دھوبی کا کُتا گھر کا نہ گھاٹ کا

محمد تابش صدیقی نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 31, 2019

  1. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت خوب۔ یعنی جاسم یہاں بھی کوئی نواں کٹا کھولنا چاہتے ہیں؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  2. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اب دھوبی کے کتے کے ساتھ کٹا بھی کھل گیا ہے۔ سلام جاسم!

     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,829
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جاسم صاحب خیر کیا کریں گے، "کٹے" ویسے ہی مظلوم جانور ہیں۔ :)

    اول تو کٹے کی پیدائش پر ہی مالکان خوش نہیں ہوتے، انہیں "کٹی" چاہیئے ہوتی ہے کیونکہ کٹی بڑی ہو کر نہ صرف دودھ دے گی بلکہ مزید بچے (کٹیاں) پیدا کرے گی یوں ایک بھینس سے چند ہی سالوں میں کئی ایک بھینسوں کا مالک بنا جا سکتا ہے جن کے دودھ سے (اور پانی کی مدد سے، روپے پیسے کی) نہریں بہائی جا سکتی ہیں۔ دوم، کٹے کو دودھ کے قریب بھی نہیں جانے دیا جاتا۔ سوم، پرانے زمانوں میں بالغ کٹے (سنڈا یا بھینسا) سے مشقت کا کام لیا جاتا تھا لیکن مشینی دور کے بعد سے کٹے کی قسمت میں صرف چھری ہوتی ہے۔ چند سالوں کے جوان ہوتے کٹے کے گوشت کی بہت مانگ ہوتی ہے، اس کے ریشے نرم ہوتے ہیں بلکہ اسے مقوی بھی سمجھا جاتا ہے۔

    سو جاسم صاحب کے نئے سے نئے کٹوں کی قسمت میں شروع میں محرومی اور آخر میں چھری ہی ہوتی ہے۔ :)
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  4. چوہدری طیب

    چوہدری طیب محفلین

    مراسلے:
    12
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ھاھاھاھاھا ھاھاھاھاھا
    میں آپ سے متفق ہوں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    27,896
    آپ نے تو پورا کٹا ہی "چو" دیا :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    27,896
    ویسے عوام کو "کٹے" دینے کا وعدہ یوٹرن کے وزیر اعظم نے بھی کیا تھا۔ البتہ فی الحال ان کے اپنے کھلے ہوئے کٹے ہی بند نہیں ہو رہے :)
     
  7. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,696
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    لو جی اب سیاست کا نیا کٹا کھلنے جارہا ہے۔ اسے کہتے ہیں:
    تلافی کی بھی"جاسم" نے تو کیا کی :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. محمد سرور

    محمد سرور محفلین

    مراسلے:
    22
    نور اللغات اور فرہنگ آصفیہ میں اگرچہ کُتّا ہی لکھا ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ خاص اس مقام پر یہ لفظ کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔
    کُتک اور کُتکا دونوں کا معنی انہی دونوں لغات میں موسل بتایا گیا ہے جو مسالہ کوٹنے والے ڈنڈے کو کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے ظاہر ہے کہ کُتکا یا کُتک دھوبی کے ڈنڈے پر بھی بولا جاسکتا ہے جس سے کپڑے کوٹے جاتے ہیں۔ کُتکا کا اختصار یا بگاڑ کُتّا بنتا ہے
    نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں لفظ تو کُتّا ہی ہے لیکن بمعنی سگ نہیں بلکہ بمعنی ڈنڈا جس سے کپڑے کوٹے جاتے ہیں
     
  9. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    210,470
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ لفظ کُتا، حرف ک پر پیش، نہیں، بلکہ کَتا ہے۔ حرف ک پر زبر ہے۔ جبکہ تابش بھائی نے خاص طور پر حرف ک پر پیش ڈال کر اس کو کُتا، بمعنی سگ ہی لکھا ہے۔
     
