال میں ایک فضول تجویز ہے۔ یہاں تو یہ حال ہے کہ فارم ب اسوقت بنائی جاتی ہے جب بچے نے شناختی کارڈ بنانا ہو۔ مناسب ڈیٹابیس کی غیر موجودگی میں یہ ایک بھونڈی تجویز ہے۔
 

میر انیس

لائبریرین
کوئی بات نہیں یہ ٹیکس بھی دیدیں گے جب ہزاروں ٹیکس دے رہیں ہیں۔‌ہر چیز پر تو ٹیکس ہے صرف زائد بچوں پر ہی رہ گیا تھا۔ اب کہیں سانس لینے پر بھی نہ لگ جائے۔
 

dxbgraphics

محفلین
زیادہ بچے پر ٹیکس لگ بھی جائے تو ہمارے پشاور میں وہ بھی خوشی خوشی دینگے۔ میں اول ہونگا :cool:
 
Top