شمشاد

لائبریرین
پاکستان کی ٹیم نے اپنی اننگ میں ایک بھی چھکا نہیں لگایا۔ 17 چوکے لگائے، نمایاں کھلاڑی بابر اعظم (50)، محمد رضوان (49)، حسن علی (12) ہیں۔ باقی کے 7 کھلاڑی ڈبل فگر میں بھی نہ آ سکے۔
 

علی وقار

محفلین
بالرز تو پہلے ہی آؤٹ آف فارم ہیں۔ پھر اس قسم کے ٹوٹل سامنے ہو تو پھر رہے سہے اوسان بھی خطا ہو جاتے ہیں۔
انڈین ٹیم ذہنی و اعصابی طور پر کافی مضبوط ثابت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ ورلڈکپ میں پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کا ریکارڈ غیر معمولی حد تک شاندار ہے، اس لیے بھی اعتماد نام کی شے ہمارے کھلاڑیوں میں نظر نہیں آتی ہے۔ آل راؤنڈرز کی بہتات ہے جب کہ اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کی شدید کمی ہے۔ شاہین بھی آف کلر ہے، شاداب بھی۔ حارث کی کارکردگی بھی غیر متوقع طور پر کافی حد تک خراب ہے۔ حسن علی کو ٹیم میں رکھنا نا انصافی ہے۔ یہ ورلڈ کپ جیتنے والے ٹیم نظر نہیں آتی۔ سیمی فائنل میں جگہ مل جائے تو شاید کوئی چانس بن جائے۔ اس وقت جنوبی افریقہ، انڈیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے فیورٹ بن چکی ہیں۔ گو کہ یہ ورلڈ کپ کا ابتدائی مرحلہ ہے مگر آثار سے تو یہی لگتا ہے کہ سیمی فائنل کی چوتھی ٹیم بننے کے لیے کئی ٹیموں (انگلستان، پاکستان، سری لنکا) کے درمیان گھمسان کا رن پڑے گا۔
 
Top