  10. محمد سرور

    محمد سرور محفلین

    مراسلے:
    22
    کٙتا کی کوئی توجیہ ممکن نہیں ہے۔ کُتکا اور کُتک لغات میں بمعنی موسل یا ڈنڈے کے موجود ہیں۔ کُتکا کا اختصار یا بگاڑ کُتّا قرین قیاس ہے
     
  11. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    210,470
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جہاں تک غلط العام اور غلط العوام الفاظ کا تعلق ہے تو ایک مشہور محاورہ ہے "لکھے موسیٰ پڑھے خدا" ہر جگہ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ جبکہ صحیح محاورہ "لکھے مُو سا، پڑھے خود آ" ہے۔ مُو بال کو کہتے ہیں، یعنی بال برابر باریک لکھے اور پڑھنے کے لیے بھی خود ہی آنا پڑے۔ اس طرح کئی ایک محاورے زبان زد عام ہونے کی وجہ سے اپنے اصلی الفاظ کھو بیٹھے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. اسلم اقبال

    اسلم اقبال محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آفتاب اقبال کا وکیل تو نہیں لیکن یہ بات ضرور پیش رہے کہ موصوف نے اپنے پروگرام کے اس حصہ کیلئے کچھ اساتذہ اور ماہرین کی خدمات لے رکھی ہیں۔ اگر آفتاب اقبال کی بیان کردہ بات غلط ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داری ان ماہرین اور اساتذہ کی بنتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    210,470
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اسلم اقبال صاحب اردو محفل میں خوش آمدید۔

    اپنا تعارف تو دیں تاکہ اردو محفل کے دوسرے اراکین آپ سے متعارف ہو سکیں۔

    یہ رہا تعارف کا زمرہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. اسحاق

    اسحاق محفلین

    مراسلے:
    3
    محترم صاحبان محفل میرے خیال میں زمانہ قدیم سے کتے کو اس کی وفاداری کی وجہ سے نہیں رکھا جاتا بلکہ اس سے تو رکھوالی کا چوکیداری کا کام لیاجانا مقصود ہوتا ہے۔ جب وہ ایک جگہ رہتا ہے تو سمجھتا ہے یہاں آنا جانا مالکان کا ہے۔ باقی نہ کسی انسان نہ حیوان کو گذرنے دیتا ہے ۔ دھوبی بھی اپنے پاس موجود سامان کی رکھوالی کےلئےکتا رکھتا ہے۔ لیکن چونکہ دھوبی کا پڑاؤ ایک جگہ نہيں ہوتا۔ لہٰذا کتا دونوں جگہ چوکیداری نہيں کر پاتا۔ اس وجہ سے یہ کہاوت وجود میں آئی ہو گی کہ {دھوبی کا کُتا ۔ نہ گھر کا ۔ نہ گھاٹ کا۔}
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    210,470
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    محترم اسحاق صاحب اردو محفل میں خوش آمدید۔

    اپنا تعارف تو دیں۔

    یہ لفظ کَتا ہی ہے۔ کَتا اس ڈنڈے کو کہتے ہیں جس سے دھوبی کپڑے دھوتا ہے۔
     
  16. ضیاء حیدری

    ضیاء حیدری محفلین

    مراسلے:
    359
    دھوبی نہیں رہے، نہ گھاٹ رہے ہیں، اس محاورہ کو ارتقائی عمل سے گذارا جائے۔۔۔۔
     
  17. اسحاق

    اسحاق محفلین

    مراسلے:
    3
    محترم ! جو آلہ کسی شخص کے گھرچلانے کا باعث بنتا ہے۔ اس کو ہم کیوں اور کس لیئے کہيں کہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ اگر وہ کَتا دونوں جگہ بے کار ہے تو پھر اس کا فن بچتا ہی نہيں۔
     
  18. اسحاق

    اسحاق محفلین

    مراسلے:
    3
    دھوبی کا جو کَتا گھر چلانے کا باعث ہے تو کوئی اسے کیوں کہے کہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا۔ جو آلہ کسی کے فن کی پہچان ہو اسے فنکار کےلئے کیسے بے کار کہا جائے۔
     
    • متفق متفق × 2

اس صفحے کی تشہیر