دیارِ دل نہ رہا بزمِ دوستاں نہ رہی - شہریار

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 27, 2018

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (شہریار)
    دیارِ دل نہ رہا بزمِ دوستاں نہ رہی
    اماں کی کوئی جگہ زیرِ آسماں نہ رہی


    رواں ہیں آج بھی رگ رگ میں خون کی موجیں
    مگر وہ ایک خلش وہ متاعِ جاں نہ رہی


    لڑیں غموں کے اندھیروں سے کس کی خاطر ہم
    کوئی کرن بھی تو اس دل میں ضو فشاں نہ رہی


    میں اس کو دیکھ کے آنکھوں کا نور کھو بیٹھا
    یہ زندگی مری آنکھوں سے کیوں نہاں نہ رہی


    زباں ملی بھی تو کس وقت بے زبانوں کو
    سنانے کے لیے جب کوئی داستاں نہ رہی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر