دھوبی کا کُتا گھر کا نہ گھاٹ کا

احمد محمد

محفلین
آپ تو آفتاب صاحب کے ساتھ غالباََ کچھ عرصہ 'لگا'چکے ہیں؛ اس لیے آپ کے کہے کو ہم مستند ماننے پر مجبور ہیں۔ :)
ہاہاہا۔۔۔
واہ فرقان بھائی آپ کو یاد ہے۔۔۔ میں نے دانستہ موصوف سے اپنے سابقہ ربط کا حوالہ نہیں دیا۔ اور غیبت کے زمرہ میں نہ آ جائے اس لیے موصوف کی عادت کو "خود ساختہ" لفظ سے بیان بھی کردیا۔ :p
 

فرقان احمد

محفلین
ہاہاہا۔۔۔
واہ فرقان بھائی آپ کو یاد ہے۔۔۔ میں نے دانستہ موصوف سے اپنے سابقہ ربط کا حوالہ نہیں دیا۔ اور غیبت کے زمرہ میں نہ آ جائے اس لیے موصوف کی عادت کو "خود ساختہ" لفظ سے بیان بھی کردیا۔ :p
جی، شکریہ! ویسے، ہمیں ذاتی طور پر، آفتاب صاحب کا پروگرام پسند تھا۔ اُن کے والد صاحب کی غزلیں بھی ہمیں بے حد پسند ہیں۔
 

احمد محمد

محفلین
یا تو کُتا غلط العام نہیں، یا کَتا خود ساختہ لفظ نہیں۔ دونوں ہی غلط کیسے ہو سکتے ہیں۔ o_O
غالباً کُتّا غلط العام نہیں ہے، چلیں آپ کو آفتاب صاحب کے انداز میں ہی سمجھاتا ہوں:

چوں کہ کُتّے (جانور) کا کام ہے بھونک کر کسی کو روکنا یا اس کے کام میں رکاوٹ ڈالنا اور یہی کام اس لکڑی کے ٹکڑے کا ہے جو رہٹ کے کام میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔

مزید یہ کہ تقریباً سبھی زبانوں میں ایسے الفاظ آپ کو بآسانی مل جائیں گے جو بیک وقت مختلف اشیاء کے لیے استمعال ہوتے ہیں۔ جیسے کان جسم کے عضو کو بھی کہتے ہیں اور معدن (جہاں سے معدنیات نکلتی ہیں) کو بھی۔
 
غالباً کُتّا غلط العام نہیں ہے، چلیں آپ کو آفتاب صاحب کے انداز میں ہی سمجھاتا ہوں:

چوں کہ کُتّے (جانور) کا کام ہے بھونک کر کسی کو روکنا یا اس کے کام میں رکاوٹ ڈالنا اور یہی کام اس لکڑی کے ٹکڑے کا ہے جو رہٹ کے کام میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔

مزید یہ کہ تقریباً سبھی زبانوں میں ایسے الفاظ آپ کو بآسانی مل جائیں گے جو بیک وقت مختلف اشیاء کے لیے استمعال ہوتے ہیں۔ جیسے کان جسم کے عضو کو بھی کہتے ہیں اور معدن (جہاں سے معدنیات نکلتی ہیں) کو بھی۔
جی سمجھ گیا۔ البتہ میں نے سوال آپ کے کمنٹ میں موجود تضاد کے سبب کیا تھا۔
ورنہ اس پر مجھے پہلے ہی اطمینان ہے کہ کُتا غلط العام نہیں۔
ہاں اس بات پر اب شبہ ضرور ہے کہ محاورہ میں کُتا کس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
 

فاتح

لائبریرین
ہم بھی بچپن سے "کُتّا" ہی سنتے آئے ہیں۔ ک پر زبر کے ساتھ‌تو کبھی نہیں‌سنا۔
اگر یہ جرنلسٹ صاحب کوئی حوالہ دیتے تو اس پر بات ہو سکتی تھی لیکن بغیر حوالے کے محض ان کے کہے پر ایمان لانا مشکل ہے۔
 
دھوبی والے کتے کی بات تو آفتاب صاحب نے عجیب کہی ویسے عموما تو یہ جناب آصفیہ کے حوالے سے ہی اکثر کچھ کہتے پائے جاتے تھے جس کا یہاں کوئی ذکر نہیں اور یہ بات سبھی کے تجربات کے خلاف ہے۔بنا دلیل کے مان لینا مشکل ہی ہے کہانی اور قیاس جو انہوں نے گھڑا وہ بھی مجھے تو قرین قیاس نہیں لگا۔
البتہ سائیکل کے ہٹ کر دیکھا جائے تو کراچی میں تالے چابیوں والے مصلحین یعنی مکینک حضرات تالے اور چابیوں کے نشیب و فراز (گرووز)کو بھی کتے کہتے ہیں (مثلا اس تالے کے کتے گھس گئے ہیں۔وغیرہ) ۔ ان کا تکے کہا جانا کچھ دلچسپ لگا جیسا کہ ہم کہتے ہیں تکّا لگ گیا یعنی تالے کے کتے (یاتکے) درست بیٹھ گئے اور تالا کھل گیا :) ۔
 

وصی اللہ

محفلین
S.W. Fallon کی معروف لغت میں دھوبی کے تحت یہ ضرب المثل کچھ یوں درج ہے:
دهوبی धोबी dhob'ī, n. m. S. धावक A washerman. Dhobī kā kuttā; ghar kā, na ghāṭ kā. Prov. Like a washerman's dog; nor of the house nor of the ghāṭ. (From pillar to post). dhobī-pāṭ, n. m. 1. The washerman's board or stone on which he beats the clothes for washing 2 A trick in wrestling, so called because the wrestler throws his opponent with both hands as a washerman beats the clothes.
 

محمد وارث

لائبریرین
ہو سکتا ہے کہ اول اول بولنے والوں کی مراد dog نہ ہو لیکن بعد میں یہ لفظ ہی رائج ہو گیا ہو۔ میرا قیاس یہ ہے کہ چونکہ یہ ایک منفی مثل ہے اور اس سے مراد ایک قسم کی تحقیر اور بیزاری مراد ہے تو لفظ کُتا(لفظی و معنوی طور پر) اس میں زیادہ بلیغ ہے۔ :)
 

سید ذیشان

محفلین
میر کا شعر آ گیا۔ تو بات ختم ہو گئی۔

ویسے اس طرح کی بحث ایک اور محاورے پر بھی ہوتی ہے۔ لکھے موسی پڑھے خدا بمقابلہ لکھے مو سا پڑھے خود آ۔
 
کَتا ہے یا کُتا ہے معلوم نہیں۔ البتہ یہ درست ہے کہ قوم کے پاس بہت فارغ وقت ہے۔
ذرا پتا کیجیے گا، نارویجین زبان کی بھی کوئی تاریخ ہو گی اور وہاں بھی زبان کے حوالے سے فکرمند لوگ موجود ہوں گے۔ اور اس فکر مندی سے ان کے بھی دوسرے کوئی کام نہیں رکتے ہوں گے۔
 

آصف اثر

معطل
کَتا ہے یا کُتا ہے معلوم نہیں۔ البتہ یہ درست ہے کہ قوم کے پاس بہت فارغ وقت ہے۔
یقینا ہمیں نیازی صاحب کی طرح ”قومی خدمات“ میں سرکھپادینا چاہیے۔:tv:
البتہ واقعی یہ کتا نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ پورٹل سے تو یہی لگ رہا ہے۔
 
آخری تدوین:
آفتاب اقبال صاحب نے اپنے ایک پروگرام میں یہ محاورہ سنا کر دعویٰ کیا ہے کہ اس محاورہ میں لفظ کُتا نہیں بلکہ کَتا ہے، جس کا مطلب دھوبی کا لکڑی کا ڈنڈا ہے۔ اور کُتا کا استعمال اس محاورہ میں غلط العام بلکہ کاتب کی غلطی ہے۔
الفاظ کے ابتدا و ارتقا پر کوئی بات بغیر حوالے کے کس طرح کی جاسکتی ہے ؟!
اس قسم کی بحث میں یا تو لغت کا حوالہ درکار ہوتا ہے ( جو کہیں موجود نہیں ) یا پھر تقریری حوالہ ۔ یعنی ایسا ممکن ہے کہ کسی علاقے یا کسی ذات برادری میں کوئی لفظ کسی خاص طرح یا خاص معنوں میں بولا جاتا ہو اور ابھی تک لغت میں درج نہ ہوا ہو ۔ لیکن اس کے لئے بھی کسی نہ کسی کتاب کا یا کوئی نہ کوئی اور حوالہ درکار ہوگا۔ بغیر کسی حوالے کے محض دعوٰی کوئی معنی نہیں رکھتا ۔
کل کوئی صاحب یہ دعوٰی بھی کرسکتے ہیں کہ اُلّو کا پَٹھا دراصل اُلّو کا پُٹھا ہوتا ہے ۔ اب اس کا کیا علاج ۔ :)
 
Top